Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4513

4513 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ مِنًى فِي آخِرِ حَجَّةٍ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ، ثُمَّ كَوَّمَ كَوْمَةً بِبَطْحَاءَ، ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهَا صِنْفَةَ رِدَائِهِ، ثُمَّ اسْتَلْقَى وَمَدَّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَبُرَ سِنِّي، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي، وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ» ، ثُمَّ قَدِمَ فِي ذِي الْحِجَّةِ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ قَدْ سَنَنْتُ لَكُمُ السُّنَنَ، وَفُرِضْتُ لَكُمُ الْفَرَائِضَ، وَتَرَكْتُكُمْ عَلَى الْوَاضِحَةِ - وَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى - إِلَّا أَنْ تَمِيلُوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالًا» ، فَمَا انْسَلَخْتَ ذُو الْحِجَّةِ حَتَّى قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: «طَعَنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ الَّذِي قَتَلَ عُمَرَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا بِعُمَرَ فَمَاتَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَأُفْرِقَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَكَانَ مَعَهُ سِكِّينٌ لَهُ طَرَفَانِ فَطَعَنَ بِهِ نَفْسَهُ فَقَتَلَهَا»

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے آخری حج کے موقعہ پرمنیٰ سے نکلے تو اپنی اونٹنی کو بطحاء میں بٹھا یا ،مٹی جمع کر کے اس کی ڈھیری بنائی ، اس کے اوپر چادر بچھا کر لیٹ گئے اوراپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے بولے:اے اللہ ! میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں ، میں کمزور ہو گیا ہوں ۔ میری عقل سست ہو چکی ہے ۔ تو مجھے اپنے پاس بلا لے تا کہ میں نہ کچھ ضائع کروں اور نہ حد سے بڑھوں ۔ پھر آپ ذی الحجہ میں آئےاور خطبہ دیتے ہوئےارشادفرمایا: اے لوگو! میں نے تمہارے لئے سنتوں کوسنت اور فرائض کو فرائض کے طور پر نافذ کیا ۔ اور تمہیں ایک واضح راستہ پر چلا کر چھوڑ ا ہے ۔ پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا: مگر یہ کہ تم (اپنی مرضی سے )دائیں یا بائیں پھر جاؤ ، (اس میں میرا کوئی قصورنہیں ہے) جب ذی الحجہ گز رگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ حضرت سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابولؤلؤ ۃ جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، اس نے آپ کے ساتھ ساتھ مزید ۱۲ آدمیوں پر حملہ کیا تھا جن میں سے ۶ شہید ہو گئے تھے اور۶ زخمی تھے(لیکن فوت ہونے سے بچ گئے تھے ) اس (ابولؤلؤ ۃ ) کے پاس دودھاری والی چھری تھی ، پھر اس نے اسی کے ساتھ خودکشی کر لی تھی۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4513

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4514

4514 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْجَلَّابُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «عَاشَ عُمَرُ ثَلَاثًا بَعْدَ أَنْ طُعِنَ، ثُمَّ مَاتَ فَغُسِّلَ وَكُفِّنَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ تین دن تک زندہ رہے پھر آپ کا انتقال ہوگیا۔تو آپ کوغسل دیا گیا اور کفن دیا گیا۔

«عَاشَ عُمَرُ ثَلَاثًا بَعْدَ أَنْ طُعِنَ، ثُمَّ مَاتَ فَغُسِّلَ وَكُفِّنَ» ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4514

