Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4107

4107 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ كَانَ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا، فَأَتَى مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ فَلَطَمَهُ مُوسَى فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَعَرَجَ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ عَبْدَكَ مُوسَى فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ اللَّهُ إِيتِ عَبْدِي مُوسَى فَخَيِّرْهُ بَيْنَ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْهَا كَفُّهُ سَنَةٌ وَبَيْنَ أَنْ يَمُوتَ الْآنَ، فَأَتَاهُ فَخَيَّرَهُ، فَقَالَ مُوسَى: فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ إِذًا، فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ وَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَأْتِي النَّاسَ فِي خِفْيَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت عزرائیل علیہ السلام لوگوں کے پاس ظاہراً آیا کرتے تھے۔ اسی طرح یہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس آگئے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑ مارا ، جس کی وجہ سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی تو ملک الموت علیہ السلام واپس چلے گئے اور عرض کی: اے میرے رب ! تیرے بندے موسیٰ علیہ السلام نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا۔ اگر وہ تیری بارگاہ میں معزز نہ ہوتا تو میں اسے مشقت میں ڈال دیتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے کے پاس چلا جا اور اسے اختیار دے دے کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ، جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں ، ان میں سے ہر بال کے بدلے ان کی عمر مٰں ایک سال کا اضافہ کردیا جائے گا یا وہ موت کے لئے تیار ہو جائیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ( جو اضافی سال مجھے مل جائیں گے جب ) وہ بھی گزر جائیں گے تو پھر کیا ہوگا ؟ اس نے کہا : موت ۔ آپ نے فرمایا : تو پھر ابھی جان نکال لے۔ ملک الموت علیہ السلام نے آپ کو ایک خوشبو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آنکھ لوٹا دی ۔ اس کے بعد ملک الموت لوگوں کے پاس خفیہ طریقے سے آنے لگے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4107

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4108

4108 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: وَنَعَى اللَّهُ هَارُونَ لِمُوسَى حِينَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْبِضَهُ، فَلَمَّا نَعَاهُ لَهُ حَزِنَ، فَلَمَّا قُبِضَ جَزَعَ جَزَعًا شَدِيدًا وَبَكَى بُكَاءً طَوِيلًا، فَلَمَّا عَادَ فِي ذَلِكَ أَقْبَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ يُعَزِّيهِ وَيَعِظُهً فَقَالَ لَهُ: «يَا مُوسَى مَا كَانَ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَحِنَّ إِلَى فَقْدِ شَيْءٍ مَعِي وَلَا أَنْ تَسْتَأْنِسَ بِغَيْرِي، وَلَا أَنْ تُشَدَّ رُكَبَكَ إِلَّا بِي، وَلَا أَنْ يَكُونَ جَزَعُكَ هَذَا الْآنَ عَلَى هَارُونَ إِلَّا لِي، وَكَيْفَ تَسْتَوْحِشُ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ، وَأَنْتَ تَسْمَعُ كَلَامِي أَمْ كَيْفَ تَحِنُّ إِلَى فَقْدِ شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا بَعْدَ إِذِ اصْطَفَيْتُكَ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي وَذَكَرَ مُنَاجَاةً طَوِيلَةً» قَالَ وَقُبِضَ هَارُونُ وَمُوسَى ابْنُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَمِائَةِ سَنَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنْقَضِيَ التِّيهُ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَقُبِضَ هَارُونُ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ بَقِيَ مُوسَى بَعْدَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ حَتَّى، تَمَّ لَهُ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً وَبَنُو إِسْرَائِيلَ مُتَفَرِّقُونَ عَلَيْهِ يَجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ مَرَّةً وَيَفْتَرِقُونَ أُخْرَى "

