Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4369

4369 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ لَمَّا فَرَغَ مِنْ فَتْحِ مَكَّةَ جَمَعَ مَالِكَ بْنَ عَوْفٍ النَّصْرِيَّ مِنْ بَنِي نَصْرٍ، وَجُشَمَ وَمِنْ سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ وأَوْزَاعَ مِنْ بَنِي هِلَالٍ، وَنَاسًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَوْزَعَتْ مَعَهُمُ الْأَحْلَافُ مِنْ ثَقِيفٍ، وَبَنُو مَالِكٍ، ثُمَّ سَارَ بِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَارَ مَعَ الْأَمْوَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْأَبْنَاءِ، فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيَّ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَادْخُلْ بِالْقَوْمِ حَتَّى تَعْلَمَ لَنَا مِنْ عِلْمِهِمْ» فَدَخَلَ فَمَكَثَ فِيهِمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ: كَذَبَ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ: إِنْ كَذَّبْتَنِي فَرُبَّمَا كَذَّبْتَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كُنْتَ يَا عُمَرُ ضَالًّا فَهَدَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَسَأَلَهُ أَدْرَاعًا مِائَةَ دِرْعٍ، وَمَا يُصْلِحُهَا مِنْ عِدَّتِهَا، فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ حَتَّى نُؤَدِّيَهَا إِلَيْكَ» ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرًا «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4369 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی طرف پیش قدمی فرمائی (اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ) بونصر میں سے ما لک بن عوف نصری اور سعد بن بکر میں سے جشم اور بنی ہلال میں سے اوزاع اور بنو عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر میں سے پکچھ لوگ جمع ہوئے ،اوران کے ساتھ ساتھ ان کے حلیف قبائل بنوثقیف اور بنو ما لک کو بھی بھڑ کا کر شامل کر لیا گیا۔ پھران تمام قبیلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب پیش قدمی شروع کر دی اور مال کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو ہمراہ لے چلے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی ، تو آپ نے عبدالرحمٰن بن ابی حد ر داسلمی کو بھیجا تا کہ ان کے حالات معلوم کر کے آئیں اور ہمیں اس کی خبر دیں ۔ وہ گئے اور وہاں ایک دن یا دودن ٹھہرے اور پھر واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت حال سے آ گا ہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ابن ابی حدرد جو کچھ کہہ رہے ہیں ۔ کیا تم وہ نہیں سن رہے ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا: ابنی ابی حدر دجھوٹ بول رہا ہے ۔ ابن ابی حدرد نے کہا: اگرتم مجھے جھٹلا رہے ہوتو ( کوئی بات نہیں) کیونکہ تم اس کو بھی جھٹلا چکے ہو جو مجھ سے افضل ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنی ابی حد رد جو کہہ رہا ہے، آپ نے سنا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ ! بے شک میں بھی’’ ضال‘‘ تھا پھر اللہ تعالی نے مجھے ہدایت دے دی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے ایک سوزر ہیں بمعہ ان کے متعلقات کے منگوائیں ، اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ ناراضگی کے ساتھ لے رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔ بلکہ یہ عاریتاً لے رہے ہیں ۔ جو ضائع ہوں گی ان کی ضمان ادا کر یں گے ۔اور تمام کی تمام تمہیں واپس کی جائیں گی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی طرف) پیش قدمی شروع کر دی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4369

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4370

4370 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ» قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ: «لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن اونٹ کے پہلو میں سے کچھ بال پکڑے پھرارشادفرمایا: اللہ تعالی نے جو تمہیں مال غنیمت دیا ہے ، اس میں سے میرے لئے اتنی مقدار میں بھی حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اورخمس تم پرردکیا گیا ہے اور سوئی اور دھاگہ تک بھی ادا کرو ، اور دھوکہ دہی سے بچو کیونکہ ملاوٹ قیامت کے دن ملاوٹ کرنے والوں کیلئے باعث عار ہوگی اور تم پر جہاد فی سبیل اللہ لا زم ہے کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اللہ تعالی اس کی بدولت پر یشانیوں اور دکھوں کوختم فرمادیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت کو( خوداپنے لئے) نہ پسند کرتے تھے اورفر مایا: مالدارمومن کو چاہئے کہ وہ کمزوروں اور ناداروں کو د یں ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي سَلَّامٍ الْبَاهِلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ← مَكْحُولٌ ← سليمان بن موسى الأشدق، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← عبد العزيز بن معاوية ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4370