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4515

4515 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ فَقُلْتُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْلَمْتَ حِينَ كَفَرَ النَّاسُ، وَجَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَذَلَهُ النَّاسُ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ فِي خِلَافِتِكَ اثْنَانِ، وَقُتِلْتَ شَهِيدًا، فَقَالَ: «أَعِدْ عَلَيَّ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ» ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَوْ أَنَّ لِي مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے امیر المومنین ! آپ کو جنت کی خوشخبری ہو ،آپ اس وقت اسلام لائے جب لوگ کفر میں مبتلا تھے ،آپ نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعاون کیا جب لوگ آ پ کہ ( معاذ اللہ )ذ لیل کر نے کے درپے تھے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس دنیا سے پردہ کیا تو آپ پر راضی تھے ۔ اور آپ کی خلافت میں دو آدمیوں میں بھی اختلاف نہیں ہوا اور آپ کا قتل بھی شہادت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہی با تیں دوبارہ بولو! میں نے ساری گفتگود ہرائی ، پھر آپ بولے: اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبودنہیں ہے اگر روئے زمین پر موجود ہرسفید اورز ردمیری ملکیت میں ہوتا تو میں اس ہیبت پرفد یہ دے دیتا جس کی اطلاع دی گئی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4515

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4516

4516 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ عُمَرَ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ صَلَّى عَلَيْهِ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی گئی اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔

ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ عُمَرَ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ صَلَّى عَلَيْهِ صُهَيْبٌ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← وُهَيْبٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4516

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4517

4517 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَافِظِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا قَاسِمٌ أَخِي ثنا عُبَيْدَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ ابْتَدَرَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمَا صُهَيْبٌ: «إِلَيْكُمَا عَنِّي فَقَدْ وُلِّيتُ مِنْ أَمْرِكُمَا أَكْثَرَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى عُمَرَ، وَأَنَا أُصَلِّي بِكُمُ الْمَكْتُوبَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ صُهَيْبٌ»

ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کیا گیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کا جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو حضرت صھیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ مجھے موقع دیجئے ، میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھانے کا تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میں ہی تمہیں فرض نماز یں بھی پڑھا تا ہوں ، چنانچہ حضرت صھیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عُبَيْدَةُ ← قَاسِمٌ أَخِي ← حُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْحَافِظِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4517

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4518

4518 - أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْوَاقِدِيِّ، «أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَجَّ بِالنَّاسِ عَشْرَ حِجَجٍ مُتَوَالِيَاتٍ، مِنْهُنَّ حَجَّةً فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَتِسْعًا فِي خِلَافَتِهِ، وَأَنَّهُ دُفِنَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ، وَخَمْسَةَ أَشْهُرٍ، وَتِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا»

واقدی روایت کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دس حج مسلسل کئے ، ان میں سے ایک حج حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کیا اور باقی۹ حج اپنی خلافت میں کئے ،اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ آپ کی خلافت کی مدت دس سال ۵ مہینے اور ۲۹ دن تھی ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مخلد بن جعفر الباقرحي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4518

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4519

4519 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، وَأَشْيَاخُنَا، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا طُعِنَ، قَالَ: لِعَبْدِ اللَّهِ: " اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَأَقْرِئْ عَلَيْهَا السَّلَامَ، وَقُلْ: إِنَّ عُمَرَ يَقُولُ لَكِ: إِنْ كَانَ لَا يَضُرُّكِ وَلَا يُضَيِّقُ عَلَيْكِ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَضُرُّكِ وَيُضَيَّقُ عَلَيْكِ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ دُفِنَ فِي هَذَا الْبَقِيعِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ "، فَجَاءَهَا الرَّسُولُ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ لَا يَضُرُّنِي وَلَا يُضَيِّقُ عَلَيَّ، قَالَ: «فَادْفِنُونِي مَعَهُمَا»

محمد بن عمر و کہتے ہیں: ابوسلمہ اور یحیٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب اور ہمارے دیگر اساتذہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو آپ نے (اپنے صاحبزادے) عبداللہ سے فرمایا: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر میرا سلام عرض کر واور کہو :عمر کی درخواست ہے کہ اگر آپ کو برانہ لگے اور آپ کو تکلیف نہ ہوتو میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ فن ہونا چاہتا ہوں اوراگر آپ کو تکلیف ہو یا آپ کو برا لگے تو خدا کی قسم ! اس بقیع پاک میں ایسے ایسے اصحاب رسول اورامہات المومنین مدفون ہیں جوعمر سے بدر جہا بہتر تھے (تو کوئی بات نہیں میں بھی و ہیں مدفون ہو جاؤں گا) حضرت عبداللہ ام المومنین کے پاس آئے ، تو ام المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہ مجھے کوئی نقصان ہے اور نہ مجھے برا لگے گا ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ٹھیک ہے مجھے ان دونوں( حضرات )کے ساتھ دفن کرنا۔

