Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4357

4357 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى مَكَانِ الْحَرْبِ أَمَرَهُمْ عَمْرٌو أَنْ لَا يُنَوِّرُوا نَارًا، فَغَضِبَ عُمَرُ وَهَمَّ أَنْ يَنَالَ مِنْهُ، فَنَهَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَعْمِلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ إِلَّا لِعِلْمِهِ بِالْحَرْبِ، فَهَدَأَ عَنْهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4357 - صحيح

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کر تے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو’’غزوہ ذات السلاسل‘‘ میں بھیجا، ان میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ جب یہ لوگ مقام جنگ میں پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوغصہ آ گیا اوران سے ( لکڑیاں ) لینے (اور خود جلانے) کا ارادہ کیا ۔لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو روک دیا اوران کو بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تمہارا امیر صرف اس لئے مقرر کیا کہ یہ جنگی امور کوتم سے بہتر جانتے ہیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ← «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْمُنْذِرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4357

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4358

4358 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ الْفَتْحُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4358 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :۱۳رمضان المبارک کو مکہ فتح ہوا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر الأزدي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4358

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4359

4359 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عَامَ الْفَتْحِ حَتَّى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَسَبَّعَتْ سُلَيْمٌ وَأَلَّفَتْ مُزَيْنَةُ وَفِي كُلِّ الْقَبَائِلِ عَدَدٌ وَإِسْلَامٌ وَأَوْعَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، فَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، وَقَدْ عَمِيَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى قُرَيْشٍ، فَلَا يَأْتِيَهُمْ خَبَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَدْرُونَ مَا هُوَ صَانِعٌ، وَكَانَ أَبُو سُفْيَانُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَدْ لَقِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَنِيَّةَ الْعِقَابِ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَالْتَمَسَا الدُّخُولَ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ عَمِّكَ، وَابْنُ عَمَّتِكَ، وَصِهْرُكِ، فَقَالَ: «لَا حَاجَةَ لِي فِيهِمَا، أَمَّا ابْنُ عَمِّي فَهَتَكَ عِرْضِي، وَأَمَّا ابْنُ عَمَّتِي وَصِهْرِي فَهُوَ الَّذِي، قَالَ لِي بِمَكَّةَ مَا قَالَ» فَلَمَّا خَرَجَ الْخَبَرُ إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ وَمَعَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَيَأَذْنَنَّ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لَآخُذَنَّ بِيَدِ ابْنِي هَذَا، ثُمَّ لَنَذْهَبَنَّ فِي الْأَرْضِ حَتَّى نَمُوتَ عَطَشًا أَوْ جُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهُمَا فَدَخَلَا عَلَيْهِ فَأَنْشَدَهُ أَبُو سُفْيَانَ قَوْلَهُ فِي إِسْلَامِهِ، وَاعْتِذَارِهِ مِمَّا كَانَ مَضَى فِيهِ، فَقَالَ: [البحر الطويل] لَعَمْرُكَ إِنِّي يَوْمَ أَحْمِلُ رَايَةً ... لِتَغْلِبَ خَيْلُ اللَّاتِ خَيْلَ مُحَمَّدِ لَكَا لِمُدْلِجِ الْحَيْرَانُ أَظْلَمَ لَيْلَةً ... فَهَذَا أَوَانُ الْحَقِّ أَهْدِي وَأَهْتَدِي فَقُلْ لِثَقِيفٍ لَا أُرِيدُ قِتَالَكُمْ ... وَقُلْ لِثَقِيفٍ تِلْكَ عِنْدِي فَاوْعَدِي هَدَانِي هَادٍ غَيْرَ نَفْسِي وَدَلَّنِي ... إِلَى اللَّهِ مَنْ طَرَدْتُ كُلَّ مَطْرَدِ أَفِرُّ سَرِيعًا جَاهِدًا عَنْ مُحَمَّدٍ ... وَأَدَّعِي وَلَوْ لَمْ أَنْتَسِبْ لِمُحَمَّدِ هُمْ عُصْبَةُ مَنْ لَمْ يَقُلْ بِهَواهُمْ ... وَإِنْ كَانَ ذَا رَأْيٍ يُلِمْ وَيُفَنَّدِ أُرِيدُ لِأَرِضِيَهُمْ وَلَسْتُ بِلَافِظٍ ... مَعَ الْقَوْمِ مَا لَمْ أُهْدَ فِي كُلِّ مَقْعَدِ فَمَا كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي نَالَ عَامِرًا ... وَلَا كَلَّ عَنْ خَيْرٍ لِسَانِي وَلَا يَدِي قَبَائِلُ جَاءَتْ مِنْ بِلَادٍ بَعِيدَةٍ ... تَوَابِعُ جَاءَتْ مِنْ سِهَامٍ وَسُرْدَدِ وَإِنَّ الَّذِي أَخَرَجْتُمْ وَشَتَمْتُمْ ... سَيَسْعَى لَكُمْ سَعْيَ امْرِئٍ غَيْرِ قَعْدَدِ قَالَ: فَلَمَّا أَنْشَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَى اللَّهِ مَنْ طُرِدْتُ كُلَّ مَطْرَدِ، ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِهِ، فَقَالَ: «أَنْتَ طَرَدْتَنِي كُلَّ مَطْرَدِ» ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: «مَاتَتْ أُمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْوَاءِ، وَهِيَ تَزُورُ خَوَالَهَا مِنْ بَنِي النَّجَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «،» وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ أَخُو رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْهُمَا حَلِيمَةُ، وَابْنُ عَمِّهِ، ثُمَّ عَامَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُعَامَلَاتٍ قَبِيحَةٍ، وَهَجَاهُ غَيْرَ مَرَّةٍ حَتَّى أَجَابَهُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِقَصِيدَتِهِ الَّتِي، يَقُولُ فِيهَا: [البحر الوافر] هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ ... وَعِنْدَ اللَّهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ الْحَدِيثُ وَالْقَصِيدَةُ بِطُولِهَا مُخَرَّجَةٌ فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ لِمُسْلِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَدْ كَانَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَهْجُوَهُ فَلَا يَأْذَنُ لَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4359 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال روانہ ہوئے اور دس ہزارمسلمانوں کی ہمراہی میں’’مرالظہر ان‘‘ سے گزرے (قبیلہ بنو) سلیم اور مز ینہ قبیلے کے بہت سے افراد اس میں شامل تھے ۔اور ہر قبیلے میں مسلمانوں کی ایک (اچھی خاصی) تعدادتھی ۔ اس وقت تمام مہاجرین اور انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کے ہمراہ تھے اوران میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہا تھا ۔ قریش کو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ نہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خبر پہنچ رہی تھی اور نہ ان کو یہ سمجھ آرہی تھی کہ آپ ان کے ساتھ کیا سلوک کر یں گے ۔اورابوسفیان اورعبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ مکہ اور مد ینہ کے درمیان’’ ثنية العقاب‘‘ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کی خدمت میں حاضری کی خواہش ظاہر کی ۔ ان کی درخواست حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے آپ تک پہنچاتے ہوئے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان میں ایک ) آپ کا چچازاد اور دوسرا آپ کی پھوپھی کا بیٹا اورخسر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے ان دونوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ میرے چچانے میری عزت اچھالی تھی اور میری پھوپھی کا بیٹا اور خسر یہ وہی ہے جس نے مکہ میں مجھے بہت برا بھلا کہا تھا۔ ابوسفیان بن حارث کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ جب اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان تاثرات کا پتہ چلا تو بولا : خدا کی قسم !یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دے دیں گے ورنہ میں اپنے اس بچے کواپنے ساتھ لے کر کہیں دور نکل جاؤں گا ، جہاں بھوک اور پیاس کے ساتھ ہم مر جائیں گے جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان کے لئے نرمی اختیارفر مائی ، پھر یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ تو ابوسفیان نے اپنی گزشتہ خطاؤں کی معذرت کر تے ہوئے اسلام کے حق میں درج ذ میں اشعار پڑھے خدا کی قسم ! وہ دن بھی تھے جب میں لات کے لشکر کومحمد کے لشکر پر غالب کر نے کیلئے علم بلند کیا کرتا تھا۔ میں اس حیران آدمی کی طرح تھا جو اندھیرے میں پھنسا ہوا ہو لیکن یہ حق ( کوتسلیم کر لینے) کا وقت ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں سید ھے راستہ پر آ گیا ہوں ۔ پس تم قبیلہ ثقیف کو کہہ دو کہ میں تم سے لڑ نانہیں چاہتا،اورثقیف سے کہہ دو کہ وہ میرے پاس ہیں ،تو وہ وعدہ کر یں ۔ ایک ہدایت دینے والے نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا ، اور میری ذات کو بدل کر رکھ دیا اوراس نے اللہ کی طرف میری راہنمائی کی جس کو میں بالکل دھتکار چکا تھا۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دور بھاگتا تھا، اورلوگ مجھے محمد سے منسوب کرتے تھے اگر چہ میں ان سے منسوب ہو نانہیں چاہتا تھا۔ وہ ایسی جماعت تھی (جس میں، میں پہلے شامل تھا )کہ جوان کی خواہش کے مطابق ان کی حمایت میں نہ بولتا اس کو ملامت کی جاتی اور اسے خطاوارٹھہرایا جا تا اگر چہ وہ عقل مند ہی کیوں نہ ہوتا ۔ میں ان کو راضی کر نا چاہتا تھا او میں کسی قوم کے ساتھ اس وقت تک گفتگونہیں کیا کر تا تھاجب تک وہ مجھے ہرمجلس کا ہد یہ پیش نہ کر دیتے تھے۔ میں جس لشکر میں بھی رہا تو انہوں نے جو کچھ مال پایا اور جو کھایا سب میرے ہاتھ اور میری زبان کی کمائی تھی ۔ اور بے شک جس شخص کو تم نے نکالا اور برا بھلا کہا ،عنقریب و تمام رشتہ داریوں سے بالاتر ہوکر تمہارے لئے جد و جہد کرے گا۔( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں: جب اس نے کہا:الى من طردت كل مطرد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کرفرمایا: انت الذي طردتنی کل مطرد ( توہی ہے جس نے مجھے بالکل دھتکار دیا تھا ) ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ اپنے ماموؤں سے ملنے بنی نجار گئی تھیں تو و ہیں مقام ابواء میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی تھا دونوں کو حلیمہ سعد یہ رضی اللہ عنہ نے دودھ پلایا تھا ۔اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاچچازاد بھائی بھی تھا۔لیکن اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نارواسلوک کیا اورکئی مرتبہ آپ کی شان میں ہرزہ سرائی کی ۔حتی کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے قصیدے میں اس کا جواب دیا۔ اس میں آپ فرماتے ہیں: تو نے میں صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی کی ہے اورمیں نے اس کا جواب دیا ہے اوراللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کا بدلہ ملے گا۔ یہ مکمل حدیث اور پوراقصیدہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں موجود ہے ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اس ( ابوسفیان )کی مذمت بیان کرنے کی اجازت مانگا کر تے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4359

