Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7089

7089 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، وَصَحِبْتُهُ إِلَى وَاسِطٍ فَكَانَ يُسَمِّي فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ وَآخِرِهِ فَسَأَلْتُهُ: رَأَيْتُ قَوْلَكَ فِي آخِرِ لُقْمَةٍ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ قَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ ذَاكَ أَنَّ جَدِّي أُمَيَّةَ بْنَ مَخْشِيٍّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَلَمْ يُسَمِّ اللَّهَ حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ طَعَامِهِ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ حَتَّى سَمَّى فَمَا بَقِيَ فِي بَطْنِهِ شَيْءٌ إِلَّا قَاءَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7089 - صحيح

جابر بن صبح فرماتے ہیں :مثنیٰ بن عبدالرحمٰن خزاعی نے مجھے حدیث بیان کی ہے، میں واسط میں ان کی صحبت میں تھا، وہ کھانے کے شروع میں بھی بسم الله پڑھتے تھے اور آخر میں بھی پڑھتے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ میں نے آپ کو آخری لقمہ کے ساتھ ’’بسم الله في اولى وآخر ‘‘ پڑھتے دیکھا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں ،( بات یہ ہے کہ ) میرا دادا"امیہ بن مخشی"رضی اللہ عنہ صحابی رسولصلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی کھانا کھا رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اس کو دیکھ رہے تھے، اس نے شروع میں بسم اللہ نہ پڑھی، اور کھانے کے آخر میں" بسم اللہ اولہ و آ خر"پڑھ لیا، نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: جب تک اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی ، شیطان مسلسل اس کے ہمراہ کھانا کھاتا رہا، اس نے تمام کھانے کی قےکردی۔

جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7090

7090 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ شَاةً إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِيطًا فَلَمَّا بَسَطَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا يُخْبِرُنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ» قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَتِهَا فَقَالَ: «أَسَمَمْتِ طَعَامَكِ هَذَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ أَحْبَبْتُ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ أُرِيحَ النَّاسَ مِنْكَ وَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا» فَأَكَلْنَا فَلَمْ يَضُرَّ أَحَدًا مِنَّا شَيْءٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7090 - صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک یہودی خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ دی، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس کو کھانے لگے تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے فرمایا: اپنے ہاتھ کو روک لو، کیونکہ بکری کے ایک عضو نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں زہرملی ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس خاتون کو بلوایا اور فرمایا: کیا تو نے اس کھانے میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں چاہتی تھی کہ اگر تم جھوٹے ہو تو لوگوں کی تم سے جان چھوٹ جائے گی اور اگر تم سچے ہو تو میں جانتی ہوں کہ اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو اطلاع د ے دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فر مایا: اللہ کا نام لے کر ان کو کھالو۔ چنانچہ ہم نے اللہ کا نام لے کر اس کو کھالیا، کسی کو کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7090

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7091

7091 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَارِيَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7091 - في سنده مجهول

ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دایاں ہاتھ کھانے پینے اور کپڑے پہنے کے لئےمقرر کیا ہوا تھا اور دیگر کاموں کے لئے بایاں ہاتھ۔

جَارِيَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَاصِمٍ، ← أبو أيوب الأفريقي ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7091

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7092

7092 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَا: ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كُنَّا إِذَا أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَا نَبْدَأُ حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7092 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: جب ہم رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ہمراہ کھانا کھاتے تو جب تک رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم شروع نہ کرتے ، ہم کھانے کا آغاز نہ کرتے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7092

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7093

7093 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَصْحَابِهِ إِذْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُودُ بَعِيرًا عَلَيْهِ غِرَارَتَانِ مُحْتَجَزٌ بِعِقَالِ نَاقَتِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَعَكَ؟» قَالَ: دَقِيقٌ وَسَمْنٌ وَعَسَلٌ فَقَالَ: «أَنِخْ» فَأَنَاخَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْمَةٍ عَظِيمَةٍ فَجَعَلَ فِيهَا مِنْ ذَاكَ الدَّقِيقِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ ثُمَّ أنْضَجَهُ فَأَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلُوا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: «كُلُوا فَإِنَّ هَذَا يُشْبِهُ خَبِيصَ أَهْلِ فَارِسَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7093 - صحيح