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4371

4371 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الطَّائِفِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ» فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا " وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ عَدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ كُلَّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ بِعَظْمٍ مِنْهُ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ كُلَّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ» صَحِيحٌ عَالٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4371 - صحيح

حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعہ کا محاصرہ کیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو( اس موقع پر)یہ ارشادفر ماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے ایک تیر ٹھیک نشانے پر لگایا ، اس کے لئے جنت کا ایک درجہ ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ماتے بھی سنا ہے کہ جس نے اللہ تعالی کی راہ میں ایک تیر چلایا تو یہ ایک غلام آزادکر نے کے برابر ہے اور جوشخص اسلام (کی حالت) میں بوڑھا ہوا، اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔ اور جس نے کسی مسلمان کو آزاد کیا اللہ تعالی اس کی ہر ہر ہڈی کے عوض اس کی ہڈیاں دوزخ سے آزاد کرے گا ۔ اور جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا اس کے ہر عضو کے بدلے اللہ تعالی اس کے اعضاءکو دوزخ سےآزاد کرے گا۔ یہ حد یث صحیح ہے ، اس کی سند عالی ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← «مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ» فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ قَصْرَ الطَّائِفِ، ← أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4371

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4372

4372 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةُ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ، وَالثَّالِثَةُ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةُ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4372 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے ،(۱) حدیبیہ کا عمرہ۔(۲) عمرۃ القضاء ( دونوں اگلے سال کئے ) (۳) عمر و جعرانہ۔ (۴) چوتھا وہ عمرہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ ادا کیا ۔یہ حد یث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4372

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4373

4373 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ جَعَلَ لَا يَزَالُ يَتَخَلَّفُ الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَخَلَّفَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: «دَعُوهُ، إِنْ يَكُ فِيهِ خَيْرٌ فَسَيُلْحِقُهُ اللَّهُ بِكُمْ، وَإِنْ يَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَقَدْ أَرَاحَكُمُ اللَّهُ مِنْهُ» حَتَّى قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَخَلَّفَ أَبُو ذَرٍّ، وَأَبْطَأَ بِهِ بَعِيرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ، إِنْ يَكُ فِيهِ خَيْرٌ فَسَيُلْحِقُهُ اللَّهُ بِكُمْ، وَإِنْ يَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَقَدْ أَرَاحَكُمُ اللَّهُ مِنْهُ» فَتَلَوَّمَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى بَعِيرِهِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَبْطَأَ عَلَيْهِ أَخَذَ مَتَاعَهُ فَجَعَلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاشِيًا، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَنَازِلِهِ، وَنَظَرَ نَاظِرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى الطَّرِيقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْ أَبَا ذَرٍّ» فَلَمَّا تَأَمَّلَهُ الْقَوْمُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ وَاللَّهِ أَبُو ذَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ أَبَا ذَرٍّ يَمْشِي وَحْدَهُ، وَيَمُوتُ وَحْدَهُ، وَيُبْعَثُ وَحْدَهُ» فَضَرَبَ الدَّهْرُ مِنْ ضَرْبَتِهِ، وَسُيِّرَ أَبُو ذَرٍّ إِلَى الرَّبَذَةَ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى امْرَأَتَهُ وَغُلَامَهُ إِذَا مُتُّ فَاغْسِلَانِي وَكَفِّنَانِي، ثُمَّ احْمَلَانِي فَضَعَانِي عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَأَوَّلُ رَكْبٍ يَمُرُّونَ بِكُمْ فَقُولُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا بِهِ كَذَلِكَ فَاطَّلَعَ رَكْبٌ، فَمَا عَلِمُوا بِهِ حَتَّى كَادَتْ رَكَائِبُهُمْ تَطَأُ سَرِيرَهُ، فَإِذَا ابْنُ مَسْعُودٍ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقَالُوا: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: جِنَازَةُ أَبِي ذَرٍّ فَاسْتَهَلَّ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا ذَرٍّ يَمْشِي وَحْدَهُ، وَيَمُوتُ وَحْدَهُ، وَيُبْعَثُ وَحْدَهُ» ، فَنَزَلَ فَوَلِيَهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَجَنَّهُ، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ذُكِرَ لِعُثْمَانَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا وَلِيَ مِنْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4373 - فيه إرسال

