Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7077

7077 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «إِنْ كَانَ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرَ وَنِصْفَ الشَّهْرِ وَمَا يُوقَدُ فِي بُيُوتِهِمْ نَارٌ لِمُصْبَاحٍ وَلَا لِغَيْرِهِ» قُلْتُ لَهَا: مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ؟ قَالَتْ: «التَّمْرُ وَالْمَاءُ» هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7077 - على شرط مسلم

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے گھر والوں پر آدھا آدھا اور پورا پور امبینہ گزر جاتا تھا، ان کے پاس ( کھانا پکانے اور ) چراغ جلانے تک کے لئے آگ نہ ہوتی تھی ۔ ( قاسم بن محمد کہتے ہیں ) میں نے پوچھا: آپ لوگ کھاتے پیتے کیا تھے؟ اُم المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کھجور اور پانی۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7077

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7078

7078 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ هِلَالٍ الْوَزَّانِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «مَا أَكَلَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ أَكْلَتَيْنِ إِلَّا أَحَدُهُمَا تَمْرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7078 - صحيح

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دو وقت کے کھانے میں ایک وقت کهجور ضرور ہوتی تھی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِلَالٍ الْوَزَّانِ ← مِسْعَرٍ، ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7078

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7079

7079 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، أَنْبَأَ سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: جَاوَرْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، سَنَتَيْنِ فَقَالَ: «يَا ابْنَ شَقِيقٍ أَتَرَى هَذِهِ الْحَجَرَ لَحَجَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا عِنْدَهَا وَمَا لِأَحَدٍ مِنْ طَعَامٍ يَمْلَأُ بَطْنَهُ حَتَّى أَنَّ أَحَدَنَا لِيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِهِ بِالْحَبْلِ أَوْ بِالْعُقْلَةِ مِنَ الْعُقَلِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَقَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَّا سَبْعُ تَمَرَاتٍ وَكَانَ فِي سَبْعِي حَشَفَةٌ فَمَا يَسُرُّنِي تَمْرَةٌ جَيِّدَةٌ بِهَا» قَالَ: قُلْتُ: لَمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: «لِأَنَّهَا شَدَّتْ لِي مِنْ مَضَاغِي فَجَعَلْتُ أَعْلُكُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7079 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں دو سال تک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن شقيق !تم اس پتھر کو دیکھ رہے ہو؟ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا پتھر ہے، تو نے یہ پتھر ہمارے پاس دیکھا ہے، ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں ہوتا تھا جس سے پیٹ بھرا جا سکے، ہم پتھر لے کر کسی رسی یا کپڑے کے ساتھ اپنے پیٹ پر باندھ لیا کرتے تھے، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے آج تک یاد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ہمارے درمیان کھجور یں تقسیم کیں، ہر شخص کو سات سات کھجوریں ملیں، اور مجھے ساتویں کھجور کی جگہ حشفہ ( کھجور کا بچا ہوا دهانسا ) ملا، اس کے ملنے پر میں اتنا خوش ہوا، اس کے ملنے پر مجھے جو خوشی ہوئی ، وہ عمدہ کھجور ملنے نہیں ہونی تھی۔ (عبداللہ بن شقیق) کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ ! رضی اللہ عنہ اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ اس کا چبانا مجھے دشوار ہورہا تھا تو میں اس کو آہستہ آہستہ چباتا رہا۔

جَاوَرْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، سَنَتَيْنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى، أَنْبَأَ سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7079

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7080

7080 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَتْ تَأْتِي عَلَيْنَا أَرْبَعُونَ لَيْلَةً وَمَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْبَاحٌ وَلَا غَيْرُهُ» قَالَ: قُلْنَا: أَيْ أُمَّاهْ، فَبِمَ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ؟ قَالَتْ: «بِالْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7080 - صحيح

حضرت عروہ روایت کرتے ہیں کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ( کبھی کبھی) ہم پر چالیس دن گزرجاتے اور رسول اللہ ان کے گھر میں چراغ تک جلانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا۔( حضرت عروہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی :اے ای جان! تو آپ زندہ کیسے رہتے تھے؟ انہوں نے کہا: دو سیاه چیزوں یعنی کھجور اور پانی کے ساتھ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن أبي حميد ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← الحسين بن محمد القباني ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7080

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7081

7081 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي التَّمْرَ وَاللَّبَنَ الْأَطْيَبَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7081 - طلحة بن زيد ضعيف

اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیں: نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کھجور اور دودھ کو "اطیبان" (دوعدہ کھانے ) کہا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7081

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7082

7082 - حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرُّمَّانِيُّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: الْوضُوءُ قَبْلَ الطَّعَامِ بَرَكَةُ الطَّعَامِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «الْوضُوءُ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَ الطَّعَامِ بَرَكَةُ الطَّعَامِ» تَفَرَّدَ بِهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ وَانْفِرَادُهُ عَلَى عُلُوِّ مَحِلِّهِ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ يُمْكِنَ تَرْكُهَا فِي هَذَا الْكِتَابِ "

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ کھانے سے پہلے وضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا) کھانے میں برکت( کا باعث) ہے۔ میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں عرض کی :حضور عصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا ) کھانے میں برکت کا باعث ہے۔

«الْوضُوءُ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَ الطَّعَامِ بَرَكَةُ الطَّعَامِ» تَفَرَّدَ بِهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← فِي التَّوْرَاةِ: الْوضُوءُ قَبْلَ الطَّعَامِ بَرَكَةُ الطَّعَامِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← سَلْمَانَ ← زَاذَانَ ← أَبُو هِشَامٍ الرُّمَّانِيُّ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7082