محمد بن حمزہ بن عبد اللہ بن سلام اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اپنے صحابہ کرام میں موجود تھے، کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ چلاتے ہوئے وہاں پہنچے، ان پر دو بور ے ڈالے ہوئے تھے، اونٹ کی لگام کو اپنی کمر سے باندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے پوچھا: تمھارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آٹا ،گھی اور شہد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اونٹ کو بٹھا ؤ، انہوں نے اونٹ کو بٹھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بڑا سا تھال منگوایا ، اس میں کچھ آٹا، گھی اور شہد ڈالا ، پھر ان کو پکالیا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بھی کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کوبھی کھلایا، حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کو کہا: کھاؤ، کیونکہ یہ اہل فارس کے خبیص( کھانے سے ملتا جلتا ہے)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7093

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7094

7094 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الْمَكِّيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَمَرَتْ لَنَا بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعَتْ لَنَا وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ - وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ - ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ آمُرُ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ قَالَ: فَرَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ يَنْفِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا وَلَدَتْ يَا فُلَانُ» ؟ قَالَ: بَهْمَةً. قَالَ: «فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً» ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «لَا تَحْسَبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا يُحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكُمْ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنْمُ مِائَةٍ وَلَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَبَذَائِهَا. فَقَالَ: «طَلِّقْهَا» فَقُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا. قَالَ: «فَمُرْهَا - يَقُولُ عِظْهَا - فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أَمَتِكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوضُوءِ. قَالَ: «أَسْبِغْ الْوضُوءَ وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7094 - صحيح

لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں بنی مثفق کے وفد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمیں گھر میں نہ ملے ،البتہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ موجود تھیں ،آ پ رضی اللہ عنہ نے ہمارے لئے حریرہ (دودھ گھی اور آٹے سے بنا ہوا کھانا) بنوایا، اور کھجوروں والے تھال میں ڈال کر ہمیں عطا کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ہم سے پوچھا:تمہیں (کھانے کے لئے) کوئی چیز مل گئی ہے یا میں تمہارے لئے کچھ تیار کرواؤں؟ ہم نے کہا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمیں مل گیا ہے۔ (لقيط بن صبرہ) فرماتے ہیں: ہم لوگ ابھی رسول اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں کو غلہ کی جانب لے جارہا تھا، اس کے پاس ایک بکری کا بچہ بھی تھا جو کہ ادھر ادھر اچھل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے پوچھا : اے فلاں، اس نے کیا جنا ؟ اس نے کہا: بچہ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: تم ہمارے لئے اس کی بجائے کوئی بکری ذبح کر لو، پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: لاتحسبن ۔ (اس نے "لا یحسبن" نہیں کہا) کہ نہ سمجھنا کہ میں نے خاص طور پر یہ آپ کے لئے ذبح کی ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ۱۰۰ بکریاں ہیں اور ہم اس سے بڑھانانہیں چاہتے۔ (اس لئے جو زائد ہے وہ میں نے ذبح کر کے آپ کو پیش کر دی ہے ) چرواہا بھیڑ کے بچے کو پالنے کے لئے لے گیا اور ہم نے اس کی بجائے بکری ذبح کر لی ۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ، میری ایک بیوی ہے، پھر اس کی زبان درازی، اور بدخلقی کا ذکر کیا، حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دے۔ میں نے کہا: اس سے میری اولاد بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا : اس کو کہو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم فرماتے ہیں: اس کو نصیحت کرو، اگر اس میں کوئی بھلائی ہوئی تو وہ سدھر جائے گی اورتم اپنی بیوی کولونڈی کی طرح مت مارا کرو۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم آپ مجھے وضو کے بارے میں کچھ بتایئے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: وضو اچھے طریقے سے کرو، انگلیوں کے درمیاں خلال کرو، ناک جھاڑنے میں مبالغہ کرو، سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو (یعنی اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرو۔)

أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الْمَكِّيُّ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7094

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7095

7095 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَعَلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَاطَّلَعَ فِي جَوْفِهَا فَقَالَ: «حَسِبْتُهُ لَحْمًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ كَانَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ سَمِعَ مِنْ جَابِرٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَفِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ لِمَحَبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ. وَشَاهِدُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7095 - صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے لئے مٹی کی ہنڈیا میں کھانا بنایا ، پھر میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس لے آیا ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کے درمیان جھانک کر دیکھا، پھر فرمایا: اس کے گوشت لئے میں کافی ہوں۔ .

