حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ ! محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کو حکم دے دو کہ ان میں سے جوان کو پائے وہ ان پر ایمان لائے ۔ اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو میں آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پربنایا تو وہ ہلنے لگا تو میں نے اس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھ دیا تو وہ ساکن ہوگیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4227
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد مرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام نے خطا کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ سے عرض کی : اے میرے رب میں تجھ سے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، تو مجھے معاف کردے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم علیہ السلام ! تو نے محمد ﷺ کو کیسے پہچانا؟ حالانکہ ان کو تو میں نے ابھی پیدا ہی نہیں کیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب ! تو نے جب مجھے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے عرش کے پائے پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہو ا دیکھا تو میں پہچان گیا کہ تو نے جس کا نام اپنے نام کے ساتھ کر لکھا ہوا ہے وہ تمام مخلوقات میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ﷺ تو نے سچ کہا ہے ۔ واقعی وہ مجھے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب ہے تو مجھ سے اس کا واسطہ دے کر دعا مانگ ۔ میں نے تجھے معاف کردیا ہے اور محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا نہ کرتا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ پہلی حدیث ہے جو میں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے حوالے سے اس کتا ب میں درج کی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4228
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابوطالب شام کے سفر پر روانہ ہوئے اور چند قریشی بزرگوں کی معیت میں رسول اللہ ﷺ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ یہ لوگ راہب کے پاس گئے اور اپنی سواریوں کو ابھی باندھ رہے تھے کہ راہب خود چل کر ان کے پاس آیا ، حالانکہ یہ لوگ پہلے بھی وہاں سے گزرتے تھے تو نہ وہ کبھی خود چل کر ان کے پاس آیا اور نہ کبھی انہیں زیادہ اہمیت دی ( راوی ) کہتے ہیں ۔ یہ لوگ ابھی اپنی سواریاں کھول رہے تھے کہ وہ خود ان کے اندر آگھسا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کا ہاتھ مبارک تھا م کر بولا : یہ " سیدالعا لمین " ہے یہ رسول رب العالمین ، اللہ تعالیٰ ان کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گا تو اشیاخ ، قریش نے اس سے کہا : تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا؟ اس نے کہا: تم جب اس پہاڑی پر چڑھے تو ہر درخت اور ہر پتھر سجدہ ریز ہو گیا اور یہ نبی کے علاوہ کسی کے آگے سجدہ نہیں کرتے اور میں اس کو اس مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھوں کے نیچے کی طرف ہے ۔ پھر وہ واپس گیا اور ان سب کے لئے کھانا تیار کرکے لایا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اونٹوں کے چرواہوں میں تھے۔اس نے کہا آپ ﷺ کو بلائیں ۔جب آپ ان کی طرف آرہے تھے تو ایک بادل مسلسل آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا ، جب آپ قوم کے قریب تشریف لائے تو سب لوگ درختوں کے سائے میں بیٹھ چکے تھے۔ جب آپ بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ کی جانب جھک گیا۔ راہب نے کہا : دیکھو درخت کا سایہ ان کی جانب جھکا جارہا ہے۔ اس دوران وہ راہب قریش کو تاکید کرتا رہا کہ تم لوگ ان کو روم کی جانب مت لے کر جاؤ کیونکہ اہل روم نے اگر ان کو دیکھ لیا تو وہ ان کی نشانیوں سے ان کو پہچان لیں گے اور وہ ان کو شہید کرڈالیں گے ۔ اچانک وہا ں پر روم کی طرف سے سات آدمی آپہنچے ۔ راہب نے نے ان سے ملاقات کی اور ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو وہ بولے : ہم اس لئے آئے ہیں کہ یہ نبی اس شہر کے باہر کہیں ہے اور شہر کے تمام راستوں پر لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے اور ہمیں اس راستہ پر بھیجا گیا ہے ۔ راہب نے ان سے کہا : کیا تم اپنے پیچھے کسی ایسے آدمی کو چھوڑکر آئے ہو جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : ہمیں تو اس کی خبر ملی تھی ، اسی لئے ہمیں تمہارے اس راستے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نےکہا: تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کسی میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس کو روک سکے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ راہب نے کہا : تو پھر ان کی بیعت کر لو اور ان کے ہمراہ ٹھہر جاؤ۔ ( راوی ) کہتے ہیں ۔ پھر راہب قریش کے پاس آیا اور بولا: میں اللہ کی قسم دیتا ہوں ۔ تم میں ان کا سر پرست کون ہے ؟ ابو طالب نے کہا : میں ہوں ۔ راہب نے ابو طالب سے بہت اصرار کیا۔ بالآخر حضرت ابو طالب نے آپ کو حضرت ابوبکر اور حضرت بلا ل کی معیت میں واپس بھیج دیا ۔ راہب نے ان کو کیک اور زیتون ز اد راہ کے طور پر پیش کئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4229
حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کے ساتھ سب سے پہلا واقعہ کیا پیش آیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری دایہ بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھتی تھیں ۔ ایک دن میں اور ان کا بیٹا ریوڑ لے کر گئے ہوئے تھے اور ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے کہا: اے میرے بھائی ! تم جاؤ اور امی جان سے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ، تو میرا بھائی چلا گیا اور بکریوں کے پاس میں اکیلا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ گدھ کے جیسے دو سفید پرندے میری طرف آرہے ہیں ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : یہ ہے وہ دوسرے نے کہا: جی ہاں ،۔ تو وہ جلدی جلدی میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے پکڑ کر چت لٹا لیا۔ پھر میرا پیٹ چاک کیا، پھر میرا دل نکالا ، پھر اس کو بھی چیر ا اور اس میں سے دو سیاہ رنگ کے لوتھڑے نکالے ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اس کو کاٹ لو اور اس پر نبوت کی مہر ثبت کردو تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک ہاتھ میں رکھو اور دوسرے ہاتھ میں ان کی امت کے ایک ہزار آدمیوں کو رکھو ۔ تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک ہزار آدمی میرے اوپر تھے اور مجھے خدشہ تھا کہ کہیں یہ میرے اوپر نہ گر جائیں ۔ پھر انہوں نے کہا: اگر اس کی پوری امت کو بھی اس کے ساتھ ون کریں گے تو یہ پھر بھی بھاری ہوگا۔پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور وہ چلے گئے اور مجھ پر بہت شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی ۔ پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا اور تمام قصہ ان کو سنایا تو وہ خود اس بات سے ڈر گئیں کہ کہیں مجھکو کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ وہ بولیں : میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں ۔ پھر انہوں نے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھایا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئیں اور چل پڑیں ۔ حتیٰ کہ وہ مجھے میری والدہ کے لے آئی ۔ آپ میری والدہ سے بولیں : میں نے یہ امانت تمہارے سپرد کردی ہے اور اب میں بری الذمہ ہوں ۔ پھر میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ میری والدہ کو سنایا لیکن میری والدہ اس سے پریشان نہ ہوئیں اور بولیں : بے شک میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور خارج ہوا ہے جس کی روشنی سے شام کےمحلات روشن ہوگئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4230
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک سفر میں ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ تھے ۔ ایک مقام پر ہم نے پڑا ؤ ڈالا تو وادی میں ایک آدمی یوں دعا مانگ رہا تھا : اے اللہ ! مجھے محمد ﷺ کی امت موحومہ مغفورہ میں سے کردے جن کے ساتھ ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ میں وادی میں گیا تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک آدمی تھا جس کا قد تین سو ذراع سے بھی زیادہ تھا ۔ اس نے مجھ سے پوچھا : تم کون ہو؟ میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کا خادم انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، اس نے کہا: وہ ( رسول اللہ ﷺ ) کہاں ہیں ؟ میں نے کہا: آپ وہاں پر ہیں اور تیری گفتگو سن رہے ہیں ۔ اس نے کہا: تو ان کے پاس جا اور میری طرف سے سلام پیش کر ، ان کو کہنا کہ تمہارا بھائی الیاس تمہیں سلام کہہ رہا ہے۔ بنی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس کا سلام پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ خود چل کر اس کے پاس تشریف لائے پھر یہ دونوں بیٹھے کتنی دیر باتیں کرتے رہے ۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: میں پورے سال میں صرف دو دن کھاتا ہوں ( بقیہ ایام میں روزہ ہوتا ہے) اور آج میرا کھانے پینے کا ہی دن ہے تو آپ میرے ساتھ کھاناتناول فرمائیں ۔ چنانچہ ان پر آسمان سے ایک دستر خوان نازل ہوا، اس پر روٹیاں اور مچھلی اور اجوائن تھی۔ تو ان دونوں نے کھانا کھایا اور مجھے بھی کھلایا ۔ پھر ہم نے وہاں پر عصر کی نماز پڑھی پھر انہوں نے حضورﷺ کو الوداع کیا ۔ پھر میں نے دیکھا وہ آسمان کی جانب بادلوں میں چلے گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَكْحُولٌ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَلَوِيُّ ← أحمد بن عبد الله البرقي ← عَبْدَانُ بْنُ سَيَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْدَانِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4231