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کی جانب پیش قدمی فرمائی تو کوئی نہ کوئی پیچھے رہ جاتا تو لوگ کہتے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں شخص پیچھے رہ گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : اس کو چھوڑ و،اگر اس ( کے نصیب )میں بھلائی ہوگی تو وہ آ کر تمہارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔اوراگر اس ( کے تمہارے ساتھ چلنے) میں بہتری نہیں ہے تو اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بچالیا۔حتی کہ کسی نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوذر پیچھے رہ گئے ہیں ، ان کا اونٹ ان کو دیر کروا رہا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ و، اگراس ( کے تمہارے ساتھ چلنے) میں بہتری ہوگی تو وہ عنقریب تمہارے ساتھ آ ملے گا اوراگراس میں بہتری نہ ہوئی تو اللہ تعالی نے اس سے تمہیں بچالیا،حضرت ابوذر نے کچھ دیرتوانتظارکیالیکن اونٹ نہ اٹھا ۔ جب آپ اس سے مایوس ہو گئے تو آپ نے اپنا سامان اتار کراپنی پیٹھ پر لادا اور پیدل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( قافلے کے) پیچھے پیچھے چلدیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا ۔ تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی نظر پڑی ، وہ کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کوئی آدمی راستے پر چلا آرہاہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ابوذ رہو جا۔ جب لوگوں نے اس کو غور سے دیکھا تو بولے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! وہ تو واقعی ابوذ ر رضی اللہ عنہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : اللہ تعالی ابوذر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، یہ اکیلا ہی سفر کرتا ہے اورا کیلا ہی فوت ہوگا اوراکیلا ہی قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ پھرایک زمانہ گز ر گیا اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ربذہ کی جانب سفر کیا ، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کونصیحت کی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے غسل دے کر کفن پہنا کر گز رگاہ میں رکھ دینا۔جوقافلہ تمہارے پاس سے سب سے پہلے گزرے اس کو بتانا کہ یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہے۔ جب آپ فوت ہو گئے تو انہوں نے ان کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔ ایک قافلہ نمودار ہوا لیکن ان کو پتہ نہ چلاحتی کہ وہ اتنا قریب آگئے کہ قریب تھا کہ ان کی سواریاں ان کی چار پائی کوروند ڈالتیں تو اچانک اس قافلے میں اہل کوفہ میں سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔ انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ابوذ ر کا جنازہ ہے ۔ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی چیخ نکل گئی اور وہ رو پڑے، اور بو لے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ اللہ تعالی ابوذر پررحم کرے، یہ تنہا سفر کرتا ہے اورا کیلا ہی فوت ہو گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا ۔ پھر آپ سواری سے اترے اور بذات خودان کی تدفین کی ۔ جب و ہ لوگ مدینہ میں آئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوعبداللہ کی گفتگواوران کا وہ عمل بتایا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى تَبُوكَ جَعَلَ لَا يَزَالُ يَتَخَلَّفُ الرَّجُلُ فَيَقُولُونَ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4373