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو وفات دینے کا ارادہ کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی وفات کی اطلاع ( پہلے ہی ) دے دی تھی ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے اور آپ بہت روئے ۔ جب آپ کو کچھ قرار آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے موسیٰ علیہ السلام ! میرے ہوتےہوئے آپ کو کسی چیز کے کھونے پر اس قد پریشان نہیں ہونا چاہیے ، میرے علاوہ کسی اور سے اس قدر انس بھی نہیں رکھنا چاہیے اور آپ کو ہمیشہ میری جانب ہی متوجہ رہنا چاہیے اور اس موقع پر آپ کو ہارون علیہ السلام کے لئے اس قدر آہ و بکا نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ میرا کلام سنتے ہوئے آپ کسی بھی چیز سے مانوس کیسے رہ سکتے ہیں۔ یا آپ دنیا کی کوئی چیز کھو جانے پر کیسے رو سکتے ہیں جب کہ میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا ہےاور بہت طویل مناجاۃ کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : اور مقام تیہ کی مدت پوری ہونے سے تین سال قبل جب حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر117 سال تھی جبکہ حضرت ہارون علیہ السلام کی عمر، ان کی وفات کے وقت 120 سال تھی۔آپ کے انتقال کے بعد تین سال تک مزید حضرت موسیٰ علیہ السلام مقام تیہ میں رہے ۔ حتیٰ کہ آپ کی عمر بھی 120 سال مکمل ہوگئی اور بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے۔ کبھی تو آپ کی بات پر اکٹھے ہو جاتے اور کبھی پھر بکھر جاتے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4108

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4109

4109 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، فِي خَبَرٍ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ إِنِّي مُتَوَفِّي هَارُونَ، فَأْتِ بِهِ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقَ مُوسَى وَهَارُونُ نَحْوَ ذَلِكَ الْجَبَلِ، فَإِذَا هُمْ بِشَجَرَةٍ مَثَّلَهَا بِبَيْتٍ مَبْنِيٍّ، وَإِذَا هُمْ فِيهِ بِسَرِيرٍ عَلَيْهِ فُرُشٌ، وَإِذَا فِيهِ رِيحٌ طَيِّبٌ، فَلَمَّا نَظَرَ هَارُونُ إِلَى ذَلِكَ الْجَبَلِ وَالْبَيْتِ وَمَا فِيهِ أَعْجَبَهُ، وَقَالَ: يَا مُوسَى إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَنَامَ عَلَى هَذَا السَّرِيرِ، قَالَ لَهُ مُوسَى: فَنَمْ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ رَبُّ هَذَا الْبَيْتِ فَيَغْضَبَ عَلَيَّ. قَالَ لَهُ مُوسَى: لَا تَرْهَبْ أَنَا أَكْفِيكَ رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ فَنَمْ، فَقَالَ: يَا مُوسَى بَلْ نَمْ مَعِي، فَإِنْ جَاءَ رَبُّ هَذَا الْبَيْتِ غَضِبَ عَلَيَّ وَعَلَيْكَ جَمِيعًا، فَلَمَّا نَامَا أَخَذَ هَارُونَ الْمَوْتُ، فَلَمَّا وَجَدَ حِسَّهُ، قَالَ: يَا مُوسَى خَدَعَتْنِي، فَلَمَّا قُبِضَ رُفِعَ ذَلِكَ الْبَيْتُ وَذَهَبَتْ تِلْكَ الشَّجَرَةُ وَرُفِعَ السَّرِيرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَيْسَ مَعَهُ هَارُونُ قَالُوا: إِنَّ مُوسَى قَتَلَ هَارُونَ وَحَسَدَهُ حُبَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَهُ، وَكَانَ هَارُونُ آلَفَ عِنْدَهُمْ وَأَلْيَنَ لَهُمْ مِنْ مُوسَى، وَكَانَ فِي مُوسَى بَعْضُ الْغِلَظِ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا بَلَغَهُ ذَلِكَ، قَالَ لَهُمْ: وَيْحَكُمْ إِنَّهُ كَانَ أَخِي أَفَتَرُونِي أَقْتُلُهُ؟ فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ فَنَزَلَ بِالسَّرِيرِ حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَصَدَّقُوهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4109 - على شرط البخاري ومسلم

حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ،عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں ہارون علیہ السلام کو وفات دینے والا ہوں، اس لئےاس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے آؤ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو ہمراہ لے کر اس پہاڑ پر چلے گئے ۔ وہان انہوں نے ایک درخت دیکھا جو ایک مکان کی طرح تھا ۔ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو ایک چارپائی پر موجود پایا جس کے اوپر بستر بچھا ہوا تھا اور اس سے بہت عمدہ خوشبو آرہی تھی۔جب حضرت ہارون علیہ السلام نے وہ پہاڑ اور مکان اورجو کچھ اس میں تھا اس کو دیکھا تو یہ سب ان کو بہت اچھا لگا اور بولے اے موسیٰ علیہ السلام میرا دل چاہا رہا ہے کہ میں اس چارپائی پر سو جاؤں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : سوجائیے ۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے کہا : لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس گھر کا مالک آگیا تو وہ مجھ پر ناراض ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : اس کی آپ فکر نہ کریں ، اس سے میں خود نمٹ لوں گا۔ آپ سو جائیے ۔ وہ بولے ! آپ بھی میرے ساتھ لیٹیں تاکہ اگر اس گھر کا مالک آئے تو ہم دونوں پر ناراض ہو ۔ جب وہ دونوں سو گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی تو وہ مکان اوپر اٹھا لیا گیا اوروہ درخت بھی چلا گیا اور وہ چار پائی آسمانوں کی طرف اٹھا لی گئی ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس بنی اسرائیل کی طرف آئے اور ان کے ہمراہ حضرت ہارون علیہ السلام نہ تھے تو وہ بولے : بنی اسرائیل کی ہارون علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے حسد میں آکر موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو قتل کردیا ہے۔ بنی اسرائیل ہارون علیہ السلام سے بہت الفت رکھتے تھے اور ویسے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت آپ نرم مزاج تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت میں کچھ سختی تھی۔جب آپ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا : وہ تو میرے بھائی تھے، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے؟ جب ان لوگوں کی طرف سے یہ الزام زور پکڑ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دورکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نےوہ چارپائی اتار دی اور ان لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے زمین اور آسمان کے درمیان دیکھا ۔ تب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کا اعتبار کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَالِکٍ ← السُّدِّيِّ، فِي خَبَرٍ ذَكَرَهُ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4109

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4110

4110 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا} [الأحزاب: 69] قَالَ: " صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: أَنْتَ قَتَلْتَهُ كَانَ أَشَدَّ حُبًّا لَنَا مِنْكَ وَأَلْيَنَ لَنَا مِنْكَ فَآذَوْهُ فِي ذَلِكَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ فَحَمَلَتْهُ فَمَرُّوا بِهِ عَلَى مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى عَلِمُوا بِمَوْتِهِ فَدَفَنُوهُ وَلَمْ يَعْرِفْ قَبْرَهُ إِلَّا الرَّخَمُ وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ أَصَمَّ أَبْكَمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4110 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ﴾[الأحزاب: 69] "اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تکلیف دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے الزامات سے ان کو بری کردیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پہاڑ پر چڑھے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وہاں انتقال ہو گیا، تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ محبت تم سے زیادہ تھی۔اور وہ ہم پر آپ سے زیادہ نرم بھی تھے۔تو اس سلسلہ میں الزام لگا کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس سے گزرے ۔ تب ان کو حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا یقین ہوا پھر انہوں نے ان کو دفن کیا اور آپ کی قبر کو سوائے ایک "رضم " نامی آدمی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا اور اس " رضم " کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ ← عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4110

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 4111

4111 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ شَبُّوَيْهِ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " كَانَ صَفِيُّ اللَّهِ مُوسَى قَدْ كَرِهَ الْمَوْتَ وَأَعْظَمَهُ فَلَمَّا كَرِهَهُ أَحَبَّ اللَّهُ أَنْ يُحَبِّبَ إِلَيْهِ الْمَوْتَ وَيُكَرِّهَ إِلَيْهِ الْحَيَاةَ، فَحُوِّلَتِ النُّبُوَّةُ إِلَى يُوشَعَ بْنِ نُونٍ فَكَانَ يَغْدُو إِلَيْهِ وَيَرُوحُ فَيَقُولُ لَهُ مُوسَى: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَحْدَثَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَيَقُولُ لَهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَمْ أَصْحَبْكَ كَذَا وَكَذَا سَنَةً فَهَلْ كُنْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّهُ إِلَيْكَ حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تَبْتَدِئُ بِهِ وَتَذْكُرُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مُوسَى كَرِهَ الْحَيَاةَ وَأَحَبَّ الْمَوْتَ "