حضرت یعلیٰ بن مرہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: کہ ( ایک دفعہ) میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھا تو میں نے عجیب و غریب واقعات دیکھے۔ ہم ایک مقام پر ٹھہرے تو آپ نے مجھے فرمایا : ان دو درختوں کے پاس چلا جا اور ان سے کہہ کہ تمہیں رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ دونوں ایک جگہ مل جاؤ۔ میں ان کے پاس گیا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کا پیغام دیا تو دونوں درختوں نے اپنی جڑوں کو اکھیڑ ا اور ایک دوسرےکے کی طرف چل دیئےاور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اوٹ میں قضائے حاجت کی ۔ بعد میں آپ ﷺ نے فرمایا ، ان سے کہو کہ دونوں واپس اپنی جگہ پر لوٹ جائیں ۔ میں ان کے پاس آیا اور حضور ﷺ کا پیغام دیا تو دونوں درخت واپس اپنی اپنی جگہ چلے گئے۔ ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور بولی : میرے اس بیٹے کو گذشتہ سات سالوں سے جنوں کی بیماری ہے روزانہ دو مرتبہ اس کو دورہ پڑتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کو میرے قریب لاؤ ۔ وہ اپنے بیٹے کو آپ ﷺ کے قریب لائی تو آپ ﷺ نے اس کے منہ مین اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور فرمایا : اے اللہ تعالیٰ کی دشمن نکل جا، میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں پھر جب رسول اللہ ﷺ واپس لوٹے تو وہ آپ ﷺ سے ملی ، اس کےہمراہ دو مینڈھے ، گھی اور مکھن بھی تھا۔ ( اس نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کر دئیے ) رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : یہ مینڈھے لے لو اور اس کا جو کچھ کرنا چاہو کرو ۔ وہ عورت بولی : اس ذات کی قسم !جس نے آپ ﷺ کو عزت بخشی ہے، جب سے آپ گئے ہیں ، اس کے بعد اس کو وہ بیماری بالکل ختم ہو گئی ہے۔ پھر آپ ﷺ کی بارگاہ میں ایک اونٹ آیا اور آکر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ، آپ نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے اس کے مالکوں کو بلوایا اور فرمایا : کیا بات ہے یہ اونٹ تمہاری شکایت کیوں کر رہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہم اس کو اپنے کام میں استعمال کیا کرتےتھے۔ اب یہ بوڑھا ہو گیا ہے اور کام کے قابل نہیں رہا تو ہم نے ارادہ کیا کہ کل اس کو نحر کر لیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کو نحر نہ کرنا بلکہ اس کو اونٹوں میں چھوڑ دو یہ ان کے ساتھ رہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4232
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک تھال ہوا کرتا تھا ۔ لوگوں نے اس میں کھانا کھانا شروع کیا، کب کھانے والے سیر ہوجاتے تو وہ اٹھ جاتے اور ان کی جگہ دوسرے آدمی آجاتے ۔ اس طرح " صلاۃ الاولی" تک سلسلہ جاری رہا۔ ایک آدمی کا کہنا ہے اس میں کوئی چیز بڑھتی ہے؟ تو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ آسمان کی طرف سے بڑھ رہا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4233
حضرت ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزہ میں تھے کہ لوگوں کو بہت شدید بھوک لگی ۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی اور بولے : اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمادے گا۔ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضور ﷺ ان کو کچھ اونٹ ذبح کرنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ، تو بولے : یارسول اللہ ﷺ ہمارا کل کیا حشر ہوگا؟ جب دشمن کے ساتھ بھوکے پیاسے اور پیدل جنگ لڑیں گے۔ یارسول اللہ ﷺ اگر آپ مناسب سمھیں تو ان سے بچا کھچا زادراہ منگوالیں ۔ تو لوگ ایک ایک کپ طعام لانے لگے ، کوئی اس سے ذرا زیادہ لارہا تھا لیکن ان میں زیادہ سے زیادہ جو لایا تھا وہ ایک صاع کھجوریں تھیں ۔ آپ نے ان کو جمع کیا ۔ پھر کچھ دیر تک آپ اس پر دعا مانگتے رہے جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ پھر آپ نے لشکر کو برتنوں سمیت بلوایا اور فرمایا لشکر کےکھانے کے بعد جو کچھ بچ رہے ، اس کو جمع کر لو ۔ توتمام لوگوں نے اپنے تمام برتن بھرلئے لیکن اتنا ہی کھانا ابھی بھی موجود تھا تو رسول اللہ ﷺ مسکرائے حتیٰ کہ آپ کے دندان مبارک نظر آئے ۔ پھر آپ نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو شخص بھی اس کلمہ کی معیت میں اللہ تعالیٰ سے ملے گا اس کو دوزخ سے بچا لیا جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← المطلب بن عبد الله بن حنطب المخزومي ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى اللَّخْمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4234
