Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ فَرْوَةَ بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ أُخْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6945

6945 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «وَأُمُّ فَرْوَةَ بِنْتُ أَبِي قُحَافَةَ أُخْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَمَّةُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأُمُّهَا هِنْدُ بِنْتُ نُفَيْلِ بْنِ بُجَيْرِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ قُصَيٍّ زَوَّجَهَا أَبُو بَكْرٍ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ فَوَلَدَتْ لَهُ مُحَمَّدًا وَإِسْحَاقَ وَحُبَابَةَ وَقُرَيْبَةَ»

معصب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں:اور ام فروہ بنت ابی قحافہ رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہن اور امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں۔ان کی والدہ "ہند بنت نفیل بن بجیربن عبید بن قصی "ہیں ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کا نکاح حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے کیا ،ان کے ہاں محمد ،اسحاق ،حبابہ اور قریبہ (چار بچے )پیدا ہوئے ۔

مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umm Farwah, the daughter of Abi Qahfa, the sister of Abu, the firstborn of al-Siddiq, may God be pleased with them. · Hadith 6945

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6946

6946 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ التَّمِيمِيَّةِ، قَالَتْ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النِّسْوَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقُلْنَا لَهُ: جِئْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا فَقُلْنَا: بَايِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «اذْهَبْنَ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ، إِنَّمَا قُولِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ» وَمَا صَافَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا أَحَدًا

حضرت امیمہ بنت رقيقه رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے مسلمان خواتین کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بیعت کی، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہم آپ کی خدمت میں اس چیز کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی ہیں کہ ہم اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، چوری نہیں کریں گی ، زنا نہیں کروائیں گی ، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی، کسی پاک باز پر بہتان نہیں لگائیں گی، نیکی کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی نافرمانی نہیں کریں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اپنی( یوں کہو کہ ہم اپنی )استطاعت کے مطابق( ان تمام گناہوں سے بچتی رہیں گی)، ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہم پرہم سے بھی زیادہ رحیم ہیں ۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ، آپ ہماری بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فر مایا ٹھیک ہے اب تم جاؤ تمہاری بیعت ہو چکی ہے، میرا کی ایک خاتون کو بات سمجھا دینا ایساہی ہے کہ میں نے سوعورتوں کو سمجھا دیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہاتھ نہیں ملایا۔

بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي النِّسْوَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقُلْنَا لَهُ: جِئْنَاكَ ← أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ التَّمِيمِيَّةِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umaimah girl Rikaqa, may God be pleased with her · Hadith 6946

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6947

6947 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «أُمَيْمَةُ بِنْتُ رُقَيْقَةَ وَرُقَيْقَةُ أُمُّهَا وَأَبُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِجَادِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ، وَأُمُّهَا رُقَيْقَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى أُخْتُ خَدِيجَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَزَبَتْ أُمَيْمَةُ فَتَزَوَّجَهَا حَبِيبُ بْنُ كَعْبِ بْنِ عُتَيْرٍ الثَّقَفِيُّ فَوَلَدَتْ لَهُ النَّهْدِيَّةَ، وَعَاشَتْ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رُقَيْقَةَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَتْ عَنْهُ» فَحَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيُّ "

محمد بن عمر فرماتے ہیں: امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہ تھا۔ رقیقہ، ان کی والدہ ہیں، اور ان کے والد کا نام" عبد اللہ بن بجاد بن عمیر بن حارث بن حارثہ بن سعد بن تیم بن مرہ" ہے۔ ان کی والدہ"رقیقہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ" ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، ان کے شوہر کے انتقال کے بعد ، حبیب بن کعب بن عتیرثقفی سے ان کی شادی ہوئی، ان کے ہاں" نہدیہ" پیدا ہوئیں، حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے وصال کے بعد زنده رہیں، اور حضور اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے روایت بھی کی۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umaimah girl Rikaqa, may God be pleased with her · Hadith 6947

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6948

6948 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ، خَالَةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: «بَايَعَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا» قَالَ: «ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ»

رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی خالہ حضرت امیمہ فرماتی ہیں: ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بیعت کی ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ہم سے وعدہ لیا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ اس کے بعد ابن اسحاق کی ابن المنکد رسے روایت کردہ حدیث کے موافق مفصل حدیث بیان کی ۔

ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ ← ثُمَّ ← سَمِعْتُهَا تَقُولُ: «بَايَعَنَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا» ← أُمَيْمَةَ، خَالَةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Umaimah girl Rikaqa, may God be pleased with her · Hadith 6948

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ بَرِيرَةَ مَوْلَاةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6949

6949 - عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بَرِيرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: فِيَّ ثَلَاثٌ مِنَ السُّنَّةِ: تُصُدِّقَ عَلَيَّ بِلَحْمٍ فَأَهْدَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ، الْحَدِيثَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ تِسْعُ أَوَاقٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ شَاءَ مَوَالِيكِ عَدَدْنَهَا إِلَيْهِمْ، فِي ذِكْرِ الْوَلَاءِ بِطُولِهِ "

حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیں: میرے بارے تین چیزیں سنت قرار پائی ہیں۔ میرے پاس صدقے کا گوشت آتا تھا، میں وہ گوشت اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو تحفے میں بھیج دیتی تھی، میرے پاس ۹ اوقیہ چاندی تھی ، ام المومنین نےمجھے فرمایا :اگر تیرے موالی چاہیں توا ن کو اپنے اوپر گن سکتے ہیں ۔یہ حدیث ولاء کے ذکر میں ہے مفصل حدیث ہے ۔

بريرة. ← عُرْوَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the righteousness of the loyalty of Aisha, may God be pleased with her · Hadith 6949

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ لَيْلَى مَوْلَاةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6950

6950 - أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَمَّنْ ذَكَرَهُ، عَنْ لَيْلَى، مَوْلَاةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ فَدَخَلْتُ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَوَجَدْتُ رِيحَ الْمِسْكِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَرَ شَيْئًا قَالَ: «إِنَّ الْأَرْضَ أُمِرْتْ أَنْ تَكْفِيَهُ مِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ» قَالَ الْحَاكِمُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: «قَدْ بَقِيَ عَلَيَّ فِي الصَّحَابِيَّاتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ جَمَاعَةٌ لَمْ أَذْكُرْهُنَّ إِيثَارًا لِلتَّخْفِيفِ وَخَشْيَةَ تَطْوِيلِ الْكِتَابِ، وَأَيْضًا فَإِنِّي تَرْجَمْتُ كِتَابَ الصَّحَابَةِ لِلْفَضَائِلِ وَلَسْتُ أَجِدُ الْفَضَائِلَ بَعْدَ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا لِبَعْضِهِنَّ، فَاسْتَخَرْتُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى وَجَعَلْتُ آخِرَ الْكِتَابِ كِتَابَ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6950 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اُم ّالمومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی باندی حضرت لیلیٰ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم قضائے حاجت کے لئے (بیت الخلاء میں) داخل ہوئے،(جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم فارغ ہوکر نکل آئے تو بعد میں) میں وہاں گئی، مجھے وہاں کوئی فضلہ وغیرہ نظر نہیں آیا، البتہ مجھے مشک کی خوشبو آئی ،میں نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مجھےتو وہاں کوئی چیز نظرنہیں آئی ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :زمین کو حکم ہے کہ وہ ہم گروہ انبیاء کے لیئے کفایت کرے (یعنی ہمارے فضلات وغیر ہ کو سنبھال لیتی ہے )۔

ليلى مولاة عائشة. ← الْمِنْهَالُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَمَّنْ ذَكَرَهُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the nights of the loyalty of Aisha, may God be pleased with them · Hadith 6950

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6951

6951 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِلرَّجُلِ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْقُوَّةِ مَا لِلرَّجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: «يَعْنِي نَيْلَ الرَّأْيِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6951 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جبیر بن مطعم بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشادفرمایا: ایک قریشی میں دو (غير) قر یشیوں کے برابرقوت ہے۔ امام زہری کہتے ہیں (رائے دہی کے لحاظ سے)

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عبد الرحمن بن أزهر ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6951

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6952

6952 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «يَا عُمَرُ، اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ» فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ جَمَعْتُهُمْ فَيَدْخُلُونَ عَلَيْكَ أَمْ تَخْرُجُ إِلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: «بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ» فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَقَالُوا: لَقَدْ جَاءَ فِي قُرَيْشٍ وَحْيٌ فَحَضَرَ النَّاظِرُ وَالْمُسْتَمِعُ مَا يُقَالُ لَهُمْ، فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فِينَا حُلَفَاؤُنَا وَأَبْنَاءُ إِخْوَانِنَا وَمَوَالِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُلَفَاؤُنَا مِنَّا وَمَوَالِينَا مِنَّا» ثُمَّ قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَسْمَعُونَ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ، فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَلِكَ وَإِلَّا فَابْصُرُوا ثُمَّ ابْصُرُوا لَا يَأْتِيَنَّ النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ وَتَأْتُونَ بِالْأَثْقَالِ فَيُعْرَضْ عَنْكُمْ» ثُمَّ نَادَى فَرَفَعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ مَنْ بَغَاهُمُ الْعَوَاثِرَ كَبَّهُ اللَّهُ لِمِنْخَرِهِ» قَالَهَا ثَلَاثًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6952 - صحيح

