Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5064

5064 - حَدَّثَنِي الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَالِمِ بْنِ الْجِعَابِيِّ الْحَافِظُ الْأَوْحَدُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5064 - على شرط البخاري

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتح مکہ کے دن اپنے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم بابا جی کو گھر میں ہی رہنے دیتے، ہم خود ان کے پاس چلے جاتے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ← الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَالِمِ بْنِ الْجِعَابِيِّ الْحَافِظُ الْأَوْحَدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5064

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5065

5065 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْفِهْرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: جِئْتُ بِأَبِي أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ حَتَّى آتِيَهُ» فَقُلْتُ: بَلْ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ، قَالَ: «إِنَّا لَنَحْفَظَهُ لِأَيَادِي ابْنِهِ عِنْدَنَا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5065 - عبد الله بن عبد الملك الفهري منكر الحديث

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: میں اپنے والد محترم حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم بابا جی کو گھر میں ہی رکھتے ، میں خود وہاں آ جاتا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا آپ کے پاس آنے کا زیادہ حق بنتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تو اس کے بیٹے کی جو عزت و تکریم ہماری بارگاہ میں ہے ہم تو اس کا پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

«هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ حَتَّى آتِيَهُ» فَقُلْتُ: بَلْ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ، ← جِئْتُ بِأَبِي أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← عبد الله بن عبد الْملك الفِهري، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5065

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2150

2150 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2150 - لم يخرجه البخاري وهو على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمای تم میں سے سمجھدار لوگ میرے زیادہ قریب رہا کریں پھر وہ جوا ن کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں اور آپس میں اختلاف مت کیا کرو کہ (اگر تم بے جا اختلاف سے باز نہیں آؤ گے تو ) تمہارے دل بدل جائیں گے اور تم بازار کے فتنہ سے بچ کر رہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2150

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2151

2151 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ عَنِ ابْنِ أبِي أَوْفَى بِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] الْآيَةَ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً لَهُ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا مَا لَمْ يُعْطَ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَهُ. الْحَدِيثُ وَهَذَا غَيْرُ ذَاكَ بِزِيَادَةِ نُزُولِ الْآيَةِ وَغَيْرِهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2151 - صحيح

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنا سامان بیچنے کے لیے کھڑا تھا اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا یہ یہ سامان اس کو اتنے میں پڑا ہے حالانکہ اس کو وہ سامان اتنے میں نہیں پڑا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی " ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا ' ( جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں )(ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ اور حضرت اعمش رضی اللہ عنہ کی ابو صالح کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص نے اپنے سامان پر قسم کھائی اس کے بعد پوری حدیث ذکر کی ۔ تاہم اس حدیث میں اور سابقہ حدیث میں نزول آیت اور دیگر اضافہ کا فرق ہے ۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← ابْنِ أبِي أَوْفَى بِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الْآيَةَ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، ← اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2151

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2152

2152 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ إِنْ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2152 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عقبہ بن عام الجہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو عیب دار چیز اس کا عیب بیان کیے بغیر بیچے۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2152

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2153

2153 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَعْجَبَهُ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ بِطَعَامٍ مَبْلُولٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا " وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدٌ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنَا جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2153 - رواه مسلم بلفظ آخر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو گندم بیچ رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اچھا لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈالا تو اس میں گندم گیلی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ اس حدیث کو جعفر ابن کثیر کے بیٹوں محمد اور اسماعیل نے " علاء" کے واسطے سے روایت کیا ہے ۔ محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کی حدیث :

عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2153

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2154

2154 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّوقِ فَرَأَى حِنْطَةً مُصَبَّرَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَوَجَدَ بَلَلًا، فَقَالَ: «أَلَا مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن جعفر ، علاء کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر گندم کا ایک ڈھیر دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈال دیا تو اس میں گیلا پن محسوس کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہم سے دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ کی حدیث :

جَاءَ النَّبِيُّ إِلَى السُّوقِ فَرَأَى حِنْطَةً مُصَبَّرَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَوَجَدَ بَلَلًا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← سعيد بن أبي مريم انبأ محمد بن جعفر ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2154