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4360

4360 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ اخْتَبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رُشَيْدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حِينَ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ؟» فَقَالُوا: مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ، أَلَا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4360 - على شرط مسلم

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فتح مکہ کے دن عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر چھپ گئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ کی بیعت لے لیجئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا پھر آپ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: کیا تم میں کوئی سمجھدار آ دمی نہیں ہے؟ جب اس نے د یکھ لیا تھا کہ میں اس کی بیعت سے پہلو تہی کر رہا ہوں تو وہ اٹھ کر اس کو مار دیتا۔ صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پتہ نہیں چل سکا تھا کہ آپ کے دل میں کیا ارادہ ہے ۔ آپ ہمیں آنکھ سے اشار ہ فرمادیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: کسی نبی کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اس کی آنکھ خائن ہو۔ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

سَعْدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← زَعَمَ السُّدِّيُّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4360

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4361

4361 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4361 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ہاں وحی کی کتابت کے لئے ) کا تب تھے۔ پھر یہ مرتد ہوکر کفار سے جاملے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوقتل کر نے کا حکم فرمادیا تھا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے امان مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوامان دے دی تھی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إبراهيم بن هلال ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4361

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4362

4362 - فَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: «نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ» : {وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ} [الأنعام: 93] فَلَمَّا «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَرَّ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَغَيِّبَهُ عِنْدَهُ حَتَّى اطْمَأَنَّ أَهْلُ مَكَّةَ، ثُمَّ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَنَ» قَالَ الْحَاكِمُ: «قَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ فِي الْكِتَابَيْنَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ قَبْلَ دُخُولِهِ مَكَّةَ بِقَتْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَطَلٍ، فَمَنْ نَظَرَ فِي مَقْتَلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجِنَايَاتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَلَيْهِ بِمِصْرَ إِلَى أَنْ كَانَ أَمْرُهُ مَا كَانَ عَلِمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَعْرَفَ بِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4362 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت شرجیل بن سعد ب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی’’ ومن أظلم من افترى على الله كذبا أو قال أوحى إلى ولم يوح إليه شيء ومن قال سأنزل مثل ماانزل اللّٰه‘‘ (الانعام:۹۳) ’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جواللہ پر جھوٹ باند ھے یا کہے مجھے دحی ہوئی اور اسے کچھ وحی نہ ہوئی اور جو کہے ابھی میں اتارتا ہوں ایسا جیسا خدانے اتارا‘‘ ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے تو وہ حضرت عثان رضی اللہ عنہ کے پاس بھاگ گیا کیونکہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی بھی تھا۔ حضرت عثان رضی اللہ عنہ نے اس کو چھپائے رکھاحتٰی کہ جب مکہ میں امن ہو گیا تو حضرت عثان رضی اللہ عنہ نے اس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا اور اس کے لئے امان کی سفارش کی ۔ نوٹ : امام حاکم کہتے ہیں: بخاری اورمسلم میں یہ صحیح روایات موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے عبداللہ بن سعد ادرعبداللہ بن حنظل کے قتل کا حکم دیا تھا۔ اس لئے جس آدمی کی نظر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت اورعبداللہ بن سعد کی مصر میں ان کے خلاف حرکتوں پر ہے، وہ جانتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواسی وقت اس کی (حرکتوں )کا پتہ تھا۔

شرحبيل بن سعد ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4362

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4363

4363 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لَابْنَةٍ لَهُ وَكَانَتْ أَصْغَرَ وَلَدِهِ: أَيْ بُنَيَّةُ، أَشْرِفِي بِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّةُ، مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا وَأَرَى رَجُلًا يَسْرِي بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا، فَقَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ يَا بُنَيَّةُ، ثُمَّ قَالَ: مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى السَّوَادَ قَدِ انْتَشَرَ، فَقَالَ: إِذًا وَاللَّهِ دُفِعَتِ الْخَيْلُ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، فَخَرَجْتُ سَرِيعًا حَتَّى إِذَا هَبَطْتُ بِهِ إِلَى الْأَبْطَحِ وَكَانَ فِي عُنُقِهَا طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَاقْتَطَعَهُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَجِيئَهُ» فَقَالَ: يَمْشِي هُوَ إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَقُّ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَيْهِ، فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَقَالَ: «أَسْلِمْ تَسْلَمْ» فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي، فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِهِ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي، فَمَا جَاءَ بِهِ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ، احْتَسِبِي طَوْقَكِ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ ذی طوی‘‘ میں تشریف لے آئے تو حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: اے بیٹی ! مجھےابوقبیں (پہاڑ )پر لے جاؤ ۔ اس وقت حضرت ابوقحافہ کی بینائی زائل ہو چکی تھی۔ وہ ان کو ابوقبیں پہاڑ پر لے گئی ۔ ابوقحافہ نے پو چھا: بیٹی تم کیا دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا: میں ایک بہت بڑا مجمع دیکھ ر ہی ہوں اور اس بڑے مجمع کے آگے آگے ایک آدی آر ہا ہے ۔ انہوں نے کہا اے بیٹی ! یہ لشکر ہے ۔ پھر پوچھا: بیٹی تمہیں کیا دکھائی دے رہا ہے؟ اس نے کہا: میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ مجمع بکھر رہا ہے ۔انہوں نے کہا: خدا کی قسم ! اب لشکر منتشر ہو گیا ہے ۔ تم مجھے جلدی جلدی گھر لے چلو ، وہ جلدی جلدی چلنا شروع ہوئی جب وہ’’ابطح ‘‘میں پہنچے توان کے گلے کا چاندی کا ہارکسی نے چھین لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اوراپنے والد کو ساتھ لے آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: تم اس بزرگ کو گھر رہنے دیتے اور میں خو دچل کر اس کے پاس چلا آ تا‘‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا چل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونا زیادہ اچھا تھا بہ نسبت آپ کے اس کے گھر جانے سے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اورفرمایا:’’مسلمان ہوجا ، سلامت رہے گا‘‘ تو وہ مسلمان ہوگئے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے اور اس کے ہار چھینے جانے کا اعلان کیالیکن کسی نے بھی وہ پیش نہ کیا۔انہوں نے دوسری مرتبہ پھر اعلان کیالیکن پھر بھی وہ ہارنہ کسی سے نہ مل سکا۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری بہن ! اپنے ہار سے تو ہی صبر کر لے ۔ کیونکہ لوگوں میں امانت داری( کا جذ بہ بہت) کم ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ← أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4363