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4374

4374 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ الْكَاهِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَانْتَهَرَنِي، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ عَلِيٍّ؟ هَذَا بَيْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهَذَا بَيْتُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِبَرَاءَةٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَانْطَلَقَا، فَإِذَا هُمَا بِرَاكِبٍ، فَقَالَا: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَنَا عَلِيٌّ يَا أَبَا بَكْرٍ، هَاتِ الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكَ، قَالَ: وَمَا لِي؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا، فَأَخَذَ عَلِيٌّ الْكِتَابَ فَذَهَبَ بِهِ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَا: مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " مَا لَكُمَا إِلَّا خَيْرٌ، وَلَكِنْ قِيلَ لِي: إِنَّهُ لَا يُبَلِّغُ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ «هَذَا حَدِيثٌ شَاذٌّ وَالْحَمْلُ فِيهِ عَلَى جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ وَبَعْدَهُ عَلَى إِسْحَاقَ بْنِ بِشْرٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4374 - شاذ

جمیع بن عمیرلیشی فرماتے ہیں : میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا ۔ تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ مسجد میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ ہے اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مجرہ ہے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو براءة کا اعلان کر نے کے لئے اہل مکہ کی طرف بھیجا۔ یہ دونوں چل پڑے۔ تو ان کے سامنے ایک سوار آیا ، انہوں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے جوابا کہا اے ابوبکر رضی اللہ عنہ میں علی ہوں ،اوروہ خط مجھے دو جو تمہارے پاس ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میں بھلائی ہی جانتاہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ خط لے کر آگے گئے اور حضرت بوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس چلے آئے اور آ کر عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں کیا کمی تھی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں کوئی کمی نہیں تھی بلکہ) تم میں بھلائی ہی بھلائی تھی لیکن مجھے یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ یہ پیغام یا تو آپ خود دیں یا آپ کی طرف سے آپ کے خاندان کا کوئی فرد پہنچائے ۔ یہ حد یث شاذ ہے ۔اوراس میں جمیع بن عمیر پراس کے بعد اسحاق بن بشر پرحمل ہے ۔

عَلِيٍّ؟ هَذَا بَيْتُ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْمَسْجِدِ، وَهَذَا بَيْتُ عَلِيٍّ ← أَلَا أُحَدِّثُكَ ← عَلِيٍّ فَانْتَهَرَنِي، ثُمَّ ← أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ ← جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ الْكَاهِلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4374

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4375

4375 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبِ الْعُمَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ» فَاتَّبَعَهُ عَلِيًّا، فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا، فَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا عَلِيٌّ فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَّرَهُ عَلَى الْمَوْسِمِ، وَأَمَّرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى: «إِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، لَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانُ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ» فَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي بِهَا، فَإِذَا بُحَّ قَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَنَادَى «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ، عَنْ عَلِيٍّ بِشَرْحِ هَذَا النِّدَاءِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4375 - صحيح

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ ان باتوں کا اعلان کر دو، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کوان کے پیچھے روانہ کر دیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی آواز سنائی دی۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھبرا کر اس آواز کی طرف چل پڑے وہ سمجھے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔ جب پاس پہنچے تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سال کا وہ مکتوب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا جس کا حج کے موقع پر اعلان کر نے کا حکم تھا۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کلمات کا اعلان کر دینا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایام تشریق میں کھڑے ہوئے اور اعلان کر دیا کہ اللہ اوراس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے بیزار ہیں ۔تم زمین میں چار ماہ تک چل پھر لو اور اس سال کے بعد نہ کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت ہو گی اور نہ کوئی ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ اور جنت میں صرف ایمان والا ہی جائےگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلسل یہ اعلان کر تے رہے حتی کہ ان کی اونٹنی بیٹھ گئی ۔ تو پھر حضرت ابو ہر ہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئےاورانہوں نے اعلان کر نا شروع کر دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ اس اعلان کی وضاحت کے ہمراہ درج ذیل صحیح حدیث بھی موجود ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبِ الْعُمَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4375

