Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4501

4501 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا هَارُونُ بنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، وَابْنِ عَجْلَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ فَتًى عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: نِعْمَ الْفَتَى، قَالَ: فَتَبِعَهُ أَبُو ذَرٍّ، فَقَالَ: يَا فَتًى اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَسْتَغْفِرُ لَكَ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‍‍ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: لَا، أَوْ تُخْبِرُنِي، فَقَالَ: إِنَّكَ مَرَرْتَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: نِعْمَ الْفَتَى، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4501 - على شرط مسلم

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک نو جوان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گز را۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نو جوان کتنا اچھا ہے (راوی) کہتے ہیں: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اس نو جوان کے پیچھے چل دیئے ،اوراس سے کہا: اے نو جوان ! میرے لئے مغفرت کی دعا کر ، اس نے کہا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ آپ تو خو درسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ کے صحابی ہیں، میں آپ کے لئے مغفرت کی دعا کروں؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: بس تم میرے لئے دعا کرو ،نو جوان نے کہا: جب تک آپ اصل وجہ نہیں بتائیں گے، میں دعانہیں کرونگا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فر مایا: تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریب سے جب گزرا تھا تو انہوں نے تیرے بارے میں فرمایا تھا’’ یہ کتنا اچھا نو جوان ہے ‘‘اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات خودسنی ہے کہ ’’اللہ تعالی نے عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور دل پرحق نافذ کر دیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← نِعْمَ الْفَتَى، وَإِنِّي ← إِنَّكَ مَرَرْتَ عَلَى عُمَرَ ← لَا، أَوْ تُخْبِرُنِي، ← اسْتَغْفِرْ لِي، ← يَا أَبَا ذَرٍّ أَسْتَغْفِرُ لَكَ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ← يَا فَتًى اسْتَغْفِرْ لِي، ← فَتَبِعَهُ أَبُو ذَرٍّ، ← عُمَرُ: نِعْمَ الْفَتَى، ← مَرَّ فَتًى عَلَى عُمَرَ، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَكْحُولٌ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، وَابْنِ عَجْلَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← عبدان الأهوازي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4501

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4502

4502 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ وَالصَّلَاةُ قَائِمَةٌ، وَثَلَاثَةُ نَفَرٍ جُلُوسٌ، أَحَدُهُمْ أَبُو جَحْشٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: قُومُوا فَصَلُّوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ اثْنَانِ وَأَبَى أَبُو جَحْشٍ أَنْ يَقُومَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: صَلِّ يَا أَبَا جَحْشٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَقُومُ حَتَّى يَأْتِيَنِي رَجُلٌ هُوَ أَقْوَى مِنِّي ذِرَاعًا، وَأَشَدُّ مِنِّي بَطْشًا فَيَصْرَعُنِي، ثُمَّ يَدُسُّ وَجْهِي فِي التُّرَابِ، قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَكُنْتُ أَشَدَّ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَأَقْوَى مِنْهُ بَطْشًا فَصَرَعَتْهُ، ثُمَّ دَسَسْتُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَى عَلَيَّ عُثْمَانُ فَحَجَزَنِي فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُغْضَبًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: «مَا رَابَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ جُلُوسٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَفِيهِمْ أَبُو جَحْشٍ اللَّيْثِيُّ، فَقَامَ الرَّجُلَانِ فَأَعَادَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ مَعُونَةُ عُثْمَانَ إِيَّاهُ إِلَّا أَنَّهُ ضَافَهُ لَيْلَةً فَأَحَبَّ أَنْ يَشْكُرَهَا لَهُ، فَسَمِعَهُ عُثْمَانُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ لَنَا عُمَرُ عِنْدَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَضِيَ عُمَرُ رَحْمَةَ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ كُنْتَ جِئْتَنِي بِرَأْسِ الْخَبِيثِ» ، فَقَامَ عُمَرُ فَلَمَّا بَعُدَ نَادَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلُمَّ يَا عُمَرُ أَيْنَ أَرَدْتَ أَنْ تَذْهَبَ؟» فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ آتِيَكَ بِرَأْسِ الْخَبِيثِ، فَقَالَ: " اجْلِسْ حَتَّى أُخْبِرَكَ بِغِنَى الرَّبِّ عَنْ صَلَاةِ أَبِي جَحْشٍ اللَّيْثِيِّ، إِنَّ لِلَّهِ فِي سَمَاءِ الدُّنْيَا مَلَائِكَةً خُشُوعًا لَا يَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِذَا قَامَتِ السَّاعَةُ رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ ثُمَّ قَالُوا: رَبَّنَا مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ "، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَمَّا أَهْلُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ: سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، وَأَمَّا أَهْلُ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَيَقُولُونَ: سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، فَقُلْهَا يَا عُمَرُ فِي صَلَاتِكَ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِالَّذِي عَلَّمْتَنِي وَأَمَرَتْنِي أَنْ أَقُولَهُ فِي صَلَاتِي، قَالَ: " قُلْ هَذِهِ مَرَّةً، وَهَذِهِ مَرَّةً، وَكَانَ الَّذِي أَمَرَ بِهِ أَنْ قَالَ: أَعُوذُ بِكَ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ جَلَّ وَجْهُكُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4502 - منكر غريب

