حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کی امت کو بلائے گا اور ( آپ کی امت سے ) فرمائے گا: تم نے حضرت نوح علیہ السلام کو کیا جواب دیا تھا ؟ وہ کہیں گے : انہوں نے ( حضرت نوح علیہ السلام ) نے نہ ہمیں کبھی دعوت دی نہ ( تیرے احکام ) ہم تک پہنائے ، نہ کبھی ہمیں نصیحت کی نہ ہمیں ( کبھی بھلائی کا) حکم دیا اور نہ ( کبھی برائی سے ) منع کیا ۔ حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے : اے میرے رب ! میں نے ان کو دعوت دی ، ایسی دعوت جو اولین و آخرین سب کو شا مل تھی، پشت در پشت ان کو دعوت دی حتیٰ کہ یہ سلسلہ خاتم النبین احمد تک پہنچا۔ انہوں نے اس کو منسوخ کیا اور اس کو پڑھا اور اس کا یقین کیا اور اس کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : احمد ﷺ اور ان کی امت کو بلاؤ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت اس شان سے وہاں آئیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہو گا۔ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت سے کہیں گے : کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور ان کو سمجھانے کی از حد کوشش کی تھی اور سراً و علانیۃ ان کو دوزخ سے بچانے کی کوشش کی تھی لیکن میری دعوت پر یہ اور بھی دور بھاگتے رہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ اور پ کی امت کہیں گے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ سب کچھ سچ ہے ۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہے گی : اے احمد ! آپ کو اور آپ کی امت کو اس سب کا کیا معلوم ؟ ہم سب سے پہلی امت ہیں جبکہ آپ اور آپ کی امت سب سے آخر میں آئے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ پوری سورۃ نوح پڑھیں گے ۔ جب آپ سورۃ ختم فرمائیں گے تو آپ کی امت کہے گی : ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ سچ واقعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ ہی غالب حکمت والا ہے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جاؤ تو یہ سب سے پہلا گروہ ہو گا جو الگ ہو کر دوزخ میں جائے گا۔
وَهْبٌ: وَقَدْ ← سَبْعَةِ رَهْطٍ شَهِدُوا بَدْرًا ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الحسين بن محمد بن إسحاق،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Noah the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4012
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ﴿ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى ٣٣﴾ [الأحزاب: 33]" اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی "۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور فرمایا : حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا فرق ہے اور آدم علیہ السلام کی اولاد کے دو قبیلے تھے ، ان میں سے ایک ہموار زمین پر آباد تھا اور دوسرا پہاڑوں پر رہتا تھا ۔ پہاڑ پر رہنے والے قبیلے کے مرد خوبصورت تھے جبکہ ان کی عورتیں خوبصورت نہ تھیں اور ہموار زمین کے باشندوں کی عورتیں خوبصورت اور مرد بد صورت تھے ۔ شیطان ہموار زمین والوں میں سے ایک آدمی کے پاس ایک چرواہے کے لڑکے کی صورت میں آیا اور ان کو اتنی خوبصورت آواز سنائی کہ اس جیسی آواز انہوں نے کبھی نہ سنی تھی ۔ ان لوگوں نے اس کو عید بنا لیا اور سال میں ایک مرتبہ وہاں پر جمع ہونے لگ گئے اور پہاڑ والوں میں سے ایک آدمی اچانک وہاں پر آیا ، اس وقت وہ لوگ اپنے اسی میلے میں تھے ۔ اس نے ان کی عورتوں اور ان کی خوبصورتی کو دیکھا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان کو اس بات کی خبر دی چنانچہ ان کے مرد ان عورتوں کی طرف آئے اور میلے میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے ۔ اس طرح ان میں برائیاں پھیل گئیں ۔ یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول " ﴿ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى ٣٣﴾ [الأحزاب: 33]" کا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Idris the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4013
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ادریس علیہ السلام کو تھے اور وہ کون سے زمانے میں تھے ؟ انہوں نے کہا: یہ حضرت نوح علیہ السلام کے دادا ہیں ، جن کا نام " خنوخ " ہے اور وہ ( حضرت ادریس علیہ السلام ) جنت میں زندہ ہیں اور محمد بن اسحاق بن یسار کہتے ہیں : حضرت ادریس علیہ السلام ، حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے وہ پہلے انسان ہیں جن کو نبوت عطا کی گئی اور وہ اخنوخ بن یزید بن اھلالیل بن قینان بن ناخربن شیث بن آدم ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Idris the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4014