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4376

4376 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ فِي الْحَجَّةِ، قَالَ: " بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ مُؤْمِنٌ وَكَافِرٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بَعْدَ عَامِهِمْ، هَذَا، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4376 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت زید بن یثیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو کیا پیغام دے کر حج کے موقع پر بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا: چار چیز یں تھیں(۱) جنت میں صرف ایمان والا ہی جاسکتا ہے۔(۲)کسی کو بیت اللہ کا طواف بر ہنہ حالت میں کرنے کی اجازت نہیں ۔(۳) اس سال کے بعد مسجد حرام میں مومن اور کا فراکٹھے نہیں ہوں گے۔ (۴) جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی مقررہ میعادتک معاہدہ تھا اس کا معاہدہ اس کی میعاد تک پورا کیا جائے گا اور جس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا ان کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔

سَأَلْنَا عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ فِي الْحَجَّةِ، ← زيد بن يثيع ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4376

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4377

4377 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ جَاءَهُ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِكِتَابِهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُمَا: «وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ بِمِثْلِ مَا يَقُولُ؟» قَالَا: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4377 - على شرط مسلم

حضرت سلمہ بن نعیم بن مسعود اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جب مسیلمہ کذاب کے سفیر اس کا خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیاتم بھی اس کے نظریات کے قائل ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرسفیروں کے قتل پر پابندی نہ ہوتی تو میں تمہیں قتل کر دیتا۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

نَعَمْ ← لَهُمَا: «وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ بِمِثْلِ مَا ← حِينَ جَاءَهُ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِكِتَابِهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سلمة بن نعيم بن مسعود ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4377

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4378

4378 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ هَا هُنَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ مِنْ قِرَاءَةِ مُسَيْلِمَةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «أَكِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِ اللَّهِ، أَوْ رَسُولٌ غَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ بَعْدَ فَشْوِ الْإِسْلَامِ؟» فَرَدَّهُ فَجَاءَ إِلَيْهِ بَعْدُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ أَنَّهُمْ فِي الدَّارِ لَيَقْرَءُونَ عَلَى قِرَاءَةِ مُسَيْلِمَةَ، وَإِنَّ مَعَهُمْ لَمُصْحَفًا فِيهِ قِرَاءَةُ مُسَيْلِمَةَ، وَذَلِكَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَرَظَةَ وَكَانَ صَاحِبَ خَيْلٍ: «انْطَلِقْ حَتَّى تُحِيطَ بِالدَّارِ فَتَأْخُذَ مَنْ فِيهَا» ، فَفَعَلَ فَأَتَاهُ بِثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: «وَيْحَكُمْ أَكِتَابٌ غَيْرُ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، أَوْ رَسُولٌ غَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ؟» فَقَالُوا: نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، فَإِنَّا قَدْ ظَلَمْنَا، فَتَرَكَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُقَاتِلْهُمْ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ، غَيْرَ رَئِيسَهُمُ ابْنِ النَّوَّاحَةِ أَبَى أَنْ يَتُوبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَرَظَةَ: «اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ، وَاطْرَحْ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ أُمِّهِ، فَإِنِّي أُرَاهَا قَدْ عَلِمَتْ فِعْلَهُ فَفَعَلَ» ثُمَّ أَنْشَأَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا جَاءَ هُوَ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَيْنِ مِنْ عِنْدِ مُسَيْلِمَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا إِنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ» فَجَرَتِ السُّنَّةُ يَوْمَئِذٍ أَنْ لَا يُقْتَلَ رَسُولٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4378 - صحيح