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، اس وقت نماز ( کی جماعت ) قائم تھی اور تین آدمی (الگ )بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک ’’ابو جحش الیثی‘‘ تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو،ان میں سے دو آدمی اٹھ کر نماز میں شامل ہوگئے جبکہ تیسرے ابو جحش نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوحجش ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو ، اس نے کہا: میں نہیں اٹھوں گاحتی کہ میرے پاس و ہ شخص آئے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے اور جس کی پکڑ مجھ سے زیادہ سخت ہو، پھر وہ مجھے پچھاڑے، پھر میرا چہرہ مٹی میں خاک آلود کر دے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس کے قریب آیا، میں اس سے زیادہ طاقتور بھی تھا اور میری پکڑ بھی اس سے زیادہ سخت تھی ۔ میں نے اس کو پچھاڑا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑا۔ اتنے میں حضرت عثان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے جھٹر کا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے سخت غصہ کی حالت میں نکل گئے ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آ پہنچے ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوحفص !تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟ عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مسجد کے دروازے پر تین آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ،اس وقت جماعت ہور ہی تھی ۔ابوحجش اللیثی میں ان میں تھے ۔ان میں سے دوتو اٹھ گئے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا ۔اس کے بعد آپ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی حمایت صرف اس لئے کی ہے کہ اس نے ایک رات اس کی مہمان نوازی کی تھی اور عثمان رضی اللہ عنہ اس کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا تھا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہ بات سن رہے تھے ۔ آپ بولے : یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ نے وہ باتیں نہیں سنی ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے بارے میں آپ سے کہی ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگرعمر رضی اللہ عنہ اللہ کی رحمت پر راضی ہوتو میں یہ چاہتا ہوں کہ تو خبیث کو میرے پاس لےآتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے ، جب یہ کچھ دور چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دے کر کہا:عمر رضی اللہ عنہ ،ادھر آؤ ، کہاں جار ہےہو؟ عرض کی: خبیث کا سر آپ کی خدمت میں پیش کر نے کیلئے جا رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، میں تمہیں بتا تا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو ابو جحش کی نماز کی ضرورت نہیں ہے۔ بے شک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو ہر وقت عاجزی سے سر جھکائے رکھتے ہیں اور یہ قیامت تک سرنہیں اٹھائیں گے ۔ جب قیامت قائم ہو جائے گی تو یہ سر اٹھا کر عرض کر یں گے : اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان دنیاوالوں کا وظیفہ یہ ہے ۔’’سبحان ذی الملك والمكوت ‘‘اور دوسرے آسمان والوں یہ ہے’’سبحان الحی الذي لایموت ‘‘اے عمر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں ان وظائف کو شامل کرلو ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کو نماز میں کس طریقے سے پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں ایک ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو ،اور یہ دعا مانگنے کا بھی حکم دیا’’اے اللہ میں تیرے عذاب سے تیرے عفوکی پناہ مانگتا ہوں ،اور تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں ، اور تجھ سے تیری بزرگی کی پناہ مانگتا ہوں‘‘ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4502