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ادریس علیہ السلام کا رنگ صاف ، قد لمبا ، پیٹ بڑ، سینہ کشادہ ، جسم پر بال کم اور سر کے بال گھنے تھے ۔ ان کی ایک آنکھ چھوٹی تھی ۔ ان کے سینے پر تین سفید نشان تھے جو کہ برج کے نہ تھے ۔ جب لوگوں نے دین الٰہی کی تبلیغ کی پاداش میں ان پر ظلم و ستم کی حد کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹے آسمان پر اٹھا لیا ۔ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا٥٧﴾ [مريم: 57]" اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا "۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Idris the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4015
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور فرمایا : یہ بچہ ایک سو سال تک جئے گا ۔ چنانچہ آپ کی عمر ایک سو سال ہوئی ۔ واقدی کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا٣٨﴾ [الفرقان: 38]" اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور حضرت نوح علیہ السلام اور آدم علیہ السلام ؔ کے درمیان دس صدیاں ہیں اور نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان دس صدیاں ہیں چنانچہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کے دو ہزار سال بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔
الْوَاقِدِيُّ ← فَعَاشَ مِائَةَ سَنَةٍ ← «هَذَا الْغُلَامُ يَعِيشُ قَرْنًا» ← وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ التَّمِيمِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4016
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ کہیں گے : اے ابراہیم آپ اللہ کے خلیل ہیں آپ کی خلت کا چرچا آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4017
حضرت جندب سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے خلیل بنایا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4018
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو اندر داخل ہونے سے رک گئے ۔ آپ نے ان کو مٹانے کا حکم دیا تو وہ مٹا دی گئیں۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھ میں پانسے پکڑے ہوئے تھے ۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کرے ، خدا کی قسم ! انہوں نے کبھی بھی پانسے نہیں ڈالے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4019
محمد بن اسحاق نے اللہ تعالیٰ کے خلیل علیہ السلام اس کے صفی اور اس کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نسب یوں بیان کیا ہے: " ابراھیم بن ازر بن ماجور بن ساروح بن راعو بن مالح بن عابر بن سالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح صلوات اللہ علیہ "
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4020
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آسمان سے ایک ہاتھ نمودار ہوا، اس کی انگلیوں کے درمیان سفید بال تھے ، وہ حضرت ابراہیم کے سر کے قریب آنے لگا پھر وہ بالکل قریب آ گیا ۔ اس نے وہ بال آپ کے سر میں ڈال دیا اور کہا : یہ عزت کی سفیدی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف طہارت اختیار کرنے کی وحی فرمائی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے جوانی میں ختنہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ان آیات میں سے بھی کچھ نازل فرمائی ہیں ، جو محمد ﷺ پر قرآن کریم میں نازل کی گئیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ تھی : ﴿التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ١١٢﴾ [التوبة: 112]" توبہ والے ، عبادت والے، سراہنے والے ، روزے والے ، رکوع والے ، سجدے والے، بھلائی کے بتانے والے ، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے اور خوشی سناؤ مسلمانوں کو " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور سورۃ مومنون کی آیت : ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ١﴾ [المؤمنون: 1]" سے ﴿الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ١١﴾ [المؤمنون: 11] اور سورۃ احزاب کی آیت : ﴿إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا٣٥﴾ [الأحزاب: 35]" پوری آیت اور سورۃ المعارج کی آیات : ﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ٢٣﴾ [المعارج: 23]" سے " ﴿وَالَّذِينَ هُمْ بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ٣٣﴾ [المعارج: 33]" یہ حصے ، صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حصے میں آیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4021
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4022
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4023