المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1566
1566 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ» فَاسْتَمِعِ الْآنَ كَلَامَ إِمَامِ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَصْرِهِ بِلَا مُدَافَعَةٍ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِتَسْتَدِلَّ بِهِ عَلَى أَرْشَدِ الصَّوَابِ " سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: قَدْ ثَبَتَتِ الْأَخْبَارُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ» فَقَالَ بَعْضُ مَنْ خَالَفَنَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ: إِنَّ الْحِجَامَةَ لَا تُفْطِرُ الصَّائِمَ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ «النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ» وَهَذَا الْخَبَرُ غَيْرُ دَالٍّ عَلَى أَنَّ الْحِجَامَةَ لَا تُفْطِرُ الصَّائِمَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ فِي سَفَرٍ لَا فِي حَضَرٍ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَطُّ مُحْرِمًا مُقِيمًا بِبَلَدِهِ، إِنَّمَا كَانَ مُحْرِمًا وَهُوَ مُسَافِرٌ، وَالْمُسَافِرُ وَإِنْ كَانَ نَاوِيًا لِلصَّوْمِ، وَقَدْ مَضَى عَلَيْهِ بَعْضُ النَّهَارِ وَهُوَ مُبَاحٌ الْأَكْلَ وَالشُّرْبَ، وَإِنْ كَانَ الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ يُفْطِرَانِهِ لَا كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الْمُسَافِرَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّوْمِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ إِلَى أَنْ يُتِمَّ صَوْمَ ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ، فَإِذَا كَانَ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ وَيَشْرَبَ وَقَدْ دَخَلَ فِي الصَّوْمِ وَنَوَاهُ وَمَضَى بَعْضُ النَّهَارِ وَهُوَ صَائِمٌ جَازَ لَهُ أَنْ يَحْتَجِمَ وَهُوَ مُسَافِرٌ فِي بَعْضِ نَهَارِ الصَّوْمِ، وَإِنْ كَانَتِ الْحِجَامَةُ تُفْطِرُهُ "
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے ۔ اور اب اپنے زمانے کے امام المحد ثین کا اس حدیث کے متعلق کلام سنئے، تا کہ اس کے ذریعے حقیقت تک رسائی ممکن ہو سکے ۔ ( امام حاکم فرماتے ہیں )ابوبکر بن جعفر المز کی ، ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ ا حادیث ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اورلگوانے والے دونوں کا روز ہ جا تا رہا۔ جبکہ بعض وہ لوگ جن کو اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ پچھنے لگانے کے عمل سے روز نہیں ٹو ٹتا اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں ۔ حالانکہ یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ پچھنے لگوانے کاعمل مفطر صوم نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عالت احرام میں پچھنے لگوائے ،ا قامت میں ایسانہیں کیا ، کیونکہ آپ اپنے شہر میں مقیم رہتے ہوئے کبھی بھی محرم نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی محرم ہوئے ، حالت سفر میں ہی ہوئے ، اور مسافراگر چہ روزہ کی نیت کر چکا ہو اور اس پر دن کا بعض وقت گز ربھی چکا ہو اور اس کے باوجوداس کے لئے کھانا پینا جائز ہے اگر چہ اس طرح کھانے پینے سے اس کا روز ہ ٹوٹ جائے گا ۔اور و ہ بات درست نہیں ہے جس کا بعض علماءکو وہم ہوا ہے کہ مسافر نے جب روز ہ شروع کر دیا ،اس کو پورا کر نا ضروری ہو جا تا ہے اور اس کو توڑ نہیں سکتا ۔ اور جب مسافر کے لئے روز ہ شروع کر نے کے باوجود،اس کی نیت کرنے کے باوجوداور دن کا کچھ وقت گزر جانے کے باوجود ، عین روزے کے حالت میں اس کے لئے اکل وشرب (یعنی کھانا پینا )حلال ہے تو اسی طرح روزہ دار کے لئے دن کا کچھ وقت گزر جانے کے بعد پچھنے لگوانا بھی حلال ہو گا ۔اگر چہ پچھنے لگوانے سے اس کا روز ہ ٹوٹ جائے گا ۔ جس طرح روزہ کی حالت میں مسافر کے لئے کھانا پینا حلال ہے اگر چہ اس سے روز ہ ٹوٹ جاتا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← كَمَا
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1566