محمد بن اسحاق کہتے ہیں : حضرت موسیٰ صفی اللہ علیہ السلام موت کو بہت ناپسند کرتے تھےاور اس سے بہت گھبراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کے دل میں موت کی محبت اور زندگی کی نفرت پیدا کردے تو نبوت حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی طرف منتقل فرمادی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام صبح شام ان کے پاس آیا کرتے تھے اور ان سے پوچھا کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیا کیا حکم دیا ہے؟ تو حضرت یوشع بن نون علیہ السلام فرماتے : اے اللہ تعالیٰ کے نبی علیہ السلام ! کیا میں نے اتنے اتنے سال تمہاری صحبت اختیار نہیں کی ؟ میں نے کھبی آپ سے اس طرح کے سوالات کئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیا کیا حکم دیا؟ بلکہ آپ خود ہی اس کو بیان کیا کرتے تھے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے یہ حالات دیکھے تو ان کو زندگی سے نفرت ہوگئی اور ان کو موت سے محبت ہوئی ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ شَبُّوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the death of Moses, peace be upon him · Hadith 4111

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 4112

4112 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: " ذُكِرَ لِي أَنَّهُ كَانَ مِنْ أَمْرِ وَفَاةِ صَفِيِّ اللَّهِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ يَسْتَظِلُّ فِي عَرِيشٍ وَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ فِي نَقِيرٍ مِنْ حَجَرٍ، كَمَا يَكْرَعُ الدَّابَّةَ فِي ذَلِكَ النَّقِيرِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ حَتَّى أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِمَا أَكْرَمَهُ بِهِ مِنْ كَلَامِهِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِ وَفَاتِهِ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا مِنْ عَرِيشِهِ ذَلِكَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ وَلَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَمَرَّ بِرَهْطٍ مِنَ الْمَلَائِكَةَ يَحْفِرُونَ قَبْرًا فَعَرَفَهُمْ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِمْ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا هُمْ يَحْفِرُونَ قَبْرًا، وَلَمْ يَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ مِثْلَ مَا فِيهِ مِنَ الْخُضْرَةِ وَالنَّضْرَةِ وَالْبَهْجَةِ، فَقَالَ لَهُمْ: يَا مَلَائِكَةَ اللَّهِ، لِمَنْ تَحْفِرُونَ هَذَا الْقَبْرَ؟ قَالُوا: نَحْفِرُهُ وَاللَّهِ لِعَبْدٍ كَرِيمٍ عَلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعَبْدَ مِنَ اللَّهِ بِمَنْزِلٍ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مَضْجَعًا وَلَا مُدْخَلًا وَذَلِكَ حِينَ حَضَرَ مِنَ اللَّهِ مَا حَضَرَ فِي قَبْضِهِ، فَقَالَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ: يَا صَفِيَّ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ تَكُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: وَدِدْتُ، قَالُوا: فَانْزِلْ فَاضْطَجِعْ فِيهِ وَتَوَجَّهْ إِلَى رَبِّكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ أَسْهَلَ تَنَفُّسٍ تَنَفَسَّهُ قَطُّ، فَنَزَلَ فَاضْطَجَعَ فِيهِ وَتَوَجَّهَ إِلَى رَبِّهِ، ثُمَّ تَنَفَّسَ فَقَبَضَ اللَّهُ رُوحَهُ، ثُمَّ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَكَانَ صَفِيُّ اللَّهِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ "

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ ایک جھونپڑی میں رہنے لگے تھے اور آپ بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے طور پر پتھر کے کھدے ہوئے ایک برتن میں کھاتے پیتے تھے جیسا کہ چوپائے اس برتن میں منہ لگا کر پانی وغیرہ پیتے ہیں ۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ساتھ ہم کلامی کے شرف سے سرفراز فرمایا ۔ آپ کی وفات کے واقعات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ اپنے کسی کام کے لئے اس جھونپڑی میں سے باہر نکلے ۔ اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کسی کو نہ تھا۔ آپ فرشتوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے وہ ایک قبر کھود رہے تھے۔ آپ نے ان کو پہچان لیا اور ان کی طرف چل دیئیے اور ان کے پاس آکر کھڑے ہوگئے ۔ یہ قبر کھود رہے تھے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قبر میں جو سبزہ ،خوبصورتی اورسجاوٹ دیکھی ، اس جیسی عمدگی کہیں نہ دیکھی تھی۔ آپ نے فرشتوں سے پوچھا : تم لوگ یہ قبر کس کے لئے کھود رہے ہو؟ فرشتوں نے کہا : ایک بندے کے لئے کھود رہے ہیں جو اپنے رب کی بارگاہ میں بہت عزت والا ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : وہ بندہ اپنے رب کی طرف سے ایسے مرتبے پر فائز ہے کہ میں نے آج تک ایسا مقام اور ٹھکانہ نہیں دیکھا یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کی موت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے کچھ حجابات اٹھ گئے تھے۔ فرشتوں نے آپ سے کہا : اے صفی اللہ ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ مقام و مرتبہ آپ کو ملے ؟ آپ نے فرمایا : بالکل چاہتا ہوں ۔ فرشتوں نے کہا : تو آپ اس میں اتر کر لیٹ جائیں اور اپنے رب کی جانب متوجہ ہو جائیں اور اتنے آرام سے سانس لیں کہ کبھی بھی اتنے آرام سے سانس نہ لیا ہو، چنانچہ آپ اس میں اتر کر لیٹ گئے اور اپنے رب کی جانب متوجہ ہو گئے اور اسی طرح سانس لینے لگے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرمالی۔ پھر فرشتوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ حضرت موسیٰ صفی اللہ علیہ السلام دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والے تھے۔

لِي ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the death of Moses, peace be upon him · Hadith 4112

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4113

4113 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ أَيُّوبُ بْنُ أَمُوصَ نَبِيَّ اللَّهِ الصَّابِرَ الَّذِي جَلَبَ عَلَيْهِ إِبْلِيسُ عَدُوُّ اللَّهِ بِجُنُودِهِ وَخَيْلِهِ وَرَجْلِهِ لِيَفْتِنُوهُ وَيُزِيلُوهُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ فَعَصَمَهُ اللَّهُ، وَلَمْ يَجِدْ إِبْلِيسُ إِلَيْهِ سَبِيلًا فَأَلْقَى اللَّهُ عَلَى أَيُّوبَ السَّكِينَةَ وَالصَّبْرَ عَلَى بَلَائِهِ الَّذِي ابْتَلَاهُ بِهِ فَسَمَّاهُ اللَّهُ {نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ} [ص: 44] ، وَكَانَ أَيُّوبُ رَجُلًا طَوِيلًا جَعْدَ الشَّعْرِ، وَاسِعَ الْعَيْنَيْنِ، حَسَنَ الْخَلْقِ، وَكَانَ عَلَى جَبِينِهِ مَكْتُوبٌ الْمُبْتَلَى الصَّابِرُ، وَكَانَ قَصِيرَ الْعُنُقِ عَرِيضَ الصَّدْرِ غَلِيظَ السَّاقَيْنِ وَالسَّاعِدَيْنِ، وَكَانَ يُعْطِي الْأَرَامِلَ وَيَكْسُوهُمْ جَاهِدًا نَاصِحًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ الْحَاكِمُ: " قَدِ اخْتَلَفُوا فِي أَيُّوبَ أَنَّهُ فِي أَيِّ وَقْتٍ أُرْسِلَ فَقَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: إِنَّهُ مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ بَعْدَ يُوسُفَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ: حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ عَنْ وَهْبٍ أَنَّهُ أَيُّوبُ بْنُ أَمُوصَ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عِيصَا بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ، وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ أَنَّهُ كَانَ قَبْلَ شُعَيْبٍ وَقَدْ رَجَّحَ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَيْثَمَةَ أَنَّهُ كَانَ بَعْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4113 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ایوب بن اموص علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ صابر نبی تھے جن کو آزمائش میں ڈالنے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکنے کے لئے شیطان نے اپنی پیادہ اور سوار تمام فوجیں چڑھاڈالیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور شیطان کو آپ کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی جانب کوئی راہ نہ ملی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے حضرت ایوب علیہ السلام پر نازل کردہ آزمائش میں ان پر سکینہ اور صبر نازل فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو " نعم العبد انہ اواب(ص:30) " کیا اچھا بندہ بے شک وہ بیت رجوع کرنے والا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے لقب سے نوازا۔ حضرت ایوب علیہ السلام دراز قد تھے۔ آپ کے بال سیدھے ، آنکھیں کشادہ تھیں ، آپ حسن اخلاق کے پیکر تھے،آپ کی پیشانی مبارک پر لکھا ہوا تھا" المبتلی الصابر" آپ کی گردن چھوٹی اور سینہ چوڑا تھا، کہنیاں اور پنڈلیاں بھری ہوئی تھیں ، آپ رضائے الٰہی کی خاطر مساکین پر مہربانی کرتے اور انہیں کپڑے وغیرہ پہناتے تھے۔ نوٹ : امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس سلسلہ میں اختلاف ہےکہ حضرت ایوب بن اموص علیہ السلام کو کون سے زمانے میں رسول بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں۔ اور محمد بن اسحاق بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک غیر مہتم شخص نے حضرت وہب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان سنایا ہے کہ وہ ایوب بن اموص رزاخ بن عیصابن اسحاق بن ابراہیم الخلیل ہیں ۔ محمد بن جریر کا موقف ہے کہ وہ حضرت شعیب علیہ السلام سے پہلے تھے جبکہ ابوبکر بن خیثمہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام سے پہلے تھے۔ ( واللہ اعلم)