اسماعیل بن عبيد بن رفاعہ بن رافع زرقی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عمر ! اپنی قوم کو میرے پاس جمع کرو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میں نے سب کو جمع کر لیا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس اندر آ جائیں یا آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم خود ان کے پاس تشریف لے جائیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: میں خود ان کے پاس جاتا ہوں، یہ بات مہا جر ین اور انصار نے سن لی، وہ لوگ کہنے لگے: قریش میں وحی نازل ہوئی تو دیکھنے والے اور سننے والے سب لوگ (یہ سننے کے لئے ) حاضر ہو گئے کہ ان کو کیا حکم دیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی غیر شخص تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ، ہمارے حلیف، ہمارے بیٹے ، ہمارے بھائی اور ہمارے موالی موجود ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: ہمارے حلیف بھی ہم میں سے ہی ہیں اور ہمارے بھائی بھی ہم میں سے ہی ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ بات نہیں سن رکھی کہ تم میں سے میر اولی وہ شخص ہے جو پرہیز گار ہے، اگر تمہارے اندر پرہیز گاری ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ تم بہت غوروفکر کر لو، لوگ اعمال ہر گز نہیں لائیں گے اور تم بوجھ لاتے ہو تو تم سے اعراض کرلیا جاتا ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بلند آواز سے ندادیتے ہوئے فرمایا "بے شک قریش اہل امانت ہیں، جس نے ان کے خلاف سازش کی ، اللہ تعالی اس کو منہ کے بل گرا دے گا۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے تین مرتبہ دہرائی۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6952

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6953

6953 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ، خَالُ وَلَدِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: هَذِهِ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ فِي بَنِي هَاشِمٍ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ فِي وَسَطِ التِّينِ، فَانْطَلَقَتِ الْمَرْأَةُ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَالٍ تَبْلُغُنِي عَنْ أَقْوَامٍ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ السَّمَاوَاتِ، فَاخْتَارَ الْعُلْيَا فَأَسْكَنْهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، ثُمَّ خَلَقَ الْخَلْقَ فَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ وَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَيْشًا، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ مِنْ خِيَارٍ إِلَى خِيَارٍ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ» وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے (گھر کے) صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، کہ ایک عورت وہاں سے گزری ، لوگوں میں سے ایک آدی نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بیٹی ہے۔ ابوسفیان نے کہا: بنی ہاشم میں محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مثل ایسے ہے جیسے زیتون کے درخت کے درمیان گل ریحانہ ہو، وہ عورت گئی اور اس نے رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کوبتا دیا ،حضور یا باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے چہرہ انور پر ناراضگی کے آثار تھے، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کچھ لوگوں کے بارے میں ہمیں کئی باتوں کی شکایت ملی ہے۔ بے شک اللہ تعالی نے آسمانوں کو پیدا کیا، ان میں سے سب سے اوپر والے کا انتخاب کیا ، اور اپنی مخلوقات میں سے جسے چاہااُس کو اس پر ٹھہرایا۔ پھر اللہ تعالی نے مخلوقات کو پیدا کیا، ان میں سے بنی آدم کو چنا، پھر بنی آدم میں سے عرب کو چنا، اور عرب میں سے "مضر" کو چنا ، مضر میں سے" قریش "کو چنا، قریش میں سے" بنی باشم " کو چنا، بنی ہاشم میں سے مجھے چنا۔ چنانچہ میں بنی ہاشم میں سے ہوں بہتر سے بہتر میں سے ہوں ۔ لہذا جس نے عرب سے محبت کی ، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے۔ اور جو ان سے بغض رکھے، وہ میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ خَالِ وَلَدِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ الصَّفَارُ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6953

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6954

6954 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَوَانَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ: وَلَا أَحْسِبُ مُحَمَّدًا، إِلَّا قَدْ حَدَّثَنِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ نَحْوَهُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے (گھر کے )صحن میں بیٹھے ہوئے تھے،اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔

بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ نَحْوَهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ: وَلَا أَحْسِبُ مُحَمَّدًا، إِلَّا قَدْ ← مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ← يَزِيدُ بْنُ عَوَانَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6954

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6955

6955 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّيْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمِّي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، يَقُولُ: ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ إِنْ وُلِّيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6955 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

عمرو بن عثمان بن عفان فرماتے ہیں: میرے والد نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے ! اگر تمھیں لوگوں کے کسی معاملہ کا والی بنایا جائے تو قریش کی عزت کرنا عزت کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "جس نے قریش کی بے عزتی کی ، اسے اللہ تعالی ذلیل کر دے گا"۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6955

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6956

6956 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاودَ الْهَاشِمِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ أَبِي الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ» وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَهُوَ مِنْ غُرَرِ الْحَدِيثِ فِيمَا رَوَاهُ الْأَكَابِرُ عَنِ الْأَصَاغِرِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6956 - صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا :جو قریش کورسوا کرنے کا سوچے گا اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کردے گا۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← يوسف بن الحكم أبي الحجاج بن يوسف ← محمد بن أبي سفيان بن العلاء بن جارية الثقفي ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6956

chevron_left Previous
1…737475…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section