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ایک کشتی میں سمندر کے سفر پر تھا کہ وہ کشتی ٹوٹ گئی تو میں نے اس کے ایک تختے کو تھام لیا ، اس نے مجھے ایک جنگل میں جا پھینکا، اس جنگل میں شیر بھی تھے، ایک شیر میرے سامنے آگیا ۔ میں نے اس سے کہا: اے ابو الحارث ! میں رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوں ۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے کندھے میرے پہلو سے رگڑنے لگا۔ وہ مسلسل مجھے یونہی ملتا رہا اور راستہ دکھاتا رہا حتیٰ کہ اس نے مجھے راستے پر لا کر کھڑا کیا۔ جب میں راستہ پر پہنچ گیا تو غرانے لگا۔ تو میں سمجھ گیا کہ اب یہ مجھے الوداع کہہ رہا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4235
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بلند بانگ یمنی دیہاتی اپنی سرخ اونٹنی پر آیا ۔ اس نے مسجد کے دروازے پر اونٹنی کو بٹھایا اور اندر آگیا ۔ سلام کرکے بیٹھ گیا ۔ جب اس نے کام پورا کرلیا تو لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس دیہاتی کے پاس جو اونٹنی ہے یہ اس نے چوری کی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی گواہ ہے ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : اے علی اگر گواہوں سے ثابت ہو جائے تو اس دیہاتی سے اللہ کا حق لے لو، اور اگر گواہوں سے ثابت نہ ہو تو اس کو واپس کردو ۔ وہ دیہاتی کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھا رہا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اے دیہاتی ! اللہ تعالیٰ کے حکم کے لئے اٹھو۔ نہیں تو اپنی دلیل پیش کرو۔ تو دروازے کے باہر سے اونٹنی بولی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت و کرامت کے ساتھ بھیجا ہے، اس نے مجھے چرایا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی دوسرا میرا مالک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے دیہاتی ! تجھے اس ذات کی قسم ! جس نے اس کو تیرے حق میں گویائی بخشی ہے ، تو نے کیا دعا مانگی تھی؟ اس نے کہا : میں نے یہ دعا مانگی تھی: اے اللہ ! تو ایسا رب نہیں ہے کہ میں نے تجھے نیا بنایا ہے اور نہ ہی تیرے ساتھ کوئی دوسرا اللہ ہے جس نے ہماری تخلیق میں تیری مدد کی ہو اور نہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا رب ہے کہ ہم تیری ربوبیت میں شک کریں ، تو ہی ہمارا رب ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں اور تو اس بھی بلند و برتر ہے جو کہنے والے کہتے ہیں ۔ میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما اور مجھے بری فرما۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے عزت کے ساتھ بھیجا ہے، اے اعرابی : میں نے گلیوں کے کونوں پر فرشتوں کو تیری طرف جلدی جلدی آتے دیکھا ، وہ تیری اس دعا کو لکھ رہے تھے۔لہذا مجھ پر کثرت سے درودشریف پڑھا کر ۔ اس حدیث کے از اول تا آخر تمام راوی ثقہ ہیں اور اس یحییٰ بن عبداللہ المصری کے بارے میں جرح و عدالت کے حوالے سےمجھے معلومات نہیں ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4236
حضرتے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہٰں : ایک دیہاتی حضور ﷺ کی بارگاہ میں آیا اور بولا : مجھے کیسے پتہ چلے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم دیکھ لو ، اگر میں اس کھجور کےدرخت سے پھل کو بلاؤں ( اور وہ خود بخود میرے پا س آجائے ) تو کیا تو مان جائے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ ہوں؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ ( حضرت عبداللہ ﷺ ) فرماتے ہیں ۔ آپ نے پھل کو ہلایا تو اس کھجور سے پھل اترنے لگے حتیٰ کہ وہ زمین پر آگئے اور پھر سب کو دیتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آگئے۔ آپ ﷺ نے ان کو پھر فرمایا : واپس چلے جاؤ تو سب دوبارہ اپنی اپنی جگہ پر واپس چلے گئے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4237
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مکہ میں تھے، آپ مکہ کے گرد نواح میں نکلے تو آپ جس درخت اور پتھر کی طرف متوجہ ہوتے وہ کہتا : السلام علیک یا رسول اللہ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
عَلِيٍّ، ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← السُّدِّيِّ ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، ← عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، ← أبو محمد أحمد بن عبد الله المزكي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4238