کَعْبٍ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مروان بن جعفر السمري ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4113

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4114

4114 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةَ أَيُّوبَ، قَالَتْ لَهُ: " وَاللَّهُ قَدْ نَزَلَ بِي مِنَ الْجَهْدِ وَالْفَاقَةِ مَا أَنْ بَعَثَ قَوْمِي بِرَغِيفٍ فَأَطْعَمْتُكَ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكَ، قَالَ: وَيْحَكِ كُنَّا فِي النَّعْمَاءِ سَبْعِينَ عَامًا، فَنَحْنُ فِي الْبَلَاءِ سَبْعَ سِنِينَ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ نے آپ سے کہا : خدا کی قسم مجھ پر مشقت اور فاقہ مستی کی یہ کیفیت ہو چکی ہے ، میرے رشتہ دار کوئی روٹی کا ٹکڑا بھیجتے ہیں تو میں وہ آپ کو کھلاتی ہوں ۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ آپ کو شفاء عطا فرمائے ۔ آپ نے فرمایا : تیرا ستیا ناس ہو ،ہم ستر سال آسائشوں میں بھی تو رہے ہیں ، اس لئے اب ستر سال آزمائش میں بھی ( اللہ کا شکر ادا کرکے ) گزارو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ أَيُّوبَ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4114