«حَسِبْتُهُ لَحْمًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ كَانَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ← جَعَلْنَا لِلنَّبِيِّ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَاطَّلَعَ فِي جَوْفِهَا ← جَابِرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← أَبُو هِلَالٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7095

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7096

7096 - مَا حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَا: ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: - لَمَّا قُتِلَ أَبِي تَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَذَكَرَ فِيهِ - قُلْتُ لِامْرَأَتِي: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيئُنَا الْيَوْمَ نِصْفَ النَّهَارِ فَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُكَلِّمِيهِ قَالَ: فَدَخَلَ وَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً فَوَضَعَ رَأْسَهُ وَنَامَ فَقُلْتُ لِمَوْلًى لِي: اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ افْرُغْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَكَ فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى نَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ: «يَا جَابِرُ ائْتِنِي بِطَهُورٍ» فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: «كَأَنَّكَ عَمِلْتْ حَيْسًا بِلَحْمٍ ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ» ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّهُ الَّذِينَ مَعَهُ فَدَخَلُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا» فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ مِنْهَا لَحْمٌ كَثِيرٌ «وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7096 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میرے والد محترم شہید ہوئے تو انہوں نے مجھ پر بہت سارا قرضہ. چھوڑا، اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث بیان کیا ، اس میں یہ بھی ذکر کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: آج دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمارے غریب خانہ پرتشریف لا رہے ہیں،تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو تکلیف نہ دینا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے زیادہ باتیں کرتا۔ ان کی زوجہ نے حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے لئے بستر بچھا دیا اورتکیہ بھی رکھ دیا۔ حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم تشریف لائے اور تکیے پر سر رکھ کر سوگئے۔ میں نے اپنے غلام سے کہا: اس عناق (بکری کا بچہ جو بھی ایک سال کا نہیں ہوا ) کوذبح کرلو، یہ موٹی تازی بکری تھی ۔ اور یہ سب کام انتہائی تیزی کے ساتھ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے بیدار ہونے سے پہلے سب کاموں سے فارغ ہوجاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ کام کرواتا ہوں۔ ہم مسلسل کام کرتے رہے، اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے بیدار ہونے سے پہلے فارغ ہو گئے، میں نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم جب بیدار ہوتے ہیں تو پانی طلب فرماتے ہیں، اور مجھے خدشہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم وضو سے فارغ ہو کر تشریف نہ لے جائیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے وضو سے فارغ ہونے سے پہلے ہمیں تھال دسترخوان پر رکھ دینا چاہئے۔ جب رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم بیدار ہوئے تو آواز دی: اے جابر! پانی لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ابھی وضو سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ میں نے وہ تھال پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے میری جانب دیکھا اور فرمایا: لگتا ہے تم نے گوشت میں حیس (خاص قسم کا کھانا )بنایا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا کر لاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کے ان ساتھیوں کو بھی بلا لیا جواکثر ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ آگئے ، رسول اللہ سامنے ہاتھ بڑھایا اور فرمایا : بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو۔ ان سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا (اس کے باوجود) بہت سارا گوشت بچ گیا تھا۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔

فِيهِ قُلْتُ لِامْرَأَتِي: ← الحديث بطوله ← لَمَّا قُتِلَ أَبِي تَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7096

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7097

7097 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي فَهْمٍ أَرَى اسْمَهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ» وَقَدْ رَوَاهُ رَقَبَةُ بْنُ مَصْقَلَةَ عَنْ هَذَا الْفَهْمِيِّ وَلَمْ يَنْسِبْهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7097 - صحيح

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فر مایا: پشت کا گوشت سب سے اچھا ہوتا ہے۔

هَذَا الْفَهْمِيِّ وَلَمْ يَنْسِبْهُ [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← «أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ» وَقَدْ رَوَاهُ رَقَبَةُ بْنُ مَصْقَلَةَ ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي فَهْمٍ أَرَى اسْمَهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7097

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7098

7098 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُصْعَبٍ النَّخَعِيُّ، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي فَهْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ» قَدْ صَحَّ الْخَبَرُ بِالْإِسْنَادَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

