حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام سے کہا : جس طرح تم اکثر ہمارے پاس آیا کرتے تھے، اب کیوں نہیں آتے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وما نتنزل الا بامرربک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وما کان ربک نسیاً تک " ہم تو صرف آپ کے رب کے حکم سے اترتے ہیں"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4215
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کو ذکر سے الگ کرکے آسمان دنیا پر بیت العزۃ میں رکھا گیا ۔ وہاں سے حضرت جبریل علیہ السلام اس کو نبی اکرم ﷺ پر نازل کرتے تھے۔(ارشاد ہے)ورتلناہ ترتیلا سفیان کہتے ہیں : پانچ کے قریب آیات اسی کے متعلق ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4216
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ہوا کرتے تھے اور مختلف پرچیوں وغیرہ سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی یہ واضح دلیل موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن کریم جمع کرلیا گیا تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4217
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جبریل علیہ السلام آتے اور ( وحی سے پہلے ) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے تو آپ جان جاتے کہ یہاں سے نئی سورت کا آغاز ہو رہا ہے اور سابقہ سورت مکمل ہو چکی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4218
حضرت طارق بن عبداللہ الحاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺکو ذی المجاز بازار سے گزرتے دیکھا، اس وقت میں ایک سودا کر رہا تھا۔ آپ گزر ے ، آپ کے اوپر سرخ رنگ کا جبہ مبارک تھا۔ میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: اے لوگو! لا الہ الااللہ پڑھو کامیاب ہو جاؤ گے ۔ ایک آدمی آپ کے پیچھے پیچھے آپ کو کنکر مارتا آرہا تھا جس کی وجہ سے آپ کے قدم مبارک سے خون بہہ رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا : اے لوگو! اس کی بات مت ماننا ، یہ جھوٹا شخص ہے۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہر فرمایا تو ہم ربذہ سے نکلے اور ہمارے ساتھ ہماری عورتیں بھی تھیں ۔ ہم نے مدینہ کے قریب آکر پڑاؤ ڈالا ۔ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آیا ، اس کے اوپر رضی اللہ عنہ چادریں تھیں ۔ اس نے ہمیں سلام کیا اور کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہ : ربذہ سے ۔ اور ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی ہے۔ اس نے کہا : تم یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ ہم نے کہا : جی ہاں ۔ اس نے قیمت پوچھی تو ہم نے کہا : کھجور کے اتنے صاع ۔ اس نے کہا : بغیر کسی بحث و تمحیص کے میں نے انہیں لے لیا۔ پھر اس نے اونٹ کی لگام پکڑی اور چلا گیا ۔حتیٰ کہ مدینہ کے باغات میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پھر ہم ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: اور کہنے لگے : کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو۔ تو پوری قوم میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ملا جو اس کو جانتا ہو۔ تو لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگےاور کہنے لگے: تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے آدمی کو دے دیا ہے جس کو تم جانتے نہیں ہو۔ عورت بولی : تم ایک دوسرے کو ملامت مت کرو ۔ ہم نےایسے شخص کو دیکھا ہے جو تم سے دھوکہ نہیں کرے گا، میں نے اس کے چہرے کے علاوہ اور کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو چودھویں کے چاند کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔ شام کا وقت ہوا تو وہی شخص ہمارے پاس آیا اور بولا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ تم ہی ہو جو ربذہ سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں ۔ اس نےکہا: رسول اللہ ﷺ کی تمہاری طرف قاصد ہوں، آپ نےحکم دیا ہے کہ تم لوگ ان کھجوروں میں پیٹ بھر کر کھاؤ اور اپنی قیمت بھی پوری کر لو۔ چنانچہ ہم نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھجوریں کھائیں اور قیمت بھی پوری وصول کرلی ۔ پھراگلے دن ہم مدینہ شہر میں آئے تو رسول اللہ ﷺ منبر پرکھڑئے خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : دینے والا ہاتھ ، اوپر والا ہے اور تو اپنی ماں،باپ ، بہن ، بھائیوں کی رشتہ داریوں سے قریب سے قریب تر لوگوں سے شروع کر ۔وہاں ایک انصاری آدمی بھی موجود تھا ، اس نے کہا: یارسول اللہ ﷺیہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں ، انہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا آپ ہمیں انتقام دلوائیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ بلند کئے حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔ آپ نے کہا : ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کرسکتی ، ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کرسکتی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4219
