حضرت عروہ فرماتے ہیں: انصار میں سے پھر بنی مالک بن نجار کی جانب سے عمارہ بن حزم بن زید بن لوذان بن عمرو بن عبد بن عوف بن غانم بن مالک بن نجارنے جنگ بدر اور بیعت عقبہ میں شرکت کی۔ اور آپ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amarah ibn Hizm al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 6501
زیاد بن نعیم حضرمی روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمارہ بن حز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: قبر سے نیچے اترو۔ نہ تم صاحب قبر کو تکلیف دو، نہ صاحب قبر تجھے تکلیف دے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amarah ibn Hizm al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 6502
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کی اہے " یزید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوزان بن عمرو بن عوف بن غانم بن مالک بن نجار "۔ ان کی والدہ اور ان کے بھی زید بن ثابت کی والدہ " نوار بنت مالک بن عامر بن عدی بن نجار " ہیں۔ آپ جنگ بدر میں شریک ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← موسى بن زكريا التستري، ← أحمد بن يعقوب الثقفي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The dhikr of Yazid ibn Thabit My brother Zayd ibn Thabit, may God be pleased with them · Hadith 6503
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے چچا یزید بن ثابت کے بارے میں فرماتے ہیں: کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے ہمراہ تھے ، کہ ایک جنازہ آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب جنازہ آتے دیکھا تو آپ اٹھ کر کھڑے ہو گئے، جب تک وہ جنازہ دور تک نہیں چلا گیا، آپ اور سب لوگ کھڑے رہے، (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ وہ کسی یہودی کا جنازہ تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The dhikr of Yazid ibn Thabit My brother Zayd ibn Thabit, may God be pleased with them · Hadith 6504
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے چچا یزید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک ہونے کے لئے نکلے، یہ لوگ جنت البقیع تک پہنچے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میت کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ ایک خاتون کا جنازہ ہے جو کہ بنی فلاں کی آزاد کردہ لونڈی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہچان گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی تھی؟ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے اس کو ظہر کے بعد دفن کیا، اس وقت آپ آرام فرما ہوتے ہیں، ہمیں اچھا نہیں لگا کہ آپ کے آرام میں خلل ڈالا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خاتون کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے، صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: کوئی بھی شخص فوت ہو ، مجھے ضرور بتایا کرو، کیونکہ میں اس کا جنازہ پڑھوں گا تویہ اس کے لئے باعث رحمت ہے۔
عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The dhikr of Yazid ibn Thabit My brother Zayd ibn Thabit, may God be pleased with them · Hadith 6505
مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے" بسر بن ابی ارطاۃ بن عمیر بن عمرو بن عویمر بن عمران بن الحلبس بن سیار بن نزار بن معیص بن عامر بن لؤی"۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Dhikr of Bisr ibn Abi, the articulations, may God be pleased with him · Hadith 6506
خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: حضرت بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت معاویہ کی خلافت میں فوت ہوئے، بہت زیادہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی عقل میں کچھ خلل واقع ہو گیا تھا۔ ان کی کنیت " ابو عبدالرحمٰن" تھی مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا، ان کی اولاد امجاد بصرہ میں قیام پذیر ہیں۔
خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← موسى بن زكريا التستري، ← أحمد بن يعقوب الثقفي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Dhikr of Bisr ibn Abi, the articulations, may God be pleased with him · Hadith 6507
حضرت بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے" یا اللہ تمام امور میں ہماری عاقبت بہتر فرما اور ہمیں دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب سے بچا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Dhikr of Bisr ibn Abi, the articulations, may God be pleased with him · Hadith 6508
مصعب بن عبداللہ نے ان کا نسب یوں بیان کی "مستورد بن شداد بن عمرو بن حسل بن احب بن حبیب بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک"۔ حضرت معاویہ کے دور حکومت میں، مصر میں ان کا انتقال ہوا۔
مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the imported bin Shaddad Al-Fihri, may God be pleased with him · Hadith 6509
ابو اسحاق ہمدانی روایت کرتے ہیں، حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی(سمندر میں) داخل کرے، پھر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔ (جو پانی سمندر میں ہے وہ آخرت ہے اور جو انگلی پر لگا ہے وہ دنیا ہے)۔
الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the imported bin Shaddad Al-Fihri, may God be pleased with him · Hadith 6510
معمر بن مثنی نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے" خفاف بن ایماء بن رحضہ بن حربہ بن خفاف بن حارثہ بن غفار " ان کے والد ایماء بن رحضہ بھی اسلام لائے تھے ، یہ اپنی قوم کے قائدین میں سے تھے، حضرت خفاف رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Khufaf ibn Ima’a ibn Reza, may God be pleased with them · Hadith 6511
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم اپنے قبیلے غفار میں آئے، ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے سے پہلے مشرف با اسلام ہو گئے تھے، حضرت ایماء بن رحضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی امامت کروایا کرتے تھے۔ اور وہ ان کے سردار بھی تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Khufaf ibn Ima’a ibn Reza, may God be pleased with them · Hadith 6512