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4364

4364 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ثُمَّ قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ: هُوَ حَيٌّ، أَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْمَعَ مِنْهُ؟ فَلَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي بِالْحَدِيثِ، قَالَ: كُنَّا بِمَمَرِّ النَّاسِ فَتُحَدِّثُنَا الرُّكْبَانُ، فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الْأَمْرُ وَمَا لِلنَّاسِ فَيَقُولُونَ: نَبِيٌّ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَرْسَلَهُ، وَأَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلُومُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ، وَيَقُولُونَ: أَنْظِرُوهُ، فَإِنْ ظَهَرَ فَهُوَ نَبِيٌّ فَصَدِّقُوهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ وَقْعَةِ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ فَأَقَامَ عِنْدَهُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ جَاءَ مِنْ عِنْدِهِ فَتَلَقَّيْنَاهُ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، وَإِنَّهُ «يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا» ، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي فَقَدَّمُونِي، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ سِتِّ سِنِينَ فَكُنْتُ أُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ بُرْدَتِي عَلَيَّ، قَالَ: تَقُولُ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ، قَالَ: فَكُسِيتُ مُعَقَّدَةً مِنْ مُعَقَّدَاتِ الْيَمَنِ بِسِتَّةِ دَرَاهِمَ أَوْ سَبْعَةٍ، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ كَفَرَحِي بِذَلِكَ «قَدْ رَوَى الْبُخَارِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا فَأَخْرَجْتُهُ بِطُولِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4364 - أخرج البخاري بعضه

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کی گزرگاہ پر ہوتے تھے اور آتے جاتے قافلوں سے ملاقات کر کے ان سے پوچھتے کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ اوراس کے بارے میں لوگوں کے تاثرات کیا ہیں؟ تو وہ بتاتے کہ’’ایک نبی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کورسول بنایا ہے اور اس کی طرف فلاں فلاں وحی آتی ہے ۔ جبکہ لوگوں کو اسلام لانے میں انکی فتح کا انتظار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کو دیکھتے رہوا گر یہ غالب آگیا تو واقعی نبی ہوگا تو اس کی تصدیق کر دینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد ہرقبیلہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مشرف باسلام ہوتا تو وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ وہیں قیام کیا پھر وہاں سے آ گئے ۔ تو ہم نے ان سے ملاقات کی ۔ تو انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس اللہ کے سچے رسول کے پاس سے آیا ہوں ۔ اور وہ فلاں فلاں حکم دیتے ہیں ۔اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو ہم میں سے کوئی ایک آدمی اذان پڑھے اورتم میں سے وہ شخص جماعت کرائے جوتم میں سب سے اچھا قرآن پڑھتا ہو ۔ ان لوگوں نے بہت تلاش کیا مگر ان لوگوں کو مجھ سے زیادہ اچھا قرآن پڑھنے والا کوئی نہ ملا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے ہی آگے کر دیا۔ میری عمر اس وقت چھ یا سات سال ہوگی ۔ تو میں ان کونماز پڑھایا کرتا تھا۔ جب میں سجدہ میں جا تا تومیری چادراکٹھی ہو جاتی تو قبیلے کی ایک خاتون نے کہا: اپنے امام کی سرین چھپانے کا انتظام کرو۔ حضرت عمرو بن سلمہ بیان کر تے ہیں: تو مجھے ایک یمنی چادر پہننے کے لیے دی گئی جس کی قیمت چھ یا سات درہم تھی جتنی مجھے وہ چادر حاصل کر نے کی خوشی ہوئی اس سے پہلےکبھی اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہ حدیث حضرت سلیمان بن حرب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختصراً روایت کی ہے جبکہ میں نے اس کو مفصل بیان کیا ہے ۔