قاسم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ المسعو دی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا :اے ابو عبدالرحمن ! یہاں پر کچھ لوگ ہیں جو مسیلمہ کی قراءت پڑھتے ہیں ۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ کی کتاب کے علاوہ بھی کوئی کتاب ہے ؟ یا اللہ کے رسول کے علاوہ بھی کوئی رسول ہے؟ بعد اس کے کہ اسلام پھیل چکا ہے ۔( آپ نے یہ کہہ کر )اس کو واپس بھیج دیا۔وہ کچھ عر صے بعد پھر آیا اور بولا : اے عبداللہ ! اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبودنہیں ہے ۔ وہ لوگ فلاں گھر میں ہیں اور مسیلمہ کی قراءت پڑھ رہے ہیں اوران کے پاس ایک مصحف ہے جس میں مسیلمہ کی قراءت ہے اور یہ بات حضرت عثان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی ہے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ سے کہا (یہ شخص شہسواروں کا دستہ رکھتا تھا) فلاں گھر کا محاصرہ کر کے اس میں جتنے لوگ ہیں ، سب کو گرفتار کر کے لے آؤ ۔ قرظہ نے ایسا ہی کیا۔ اور ۸۰ افراد کو گرفتار کر کے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کر دیا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تمہارے لئے ہلاکت ہو، کیا اللہ تعالی کی کتاب کے علاوہ بھی کوئی کتاب ہے؟ یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی رسول ہے؟ تو وہ لوگ بولے: ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، ہم اللہ کی بارگاہ میں تو بہ کر تے ہیں ، حضرت عبداللہ نے ان کوقتل نہیں کیا بلکہ معاف کر دیا اور انہیں ملک شام کی جانب بھیج دیا۔ ان کے سر دار’’ابن النواحہ‘ نے کیونکہ تو بہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لئے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ سے کہا: اس کو لے جاؤ ،اوراس کی گردن ماردو،اور اس کا سر لے جا کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دو کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس کو بھی اس کے کرتوت معلوم ہو چکے ہوں گے ۔قرظہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرنا شروع کی اورفر مایا :یہ اورابن اثال دونوں مسیلمہ کی جانب سے سفیر بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم گواہی دیتے ہو کہ بے شک میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو انہوں نے آگے سے جواب دیا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشادفرمایا: اگرتم سفیرنہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کر دیا تو اس دن سے یہ قانون بن گیا کہ کسی سفیر کوقتل نہیں کیا جائے گا۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4378

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4379

4379 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَيْلِمَةُ، فَقَالَ لَهُ مُسَيْلِمَةُ: تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا رَجُلٌ أُخِّرَ لِهَلَكَةِ قَوْمِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4379 - صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس گئے تو مسیلمہ نے آپ سے کہا :تم گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: یہ شخص اپنی قوم کی ہلاکت کا سبب ہے ۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

رَسُولُ اللَّهِ «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ» ثُمَّ ← لَهُ مُسَيْلِمَةُ: تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ ← أَتَى رَسُولَ اللَّهِ مُسَيْلِمَةُ، ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← محمد بن حيان الأنصاري ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4379

