المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4513
4513 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ مِنًى فِي آخِرِ حَجَّةٍ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ كَوَّمَ كَوْمَةً بِبَطْحَاءَ، ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهَا صِنْفَةَ رِدَائِهِ، ثُمَّ اسْتَلْقَى وَمَدَّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَبُرَ سِنِّي، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي، وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ» ، ثُمَّ قَدِمَ فِي ذِي الْحِجَّةِ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ قَدْ سَنَنْتُ لَكُمُ السُّنَنَ، وَفُرِضْتُ لَكُمُ الْفَرَائِضَ، وَتَرَكْتُكُمْ عَلَى الْوَاضِحَةِ - وَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى - إِلَّا أَنْ تَمِيلُوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالًا» ، فَمَا انْسَلَخْتَ ذُو الْحِجَّةِ حَتَّى قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: «طَعَنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ الَّذِي قَتَلَ عُمَرَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا بِعُمَرَ فَمَاتَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَأُفْرِقَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَكَانَ مَعَهُ سِكِّينٌ لَهُ طَرَفَانِ فَطَعَنَ بِهِ نَفْسَهُ فَقَتَلَهَا»
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے آخری حج کے موقعہ پرمنیٰ سے نکلے تو اپنی اونٹنی کو بطحاء میں بٹھا یا ،مٹی جمع کر کے اس کی ڈھیری بنائی ، اس کے اوپر چادر بچھا کر لیٹ گئے اوراپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے بولے:اے اللہ ! میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں ، میں کمزور ہو گیا ہوں ۔ میری عقل سست ہو چکی ہے ۔ تو مجھے اپنے پاس بلا لے تا کہ میں نہ کچھ ضائع کروں اور نہ حد سے بڑھوں ۔ پھر آپ ذی الحجہ میں آئےاور خطبہ دیتے ہوئےارشادفرمایا: اے لوگو! میں نے تمہارے لئے سنتوں کوسنت اور فرائض کو فرائض کے طور پر نافذ کیا ۔ اور تمہیں ایک واضح راستہ پر چلا کر چھوڑ ا ہے ۔ پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا: مگر یہ کہ تم (اپنی مرضی سے )دائیں یا بائیں پھر جاؤ ، (اس میں میرا کوئی قصورنہیں ہے) جب ذی الحجہ گز رگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ حضرت سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابولؤلؤ ۃ جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، اس نے آپ کے ساتھ ساتھ مزید ۱۲ آدمیوں پر حملہ کیا تھا جن میں سے ۶ شہید ہو گئے تھے اور۶ زخمی تھے(لیکن فوت ہونے سے بچ گئے تھے ) اس (ابولؤلؤ ۃ ) کے پاس دودھاری والی چھری تھی ، پھر اس نے اسی کے ساتھ خودکشی کر لی تھی۔
يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4513
