Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5068

5068 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ بِيَدِ أَبِي قُحَافَةَ فَأَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَفَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ سَوَادًا» قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَنَّأَ أَبَا بَكْرٍ بِإِسْلَامِ أَبِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5068 - على شرط مسلم

حضرت ابو الزبیر فرماتےہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو قحافہ کا ہاتھ تھامے ہوئے آئے، اور جب ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ان(کی داڑھی) کو کسی اور رنگ میں تبدیل کردو، اور کالے رنگ سے بچنا(یعنی وہ استعمال نہیں کرنا) حضرت ابن وہب عمر بن محمد کے ذریعے زید بن اسلم کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کے اسلام لانے پر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مبارک باد پیش کی۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5068

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5069

5069 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا عَبْدَانُ الْأَهْوَزِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْضِبُوا لِحْيَتَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5069 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو ان کا سر اور داڑھی شریف ثغامہ کی طرح سفید تھے(ثغامہ ایک بوٹی ہے جس کے پھولوں کا رنگ سفید ہوتا ہے ار اہل عرب عموماً بڑھاپے کی سفیدی کو اس کے ساتھ تشبیہ دیا کرتے ہیں۔ شفیق)۔

أُتِيَ النَّبِيُّ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ، ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← عَبْدَانُ الْأَهْوَزِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5069

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5070

5070 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بْنِ الْقَاضِي، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى لِحْيَةِ أَبِي قُحَافَةَ كَأَنَّهُ ضِرَامُ عَرْفجٍ مِنْ شِدَّةِ حُمْرَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ: «لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ تَكْرِمَةً لِأَبِي بَكْرٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5070 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داڑھی شریف گہری سرخ ہونے کی وجہ سے اس کا رنگ آگ کے شعلے جیسا آج بھی میری نگاہوں میں بسا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: کیا ہی اچھا ہوتا کہ تم بابا جی کو ان کے گھر میں رہنے دیتے ہم ابو بکر کے احترام میں ان کے والد کے پاس خود چل کر جاتے۔

كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى لِحْيَةِ أَبِي قُحَافَةَ كَأَنَّهُ ضِرَامُ عَرْفجٍ مِنْ شِدَّةِ حُمْرَتِهِ، ← أَنَسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← أَبِي حَنِيفَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بْنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5070

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5071

5071 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّصْرَأَبَاذِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَ أَهْلَ مَكَّةَ الْخَبَرُ، قَالَ: فَسَمِعَ أَبُو قُحَافَةَ الْهَائِعَةَ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَرٌ جَلِيلٌ، فَمَنْ قَامَ بِالْأَمْرِ مِنْ بَعْدِهِ؟ قَالُوا: ابْنُكَ، قَالَ: وَرَضِيَتْ بَنُو مَخْزُومٍ، وَبَنُو الْمُغِيرَةِ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَا وَاضِعَ لِمَا رَفَعْتَ، وَلَا رَافِعَ لِمَا وَضَعْتَ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَبَلَغَ أَهْلَ مَكَّةَ الْخَبَرُ، فَسَمِعَ أَبُو قُحَافَةَ الْهَائِعَةَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: تُوُفِّيَ ابْنُكَ، قَالَ: أَمْرٌ جَلِيلٌ وَالَّذِي كَانَ قَبْلَهُ أَجَلُّ مِنْهُ، قَالَ: فَمَنْ قَامَ بِالْأَمْرِ بَعْدَهُ؟ قَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هُوَ صَاحِبُهُ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5071 - لم يخرجا لعمارة بن عبد الله بن صياد شيئا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ خبر اہل مکہ تک پہنچ گئی، حضرت ابو قحافہ نے آہ بکا کی آوازیں سنی تو پوچھا: یہ کسی آہ بکا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔ ان کے بعد اب انتظامی معاملات کون سنبھالے گا؟ لوگوں نے کہا: آپ کا بیٹا(ابو بکر) انہوں نے پوچھا:کیا اس بات پر بنی مخزوم اور بنی مغیرہ قبیلے راضی ہو گئے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی انتقال ہو گیا، یہ خبر بھی اہل مکہ تک پہنچی، حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آہ بکا کی آوز سنی تو پوچھا کہ یہ کیسی آہ بکا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ کا بیٹا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ معاملہ بہت بڑا ہے، اس کے بعد امور سلطنت کس نے سنبھالے ہیں؟ لوگوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے وہ بھی ابو بکر کا ساتھی ہی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّصْرَأَبَاذِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5071

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ · حديث 5072

5072 - حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ بِإِسْنَادِهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُيُوخِهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ بَعْدَ أَنِ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِسَنَةٍ وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ عُمَرُ ثُمَّ مَشَى مَعَهُ إِلَى الْبَقِيعِ حَتَّى دُفِنَ هُنَالِكَ»

محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتےہیں کہ حضرت نوفل بن حارث ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ بننے سے ایک سال اور تین ماہ بعد وفات پا گئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی جنازہ پڑھائی، اور جنت البقیع تک جنازہ کے ساتھ چل کر آئے اور تدفین تک وہیں رہے۔

شيوخه ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ بِإِسْنَادِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the commentator Nawfal ibn al-Harith ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem ibn Abd al-Manaf · Hadith 5072

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ · حديث 5073

5073 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يُونُسَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: «تُوُفِّيَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَيُكَنَّى أَبَا الْحَارِثِ لِسَنَتَيْنِ مَضَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ»