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4503

4503 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَا سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ: إِنِّي لَأَظُنُّ كَذَا وَكَذَا، إِلَّا كَانَ كَمَا يَظُنُّ، بَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ جَالِسٌ إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلُ جَمِيلٌ، فَقَالَ لَهُ: أَخْطَأَ ظَنِّي أَوْ إِنَّكَ عَلَى دِينِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلَقَدْ كُنْتَ كَاهِنَهُمْ "، قَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ اسْتُقْبِلَ بِهِ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ أَلَا أَخْبَرَتْنِي قَالَ: كُنْتُ كَاهِنَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: فَمَاذَا أَعْجَبُ مَا جَاءَ بِكَ؟ «فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا لَيْسَ لَهُ سَنَدٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4503 - الحديث في صحيح البخاري بهذا الإسناد بطوله

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی چیز کے متعلق کہا کہ میراگمان یہ ہے تو واقعی اسی طرح ہوتا ، جیسا کہ آپ اپنا گمان بتاتے تھے ۔ یونہی ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک حسین وجمیل شخص گز را ۔ آپ نے اس کوفر مایا : میرے سمجھنے میں غلطی ہے یا تو اپنے جاہلیت والے دن پر ہے؟ تو ان کا نجومی ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا کہ ایک مسلمان آدمی سے میری ملاقات ہوئی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جوتم پر ارادہ رکھتا ہوں ، تم اس کے بارے میں مجھے بتاؤ ، اس نے کہا: میں جاہلیت میں ان کا نجومی ہوا کرتا تھا۔ اس نے کہا: کتنا اچھا ہے جو آپ لائے ہیں ۔ پھر اس کے بعدلمبی حدیث بیان کی ۔اس کی سندنہیں ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4503

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4504

4504 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَامِرٍ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا رَاشِدٍ حَدَّثَهُمْ، يَرُدَّهُ إِلَى مَعْدِي كَرِبَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ آخِرَ سَفَرِهِ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا شَارَفَهَا أُخْبِرَ أَنَّ الطَّاعُونَ فِيهَا، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَهْجِمَ عَلَيْهِ، كَمَا أَنَّهُ لَوْ وَقَعَ وَأَنْتَ بِهَا مَا كَانَ لَكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا، فَرَجَعَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ بِاللَّيْلِ إِذْ قَالَ لِي: أَعْرِضْ عَنِ الطَّرِيقِ، فَعَرَضَ، وَعَرَضْتُ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى ذِرَاعِ جَمَلِهِ، فَنَامَ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُولُ لِي: مَا لِي وَلَهُمْ، رُدُّونِي عَنِ الشَّامِ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا ظَنَنْتُ أَنَا مُخَالِطُوا النَّاسَ، قُلْتُ لَهُ: لِمَ قُلْتَ مَا قُلْتَ حِينَ انْتَبَهْتَ مِنْ نَوْمِكَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيُبْعَثَنَّ مِنْ بَيْنِ حَائِطِ حِمْصَ وَالزَّيْتُونِ فِي التُّرَابِ الْأَحْمَرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ» ، لَئِنْ أَرْجَعَنِي اللَّهُ مِنْ سَفَرِي هَذَا، لَأَحْتَمِلَنَّ عِيَالِي وَأَهْلِي وَمَالِي حَتَّى أَنْزَلَ حِمْصَ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ ذَلِكَ وَقُتِلَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4504 - بل منكر

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آخری سفر میں جو کہ شام کی طرف تھا، ان کے ہمراہ تھے جب وہاں پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے ۔ آپ سے عرض کی گئی : اے امیر المونین ! آپ کو وہاں نہیں جانا چاہئے جیسا کہ اگر آپ وہاں موجود ہو تے اور طاعون آ تا تو آپ کو وہاں سے نکلنا جائز نہ ہوتا۔ تو آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس ہولئے ، اسی سفر کے دوران ہم رات کے وقت سفر میں تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: یہ راستہ چھوڑ دو، یہ کہہ کر آپ راستہ سے ہٹ گئے اور میں بھی ہٹ گیا ۔ آپ اپنی سواری سے نیچے اترے اوراپنے اونٹ کی کوہان پر سر رکھ کر سو گئے ،لیکن مجھے نیند نہ آئی ، پھر آپ مجھ سے فرمانے لگے :میں نے ان کا کیا بگاڑا تھا کہ انہوں نے مجھے شام سے واپس کر دیا۔ پھر آپ سوار ہو گئے ، میں آپ سے کچھ بھی پوچھنے کی جسارت نہ کر سکاحتیٰ کہ جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں قافلہ میں پہنچ چکا ہوں تو میں نے عرض کی : آپ نے بیدار ہوکر جو کچھ کہا تھا اس کی وجہ کیاتھی؟ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے’’حمص کی دیواراور زیتون کے درمیان سرخ مٹی میں سے ستر ہزار آدمی قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے ۔ان سے حساب نہیں لیا جائے گا۔اگر اللہ تعالیٰ مجھے اس سفر بغیر و عافیت واپس بھیج دیا تو میں اپنے اہل وعیال اور مال و متاع سمیت آ کر حمص میں رہائش پذیر ہو جاؤں گا لیکن آپ اس سفر سے واپس آتے ہی شہید کر دیئے گئے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← محمد بن الوليد بن عامر الزبيدي ← عبد الله بن سالمٍ الأشعري، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ الزُّبَيْدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4504