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2155

2155 - فَأَخْبَرَنَاهُ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صَبِرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» فَقَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنِّي» وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» وَأَمَّا شَرْحُ الْحَالِ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَكُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2155 - رواه مسلم مختصرا

اسماعیل بن جعفر ، ابو العلاء رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر گندم کے ایک ڈھر کے پاس سے ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں میں تری محسوس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گندم والے یہ کیا ہے ؟ اس نےجواباً کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش برسنے کی کی وجہ سے یہ گیلی ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس ( گیلی گندم) کو ڈھیر کی اوپر والی جانب کیوں نہیں کیا تاکہ لوگوں کو یہ نظر آتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سہیل کی حدیث ان کے والد کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تاہم ان احادیث کی تشریح کو شیخین نے نقل نہیں کیا حالانکہ وہ تمام کے تمام امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیارپر صحیح ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← فَأَخْبَرَنَاهُ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2155

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2156

2156 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى طَعَامًا يُبَاعُ فِي غَرَائِرَ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخْرَجَ شَيْئًا كَرِهَهُ فَقَالَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ «وَعَمُّ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2156 - صحيح

حضرت عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ نا تجربہ کاروں کو گندم بیچی جا رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز نکل آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہم سے بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور عمیر بن سعید کا چچا ، حارث بن سوید النخعی رضی اللہ عنہ ہے ۔

عَمِّہٖ ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2156

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2157

2157 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي مَالِكٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارٍ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنِي وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا، إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ؟ قَالَ: أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَوْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ بِهَا الْحَجَّ. قَالَ: فَارْتَجِعْهَا. فَقَالَ صَاحِبُهَا: مَا أَرَدْتَ إِلَّا هَذَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ تُفْسِدُ عَلَيَّ. قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَبِيعَ شَيْئًا، إِلَّا بَيَّنَ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ عَلِمَ ذَلِكَ إِلَّا بَيَّنَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2157 - صحيح

ابو سباع فرماتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حویلی سے ایک اونٹنی خریدی جب میں اس کو لے کر نکلا تو آگے سے واثلہ آملے وہ اپنے تہہ بند کوگھسیٹتے ہوئے آ رہا تھا ۔ اس نے پوچھا اے عبداللہ ! کیا یہ تم نے خریدی ہے ؟ میں نےکہا جی ہاں ! اس نےکہا اس میں جو عیب ہے وہ اس نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا اس کو کیا ہوا ہے ؟ بظاہر تو یہ اچھی خاصی صحت مند ہے ۔ اس نے کہا: آپ اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا سفرکے ارادہ سے خریدی ہے ؟ میں نے کہا میں نے حج پر جانے کے لیےیہ خریدی ہے اس نے کہا تو پھر یہ واپس کر دیں اس کے مالک نےکہا یہ تم نے خود ہی پسند کی تھی اللہ تعالیٰ آپ کی صلاح فرمائے تو نے اسکا نقص میرے اوپر ظاہر کر دیا ۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے " کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ عیب بتائے بغیر کوئی عیب دار چیز بیچے " اور جو شخص اس کے عیب کو جانتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہےکہ اس کو چھپائے ۔ یہ حدیث الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أبو سباع ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ ← أبو جعفر الرازي ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2157

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5066

5066 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «اسْمُ أَبِي قُحَافَةَ عُثْمَانُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَمَاتَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَتِسْعِينَ سَنَةً»

زہری (حضرت ابو قحافہ کا نسب بیان کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں: ابو قحافہ کا نام "عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر " ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور 97 سال کی عمر میں محر م الحرام چودہویں سن ہجری میں فوت ہوئے۔

الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5066

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي قُحَافَةَ وَالِدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 5067

5067 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو قُحَافَةَ أَبُو أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَأَرْبَعُ سِنِينَ»

محمد بن عمر فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم حضرت ابو قحافہ 104 سال کی عمر می سترہویں سن ہجری میں فوت ہوئے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Qahfa and the father of Abu Bakr, may God be pleased with them · Hadith 5067

chevron_left Previous
1…125126127…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section