حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا تو ان کے ہمراہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے ۔ جب آپ مکۃ المکرمہ پہنچے تو آپ نے بیت اللہ کے مقام پر اپنے سر کے اوپر کی جانب ایک بادل سا دیکھا، اس میں سر کی سی کوئی چیز تھی ۔ اس سے آواز آئی : اے ابراہیم ! میرے سائے پر یا میرے سائے کی مقدار میں عمارت بنائیں اور اس سے کم یا زیادہ مت کرنا ۔ جب آپ نے تعمیر مکمل کی رلی تو وہاں سے باہر نکل آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہ کو وہیں چھوڑ دیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ٢٦﴾ [الحج: 26]" جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانہ ٹھیک بتا دیا اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میر گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لئے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4024
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے ، اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام زمزم کے پیچھے مکان بنا رہے تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا : اے اسماعیل ! تیرے رب نے مجھے ( بیت اللہ ) بنانے کا حکم دیا ہے ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواباً کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکم دیا ہے ، آپ اس کی تعمیل فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا : اس سلسلہ میں تم میرے ساتھ تعاون کرو۔ چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی آپ کے ہمراہ ہو لئے ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر شروع کر دی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کو پتھر اٹھا اٹھا کر دے رہے تھے اور دونوں یہ دعا مانگ رہے تھے : ﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ١٢٧﴾ [البقرة: 127]" اے ہمارے رب ہماری طرف سے یہ ( کوشش) قبول فرما ، بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4025
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب وحی فرمائی کہ لوگوں میں حج کا اعلان فرما دیجیے ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یوں اعلان فرمایا : خبردار ! تمہارے رب نے گھر بنایا ہے اور تمہیں حکم دیا ہے ہ تم اس کا حج کرو۔ تو جس جس درخت ، پتھر ، یا ٹیلے یا مٹی نے آپ کی آواز سنی سب نے جواباً کہا: " لبیک اللھم لبیک " یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4026
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسلام کے 30 حصے ہیں اور اس دین میں جس کو بھی آزمایا گیا ، ان میں سے صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام مکمل طور پر پورا اترے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى٣٧﴾ [النجم: 37]" اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجا لایا " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ سے برات لکھ دی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4027
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی اپنے مشرک والدین کے لئے دعائے مغفرت کر رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: تو ان کے لئے دعائے مغفرت کر رہا ہے حالانکہ وہ مشرک تھے ۔ اس نے کہا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تو اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔ میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ ١١٤﴾ [التوبة: 114]" اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کر چکا تھا " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4028
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سب سے پہلا شخص جس نے عربی زبان بولی اور اپنے الفاظ اور گفتگو کو لکھا اور اس کو متصل کر کے لکھا جیسے " بسم اللہ الرحمن الرحیم " یہ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ پھر ان کی اولاد نے ان میں فرق کر دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4029
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نبی ﷺ کے انبیاء علیہ السلام میں سے کچھ دوست ہوتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست اور مدد گار میرے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ﴿إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ ٦٨﴾ [آل عمران: 68]" بے شک میں لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4030
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نبی ﷺ کے انبیاء علیہ السلام میں سے کچھ دوست ہوتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست اور مدد گار میرے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ان اولی الناس بابراھیم " ابو نعیم کی روایت کو جب و اقدی کی روایت کے ہمراہ ملایا جائے تو یہ حدیث درجہ صحت کو پہنچ جاتی ہے کیونکہ اس میں مسروق کا ہونا ضروری ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4031
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مصر کو فتح کر لو تو قبطیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ ان کے لئے ذمہ ہے اور رشتہ داری ہے ۔ زہری کہتے ہیں : رشتہ داری یہ ہے کہ حضرت اسماعیل کی والدہ ، ان میں سے تھیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ الحسن بن علي بن زياد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4032
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے وہ نبی علیہ السلام ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے صادق الوعد کا لقب عطا فرمایا ہے جن میں ( بلا کی ) تیزی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو ان پر فتح و نصرت بھی عطا فرماتا ہے ۔ وہ کافروں کے خلاف بہت سخت لڑنے والے تھے ۔ اللہ تعالیٰ ے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کا خوف نہیں رکھتے تھے ۔ ان کا سر چھوٹا ، گردن مضبوط ، ہاتھ اور پاؤں لمبے ، وہ کھڑے ہوتے تو ان کے ہاتھ ان کے گھٹنوں کو چھوتے ، ان کی آنکھیں چھوٹی ، ناک لمبی ، کندھے چوڑے ، انگلیاں لمبی ، خوبصورت ، طاقتور ، مضبوط اور کافروں پر سختی کرنے والے تھے ۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیا کرتے تھے اور رب کی بارگاہ کے مقبول بندے تھے اور ان کی زکوٰۃ اپنے مالوں میں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا تھی ۔ آ پ جس کسی سے بھی کوئی وعدہ کرتے ، اللہ تعالیٰ اس کو پورا فرماتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو " صادق الوعد " کا لقب عطا فرمایا اور وہ رسول اور نبی تھے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4033
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4034
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ " ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ١٠٧﴾ [الصافات: 107]" کے متعلق فرماتے ہیں : یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مینڈھا ذبح کیا تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Ishmael ibn Abraham, may God’s prayers be upon them · Hadith 4035