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے موقف ( میدان عرفات ) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا : کوئی آدمی ایسا ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے احکام الٰہی کی تبلیغ سے روک دیا ہے ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : بنی ہمدان سے ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تیری قوم کے پاس فوج ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ان کا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے کہا: وہ بھی ہمدان کے ہی رہنے والے ہیں ۔پھر ہمدانی آدمی کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کے ساتھ بے وفائی نہ کردے ۔ وہ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا: میں اپنی قوم میں جاکر ان کو بتاتا ہوں پھر اگلے سال آپ سے ملوں گا۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ وہ آدمی چلا گیا پھر انصار کا وفد رجب میں آیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ یہاں پر کتاب البعث مکمل ہوئی۔ امام حاکم نے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے سن 401 ہجری میں کتاب السیر کی املاء کروائی ۔ اس میں صحیح الاسناد احادیث بھی موجود تھیں لیکن میں نے ان کو نقل نہیں کیا کیونکہ یہ اصل تو معراج کے سلسلے میں ہے اور شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو متعدد سندوں کے ساتھ نقل کیا۔
جَابِرٍ ← سَالِمٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4220
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " مجھے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4221
سعید بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حکیم بن افلح کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے عرض کی : اے ام المومنین رضی اللہ عنہا:ہمیں رسول اللہ ﷺ کےاخلاق کے متعلق کچھ بتائیے ! آپ نے فرمایا :کیا تم قرآن نہیں پڑھتےہو؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نبی کا اخلاق " قرآن " ہی تو ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4222
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہیں کی اور نہ اپنے ہاتھ سے کبھی کسی چیز کو مارا ، البتہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہاتھ کے ساتھ مارا ہے۔ اور آپ سے جب بھی کسی نے کچھ مانگا ، آپ نے اس کو منع نہیں فرمایا۔ البتہ گناہ کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ گناہ سے بہت دور رہنے والے تھے اور آپ نے اپنی کسی تکلیف پر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر حرمات اللہ کی توہین کی جاتی تو آپ اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیتے اور آپ کو جب بھی دو چیزوں میں سے کوئی ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے اس کو پسند کیا جو آسان تر ہو اور جب جبریل امین شروع شروع میں آپﷺ کے ساتھ( قرآن کریم کا ) دور کرنے آتے تھے تو آپ لوگوں پر تیز ہواسے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسےاس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔اور یہ ایوب سختیانی کی حدیث سے زیادہ غریب ہے چنانچہ اس کو سلمان بن حرب وغیرہ نے حضرت حماد کے حوالے سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایوب کا ذکر نہیں ہے اور " غارم" ثقہ ہیں ،ک مامون ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4223
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی صفات لکھی ہوئی تھیں ۔ آپ ﷺتند خو اور بد مزاج نہیں ، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں اور نہ آپ ﷺ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے اور درگزر فرما دیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4224
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں ، رسول اللہ ﷺ کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے۔ فضول گوئی نہیں کرتے تھے نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4225
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کثرت سے ذکر کریا کرتے تھےاور فضول گوئی نہیں کرتے تھے اور نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں نے یہ صحیح احادیث سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق میں سے دلائل نبوت کے ضمن میں درج کی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ٣٢﴾ [الدخان: 32]" بے شک ہم نے ان کو تمام جہانوں پر منتخب کر لیا "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ١٢٤﴾ [الأنعام: 124]"اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور فرمایا: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ١ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ٢ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ٣ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ٤﴾ [القلم: 1-4]"قلم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں اور ضرور تمہارے لئے بے انتہا ء ثواب ہے اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو ان کے بعد یہ آیات صحیحہ سنو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4226