حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر بن ہجرت کر کے آئے ، ان کے بعد حضرت عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( نابینا صحابی ) مدینہ شریف تشریف لائے ۔
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6669
شعبی کہتے ہیں : میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ان کے پاس موجود تھے ، ام المومنین ان کے لیے لیموں کاٹ رہی تھیں اور وہ شہد کے ساتھ کھا رہے تھے ، ام المومنین نے فرمایا : جب سے ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عتاب فرمایا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ کی جانب سے ان کی یونہی خدمت ہوتی ہے ، ( یعنی یہ گھرانہ اپنے ذاتی انتقام کبھی نہیں لیتا ) ام المومنین کا اشارہ سورۃ عبس و تولیٰ کی جانب تھا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6670
مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ان کے پاس ایک ادمی سمٹا ہوا بیٹھا تھا، ام المومنین اس کے لیے لیموں کاٹ کاٹ کر دے رہی تھی اور اس کو شہد ملا کر کھلا رہی تھی ، میں نے پوچھا : اے ام المومنین ! اس کی انتی خدمت کیوں ہو رہی ہے ؟ ام المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عتاب فرمایا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عتبہ اور شیبہ بیٹھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عتبہ اور شیبہ کی جانب متوجہ رہے ، تب سورۃ " عبس وتولیٰ ان جاء الاعمی " نازل ہوئی ، اس میں اعمیٰ سے مراد " ابن ام مکتوم " ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6671
حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے نکلے اور فرمایا : دوزخیوں کے لئے دوزخ بھڑکائی جا چکی ہے اور رات کی تاریکیوں کی مثل فتنے آ چکے ہیں ، اگر تم وہ باتیں جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کر ہنسو اور زیادہ رونے لگ جاؤ۔
خَرَجَ النَّبِيُّ ذَاتَ غَدَاةٍ، ← ابن أم مكتوم ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبُو سِنَانٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إسحاق بن أحمد الخزاز ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6672
حضرت عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بوڑھا آدمی ہوں ، اور نابینا ہوں ، میرا گھر مسجد سے بہت دور ہے ، مجھے ساتھ لانے والا کوئی آدمی بھی نہیں ہے ، میرے گھر اور مسجد کے راستے میں درخت اور نہریں بھی ہیں ،کیا مجھے اجازت ہے کہ میں نماز اپنے گھر ہی میں پڑھ لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اذان کی آواز سنائی دیتی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو تم نماز کے لئے مسجد میں آیا کرو۔ امام حاکم کہتے ہیں : ابراہیم بن طہمان کے علاوہ میں نے کسی راوی کو اس کی اسناد میں عاصم کے واسطے سے زر سے روایت کرتے نہیں دیکھا، تاہم اسی حدیث کو شیبان نحوی ، حماد بن سلمہ ، ابوعوانہ اور دیگر محدثین نے عاصم کے واسطے ابورزین سے روایت کیا ہے ، سوائے ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ۔ حضرت زائدہ سے مروی حدیث درج ذیل ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6673
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6674
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6675
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6676
مصعب بن عبداللہ نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " حضرمی ابوالعلاء عبداللہ بن عباد بن اکبر بن ربیعہ بن مالک بن عریف بن مالک بن خزرج بن ایاد بن صدف بن حضر موت بن کندہ " حضرت علاء بحرین سے واپسی پر سن 61 ہجری کو انتقال کر گئے ۔
مصعب بن عبد الله ← إسحاق بن إبراهيم الحربي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The dhikr of al-'Ala ibn al-Hadrami, may God be pleased with him · Hadith 6677
حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دو آدمیوں کی جانب بھیجا جن کی زمین مشترکہ تھی ، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک تھا۔ مجھے حکم ملا کہ مسلمان سے عشر لوں اور مشرک سے جزیہ لوں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The dhikr of al-'Ala ibn al-Hadrami, may God be pleased with him · Hadith 6678
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The dhikr of al-'Ala ibn al-Hadrami, may God be pleased with him · Hadith 6679
ابن اسحاق نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے " عبداللہ بن حجش بن ربا ب بن یعمر بن صبرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ " ۔ ان کی والدہ " امیمہ بنت عبدالمطلب " رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abdullah ibn Jahsh al-Assad, may God be pleased with him · Hadith 6680