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4115

4115 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللَّهِ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلَّا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ، قَدْ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ ذَاتَ يَوْمٍ: نَعْلَمُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ فَكَشَفَ عَنْهُ مَا بِهِ فَلَمَّا رَاحًا إِلَى أَيُّوبَ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ بِالرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ يَذْكُرَانِ اللَّهَ فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي، فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ إِلَّا فِي حَقٍّ، وَكَانَ يَخْرُجُ لِحَاجَتِهِ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى أَيُّوبَ فِي مَكَانِهِ أَنِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ، فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلَقَّتْهُ وَأَقْبَلَ عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى؟ وَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا، قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتْ أَحَدُهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4115 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت ایوب علیہ السلام ( جو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے) 15 سال آزمائش میں رہے ۔ اس دوران آپ کے قریب و بعید ( کے تمام تعلق دار) آپ کو چھوڑ گئے ۔ آپ کے صرف دو رشتہ دار جو کہ آپ کے خاص الخاص رشتہ دار تھے، وہ صبح شام آپ کے پاس آتے تھے۔ ایک دن ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم جانتے ہیں کہ یقیناً ایوب علیہ السلام نے کوئی ایسا گناہ کیا ہےجو پوری دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہو گا۔اس کے ساتھی نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا : آج سے اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہ کرے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی آزمائش ختم فرمادی تو جب وہ دونوں شام کے وقت آپ کے پاس آئے تو وہ آدمی وہ بات آپ سے کہنے سے نہ رہ سکا تو حضرت ایوب علیہ السلام نے اس سے فرمایا : جو کچھ تم نے کہا ہے وہ مجھے تو معلوم نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے دو جھگڑنے والے آدمیوں میں فیصلہ کیا تھا، وہ دونوں اللہ کی قسمیں کھارہے تھے۔ پھر میں اپنے گھر چلا گیا تاکہ ان دونوں کی جانب سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند تھی کہ ناحق اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی جائے۔ حضرت ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر جایا کرتے تھے اور فراغت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ آپ کو سہارا دے کر واپس گھر لاتی تھیں ۔ ایک دن آپ نے کافی دیر لگا دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ نہانے اور پینے کے لئے ٹھنڈا چشمہ ہے۔ آپ کی زوجہ نے بھی دیر محسوس کی ۔ پھر وہ ان سے ملیں تو وہ بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کی تمام بیماری اللہ تعالیٰ نے ختم فرمادی تھی اور آپ پہلے کی طرح خوبصورت تھے۔جب آپ کی زوجہ نے آپ کو دیکھا تو بولیں : اے فلاں ! اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام کو کہیں دیکھا ہے؟ خدا کی قسم ! تیری شکل و صورت ان کی صحت کے زمانے کی صورت سے بالکل ملتی جلتی ہے، وہ بولے : میں ہی تو ہوں ۔ آپ کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا اور ایک جو کا ۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ان میں سے ایک گندم کے کھلیان پر سایہ فگن ہوا اور اس پر سونا برسایا اور دوسرا بادل جو کے ڈھیر پر آیا اور اس نے اس پر چاندی برسائی ۔ حتی کے وہ بہے گئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← شُعَيْبُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4115

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4116

4116 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو مُسْلِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمَّا عَافَى اللَّهُ أَيُّوبَ أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُهُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ؟ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4116 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو صحت عطا فرمائی تو ان پر سونے کی ٹڈیوں کی برسات کی تو وہ ان کواٹھا اٹھا کر اپنے کپڑون میں ڈالنے لگے ۔ آپ سے کہا گیا: اے ایوب ! کیا تو سیر نہیں ہوگا؟ تو آپ بولے : ( اے اللہ!) تیری رحمت سے کون سیر ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4116

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4117

4117 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: «ابْتُلِيَ أَيُّوبُ سَبْعَ سِنِينَ مُلْقًى عَلَى كُنَاسَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4117 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت فتادہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : حضر ایوب علیہ السلام سات سال بیمار رہے اور آپ بیت المقدس کے ایک کونے میں پڑے رہتے تھے۔

قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4117

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ أَيُّوبَ بْنِ أَمُوصَ نَبِيِّ اللَّهِ الْمُبْتَلَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4118

4118 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: «كَانَ عُمْرُ أَيُّوبَ ثَلَاثًا وَتِسْعِينَ سَنَةً، وَأَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَى ابْنِهِ حَوْمَلٍ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ ابْنَهُ بِشْرَ بْنَ أَيُّوبَ نَبِيًّا وَسَمَّاهُ ذَا الْكِفْلِ، وَأَمَرَهُ بِالدُّعَاءِ إِلَى تَوْحِيدِهِ، وَأَنَّهُ كَانَ مُقِيمًا بِالشَّامِ، عُمْرَهُ حَتَّى مَاتَ وَكَانَ عُمْرُهُ خَمْسًا وَسَبْعِينَ سَنَةً وَإِنَّ بِشْرًا أَوْصَى إِلَى ابْنِهِ عَبْدَانَ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُمْ شُعَيْبًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4118 - في إسناده عبد المنعم بن إدريس وقد كذب

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ایوب علیہ السلام کی عمر 73 سال تھی اور آپ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعد آپ کے بیٹے بشر بن ایوب علیہ السلام کو نبی بنایا اور ان کانام " ذؤالکفل " رکھا اور ان کو توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا ۔ وہ اپنی وفات تک ملک شام میں قیام پذیر رہے، ان کی عمر75 برس تھی اور بشر بن ایوب نے اپنے بیٹے عبدان کو وصیت کی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد حضرت شعیب علیہ السلام کو نبی بنایا۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ayyub ibn Amos, the exiled Prophet of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4118

chevron_left Previous
1…690691692…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section