رتبہ بن مصقلہ بنی فہم کے ایک آدمی کے واسطے سے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم  نے ارشادفرمایا: سب سے اچھا گوشت پشت کا ہوتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← رَجُلٍ، مِنْ بَنِي فَهْمٍ، ← رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، ← جَرِيرٌ ← يحيى بن عبد الحميد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُصْعَبٍ النَّخَعِيُّ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7098

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7099

7099 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، قَالَا: ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثَنَا أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، قَالَ: أَمَرَنِي أَبِي بِحَرِيرَةٍ فَصَنَعْتُ ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا جَابِرُ أَلَحْمٌ هَذَا؟» قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنَّهَا حَرِيرَةٌ أَمَرَنِي بِهَا أَبِي فَصَنَعْتُ ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَيْكَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَمَا قَالَ لَكَ؟ قُلْتُ: قَالَ: «أَلَحْمٌ هَذَا يَا جَابِرُ؟» قَالَ أَبِي: عَسَى أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَهَى اللَّحْمَ فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ لَهُ فَذَبَحَهَا وَشَوَاهَا ثُمَّ أَمَرَنِي بِحَمْلِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: حَمَلْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَزَى اللَّهُ الْأَنْصَارَ عَنَّا خَيْرًا وَلَا سِيَّمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7099 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے "حریرہ" تیار کرنے کا حکم دیا، میں نے حریرہ بنادیا ۔ پھر اپنے والد کے حکم کے مطابق میں وہ حریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں لے گیا، نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم اس وقت گھر میں ہی تھے، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اے جابر ، یہ کیا ہے؟ کیا یہ گوشت ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یہ حریرہ ہے، والد صاحب کے حکم سے میں نے یہ بنایا ہے، پھر انہوں نے حکم دیا تو میں یہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں لے آیا ہوں ۔ (میں وہ "حریرہ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد) وہاں سے اپنے والد کے پاس واپس آ گیا، میرے والد نے پوچھا: کیا تمہاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے ملاقات ہوئی ؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ والد صاحب نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے تمہیں کیا کہا؟ میں نے بتایا کہ حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے مجھ سے پوچھا: اے جابر کیا یہ گوشت ہے؟ میرے والد نے یہ سن کر کہا: لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو گوشت کی خواہش ہورہی ہے۔ والد صاحب نے بکری ذبح کی، اس کو بھونا اور مجھے حکم دیا کہ یہ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں پیش کرآ ، آپ فرماتے ہیں: میں نے وہ بکری اٹھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی خدمت میں پیش کردی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ( بکری قبول کرنے کے بعد) فرمایا: اللہ تعالی ہماری طرف سے انصار کو جزائے خیر عطا فرمائے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام کو اور سعد بن عباد ہ کو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7099

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7100

7100 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: أَنْفَجْتُ أَرْنَبًا بِالْبَقِيعِ فَاشْتَدَّ فِي أَثَرِهَا فَكُنْتُ فِيمَنِ اشْتَدَّ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَأَمَرَ بِهَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شُوِيَتْ فَأُعْجِزَ عَجُزُهَا فَأَرْسَلَ بِهِ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟» قُلْتُ: عَجُزُ أَرْنَبٍ بَعَثَ بِهَا أَبُو طَلْحَةَ إِلَيْكَ فَقَبِلَهُ مِنِّي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7100 - صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بقیع میں ایک خرگوش کو دیکھا اس کو بھڑکا کر باہر نکالا اور اس کے پیچھے تیزی سے دوڑ پڑا، اس نے پیچھے بھاگنے والوں میں ، میں بھی تھا۔ میں نے سب سے آگے بڑھ کر اس کو پکڑ لیا، اس کو لے کر ابوطلحہ کے پاس آگیا ،انہوں نے حکم دیا تو اس کو ذبح کر کے بھوناگیا، اس کی عجز کاٹ دی گئی۔ پھر وہ مجھے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں بھیجا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: خرگوش کی پشت کا گوشت ہے، ابوطلحہ نے آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے لئے بھیجی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وہ مجھ سے قبول کر لی۔

أَنَسًا ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7100

chevron_left Previous
1…858687…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section