حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی جانب روانہ فرمایا اور علم بھی ان کو عطا فرمایا، جب آپ روانہ ہوئے تو (مجھے ) فرمایا: اے ابو رافع! اس کے ساتھ شامل ہو جا اور اس کو چھوڑ کر الگ نہ ہونا، اسی کے ساتھ رہنا، ادھر ادھر متوجہ نہیں ہونا یہاں تک کہ میں ان کے پاس آ جاؤں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کو بھی کچھ نصیحتیں فرمائیں، پھر فرمایا: اے علی! تمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ کسی شخص کو ہدایت عطا فرمائے، یہ تیرے لئے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
بَعَثَ النَّبِيُّ عَلِيًّا إِلَى الْيَمَنِ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً فَلَمَّا مَضَى، ← أَبِي رَافِعٍ ← عبد الرحمن بن عبد الله مولى علي ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي خَالِدٍ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله المزني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Rifa’a, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, may God be pleased with him · Hadith 6537
حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں قریش کا ایک خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، آپ فرماتے ہیں: جب میں نے دو خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر دیا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کبھی بھی ان لوگوں کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں وعدہ خلافی نہیں کر سکتا اور کسی کے سفیر کو اپنے پاس نہیں روک سکتا، اس لئے تم واپس ان لوگوں میں جاؤ، اگر وہاں جا کر بھی تمہارے جذبات یہی رہے تو لوٹ آنا، آپ فرماتے ہیں: میں اپنی قوم میں لوٹ کر گیا، اس کے بعد دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہو گیا۔
فَلَمَّا أَدَّيْتُ الْكِتَابَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ، فَقُلْتُ: ← أَنَّهُ أَقْبَلَ بِكِتَابٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ ← أن أبا رافع ← أن الحسن بن علي بن أبي رافع ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Rifa’a, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, may God be pleased with him · Hadith 6538
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6539
مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں: حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت "ابو عبداللہ" ہے۔ ان کی ولاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا " سلمان میرے گھر کا ہی ایک فرد ہے۔
وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ كَانَ وَلَاؤُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ ← مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6539
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6540
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6540
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6541
کثیر بن عبداللہ المزنی اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ احزاب کے موقع پر خندق کھودنے کےلئے نشان لگایا، یہ نشان مقام مذا حج تک پہنچا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر آدمی کو 40 گز خندق کھودنے کا کام سپرد کیا، (اس موقع پر مجھے اپنے ساتھ شامل کرنے کے سلسلہ میں انصار و مہاجرین کا آپس میں اختلاف ہو گیا) مہاجرین کہہ رہے تھے کہ یہ ہم میں سے ہیں اور انصار کہہ رہے تھے کہ ہم میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمان میرے گھر کا فرد ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6541
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6542
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے، اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تکئے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئےتھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ تکیہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیش کر دیا، حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے ابو عبداللہ ! آپ مجھے کوئی حدیث سنائیے ، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکئے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تکیہ مجھے دیا اور فرمایا: اے سلمان ! جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور میزبان اپنے مہمان کے احترام میں اس کو تکیہ پیش کرے، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6542
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6543
حضرت سماک بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن صوحان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ دو کوفی آدمی حضرت زید بن صوحان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےد وست تھے، ان تینوں نے طے کیا کہ ہم حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر ان سے ان کے قبول اسلام کا واقعہ سن کر آتے ہیں، چنانچہ یہ تینوں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ گئے، حضرت سلمان ان دنوں مدین کے عامل (گورنر) تھے، آپ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ایک بکری تھی، آپ اس کو چار ا کھلا رہے تھے، راوی کہتے ہیں: ہم ان کو سلام کر کے وہاں بیٹھ گئے، حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبداللہ ! یہ دونوں افراد میرے دوست ہیں، اور ان دونوں کاایک بھائی بھی ہے، یہ لوگ آپ کی زبانی آپ کے اسلام لانے کا واقعہ سننا چاہتے ہیں۔ حضرت سلمان نے (اپنے اسلام کا واقعہ سنانا شروع کیا) کہنے لگے: میں رام ہرمز شہر کا رہنے والا ایک یتیم بچہ تھا، رام ہرمز میں ایک کسان کا بیٹا رہتا تھا وہ مختلف معلمین کے پاس جایا کرتا تھا، میں اس کے ساتھ اس کے خیمے میں رہنے لگ گیا، میرا ایک بڑا بھائی بھی تھا، وہ خود مختار تھا لیکن میں چھوٹا بچہ تھا، اس کی عادت تھی کہ جب مجلس ختم ہوتی، اس کے محافظین بھی چلے جاتے، جب وہ چلے جاتے تو وہ وہاں سے اٹھتا ، کپڑے بدلتا اور پہاڑ پر چڑھ جاتا، اس نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا، میں نے اس کو کہا کہ تم اکیلے اتنی مشقت اٹھاتے ہو، تم مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے؟ اس نے کہا: تم ابھی چھوٹے بچے ہو، مجھے ڈر ہے کہ تم سے ہمارا کوئی راز فاش نہ ہو جائے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: تم گھبراؤ نہیں ۔ اس نے کہا: اس پہاڑ میں کچھ ایسے لوگ رہتے ہیں جن کی اپنی ایک خاص عبادت ہے، وہ نیک لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ کو اور آخرت کو بہت یاد کرتے ہیں، وہ ہمیں آگ اور بتوں کے پجاری سمجھتے ہیں، میں ان کا دین قبول کر چکا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: تم مجھے بھی اپنے ہمراہ لے کر جاؤ۔ اس نے کہا: میں ان سے پوچھے بغیر تمہیں اپنے ہمراہ نہیں لے جا سکتا۔ مجھے ڈر ہے کہ تم سے کوئی عمل ظاہر ہو گیا اور میرے والد کو پتا چل گیا تو وہ ان لوگوں کو نہیں چھوڑے گا اور ان کے قتل کا سارا بوجھ میرے کندھوں پر آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میری ذات سے ایسی کوئی بات ظاہر نہیں ہو گی، آپ ان سے مشورہ کر لیجئے۔ وہ ان کے پاس گئے، اور ان سے کہا: میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے، وہ آپ کے پاس آنا چاہتا ہے، آپ لوگوں کی گفتگو سننا چاہتا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں اس پر اعتماد ہے؟ اس نے کہا: مجھے امید واثق ہے کہ وہ وہی کرے گا جو ہم چاہتے ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی، اس نے آکر مجھے کہا: میں تجھے اپنے ہمراہ لے جانے کی اجازت لے آیا ہوں۔ جب میرے جانے کا وقت آئے اور تم مجھے دیکھو کہ میں نکل گیا ہوں، تو تم میرے ساتھ چلے آنا، لیکن کسی شخص کو یہ شک نہ ہو کہ تم میرے ساتھ جا رہے ہو، کیونکہ اگر میرے باپ کو پتا چل گیا تو وہ ان سب کو قتل کر ڈالے گا۔ آپ فرماتے ہیں: (اگلے دن) جب وہ گھر سے نکلا تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا، ہم پہاڑ پر چڑھ گئے اور ان لوگوں تک جا پہنچے ، یہ لوگ اپنے غار میں موجود تھے، (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کی تعداد 6 یا 7 تھی) عبادت کر کر کے ان کی حالت یہ ہو گئی تھی (لگتا تھا کہ) ان کے بدن سے روح نکل چکی ہے، یہ لوگ سارا دن روزے سے گزارتے اور رات کو قیام کرتے، سحری کے وقت ان کو جو میسر آتا وہی کھا لیتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے، کسان (کے بیٹے) نے اپنے رہنما کی تعریف و ثناء کی۔ پھر وہ لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، سابقہ انبیاء و رسل کی تعریف کی۔ بات چلتے چلتے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچی، اس سلسلے میں ان کے نظریات یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا، اور ان کو یہ اختیار دیا کہ وہ مادر زادا ندھوں کو ، کو ہڑیوں کو شفا دیں، پرندہ بنائیں، مردوں کو زندہ کریں۔ ان کی قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان کی تعلیمات کا انکار کیا اور کچھ لوگوں نے ان کی اتباع کی۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے اپنی مخلوق کو آزمایا تھا، اور ان لوگوں نے اس سے پہلے مجھے یہ کہا تھا کہ اے لڑکے! بے شک تمہارا ایک رب ہے، اور تجھے آخرت میں بھی جانا ہے، تیرے سامنے جنت اور دوزخ دونوں ہیں، تم ان کی طرف بڑھ رہے ہو، اور یہ جو لوگ آگ کی پوجا کرتے ہیں، یہ کافر اور گمراہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے عمل سے راضی نہیں ہے، اور نہ یہ سچے دین پر ہیں۔ جب اس لڑکے (کسان کے بیٹے) کے جانے کا وقت ہوا تو وہ اٹھ کر چل دیا، میں بھی اس کے ہمراہ چلا گیا، اگلے دن دوبارہ ہم ان لوگوں کے پا س گئے، اس دن بھی انہوں نے بہت اچھی اور نیک باتیں کیں۔ میں نے ان کی مجلس کو اختیار کر لیا، ان لوگوں نے مجھے کہا: اے سلمان ! تم ابھی چھوٹے بچے ہو، تم ہماری طرح (مشقت والی) عبادت نہیں کر پاؤ گے، تم (رات کا کچھ حصہ) عبادت کر لیا اور (باقی وقت ) سو جایا کرو، (یونہی) دن میں (روزہ نہیں رکھا کرو بلکہ) کھاتے پیتے رہا کرو۔ راوی کہتے ہیں: (اس لڑکے کے باپ کو) اپنے بیٹے کے عمل کی اطلاع مل گئی، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی عبادت گاہ میں آ گیا، آکر ان سے کہنے لگا: اے لوگو! تم میرے پڑوس میں آئے اور میں نے تمہارے ساتھ اچھے پڑوسی کا برتاؤ کیا، تم نے کبھی بھی مجھ سے برا سلوک نہیں دیکھا، لیکن اس کے باوجود تم نے میرے بیٹے کو بگاڑ دیا ہے، اب میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں، اگر میں نے تمہیں تین دن کے بعد یہاں پر دیکھ لیا تو تمہارا یہ عبادت خانہ جلا ڈالوں گا۔ مہربانی کر کے تم اپنے وطن واپس لوٹ جاؤ، میں نہیں چاہتا کہ میرے ہاتھ سے تمہارا کوئی نقصان ہو۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ ہمارا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہ تھا، ہمارا ارادہ تو فقط بھلائی ہی تھا۔ اس کا بیٹا ان لوگوں کے پاس آنے سے رک گیا، میں نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر، تم جو جانتے ہو کہ یہ دین ، اللہ تعالیٰ کا دین ہے، تیرا باپ اور ہم لوگ غلط دین پر ہیں۔ ہم لوگ آگ کے پجاری ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے، تم غیر کے دین کے بدلے اپنی آخرت مت بیچو، اس نے کہا: اے سلمان تم صحیح کہہ رہے ہو، میں ان لوگوں کی بہتری کے لئے ان سے پیچھے ہٹا ہوں، کیونکہ اگر میں ان کے ساتھ جاؤں، میرا باپ مجھے ڈھونڈتا ہوا پہاڑ میں جا پہنچے گا، تب بہت نقصان ہو گا۔ ایک مرتبہ وہ میری تلاش میں ان کا ٹھکانہ دیکھ آیا ہے۔ میں یہ جان چکا تھا کہ حق انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس دن ان لوگوں نے روانہ ہونا تھا، اس دن میں ان کے پاس آیا۔ ان لوگوں نے کہا: اے سلمان ! تم نے خود دیکھا ہے کہ ہم نے کس قدر احتیاط کی۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور یہ یقین رکھنا کہ دین حق وہی ہے جس کی ہم نے تمہیں وصیت کی ہے، اور یہ لوگ آگ کے پجاری ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتے اور نہ ہی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، کبھی کوئی شخص تمہیں تمہارے سچے دین سے دھوکے میں نہ ڈالے۔ میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا۔ ان لوگوں نے کہا: تو ہمارے ساھت نہیں رہ سکتا، ہم سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور رات کو قیام کرتے ہیں، ہمیں سحری کے وقت جو میسر ہو کھا لیتے ہیں۔ تم یہ سب نہیں کر پاؤ گے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں تم لوگوں سے الگ نہیں ہوں گا۔ ان لوگوں نے کہا: تم اپنا حال بہتر جانتے ہو، بہر حال ہم نے اپنی صورت حال سے تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔ لیکن اگر ہمارے ساتھ چلنے کا ارادہ لے کر آؤ تو اپنے کھانے پینے کی کچھ اشیاء جو تم خود اٹھا سکو، اپنے ہمراہ لے کر آنا، کیونکہ ہم جس قدر با مشقت عبادت کر سکتے ہیں، تم وہ مشقت برداشت نہیں کر پاؤ گے۔ آپ فرماتے ہیں، میں نے ایسے ہی کیا، میرا بھائی مجھ سے ملا، میں نے سارا معاملہ اس کو بتا دیا، اس کے بعد میں ان لوگوں کے پاس آ گیا، یہ روانہ ہو رہے تھے، میں بھی ان کے ہمراہ چل دیا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم بخیر و عافیت مقام موصل میں پہنچ گئے، جب ہم وہاں پہنچے تو لوگوں نے ہمیں گھیر لیا اور پوچھنے لگے: تم لوگ (اتنے دنوں سے) کہاں تھے؟ انہوں نے کہا: ہم ایسے علاقے میں تھے وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے، وہاں کے لوگ آگ کے پجاری تھے، ہم وہاں پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے، ان لوگوں نے ہمیں وہاں سے نکال دیا۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے؟ ان لوگوں نے میری تعریفیں کرنے کے بعد کہا: یہ بچہ اسی شہر سے ہمارے ساتھ آیا ہے، ہم نے اس بچے میں اچھائی ہی اچھائی دیکھی ہے۔ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی وہ لوگ اسی گفتگو میں تھے کہ پہاڑ کی جانب سے ایک شخص ان کی جانب آیا۔ اس نے آکر ان کو سلام کیا اور بیٹھ گیا، یہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھ گئے، میں جن لوگوں کے ہمراہ تھا انہوں نے (بھی) اس آدمی کا بہت احترام کیا اور ان سب لوگوں نے اس آدمی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس آدمی نے پوچھا: تم لوگ کہاں تھے؟ انہوں نے تمام صورت حال کہہ سنائی۔ اس نے پوچھا: تمہارے ساتھ یہ بچہ کون ہے؟ ان لوگوں نے پھر میری کچھ تعریف کی اور میرے ان کے ہمراہ آنے کا ماجرا سنایا۔ جس قدر وہ لوگ اس آدمی کی عزت کر رہے تھے، میں نے اس طرح کبھی کسی کی عزت ہوتے نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، اس کے بعد سابقہ انبیاء کرام اور رسل عظام ، ان کے احوال اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بتایا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنایا، ان کے ہاتھ پر مردوں کو زندہ کیا۔ وہ مٹی سے پرندے کی ایک مورت بنا کر اس پر دم کرتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندہ بن کر اڑ جاتا، اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل نازل فرمائی ، ان کو تورات کا علم دیا، ان کو بنی اسرائیل کی جانب رسول بنا کر بھیجا، کچھ لوگوں نے ان کا انکار کیا اور کچھ ان پر ایمان لائے، اور عیسیٰ علیہ السلام کی بعض آزمائشوں کا بھی ذکر کیا، اور یہ بھی بیان کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا، انہوں نے اس انعام پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کو جب اٹھایا تو اس وقت بھی آپ لوگوں کو نصیحت ہی کر رہے تھے، اور فرما رہے تھے: لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اس چیز کو مضبوطی سے تھام لو جو عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ہیں۔ تم ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کی مخالفت کا بدلہ دے گا۔ پھر اس آدمی نے کہا: جو کوئی یہاں سے کچھ لینا چاہے وہ لے سکتا ہے۔ لوگ ایک ایک کر کے اٹھتے اور پانی کا ایک گھونٹ اور کھانے ایک ایک لقمہ لیتے۔ میں جن لوگوں کے ہمراہ گیا تھا وہ بھی اٹھے اور اس آدمی کی بہت عزت و توقیر کی، اس کو سلام کیا۔ اس نے ان سے کہا: اس دین پر ہمیشہ قائم رہنا، فرقوں میں بٹنے سے بچنا اور اس بچے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ پھر اس نے مجھے کہا: اے بچے ! تم نے میری زبان سے جو باتیں سنی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ اور اس کے سوا سب کفر ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں آپ سے کبھی بھی الگ نہیں ہونگا۔ اس نے کہا: تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتے، میں اس غار سے (پورے ہفتے کے بعد) ہر اتوار کو نکلتا ہوں، تو میرے ساتھ نہیں رہ سکتا، (حضرت سلمان )فرماتے ہیں : اے بچے ! تو ان کے ہمراہ نہیں رہ سکتا۔ میں نے کہا: میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس آدمی کے ساتھیوں نے کہا: اے فلاں ! یہ بچہ ہے اور اس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اس نے مجھے کہا: تم (اپنے بارے میں) زیادہ جانتے ہو۔ میں نے کہا: میں تو ان کے ساتھ ہی رہوں گا۔میرے وہ ساتھی جن کے ہمراہ میں آیا تھا وہ سوچ کر رونے لگے کہ میں ان سے جدا ہو جاؤں گا۔ اس آدمی نے کہا: اے بچے ! اس طعام میں سے اتنا لے لو جو تمہیں اگلی اتوار تک کافی ہو۔ اتنا ہی پانی بھی لے لو، میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے اگلے اتوار تک اس کو نہ کھانا کھاتے دیکھا اور نہ سوتے دیکھا، وہ پورا ہفتہ رکوع و سجود ہی میں مشغول رہا۔جب صبح ہوئی تو اس نے مجھے کہا: اپنا کھانا پانی لے لو اور چلو ،میں اس کے پیچھے پیچھے چل نکلا، چلتے چلتے ہم ایک چٹان تک پہنچے، جب وہاں پہنچے تو کافی سارے لوگ بھی غار سے نکل کر پہاڑ پر آکر اس کے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ تمام لوگ بیٹھ گئے اور جیسے پہلے اس نے وعظ کیا تھا اسی طرح دوبارہ وعظ کرتے ہوئے فرمایا: اس دین کو مضبوطی سے تھام لو، جدا جدا مت ہو، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اور جان لو کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا، اس کے بعد اس نے میرا ذکر کیا۔ لوگوں نے ان سے پوچھا: اے فلاں ! تجھ کو یہ بچہ کہاں سے ملا؟ اس نے میری تعریف کی اور میرے بارے میں بہت اچھے الفاظ ارشاد فرمائے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی، وہاں کافی ساری روٹیاں اور پانی موجود تھا، لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیا، میں نے بھی ایسے ہی کیا۔ اس کے بعد وہ لوگ ان پہاڑوں میں بکھر گئے اور اپنی اپنی غاروں میں واپس چلے گئے، میں اس کے ہمراہ واپس آگیا۔ کافی عرصہ ہم نے وہاں گزارا، ہر اتوار کو وہ باہر نکلتا اور لوگ بھی آجاتے، سب اس کے ارد گرد جمع ہو کر بیٹھ جاتے، وہ ان کو حسب معمول ان کی نصیحتیں کرتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اتوار کے دن وہ نکلا، جب تمام لوگ اس کے پاس جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ان کو نصیحت کرتے ہوئے اپنے طریقے کے مطابق گفتگو فرمائی۔ پھر سب سے آخر میں کہا: اے لوگو! میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں، اور میری موت کا وقت قریب ہے ، اور عرصہ دراز سے اس گھر کی ذمہ داری میں نے ابھی تک کسی کو نہیں دی جبکہ یہ ذمہ داری کسی کو دینا بہت ضروری ہے۔ تم اس بچے کے ساتھ تعاون کرنا کیونکہ میں اس کو بے ضرر دیکھ رہا ہوں۔ یہ سن کر لوگ رونے لگ گئے، میں نے آج تک ایسا رونا دھونا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں نے (ایک دوسرے آدمی کے بارے میں کہا) اے فلاں! تم بوڑھے ہو اور تم اکیلے بھی ہو اور ہم نہیں سمجھتے کہ آج ہمیں جتنی تیری ضرورت ہے تمہیں اس سے زیادہ کبھی کوئی پیش کش کی گئی ہو، اس آدمی نے کہا: تم مجھے میرے ارادے سے مت ہٹاؤ، اس آدمی کی اتباع ضروری ہے لیکن تم اس بچے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا تم یہی کرنا، تم یہی کرنا۔ میں نے کہا: میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس نے کہا: اے سلمان! تو نے میری حالت دیکھ لی ہے نا؟ میرے تمام معا ملات بھی دیکھ لئے ہیں۔ میں سارا دن روزہ رکھتا ہوں اور رات میں قیام کرتا ہوں۔ میں اپنے ہمراہ زاد راہ ابھی نہیں اٹھا سکتا اور تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ہو۔ میں نے کہا: میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے تم بہتر جانتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اے فلاں! ہم اس بچے کے بارے میں پریشان ہیں۔ اس نے کہا: یہ اپنا حال بہتر جانتا ہے، میں نے ا س کو تمام صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے ، اور یہ بچہ اس سے پہلے میرے معاملات دیکھ بھی چکا ہے۔ میں نے کہا:میں اس سے الگ نہیں رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے بادیدہ نم اس کو الوداع کیا اور اس نے لوگوں سے کہا: لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میں نے تمہیں جو وصیتکی ہے اس پر عمل پیرارہو، اگر میں زندہ رہا تو دوبارہ آؤں گا اور اگر میں مر گیاتو بےشک اللہ تعالیٰ حی لا یموت ہے، یہ کہہ کر اس نے سب کو سلام کیا اور وہاں سے نکل پڑا اور میں بھی اس کے ہمراہ چل دیا۔ اس نے مجھ سے کہا: تم اپنے کھانے پینے کے لئے کچھ اشیاء اپنے ساتھ لے لو، (میں نے کھانے پینے کی تھوڑیسی چیزیں اپنے ساتھ رکھیں) اور اس کے ہمراہ چل پڑا۔ ہم (منزل بہ منزل )چلتےرہے، میں اس کے پیچھے پیچھے تھا ، وہ مسلسل اللہ تعالیٰ ذکر کر رہا تھا، وہ نہ تو کسی جانب توجہ کر تا تھا اور نہ کہیں ٹھہرتا تھا، جب شام ہوتی تو وہ مجھے کہتا : اے سلمان ! تم نما ز پڑھ ک کھانا وغیرہ کھا پی کر سو جاؤ، اور وہ خود ساری رات نماز میں مشغول رہتا، چلتے چلتے ہم بیت المقدس پہنچ گئے۔ نگاہیں جھکائے، ادب و احترام کےساتھ تم مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے، دروازے ر ایک اپاہج آدمی بیٹھا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم میرے حال کو دیکھ رہے ہو، تم مجھ پر کچھ صدقہ کرو، لیکن وہ اس آدمی کی جانب توجہ کئے بغیر مسجد میں مختلف مقامات پر نماز پڑھنے لگ گیا، پھر اس نے کہا:اے سلمان ! میں بہت عرصے سے سویا نہیں ہوں اور نہ میں نے نیند کا ذائقہ چکھا ہے اگر تم یہ کر سکو کہ جب سایہ فلاں مقام تک پہنچ جائے تو تم مجھے جگا دو گے تو میں سو جاتا ہوں، کیونکہ مجھے اس مسجد میں سونے کا بہت شوق ہے اور اگر تم مجھے نہیں اٹھا سکتے تو میں نہیں سوتا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے جی ! میں آپ کو جگا دوں گا۔ یہ کہہ کر وہ اپنے طورپر مطمئن ہو کر سو گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ آدمی بہت عرصے سے سویانہیں ہے، چند دن میں نے بھی اس کے ساتھ رہ کر اس کو دیکھا ہے، مجھے آج اس کو اٹھانا چاہئے تاکہ یہ اپنی نیند پوری کر لے۔ وہ شخص پورے راستے میں مجھے وعظ ونصیحت کرتا رہا اور مجھے بتاتا رہا کہ میرا ایک رب ہے ، اور میرے سامنے جنت و دوزخ ہے ، حساب کتاب ہے ، وہ آدمی جیسے اتوارکے دن نصیحتیں کیا کرتا تھا۔ اسی طرح مجھے بھی نصیحتیں کرتا رہا، اس نے مجھے کہا: اے سلمان ! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ عنقریب ایک رسول مبعوث فرمائے گا، اس کا نام "احمد " ہو گا، وہ تہمہ سے نکلے گا۔ وہ عجمی شخص تھا، عربی صحیح طور پر نہیں بول پا رہا تھا (تہامہ کو تہمہ کہہ رہا تھا) ، اس نے بتایا کہ اس کی نشانی یہ ہو گی کہ وہ "ہدیہ" (کی چیز) کھالے گا مگر "صدقہ" (کی چیز ) نہیں کھائے گا، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اور اس نبی کے ظاہر ہونے کا زمانہ بالکل قریب ہے۔ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں، پتا نہیں میں اس کی صحبت سے فیضیاب ہو پاتا ہوں یا نہیں اگر تو اس کو پائے تو ا س کی تصدیق کرنا اور اس کی اتباع کرنا۔ میں نے کہا: اگر وہ مجھے تمہارا دین اور تمہاری تعلیمات چھوڑنے کا حکم دے، (تو کیا تب بھی میں اس کی اتباع کروں؟)اس نے کہا: تم اس کے کہنے پر سب کچھ چھوڑ دینا کیونکہ حق اسی میں ہے جو وہ حکم دے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے جو وہ کہے۔ (حضرت سلمان) فرماتے ہیں: (وہ آدمی جگانے کی ذمہ داری مجھے سونپ کر سو گیا) ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، اس نے مجھے کہا: اے سلمان! سایہ تو اس جگہ سے آگے گزر گیا ہے اور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟ میں نے کہا: تو نے مجھے بتایا تھا کہ تم اتنے عرصے سے سوئے نہیں ہو اور چند روز تیرے ہمراہ رہ کر اس کا نظارہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے بھی کر لیا ہے ، میں نے سوچا کہ آج آپ کی نیند پوری ہو جائے، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، اٹھ کر کھڑا ہوا اور مسجد سے باہر نکلا، اس کے پیچھے میں بھی مسجد سے باہر آ گیا، دروازے پر وہ اپاہج آدمی ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، جب یہ آدمی اس کے قریب سے گزرا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم جب اندر گئے ، میں نے اس وقت بھی سوال کیا تھا لیکن تو نے مجھے کچھ نہیں دیا اب تم باہر آ رہے ہو، اب پھر میں نے سوال کیا، اب بھی تم نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ وہ وہیں رک گیا اور کچھ دیر دیکھتا رہا کہ کوئی شخص اسے دیکھ تو نہیں رہا، (جب اس کو یقین ہو گیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا تو ) وہ اس مانگنے والے کے قریب ہوا اور اسے کہا: اپنا ہاتھ میری طرف بڑھائیے، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اس نے کہا" بسم اللہ"۔ یہ لفظ سنتے ہیں وہ آدمی یوں اٹھ کر کھڑا ہو ا جیسے وہ رسی سے بندھا ہوا، ابھی کھلا ہو، اور اس میں کوئی عیب نہیں تھا، پھر یہ شخص چل دیا، اب بھی یہ نہ کسی کی طرف توجہ کرتا اور نہ کسی کے پاس کھڑا ہوتا، اس اپاہج آدمی نے مجھے کہا:اے بچے! میرے کپڑے اٹھا لو اور مجھے گھر تک چھوڑ آؤ (آپ فرماتے ہیں) میں نے اس کے کپڑے اٹھا لئے اوراس کے ساتھ چل دیا، اس نے پورے راستے میں میری طرف کوئی دھیان نہ دیا (اپاہج کو اس کے گھر تک چھوڑنے کے بعد) ، میں اس کی تلاش میں نکلا، میں نے جب بھی کسی سے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تیرے آگے آگے ابھی گیا ہے، چلتے چلتے قبیلہ کلب کے ایک قافلے سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا، جب انہوں نے میری بات سنی تو ان میں سے ایک آدمی نے اپنا اونٹ میرے لئے بٹھا دیا اور مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، یہ لوگ مجھے اپنے شہر لے گئے اور وہاں لے جا کر مجھے بیچ دیا، ایک انصاری خاتون نے مجھے خریدا، اس نے مجھے اپنے باغ میں کام پر لگا دیا، وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کا پتا چلا تو میں اپنے باغ کی کھجوریں توڑ کر ایک تھال میں رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیافت کےلئے لے آیا، اسی اثناء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کچھ لوگ جمع ہو گئے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھے، میں نے کھجوروں کا تھال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: صدقہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے کہا: تم لوگ کھا لو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ کچھ دنوں بعد میں نے پھر کچھ کھجوریں ایک برتن میں رکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ جمع تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ میں نے کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: "ہدیہ" ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسم اللہ شریف پڑھ کھایا اور باقی لوگوں نے بھی کھایا۔ میں نے سوچا : میرے اس عجمی ساتھ نے جو نشانیاں بتائی تھیں جو عجمی ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر عربی بول نہیں پا رہا تھا وہ "تہامہ" نہیں کہہ پا رہا تھا، "تہمہ" کہہ رہا تھا، اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کا نام "احمد " ہوگا۔میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کی جانب گھوما، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا مقصد سمجھ لیا، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا ڈھلکا دیا، میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں کندھے کے ایک جانب مہر نبوت تھی، میں نے اس کو اچھی طرح غور سے دیکھ لیا پھر میں گھوم کر آیا ار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ (آپ فرماتے ہیں) میں نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں غلام ہوں۔ (آپ فرماتے ہیں) میں نے اپنی پوری کہانی سنائی اور اس آدمی کی تمام باتیں بتائیں جس کے ہمراہ میں رہا اور اس نے مجھے جو حکم دیا تھا، سب بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے غلام ہو؟ میں نے کہا: ایک انصاری خاتون کا غلام ہوں، اس نے مجھے اپنے باغ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے رکھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آواز دی ، ابوبکر، حضرت ابو بکر نے جواب دیا: میں حاضر ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو خرید لو۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خرید کر آزاد کر دیا، کچھ دنوں بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نصاریٰ کے دین کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی بھلائی ہے نہ ان کے دین میں کوئی بھلائی ہے۔ میرے دل میں ایک بہت بڑی بات بیٹھ گئی، میں نے سوچا کہ یہ تو وہی شخص ہے میں جس کے ہمراہ کئی دن رہا ہوں، اور جس کی عبادت کے جلوے میں نے دیکھے ہیں یہ تو وہی شخص ہے، جس نے بسم اللہ پڑھ کر اپاہج کو دم کیا تھا اور وہ ٹھیک ہو گیا تھا، اور فرمایا: ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے نہ ان کے دین میں بھلائی ہے۔ میں وہاں سے واپس گیا تو میرے دل میں خوشی کی ایک عجیب لہر سی دوڑ رہی تھی۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی:"ذالک بان منھم قسیسین ورھبانا وانھم لایستکبرون" یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمان کو میرے پاس لاؤ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد میرے پاس پہنچا، میں دل ہی دل میں بہت ڈر رہا تھا۔ بہر حال میں حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی۔ "ذالک بان منھم قسیسین ورھبانا وانھم لایستکبرون"یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر فرمایا: اے سلمان ! وہ لوگ جن کے ساتھ تم رہے ہو اور تیرا وہ رہنما "نصرانی" نہیں تھے وہ تو مسلمان تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اسی شخص نے مجھے آپ کی اتباع کرنے کا کہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر وہ مجھے تیرے دین اور تیرے نظریات چھوڑنے کا حکم دے تو کیا میں تب بھی اس کی اتباع کروں؟ تو اس نے کہا: تھا سب کچھ چھوڑ دینا، بس اس کا دامن نہ چھوڑنا، کیونکہ حق اور واجبات اسی میں ہے جو وہ تجھے حکم دے۔ امام حاکم کہتے ہیں: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے کے واقعہ کے سلسلے میں یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند عالی ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابو طفیل عامر بن واثلہ کے حوالے سے بھی حضرت سلمان کی ایک صحیح روایت موجود ہے جو اس اسناد سے ذرا مختلف ہے، دونوں کے متن اور اسناد میں کمی زیادتی کے حوالے سے کیونکہ کافی اختلاف ہے اس لئے میں نے لازمی سمجھا کہ دونوں حدیثوں کو ذکر کر دوں۔ (اس لئے دوسری حدیث درج ذیل ہے)۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6543