كُنَّا بِمَمَرِّ النَّاسِ فَتُ ← بِالْحَدِيثِ ← لِي أَبُو قِلَابَةَ: هُوَ حَيٌّ، أَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْمَعَ مِنْهُ؟ فَلَقِيتُ عَمْرًا ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ ثُمَّ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4364

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4365

4365 - أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَذَقْنُهُ عَلَى رَحْلِهِ مُتَخَشِّعًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکۃالمکرمہ میں داخل ہوئے تو عاجزی کی بنیاد پر (اپنا سرانوراس قدر جھکائے ہوئے تھے کہ) آپ کی ٹھوڑی مبارک کجاوہ کے ساتھ لگ رہی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عبد الله بن أبي بكر المقدمي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4365

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4366

4366 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا كَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَوِّنْ عَلَيْكَ فَإِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَتْ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4366 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہوئے کانپنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اپنے آپ کوقابو میں رکھو کیونکہ میں قریش کی اس خاتون کا بیٹا ہوں جوخشک گوشت کھایا کرتی تھی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

النَّبِيُّ «هَوِّنْ عَلَيْكَ فَإِنَّمَا ← أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا كَلَّمَ النَّبِيَّ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4366

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4367

4367 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ» ، فَأَجَابُوهُ: لَبَّيْكَ بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَقْبِلُوا بِوُجُوهِكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ يُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ» فَأَقْبَلُوا وَلَهُمْ حُنَيْنٌ حَتَّى أَحْدَقُوا بِهِ كَبْكَبَةً تُحَاكُ مَنَاكِبُهُمْ يُقَاتِلُونَ حَتَّى هَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ الَّذِي» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4367 - صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارکو پکارا تو سب نے جوابا کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، ہم حاضر ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اللہ اوراس کے رسول کی طرف متوجہ ہو جاؤ ، وہ تمہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہر یں جاری ہیں تو وہ سب لوگ آواز یں لگاتے ہوئے بھاگ آئے اوران کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ، ان کو پچھاڑا گیا ، ان کی گردنیں کٹتی رہیں لیکن وہ جہاد کر تے رہے حتی کہ اللہ تعالی نے مشرکین کو شکست دی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ مبارک بن فضالہ سے مروی درج ذیل حدیث ، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

«يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ» فَأَجَابُوهُ: لَبَّيْكَ بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا ← نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ الْأَنْصَارَ، ← جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4367

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4368

4368 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْتَقَى يَوْمَ حُنَيْنٍ أَهْلُ مَكَّةَ وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ وَاشْتَدَّ الْقِتَالُ، فَوَلُّوا مُدْبِرِينَ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ» فَقَالُوا: إِلَيْكَ وَاللَّهِ جِئْنَا فَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ، ثُمَّ قَاتَلُوا حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4368 - صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ حنین کے دن مکہ اور مدینہ والوں کی مشرکین سے مڈ بھیٹر ہوئی ، بہت گھمسان کی لڑائی ہوئی ، تو مسلمان بھاگ نکلے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارکو آواز دے کر کہا: اے مسلمانوں! میں اللہ کا رسول ہوں، مسلمانوں نے کہا: خدا کی قسم ! ہم آپ کی طرف آ گئے ، چنانچہ انہوں نے تعمیل ارشاد کی اور پھر ( جم کر) لڑے حتی کہ اللہ تعالیٰ (اپنے نبی کے صد قے )فتح عطافرمادی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4368

chevron_left Previous
1…711712713…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section