المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4369
4369 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ لَمَّا فَرَغَ مِنْ فَتْحِ مَكَّةَ جَمَعَ مَالِكَ بْنَ عَوْفٍ النَّصْرِيَّ مِنْ بَنِي نَصْرٍ، وَجُشَمَ وَمِنْ سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ وأَوْزَاعَ مِنْ بَنِي هِلَالٍ، وَنَاسًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَوْزَعَتْ مَعَهُمُ الْأَحْلَافُ مِنْ ثَقِيفٍ، وَبَنُو مَالِكٍ، ثُمَّ سَارَ بِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَارَ مَعَ الْأَمْوَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْأَبْنَاءِ، فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيَّ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَادْخُلْ بِالْقَوْمِ حَتَّى تَعْلَمَ لَنَا مِنْ عِلْمِهِمْ» فَدَخَلَ فَمَكَثَ فِيهِمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ: كَذَبَ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ: إِنْ كَذَّبْتَنِي فَرُبَّمَا كَذَّبْتَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كُنْتَ يَا عُمَرُ ضَالًّا فَهَدَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَسَأَلَهُ أَدْرَاعًا مِائَةَ دِرْعٍ، وَمَا يُصْلِحُهَا مِنْ عِدَّتِهَا، فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ حَتَّى نُؤَدِّيَهَا إِلَيْكَ» ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرًا «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4369 - صحيح
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی طرف پیش قدمی فرمائی (اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ) بونصر میں سے ما لک بن عوف نصری اور سعد بن بکر میں سے جشم اور بنی ہلال میں سے اوزاع اور بنو عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر میں سے پکچھ لوگ جمع ہوئے ،اوران کے ساتھ ساتھ ان کے حلیف قبائل بنوثقیف اور بنو ما لک کو بھی بھڑ کا کر شامل کر لیا گیا۔ پھران تمام قبیلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب پیش قدمی شروع کر دی اور مال کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو ہمراہ لے چلے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی ، تو آپ نے عبدالرحمٰن بن ابی حد ر داسلمی کو بھیجا تا کہ ان کے حالات معلوم کر کے آئیں اور ہمیں اس کی خبر دیں ۔ وہ گئے اور وہاں ایک دن یا دودن ٹھہرے اور پھر واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت حال سے آ گا ہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ابن ابی حدرد جو کچھ کہہ رہے ہیں ۔ کیا تم وہ نہیں سن رہے ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا: ابنی ابی حدر دجھوٹ بول رہا ہے ۔ ابن ابی حدرد نے کہا: اگرتم مجھے جھٹلا رہے ہوتو ( کوئی بات نہیں) کیونکہ تم اس کو بھی جھٹلا چکے ہو جو مجھ سے افضل ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنی ابی حد رد جو کہہ رہا ہے، آپ نے سنا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ ! بے شک میں بھی’’ ضال‘‘ تھا پھر اللہ تعالی نے مجھے ہدایت دے دی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے ایک سوزر ہیں بمعہ ان کے متعلقات کے منگوائیں ، اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ ناراضگی کے ساتھ لے رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔ بلکہ یہ عاریتاً لے رہے ہیں ۔ جو ضائع ہوں گی ان کی ضمان ادا کر یں گے ۔اور تمام کی تمام تمہیں واپس کی جائیں گی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی طرف) پیش قدمی شروع کر دی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4369