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6544
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں قبیلہ "جی" سے تعلق رکھنے والا شخص تھا ، میرے علاقے کے لوگ جانوروں کی پوجا کرتے تھے، میں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ حق پر نہیں ہیں، مجھے کسی نے کہا: تم جو دین ڈھونڈ رہے ہو، وہ مغرب میں ہے، میں وہاں سے نکلا اور مقام موصل جا پہنچا ، میں نے دریافت کیا کہ اس علاقے میں سب سے بزرگ ترین شخصیت کون ہے؟ مجھے گرجے میں رہنے والے ایک بزرگ کے بارے میں بتایا گیا، میں اس کے پاس چلا آیا، میں نے اس کو بتایا کہ میں قبیلہ "جی" سے تعلق رکھتا ہوں، میں آپ کے پاس حصول علم کی خاطر اور نیک عمل کی تربیت لینے آیا ہوں۔ آپ مجھے اپنی خدمت میں قبول فرما لیجئے۔ تاکہ میں آپ کی صحبت سے فیضیاب ہو سکوں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن علوم و معار ف سے نواز ا ہے ، اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیجئے، انہوں نے حامی بھر لی، اور میں ان کی صحبت میں رہنے لگ گیا۔ جو چیزیں وہ خود استعمال کرتا تھا، اس نے وہ اشیاء مجھے بھی استعمال کروانا شروع کر دیں۔ وہ سرکہ ، زیتون کا تیل اور گندم استعمال کرتا تھا، میں اس کی وفات تک اس کی خدمت میں ہی رہا، جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں اس کی چار پائی کے پاس بیٹھ کر رونے لگ گیا، لوگوں نے رونے کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا: میں روتا اس لئے ہوں کہ میں اپنے وطن سے خیر کی تلاش میں نکلا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی صحبت عطا فرمادی ، تو نےمجھے علم سکھایا اور میرے ساتھ بہت حسن سلوک کیا ہے ، اب تمہاری موت کا وقت قریب ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: فلاں مقام پر ایک جزیرہ میں میرا بھائی رہتا ہے اور راہ حق پر گامزن ہے ، تو اس کے پاس چلا جا، اس کو میرا سلام کہنا اور بتانا کہ میں نے اس کے لئے وصیت کی ہے اور میں نے تجھے بھی وصیت کی ہے کہ تم اس آدمی کو اپنی صحبت بابرکت میں رکھ لو۔ ان کے انتقال کے بعد میں اس آدمی کے پاس گیا، میں نے جا کر اس کو تمام ماجرا سنایا اور اس کے بھائی کا سلام بھی اس تک پہنچایا اور اس کو یہ بھی بتایا کہ تمہارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے مجھے تمہاری صحبت میں رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے بھی مجھے اپنی صحبت میں قبول کر لیا، اس نے مجھ پر وہ معاملا ت بھی جاری رکھے جو پہلے بزرگ نے رکھے تھے اور کچھ دیگر امور بھی جاری فرمائے۔ میں اس بزرگ کی صحبت میں بھی کافی عرصہ رہا، پھر ان کی وفات کا وقت بھی قریب آگیا، میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگ گیا، اس نے میرے رونے کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا: میں خیر کی تلاش میں گھر سے نکلا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں شخص کی صحبت سے فیضیاب کیا، اس نے مجھے بہت علوم سکھائے پھر اس کا انتقال ہو گیا، اس نے اپنے انتقال کے وقت آپ کی خدمت میں آنے کا حکم دیا تھا، اب آپ کی موت کا وقت بھی قریب ہے، اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کہاں جاؤں؟ اس نے کہا: روم کے علاقے میں میرا بھائی رہتا ہے ، وہ حق پر ہے تم اس کے پاس چلے جاؤ، اس کو میرا سلام کہنا، تم اس کی صحبت میں رہنا کیونکہ وہ حق پر ہے، جب اس آدمی کا انتقال ہو گیا تو میں وہاں سے نکلا اور اس کے بھائی کے پاس پہنچ گیا، میں نے اس کو اپنی پوری داستان سنائی ، اور اس کے بھائی نے اس کے پاس جانے کی جو وصیت فرمائی تھی وہ بھی بتائی۔ راوی کہتے ہیں: اس نے مجھے اپنے پاس رکھ لیا اور میرے ساتھ وہی نیک معاملہ کی جو اس سے پہلے میرے ساتھ ہوتا آرہا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو میں اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگ گیا ، اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیوں ر و رہے ہو؟ میں نے اس کو اپنا پورا قصہ سنایا۔ میں نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی صحبت سے نوازا تھا تم نے میرے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کیا۔ اب تمہاری موت کا وقت بالکل قریب ہے ، اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کدھر جاؤں؟ اس نے کہا: اس وقت نہ تو کوئی دین موجود ہے اور نہ ہی پوری روئے زمین پر کوئی ایسا شخص موجود ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا پیرو کار ہو، لیکن اب وہ زمانہ بالکل قریب ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کا آخری نبی ظاہر ہو گا ، یا شاید وہ تہامہ کے علاقے میں ظاہر ہو چکا ہے اور تم جس راستے پر ہو، یہاں سے جو بھی گزرے اس سے اس نبی کے بارے میں پوچھتے رہنا، اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی۔ وہ ہدیہ کی چیز کھا لے گا لیکن صدقہ کی چیز نہیں کھائے گا۔ یہ وہی نبی ہے جس کی آمد کی خوشخبری حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی۔ جب تجھے اس نبی کے مبعوث ہونے کی خبر مل جائے (تو تم اس کے پاس جا کر اسلام قبول کر لینا، آپ فرماتے ہیں) چنانچہ میرے پاس سے جو بھی گزرتا، میں اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بارے میں ضرور پوچھتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مکہ کے رہنے والے کچھ لوگ میرے قریب سے گزرے، میں نے حسب عادت ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ہمارے اند ر ایک شخص ظاہر ہوا ہے وہ اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے۔ میں نے ان سے کہا: کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مجھے اپنے ساتھ سوار کر لے ، چاہو تو اپنا بچا کھچا کھانا مجھے دے دینا، اس کے بدلے میں، میں تمام زندگی اس کی غلامی میں رہوں گا، جب تم اپنے شہر میں پہنچ جاؤ ، تو چاہے اپنی غلامی میں رکھ لینا، اور بیچنا چاہو تو بیچ دینا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا: مجھے منظور ہے ۔ میں اس کا غلام بن گیا، اس نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیاا ور مجھے مکہ تک لے آیا، وہ مجھے اپنے ہمراہ اپنے باغ میں کام کاج کے لئے لے گیا، وہاں پر پہلے سے حبشی لوگ کام کر تے تھے۔ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑا، میری ملاقات میرے ہی علاقے کی ایک خاتون کے ساتھ ہو گئی، اتفاق سے اس کے تمام گھر والے اسلام لا چکے تھے، اس نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھی شام ڈھلے ایک غار میں جمع ہو جاتے ہیں، اور صبح طلوع ہوتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں، میں یہ معلومات جمع کرنے کے بعد باغ میں واپس چلا گیا۔ میں بار بار ادھر ادھر گم چلا جاتا پھر واپس آ جاتا، کئی مرتبہ میں نے ایسے ہی کیا، میرے حبشی ساتھیوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم بار بار کہاں غائب ہو جاتے ہو؟ میں نے بتایا کہ میرا پیٹ خراب ہے (اس لئے مجھے بار بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑتا ہے) آپ فرماتے ہیں: میں نے یہ بہانہ اس لئے کیا تھا تاکہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے جاؤں تو ان کو کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو۔ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کے جمع ہونے کا جو وقت بتایا تھا جب وہ وقت ہو گیا تو میں وہاں سے چل نکلا اور اس جگہ پہنچ گیا جہاں آپ تشریف لاتے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کر لی، آپ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد حلقہ باندھے بیٹھے تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے آیا ، لیکن (اس غیب جاننے والے) نبی نے میرے ارادے کو جان لیا ، آپ نے اپنی چادر مبارک سرکا دی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کو دیکھا۔ دیکھتے ہی میں نے کہا: اللہ اکبر۔ یہ پہلی نشانی بالکل درست ثابت ہوئی ہے، اس کے بعد میں چلا گیا ، اگلی رات میں کچھ جید کھجوریں اپنے ساتھ لیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں آ گیا، میں نے وہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ صدقہ کی کھجوریں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں صحابہ کرام کو کھانے کے لئے دے دیں اور خود تناول نہ فرمائیں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد میں دوبارہ کچھ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا، میں وہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ ہدیہ کی کھجوریں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی وہ کھجوریں کھائیں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی کھانے کے لئے عطا فرمائیں۔ میں یہ دیکھتے ہی کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے میرا حال دریافت کیا، میں نے ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا کر اپنے آپ کو خرید لو (یعنی اپنا بدل ادا کر کے خود آزاد کروالو) میں اپنے مالک کے پاس گیا اور اس سے کہا: تم مجھے ، میرے ہاتھ بیچتے ہو؟ اس نے حامی بھر لی۔ لیکن یہ شرط رکھ دی کہ تم میرے لئے کھجور کے 110 درخت اگاؤ گے۔ میں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشورے سے یہ شرط مان لی، اور آپ کے تعاون سے درخت لگا دئیے، جس دن درخت لگائے) جب اگلا دن ہوا تو تمام درخت مکمل تناور ہو چکے تھے، میں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو درختوں کے مکمل ہو جانے کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کا ایک ٹکڑا عطا فرمایا۔ میں لے جا کر اس کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا، اور دوسری جانب کھجور کی ایک گٹھلی رکھ دی، وہ سونا اس گٹھلی سے بھاری نکلا۔ میں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے وزن کے بارے میں بتایا۔ (میں نے یہ سونا اپنے آقا کو دیا، اس طرح میری رقم بھی ادا ہو گئی، اس کا باغ بھی لگ گیا اور)اس نے مجھے آزاد کر دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسنا دہے اور اس کے معانی پہلی اسناد کے معانی کے قریب تر ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6544
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6545
حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : دنیا ، مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ فرماتےبھی سنا ہے کہ " جو لوگ دنیا میں بہت پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، قیامت کے دن وہ سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے"۔ یہ حدیث غریب ہے ، صحیح الاسناد ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6545
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6546
حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!میں نے تو رات میں پڑھا ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دوھنے سے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6546
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالی نے حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ فرمایا تو حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی تو آپ کے چہرہ مبارک پر نبوت کی تمام نشانیاں دیکھ لیں ، البتہ دو باتیں رہ گئی تھیں وہ میں آزمانہیں سکا تھا، ایک تو یہ کہ کیا ان کی بردباری ان کی لاعلمی پر غالب ہے؟ اور شدت جہل ان کے حلم میں اضافہ کرتی ہے؟ چنانچہ میں اس ٹوہ میں رہنے لگا کہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہونے کا موقع ملا توان کا حلم اور جہل آزماؤں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دیہاتی آدمی اپنی سواری پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فلاں قبیلے کے لوگ اسلام لا چکے ہیں اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ لوگ اسلام قبول کر لیں گے تو ان کے رزق میں اضافہ ہو جائے گا لیکن وہ تو بہت زیادہ قحط میں مبتلا ہو گئے ہیں، یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے خدشہ ہے کہ اگر ان کی یہی حالت رہی تو ان لوگوں نے جیسے کھانے کے لالچ میں اسلام قبول کیا تھا اسی طرح کھانے کی لالچ میں اسلام کو چھوڑ بھی دیں گے۔ اگر آپ کسی طرح ان کی امدادفر ما سکتے ہوں تو مہربانی فرمایئے ، ایک آدمی نے میری جانب دیکھا، میرا خیال ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے۔ انہوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب کچھ تو ختم ہو چکا ہے، حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب ہوا اور عرض کی:اے محمد ! کیا آپ مجھے فلاں شخص کے باغ کی کھجوریں فلاں تاریخ تک کے ادھار پر دلواسکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں، اے یہودی ! میں تجھے کھجوریں ہیں دلوا سکتا ہوں البتہ تم کسی مخصوص باغ کی شرط مت لگاؤ ، میں نے کہا: ٹھیک ہے جی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے کھجوریں دلوادیں، میں نے اپنا تھیلا کھولا اور اس میں سے ۸۰ مثقال سونا ان کھجوروں کے زرضمانت کے طور پر ایک مقررہ تاریخ تک کے لئے رکھوادیا،اس آدی نے وہ کھجور یں دیں اور ساتھ ہی ساتھ کہا: ان پر انصاف کرنا اور ان کھجوروں کے ساتھ ان کی مدد کرنا ۔ حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کھجوروں کی معیاد ختم ہونے میں جب صرف دو تین دن باقی رہ گئے تھے تب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آیا، میں نے آپ کے دامن اور چادر کو زور سے پکڑا اور بہت غصیلے انداز میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب دیکھا اور کہا: آپ مجھے میری رقم واپس نہیں کریں گے؟ خدا کی قسم! عبد المطلب کی ساری اولاد ہی ایسی ہے، یہ وقت پر کبھی بھی ادائیگی نہیں کرتے، ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں، مجھے پتا تھا کہ تمہارالین دین ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا، آپ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرے کی جانب گول آسمان کی طرح نظریں گھمارہے تھے، اس کے بعد انہوں نے میری جانب دیکھا، اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن تم رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وہ باتیں کہہ رہے ہو جو میں نے تمہاری زبان سے ابھی سنی ہیں، اور تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ و ہ سلوک کر رہا ہے جو ابھی میری نگاہیں دیکھ رہی ہیں؟ خدا کی قسم ! اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قوت کی حفاظت کا فکر نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار کے ساتھ تیرا سرقلم کر دیتا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بڑے اطمنان کے ساتھ حضرت عمر کی جانب دیکھ کرمسکرارہے تھے ، پھر فرمایا: اے عمر میں اور وہ شخص دوسرے سلوک کے مستحق تھے۔ چاہئے یہ تھا کہ تم مجھے اچھے انداز میں ادائیگی کا کہتے اور اس کو اچھے انداز میں مطالبہ کرنے کا کہتے ۔ اے عمر ! اس کو ساتھ لے جاؤ ، اور اس کو اس کا حق ادا کر دو، اور ۲۰ صاع کھجوریں اس کو اضافی بھی دینا۔ (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کے مطابق جب اضانی کھجوریں بھی مجھے دے دیں تو) میں نے کہا: اے عمریہ اضافی کھجوریں مجھے کیوں دی جارہی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ میں نے جوتمہیں سخت الفاظ بولے ہیں ان کے بدلے تمہیں زیادہ کھجوریں دوں ۔ میں نے کہا: اے عمر! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: میں "زید بن سعنہ" ہوں ۔ انہوں نے پوچھا: یہودی عالم؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے پوچھا: پھر تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ وہ معاملہ کیوں کیا؟ اور وہ باتیں جو تم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کیں، اس کی وجہ کیا تھی؟ میں نے کہا: اے عمر !میں نبوت کی تمام نشانیاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرہ انورکی زیارت کرتے ہی دیکھ لی تھیں، البتہ دو نشانیاں رہ گئی تھیں، میں وہ نہیں دیکھ پایا تھا، ان میں سے ایک یہ کہ اس رسول کا حلم ، اس کے جہل پر غالب رہے گا۔ نمبر۲، شدت جہل اس کے علم میں اضافے کا باعث بنے گی۔ میں تو وہ نشانیاں آزمارہا تھا (اب جبکہ میں تمام نشانیاں دیکھ چکا ہوں تو) اے عمر !میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالی کے رب ہونے ،پر اسلام کے دین ہونے پر ،اورمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے نبی ہونے پر راضی ہوں۔ میں تجھے اس بات پر بھی گواہ بناتا ہوں کہ کیونکہ مجھے اللہ تعالی نے بہت مال سے نوازا ہے، اس لئے میرا آدھامال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ساری امت کے لئے صدقہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہ مال ساری امت پر صدقہ نہ کریں بلکہ بعض امت پرکریں، کیونکہ ساری امت تک یہ مال پہنچانا آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میرآدھامال بعض امت پر صدقہ ہے۔ اس کے بعد حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم الله تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔ یوں حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے جضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تصدیق کی۔ آپ کی بیعت کی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ بہت سارے غزوات میں بھی شرکت کی ۔ غزوہ تبوک میں بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے آپ نے جام شہادت نوش کیا۔ اللہ تعالی حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا حالانکہ یہ مشہور حدیث ہے۔ اور اس کی سند میں جو "محمد بن ابی سری عسقلانی“ نامی راوی ہیں ،یہ ثقہ ہیں۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Islam of Zayd ibn Sinaa, the Sovereign of the Messenger of God, be upon him, and his family and peace · Hadith 6547
حشرج بن نباتہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت سفینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرا اصلی نام "قیس" تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام "سفینہ" رکھا، میں نے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا نام سفینہ کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ہمراہ کسی سفر پر نکلے ، ان کو ان کا سامان بھاری لگ رہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اپنی چادر بچھاؤ، میں نے اپنی چادر بچھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا سارا سامان اس چادر میں ڈال کر میرے اوپر لاد دیا اور فرمایا: تم یہ اٹھا لو، تم تو سفینہ ہو۔ آپ فرماتے ہیں: اس دن ایک یا دو یا پانچ یا چھ یا جتنے بھی اونٹوں کو بوجھ پر لاد دیا جاتا ، وہ مجھے ہر گز بھاری نہ لگتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
اسمه ← سَأَلْتُ سَفِينَةَ ← حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← محمد بن علي الشيباني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the ship of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6548