المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4107
4107 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ كَانَ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا، فَأَتَى مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ فَلَطَمَهُ مُوسَى فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَعَرَجَ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ عَبْدَكَ مُوسَى فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ اللَّهُ إِيتِ عَبْدِي مُوسَى فَخَيِّرْهُ بَيْنَ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْهَا كَفُّهُ سَنَةٌ وَبَيْنَ أَنْ يَمُوتَ الْآنَ، فَأَتَاهُ فَخَيَّرَهُ، فَقَالَ مُوسَى: فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ إِذًا، فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ وَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَأْتِي النَّاسَ فِي خِفْيَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت عزرائیل علیہ السلام لوگوں کے پاس ظاہراً آیا کرتے تھے۔ اسی طرح یہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس آگئے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑ مارا ، جس کی وجہ سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی تو ملک الموت علیہ السلام واپس چلے گئے اور عرض کی: اے میرے رب ! تیرے بندے موسیٰ علیہ السلام نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا۔ اگر وہ تیری بارگاہ میں معزز نہ ہوتا تو میں اسے مشقت میں ڈال دیتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے کے پاس چلا جا اور اسے اختیار دے دے کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ، جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں ، ان میں سے ہر بال کے بدلے ان کی عمر مٰں ایک سال کا اضافہ کردیا جائے گا یا وہ موت کے لئے تیار ہو جائیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ( جو اضافی سال مجھے مل جائیں گے جب ) وہ بھی گزر جائیں گے تو پھر کیا ہوگا ؟ اس نے کہا : موت ۔ آپ نے فرمایا : تو پھر ابھی جان نکال لے۔ ملک الموت علیہ السلام نے آپ کو ایک خوشبو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آنکھ لوٹا دی ۔ اس کے بعد ملک الموت لوگوں کے پاس خفیہ طریقے سے آنے لگے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَبَا هُرَيْرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4107