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7083

7083 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسِبُ فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا فَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْخَلَاءَ فَيَقْضِي الْحَاجَةَ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا يَحْجُبُهُ - وَرُبَّمَا قَالَ: وَلَا يَحْجِزُهُ - عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ سِوَى الْجَنَابَةِ - أَوِ إِلَّا الْجَنَابَةَ - «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7083 - صحيح

حضرت عبداللہ بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ، ہمارے قبیلے کے دوآدی اور ایک آدی بنی اسد سے تعلق رکھنے والاہم لوگ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کسی علاقے کی جانب بھیجا، اور فرمایا : تم دونوں معالج ہو، ان کے دین کا علاج کرو، پھر آپ بیت الخلاء میں جا کر ( قضائے حاجت کے بعد) واپس باہر آئے ، آپ رضی اللہ عنہ نے پانی کا ایک چلو بھرا، وہ ہاتھوں پر ملا، پھر آئے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگ گئے ، یہ بات ہمیں بہت عجیب سی گئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم بیت الخلاء میں تشریف لے جاتے ، قضائے حاجت فرماتے ، پھر نکل کر آتے اور ہمارے ساتھ روٹی کھاتے گوشت کھاتے ، اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے، اور اس پر غلاف بھی نہ ہوتا، بعض روایات میں ہے کہ جنابت کے علاوہ اور کوئی چیز حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو تلاوت سے نہ روکتی تھی ۔ ( قرآن کریم کو چھوئے بغیر زبانی طور پر تلاوت کرنا ہو تو بغیر وضوکی جاسکتی ہے)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7083

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7084

7084 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَوْا بَيْتَ أَبِي أَيُّوبَ فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَتَمْرٌ وَبُسْرٌ وَرُطَبٌ إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا فَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ فَكُلُوا بِسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7084 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے، جب یہ لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھا چکے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: روٹی ، گوشت ، کھجور، بسراور رطب کھجوریں جب تمہیں ملیں تو بسم اللہ و برکت اللہ کہہ کر کھانا شروع کیا کرو۔ (مطلب یہ کہ کھانے کی اشیا کتنی بھی ہوں تم کبھی بھی بسم اللہ پڑھے بغیر نہ کھانا)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7084

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7085

7085 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّكْسَكِيِّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبِي لِأُمِّي: لَوْ صَنَعْتِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً تُقَلَّلُ فَانْطَلَقَ أَبِي فَدَعَاهُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: «كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ» فَأَخَذُوا مِنْ نَحْوِهَا فَلَمَّا طَعِمُوا دَعَا لَهُمْ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ وَارْزُقْهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7085 - صحيح

حضرت عبداللہ بن بسررضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : میرے والد نے میری والدہ سے کہا : اگرتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کےلئے کھانا تیارکرو (تو کتنی ہی اچھی بات ہے) انہوں نے تھوڑ اساثر ید(ایک خاص قسم کا کھانا) تیار کر لیا ،، میرے والد رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو بلا کر لے آئے ، اس پر اپناہاتھ رکھا اور فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ ، سب نے اسی طرح کھایا . جب سب لوگ کھا چکے تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کے لئے یوں دعا فرمائی "اے اللہ ان کی مغفرت فرما، ان پررحم فرما، ان کے لئے بر کت فر ما، ان کو رزق عطا فرما"۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَمْرِو السَّكْسَكِيُّ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← يَحْيَى بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيَّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7085

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7086

7086 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قُلْتُ: هَدِيَّةٌ فَوَضَعَ يَدَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7086 - صحيح

حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں کھانا تیار کروا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے سامنے کھانا رکھ دیا حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی : ہدیہ ہے۔ حضور عصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور صحابہ کرام سے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو۔

«مَا هَذَا؟» قُلْتُ: هَدِيَّةٌ فَوَضَعَ يَدَهُ ← صَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ وَهُوَ جَالِسٌ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ← سُلَیْمَانَ ← أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7086

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7087

7087 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْهَمْدَانِيِّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7087 - صحيح

اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشادفرمایا: جب تم کھانا کھانے لگو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیا کرو، اور اگر شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جاد (توجب یاد آئے ) بسم الله في اولہ و آخرہ پڑھ لیا کرو۔

عَائِشَةَ ← أُمِّ کُلْثُومٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عبيد بن عُمَيْرٍ] ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← عَفَّانُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7087

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7088

7088 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أُتِيَ بِطَعَامٍ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُطْرَدُ فَتَنَاوَلَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ فَكَأَنَّمَا تُطْرُدُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمَّا أَعْيَيْتُمُوهُ جَاءَ الْأَعْرَابِيُّ وَالْجَارِيَةُ لِيَسْتَحِلَّ بِهِمَا الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا» قَالَ الْحَاكِمُ: «أَبُو حُذَيْفَةَ هَذَا اسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ صُهَيْبٍ وَقَدْ رَوَى عَنْ عَائِشَةَ» وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7088 - صحيح

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں کھانا پیش کیا گیا، ایک دیہاتی آیا لگتا تھا کہ کہیں سے جلا وطن ہو کر آیا ہے، اس نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی وہ بھی کوئی جلاوطن ہی لگتی تھی ، اس نے بھی ہاتھ ڈالا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، پھر فرمایا: جب تم نے شیطان کو اندھا کر دیا تو دیہاتی اورلڑکی آ گئی تاکہ وہ ان کے سبب سے اپنے لئے طعام حلال کرلے، اگر کھانا شروع کرتے وقت اس پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو (جب یاد آئے تب) بسم اللہ پڑھ کر اس کو کھالیا کرو۔

حُذَيْفَةَ ← أبي حذيفة ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7088

chevron_left Previous
1…848586…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section