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4505

4505 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ حَاتِمٍ الْحَافِظُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: «أَنِ اتَّخِذْ لِلْمُسْلِمِينَ دَارَ هِجْرَةٍ وَمَنْزِلَ جِهَادٍ» فَبَعَثَ سَعْدٌ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ بْنُ سَلَمَةَ فَارْتَادَ لَهُمْ مَوْضِعَ الْكُوفَةِ الْيَوْمَ، فَنَزَلَهَا سَعْدُ بِالنَّاسِ، فَخَطَّ مَسْجِدَنَا، وَخَطَّ فِيهِ الْخُطَطَ، - قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَكَانَ بِالْكُوفَةِ مَنْبَتُ الْخُزَامِيِّ وَالشِّيحُ، وَالْأُقْحُوانُ، وَشَقَائِقُ النُّعْمَانِ، فَكَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّيهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خَدَّ الْعَذْرَاءِ - فَارْتَادُوهُ فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكَتَبَ: «أَنِ اتْرُكُوهُ» فَتَحَوَّلَ النَّاسُ إِلَى الْكُوفَةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4505 - الهيثم بن عدي ساقط

شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ مسلمانوں کیلئے ایک دارالہجرت اور منزل جہاد بناؤ ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حارث بن سلمہ نامی آدمی کو بھیجا۔انہوں نے وہ جگہ منتخب کی جہاں پر آج کوفہ موجود ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں پرآئے اور مسجد کا نقشہ بنایا،اوراس میں بہت سارے دیگر خطوط کھینچے۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں: کوفہ میں’’خزامی‘‘( ایک قسم کا پودا ہے جس کے پھول بہت خوشگوار ہوتے ہیں) ’’شیح‘‘( ایک قسم کی گھاس ہے ) گل بابونہ اورگل لالہ بہت اگتے تھے ۔اہل عرب زمانہ جاہلیت میں اس کو’’خدالعذ راء‘‘ ( کنواری لڑکی کے رخسار) کہا کر تے تھے ۔ لوگوں نے حارث بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں درخواست کی ( کہ اس زمین کو چھوڑ دیا جائے) چنانچہ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عریضہ ارسال کیا۔ تو آپ نے جوابی مکتوب میں لکھ بھیجا کہ اس زمین کو چھوڑ دو،لوگ کوفہ کی جانب منتقل ہونا شروع ہوگئے ۔

الشَّعْبِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ حَاتِمٍ الْحَافِظُ، ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4505

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4506

4506 - أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «الْكُوفَةُ قُبَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَرْضُ الْبَلَاءِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4506 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوفہ’’قبۃ الاسلام‘‘ (اسلام کا مرکز) ہے اور آزمائشوں کی زمین ہے۔

حُذَيْفَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← يزيد بن هارون، أنبأ شريك، ← مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4506

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4507

4507 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يُوسُفَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ عَرَضَتْ مَوْلَاتُهُ تَصْبُغُ لِحْيَتَهُ، فَقَالَ: «مَا أَرَاكِ إِلَّا أَنْ تُطْفِئِي نُورِي كَمَا يُطْفِئُ فُلَانٌ نُورَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی لونڈی ان کی داڑھی میں خضاب لگانے کے لئے حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: میں تو صرف یہ سمجھتا ہوں کہ تو میرے نورکو بجھا رہی ہے جیسا کہ فلاں شخص اپنانور بجھا دیتا ہے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ عَرَضَتْ مَوْلَاتُهُ تَصْبُغُ لِحْيَتَهُ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← الْحَسَنُ بْنُ يُوسُفَ الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ، ← عبد الباقي بن قانع الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4507