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4380

4380 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَعَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغَلِّظٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي، قَالَ: «سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ» قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ قَبْلَكَ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ، قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ، وَإِلَهَ مَنْ قَبْلَكَ، وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَعْبُدَهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَوْثَانَ وَالْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ: «نَعَمْ» ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً الصَّلَاةَ، وَالزَّكَاةَ، وَالصِّيَامَ، وَالْحَجَّ، وَفَرَائِضَ الْإِسْلَامِ، كُلَّهَا يَنْشُدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا أَنْشُدُهُ فِي الَّتِي كَانَ قَبْلَهَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ، وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَلَّى: «إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ» وَكَانَ ضِمَامُ رَجُلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى بَعِيرَهُ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ وَهُوَ يَسُبُّ اللَّاتَ وَالْعُزَّى، فَقَالُوا: مَهْ يَا ضِمَامُ، اتَّقِ الْبَرَصَ، وَالْجُذَامَ، وَالْجُنُونَ، فَقَالَ: وَيْلَكُمْ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ لَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهُ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ حَاضِرَتِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ وُرُودِ ضِمَامٍ الْمَدِينَةَ وَلَمْ يَسُقْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَهَذَا صَحِيحٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4380 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بنوسعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو وہ ہمارے پاس آیا اس نے مسجد کے دروازے پرا پنا اونٹ بٹھایا اور اس کو باندھ دیا ۔ پھروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ مسجد میں تشریف فرماتھے۔ اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہوں عبد المطلب کا بیٹا ۔ اس نے کہا محمد؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔ اس نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ،تو اگر میرے لہجے میں سختی پائیں تو آپ اس کو محسوس مت کیجئے گا۔ کیونکہ وہ سختی میرے دل میں نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا: تم جو پو چھنا چاہتے ہو پوچھو۔ اس نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتاہوں جوتمہارا معبود ہے اورتم سے پہلوں کا معبود ہے ۔ اور ان سب کا معبود ہے جو تمہارے بعد ہوں گے ۔ کیا اللہ نے تم کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ۔ اس نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جوتمہارامعبود ہے ،تم سے پہلے لوگوں کا معبود ہے اور ان تمام لوگوں کا معبود ہے جوتمہارے بعد ہوں گے ۔ کیا اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم صرف اس کی عبادت کر یں اور اس کے ساتھ کسی کوشر یک نہ ٹھہرائیں اور یہ کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباؤ اجدادکیا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ پھر اس نے فرائض اسلام،نماز ، روزہ، حج اور ز کوٰ ۃ میں سے ایک کا نام لے کر ہرایک کے ساتھ اسی طرح قسمیں دے دے گر سوال کئے ، جب وہ تمام سوالات سے فارغ ہواتو بولا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں ان فرائض پر عمل کروں گا ۔اوران چیزوں سے رکوں گا جن سے آپ نے مجھے منع فرمایا ہے ۔ نہ ان میں اضافہ کروں گا اور نہ ان میں کمی کروں گا پھر وہ واپس اپنے اونٹ کی طرف پلٹ گیا ۔ جب وہ واپس جا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگراس دو چوٹیوں والے نے سچ کہا ہے تو یہ جنتی ہے ۔ حضرت ضمام طاقتور اور گھنے بالوں والے آدمی تھے اور یہ اپنے بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے ۔ پھر وہ اپنے اونٹ کے پاس آئے ، اپنا اونٹ کھولا اورا پنی قوم کے پاس آ گئے ، سب لوگ ان کے اردگر دجمع ہو گئے ۔ انہوں نے گفتگو شروع کرتے ہوئے لات اورعزی کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ لوگوں نے کہا: اے ضمام ! بس کر۔ تو برص، جذام،اور جنون ( جیسی مہلک بیماریوں سے )بچ ۔ ضمام نے کہا: تمہارے لئے ہلاکت ہو، خدا کی قسم ! بے شک یہ تمہیں نہ کوئی فائدہ دے سکتے ہیں نہ کوئی نقصان دے سکتے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالی نے اپنارسول بھیجا ہے اور اس پر ایسی کتاب اتاری ہے جوتمہیں اس ( کفر وطغیان ) سے بچاتی ہے۔ جس ( کی دلدل )میں تم پھنسے ہوئے ہواور بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور میں تمہارے پاس وہ چیز لا یا ہوں جس میں انہوں نے تمہیں کچھ کام کرنے کے بتائے ہیں ۔ اور کچھ سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے خدا کی قسم اس دن جتنے لوگ وہاں موجود تھے شام سے پہلے پہلے سب مردعورتیں مسلمان ہوچکی تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کسی قوم کا سفیر نہیں سنا۔یہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ضمام کے مدینہ منورہ میں آنے کا تذکرہ تو کیا ہے تاہم ان دونوں میں سے کسی نے بھی اس تفصیل کے ساتھ حدیث نقل نہیں کی ۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← مُحَمد بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4380

chevron_left Previous
1…712713714…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section