حضرت ابراہیم بن منذر فرماتےہیں: حضرت نوفل بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جن کی کنیت ابو حارث ہے) کا انتقال ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کےدو سال بعد مدینہ منورہ میں ہوا۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَبُو يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the commentator Nawfal ibn al-Harith ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem ibn Abd al-Manaf · Hadith 5073

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2158

2158 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جَمِيعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ أَوْ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا کسب سے زیادہ پاکیزہ یا زیادہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا : آدمی کا اپنے ہاتھ کا اپنے ساتھ کمانا اور ہر وہ تجارت جونیکی اور بھلائی پر مشتمل ہو ۔

سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ أَوْ أَفْضَلُ ← خاله أبي بردة: ← جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← شَرِيکٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2158

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2159

2159 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كَسْبٌ مَبْرُورٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَوَائِلُ بْنُ دَاوُدَ وَابْنُهُ بَكْرٌ ثِقَتَانِ وَقَدْ ذَكَرَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَنَّ عَمَّ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَإِذَا اخْتَلَفَ الثَّوْرِيُّ وَشَرِيكٌ فَالْحُكْمُ لِلثَّوْرِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2159 - صحيح

حضرت سعید بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کونسا کسب سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کسب جو شبہ ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو ۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ۔ اور وائل بن دائود اور ان کا بیٹا بکردونوں ثقہ ہیں اور یحیٰ بن معین نے یہ ذکر کیا ہے کہ سعید بن عمیر کا چچا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہے اور جب ثوری اور شریک کا اختلاف ہو تو فیصلہ ثوری کے حق میں ہوتا ہے ۔

عَمِّہٖ ← سعيد بن عمير ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2159

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2160

2160 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «كَسْبُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» وَهَذَا خِلَافٌ ثَالِثٌ عَلَى وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عَنِ الْمَسْعُودِيِّ وَمَحَلُّهُ الصِّدْقِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2160 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ پاکیزہ " کسب " کونسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر وہ تجارت جو شبہ ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو ۔ ابو وائل پر یہ تیسرا اختلاف ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے مسعودی کی روایات نقل نہیں کی ہیں حالانکہ وہ " صدوق " ہیں ۔

قِيلَ ← أَبِيهِ ← عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن النضر

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2160

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2161

2161 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، قَالَ: فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟» قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ: «لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا لَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ» فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2161 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے مقروض سے دس دینار لینے تھے جس کی وجہ سے وہ اس مقروض کے پیچھے پڑا ہو اتھا ۔ اس نےکہا خدا کی قسم میں اس وقت تک تیری جان نہیں چھوڑوں گا جب تک تو میرے دیناروں کی ادائیگی نہیں کر دیتا یا تو کوئی ضامن نہیں دینا ( ابن عباس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضمانت دے دی اور حسب وعدہ و ہ مقرر ہ معیاد پر آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تم نے یہ سونا کہاں سے لیا ہے ؟ اس نےکہا زمین سے نکلا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اس کی جانب سے دیناروں کی ادائیگی کر دی ۔

من معدن. ← لَهُ النَّبِيُّ «مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟» ← فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، ← وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2161

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2162

2162 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لَا يَبْقَى فِيهِ أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ» وَقَدِ اخْتَلَفَ أَئِمَّتُنَا فِي سَمَاعِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنْ صَحَّ سَمَاعُهُ مِنْهُ فَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2162 - سماع الحسن من أبي هريرة بهذا صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ ہر شخص سود کھا رہا ہو گا۔ اگر کوئی ( بلاواسطہ) سود نہیں کھا رہا ہو گا تو اس کو بھی اس کے اثرات ہر حال پہنچ ہی جائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسن کے سماع کے متعلق ہمارے ائمہ میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اگر حسن کا حضرت ابوہریرہ سے سماع ثابت ہو جائے تو یہ حدیث صحیح ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2162

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2163

2163 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي عَزْرَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُحْتَكَرَ الطَّعَامُ» قَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَدُ مَا يُنْقَضُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَصِحَّ حَدِيثُ صَحَابِيٍّ لَا يَرْوِي عَنْهُ تَابِعِيَّانِ، فَإِنَّ مَعْمَرًا هَذَا لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ فَلَيْسَ بِذَلِكَ اللَّفْظِ، وَقَدْ رُوِيَ فِي الزَّجْرِ، عَنِ احْتِكَارِ الطَّعَامِ وَالتَّقَاعُدِ عَنْ مُوَاسَاةِ الْمُسْلِمِينَ فِي الضِّيقِ الْأَخْبَارُ لَابُدَّ مِنْ ذِكْرِهَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ كَمَا دَفَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ فِي الْوَقْتِ فَمِنْهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم ذخیر کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ " ذخیرہ اندوزی" صرف گنہگار ہی کرتا ہے ۔ اور یہ حدیث ان احادیث میں شمار ہوتی ہے جن کے بارے میں صحیح نہ ہونے کا اعتراض ہوتا ہے کیونکہ اس میں صحابی سے روایت کرنے والے تابعی دو نہیں ہیں کیونکہ اس معمر سے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی نے روایت نہیں کی اور قاسم کی ابو امامہ سے روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ نہیں ہے ۔ اور ذخیرہ اندوزی سے ممانعت اور تنگی کے حالات میں مسلمانوں کی امداد نہ کرنے پر سختی کے سلسلے میں متعدد احادیث مروی ہیں ۔ اس مقام پر ان کا ذکر ضروری ہے ( جیسا کہ ایک وقت میں مسلمانوں نے ا س ذمہ داری کو نبھا یا تھا )۔پہلی حدیث۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ ← جَابِرٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أحمد بن حازم بن أبي عزرة ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2163

chevron_left Previous
1…126127128…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section