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4508

4508 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرِ مِنْ عُمَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4508 - الحديث شبه موضوع

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے :تم تو یہ بات کہہ رہے ہو جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے سنا ہے کہ سورج کسی ایسے آدی پر طلوع نہیں ہوا جوعمر رضی اللہ عنہ سے افضل ہو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن عبد الله الجوهري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4508

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4509

4509 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " إِنَّ أَفْرَسَ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: الْعَزِيزُ حِينَ تَفَرَّسَ فِي يُوسُفَ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَالْمَرْأَةُ الَّتِي رَأَتْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَتْ لِأَبِيهَا: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " قَالَ الْحَاكِمُ: «فَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، لَقَدْ أَحْسَنَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ» . [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4509 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سے تین آدمیوں نے انتہائی کمال فراست ( دوراندیشی )کا ثبوت دیا ۔ (۱) عزیز مصر۔ جبکہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں دور رس نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا تھا:’’اکر می مثواه‘‘ (یوسف: ۲۱) ’’انہیں عزت سے رکھ‘ (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) (۲) اس عورت نے ، جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے والد سے کہا تھا :يا ابت استاجرة( القصص:۲۶ ) ”اے میرے باپ ان کونو کرر کھ لو‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمدرضا ) (۳) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جس وقت انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نا مزدکیا تھا۔ امام حاکم کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر راضی ہوجنہوں نے ان تمام کو یکجا کر دیا ہے اس کی سند صحیح ہے۔

الْحَاكِمُ: «فَرَضِيَ اللَّهُ ← لِأَبِيهَا: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ ← لِامْرَأَتِهِ: أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَالْمَرْأَةُ الَّتِي رَأَتْ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَفْرَسَ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: الْعَزِيزُ حِينَ تَفَرَّسَ فِي يُوسُفَ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4509

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4510

4510 - حَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ قَالَ: «أُصِيبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4510 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت معدان بن ابوطلحہ یعمری فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بدھ کے دن حملہ ہوا تھا اور ذی الحجہ( مہینہ ختم ہونے ) میں ابھی چار را تیں باقی تھیں ۔

مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ:

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4510

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4511

4511 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ - فَقُلْتُ: أَعْجَمِيٌّ - وَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَمَنِ اسْتُخْلِفَ فَهُوَ الْخَلِيفَةُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4511 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت معدان بن ابوطلحہ یعمری فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے )ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے جیسا کہ کسی مرغے نے مجھے تین مرتبہ چونچ ماری ہے ۔ میں اس کی تعبیر یہ سمجھا ہوں کہ اب میرا آخری وقت آ چکا ہے ۔ اور میں خلافت کا معاملہ ان چھ صحا بہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ چھوڑ تا ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی حالت میں اس دنیا سے تشریف لے گئے تھے (ان کے نام یہ ہیں ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان میں سے جس کو بھی خلیفہ بنالیا جائے وہی خلافت کا اہل ہے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ الْخُرَاسَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4511