أَشْيَاخُنَا، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← حَدَّثَ أَبو سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4519

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4520

4520 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: «أَطَلَعْتُ فِي الْقَبْرِ - قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - مِنْ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَيْتُ عَلَيْهَا حَصْبَاءَ حَمْرَاءَ»

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ کے اندر روضہ اطہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبر یں دیکھی ہیں ۔ میں نے ان پر سرخ کنکریاں پڑی ہوئی دیکھی ہیں ۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4520

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4521

4521 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «قُبِضَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال مبارک ۶۳ برس کی عمر میں ہوا۔

«قُبِضَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً» ← أَنَسٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَاضِي ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4521

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4522

4522 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «إِنْ كَانَ عُمَرُ حِصْنًا حَصِينًا يَدْخُلُ الْإِسْلَامُ فِيهِ، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ انْثَلمَ الْحِصْنُ فَالْإِسْلَامُ يَخْرُجُ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُ فِيهِ إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مضبوط قلعہ تھے جس میں اسلام داخل تو ہوسکتا تھالیکن نکل نہیں سکتا تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو یہ قلعہ ٹوٹ گیا تو اسلام اس سے نکلنے لگ گیا ۔ اور اس میں داخل نہ ہوتا تھا۔ جب بھی صالحین کا ذکر ہوتا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان میں سرفہرست ہوتے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ.

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4522

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4523

4523 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ عَلَى عُمَرَ وَهُوَ مُسَجًّى، فَقَالَ: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمَا فِي صَحِيفَتِهِ مِنْ هَذَا الْمُسَجَّى» قَالَ الْحَاكِمُ: " أَخْبَارُ الشُّورَى مَا يَصِحُّ مِنْهَا مَخْرَجُهُ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْصُولَةٌ بِأَخْبَارِ سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کفن میں تھے، آپ نے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ تم پراللہ تعالی کی رحمت ہو، پھر فرمایا: اس کفن میں لپٹے ہوئے شخص سے بڑھ کر میں کسی کے بارے میں یہ خواہش نہیں رکھتا ہوں کہ میں اللہ سے اس چیز کے ہمراہ ملاقات کروں جواس کے نامہ اعمال میں ہے۔ امام حاکم کہتے ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مشاورت کے متعلق صحیح احادیث سقیفہ بنی ساعدہ کی اخبار کے ساتھ موصول ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4523

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4524

4524 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبِي، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: " سُمِعَ صَوْتٌ بِجَبَلِ تَبَالَةَ حِينَ قُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: شِعْرٌ [البحر الطويل] لِيَبْكِ عَلَى الْإِسْلَامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا ... فَقَدْ أَوْشَكُوا هَلْكَى وَمَا قَدُمَ الْعَهْدُ وَأَدْبَرَتِ الدُّنْيَا، وَأَدْبَرَ خَيْرُهَا ... وَقَدْ مَلَّهَا مَنْ كَانَ يُوقِنُ بِالْوَعْدِ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا"

مالک بن دینارفر ماتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کیا گیا تو جبل تبالہ کی جانب سے یہ آواز سنائی دی۔ حاضر ہے اسلام کی خدمت میں جوکوئی رونے والا ہے، بے شک قریب ہے میری ہلاکت اور زمانہ قریب آ گیا ہے ۔ اور دنیا پیچھے پلٹ گئی ہے اوراس کی بھلائی بھی لوٹ گئی ہے اور وہ ملال میں ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے ۔ لوگوں نے دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا۔

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبِي ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4524

chevron_left Previous
1…724725726…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section