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4512

4512 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: " كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَكَانَ يَصْنَعُ الرَّحَاءَ وَكَانَ الْمُغِيرَةُ يَسْتَعْمِلُهُ كُلَّ يَوْمٍ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَكْثَرَ عَلَيَّ فَكَلِّمْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اتَّقِ اللَّهَ وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ "، قَالَ: وَمِنْ نِيَّةِ عُمَرَ أَنْ يَلْقَى الْمُغِيرَةَ فَيُكَلِّمَهُ فِي التَّخْفِيفِ عَنْهُ، قَالَ: فَغَضِبَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ وَكَانَ اسْمُهُ فَيْرُوزَ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ: يَسَعُ النَّاسَ كُلَّهُمْ عِدْلُهُ غَيْرِي، قَالَ: فَغَضِبَ وَعَزَمَ عَلَى أَنْ يَقْتُلَهُ، فَصَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ، قَالَ: فَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ، قَالَ: وَكَبَّرَ عُمَرُ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُكَبِّرُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ حَتَّى يَتَكَلَّمَ، وَيَقُولَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَجَاءَ، فَقَامَ فِي الصَّفِّ بِحَذَاهُ مِمَّا يَلِي عُمَرَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ تَكَلَّمَ عُمَرُ، وَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ عَلَى كَتِفِهِ وَوَجَأَهُ عَلَى مَكَانٍ آخَرَ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ فَسَقَطَ عُمَرُ، قَالَ: وَوَجَأَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَعَهُ، فَأَفْرَقَ مِنْهُمْ سَبْعَةً، وَمَاتَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَاحْتُمِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذُهِبَ بِهِ وَمَاجَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَطْلُعُ، قَالَ: فَنَادَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلَاةُ الصَّلَاةُ، فَفَزِعَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَصَلَّى بِهِمْ، فَقَرَأَ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ تَوَجَّهَ النَّاسُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَعَا بِشَرَابٍ لَيَنْظُرُ مَا مَدَى جُرْحِهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ فَلَمْ يَدْرِ أَدَمٌ هُوَ أَمْ نَبِيذٌ، قَالَ: فَدَعَا بِلَبَنٍ، فَأُتِيَ بِهِ فَشَرِبَهُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ فَقَالُوا: لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: «إِنْ كَانَ الْقَتْلُ بَأْسًا فَقَدْ قُتِلْتُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4512 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابولؤلؤ ۃ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ یہ چکیاں بنانے کا کاریگر تھا۔حضرت مغیرہ اس سے روزانہ چار درہم اجرت پر کام کروایا کرتے تھے ۔ ابولولوۃ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور بولا : اے امیر المومنین! مغیر ہ نے مجھ پر ( کام کا )بہت بو جھ ڈال رکھا ہے ۔ اس کوفر مائیں کہ وہ مجھ پر کچھ تخفیف کر دے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: خدا کا خوف کر اور اپنے آقا کی فرمانبرداری کر ۔ جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ مغیرہ سے مل کر تخفیف کرنے کو کہہ دیں گے ۔لیکن ابولؤلؤ ۃ کو اس بات سے غصہ آ گیا اور اس نے ( اسی دن) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر نے کا ارادہ کرلیا تھا ۔ اس نے دونوکوں والا ایک خنجر بنایا۔ اس کو خوب تیز کیا اورا سے زہر میں ڈال کر رکھ دیا ۔ ( حضرت ابورافع ) کہتے ہیں: (ایک دن نماز کے لئے) تکبیر کہی گئی ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ عادت تھی کہ جب اقامت ہو جاتی تو نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں درست کر نے کو کہا کرتے تھے ۔ ابولؤلؤ ۃ نماز فجر میں آیا اور ( صف اول میں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بالکل قریب کھڑا ہوگیا۔ جب اقامت ہوگئی تو (حسب عادت )حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کرنے کی مدایات دیں ، پھر تکبیر کہی ۔ تو اس نے آپ پرحملہ کردیا۔ آپ کے کند ھے ، آپ کے پہلواور دیگر مقامات پر خنجر کے پے در پے وار کئے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گر پڑے، پھر اس نے مزید ۱۳ آدمیوں پر حملہ کیا۔ ان میں سے ۷شد ید زخمی ہوئے ، جبکہ۶ شہید ہو گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر( آپ کے گھر )لایا گیا ،لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی حتی کہ سورج بالکل طلوع ہونے کے قریب تھا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اے لوگو! نماز پڑھو ،نماز پڑھو،تولوگ جلدی سے نماز کی طرف آ گئے ، حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ نے نماز میں سب سے مختصر سورتیں پڑھیں ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو سب لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آگئے ۔ ( حضرت ابورافع ) فرماتے ہیں: آپ کے زخم کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لئے پانی منگوایا گیا ، آپ کو نبیذ پیش کیا گیا ،آپ نے وہ نبیذ پیا تو وہ نکل گیا ۔لیکن یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ یہ نبیذ ہے یا خون ، پھر دودھ منگوایا گیا ، آپ کو دودھ پیش کیا گیا۔ آپ نے پیا تو زخم کے راستے سے وہ بھی نکل گیا۔لوگ (تسلی دیتے ہوئے)کہنے لگے: اے امیر المومنین ! آپ کوکوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ آپ نے فر مایا:اگرقتل کوئی نقصان کی چیز ہے تو ( جان لو کہ ) میں قتل کر دیا گیا ہوں ۔

أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4512

chevron_left Previous
1…723724725…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section