Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1566

1566 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ» فَاسْتَمِعِ الْآنَ كَلَامَ إِمَامِ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَصْرِهِ بِلَا مُدَافَعَةٍ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِتَسْتَدِلَّ بِهِ عَلَى أَرْشَدِ الصَّوَابِ " سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: قَدْ ثَبَتَتِ الْأَخْبَارُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ» فَقَالَ بَعْضُ مَنْ خَالَفَنَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ: إِنَّ الْحِجَامَةَ لَا تُفْطِرُ الصَّائِمَ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ «النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ» وَهَذَا الْخَبَرُ غَيْرُ دَالٍّ عَلَى أَنَّ الْحِجَامَةَ لَا تُفْطِرُ الصَّائِمَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ فِي سَفَرٍ لَا فِي حَضَرٍ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَطُّ مُحْرِمًا مُقِيمًا بِبَلَدِهِ، إِنَّمَا كَانَ مُحْرِمًا وَهُوَ مُسَافِرٌ، وَالْمُسَافِرُ وَإِنْ كَانَ نَاوِيًا لِلصَّوْمِ، وَقَدْ مَضَى عَلَيْهِ بَعْضُ النَّهَارِ وَهُوَ مُبَاحٌ الْأَكْلَ وَالشُّرْبَ، وَإِنْ كَانَ الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ يُفْطِرَانِهِ لَا كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الْمُسَافِرَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّوْمِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ إِلَى أَنْ يُتِمَّ صَوْمَ ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ، فَإِذَا كَانَ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ وَيَشْرَبَ وَقَدْ دَخَلَ فِي الصَّوْمِ وَنَوَاهُ وَمَضَى بَعْضُ النَّهَارِ وَهُوَ صَائِمٌ جَازَ لَهُ أَنْ يَحْتَجِمَ وَهُوَ مُسَافِرٌ فِي بَعْضِ نَهَارِ الصَّوْمِ، وَإِنْ كَانَتِ الْحِجَامَةُ تُفْطِرُهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے ۔ اور اب اپنے زمانے کے امام المحد ثین کا اس حدیث کے متعلق کلام سنئے، تا کہ اس کے ذریعے حقیقت تک رسائی ممکن ہو سکے ۔ ( امام حاکم فرماتے ہیں )ابوبکر بن جعفر المز کی ، ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ ا حادیث ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اورلگوانے والے دونوں کا روز ہ جا تا رہا۔ جبکہ بعض وہ لوگ جن کو اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ پچھنے لگانے کے عمل سے روز نہیں ٹو ٹتا اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں ۔ حالانکہ یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ پچھنے لگوانے کاعمل مفطر صوم نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عالت احرام میں پچھنے لگوائے ،ا قامت میں ایسانہیں کیا ، کیونکہ آپ اپنے شہر میں مقیم رہتے ہوئے کبھی بھی محرم نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی محرم ہوئے ، حالت سفر میں ہی ہوئے ، اور مسافراگر چہ روزہ کی نیت کر چکا ہو اور اس پر دن کا بعض وقت گز ربھی چکا ہو اور اس کے باوجوداس کے لئے کھانا پینا جائز ہے اگر چہ اس طرح کھانے پینے سے اس کا روز ہ ٹوٹ جائے گا ۔اور و ہ بات درست نہیں ہے جس کا بعض علماءکو وہم ہوا ہے کہ مسافر نے جب روز ہ شروع کر دیا ،اس کو پورا کر نا ضروری ہو جا تا ہے اور اس کو توڑ نہیں سکتا ۔ اور جب مسافر کے لئے روز ہ شروع کر نے کے باوجود،اس کی نیت کرنے کے باوجوداور دن کا کچھ وقت گزر جانے کے باوجود ، عین روزے کے حالت میں اس کے لئے اکل وشرب (یعنی کھانا پینا )حلال ہے تو اسی طرح روزہ دار کے لئے دن کا کچھ وقت گزر جانے کے بعد پچھنے لگوانا بھی حلال ہو گا ۔اگر چہ پچھنے لگوانے سے اس کا روز ہ ٹوٹ جائے گا ۔ جس طرح روزہ کی حالت میں مسافر کے لئے کھانا پینا حلال ہے اگر چہ اس سے روز ہ ٹوٹ جاتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← كَمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1566

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1567

1567 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو يَعْلَى، قَالُوا: ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَحْتَجِمُ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَقُلْتُ: أَلَا احْتَجَمْتَ نَهَارًا؟ فَقَالَ: تَأْمُرُنِي أَنْ أُهَرِيقَ دَمِي وَأَنَا صَائِمٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ» وَسَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدَانَ الْأَهْوَازِيِّ صَحَّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ؟» فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبَّاسًا الْعَنْبَرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: قَدْ صَحَّ حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِي الْبَابِ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ بِأَسَانِيدَ مُسْتَقِيمَةٍ مِمَّا يَطُولُ شَرْحُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: قَدْ صَحَّ عِنْدِي حَدِيثُ «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ» لِحَدِيثِ ثَوْبَانَ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَأَقُولُ بِهِ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ بِهِ، وَيَذْكُرُ أَنَّهُ صَحَّ عِنْدَهُ حَدِيثُ ثَوْبَانَ وَشَدَّادٌ "

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم ابوموسٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ مغرب کے بعد پچھنے لگوار ہے تھے ، میں نے ان سے کہا: آپ دن کے وقت پچھنے کیوں نہیں لگواتے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیاتم مجھے یہ حکم دے رہے ہو کہ میں روزہ کی حالت میں اپناخون نکلواؤں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے: پچھنے لگانے اورلگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جا تا ہے ۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) ابوعلی حافظ فر ماتے ہیں: میں نے عبدان الا ہوازی سے پوچھا: کیا یہ بات صحیح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : عباس العنبر ی نے بتایا ہے کہ علی بن المدینی کا کہنا ہے کہ ابورافع کی ابوموسٰی کے حوالے سے یہ حدیث صحیح کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: پچھنے لگانے اورلگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جا تا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس باب میں صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ کی پوری ایک جماعت سے مستقیم سندوں کے ہمراہ کئی احادیث مروی ہیں کہ اگر ان کو یہاں پر تفصیل سے لکھنا شروع کر دوں تو بہت زیاد ہ طوالت ہو جائے گی ، مجھے ابوالحسن احمد بن محمد العنبری نے بتایا ہے کہ عثان بن سعید الدارمی کہا کرتے تھے میرے نزدیک پچھنے لگوانے اور لگانے والے کے روز ہ ٹوٹ جانے والی حدیث ثوبان اور شداد بن اوس کی روایت کی بناء پر صحیح ہے ۔اور میں اسی کا قائل ہوں اور میں نے امام احمد بن حنبل کو بھی یہی فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ اور بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک ثو بان اور شداد کی حدیث صحیح ہے ۔

قُلْتُ لِعَبْدَانَ الْأَهْوَازِيِّ صَحَّ، ← أبا علي الحافظ ← أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← صَائِمٌ» ← تَأْمُرُنِي أَنْ أُهَرِيقَ دَمِي ← دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَحْتَجِمُ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَقُلْتُ: أَلَا احْتَجَمْتَ نَهَارًا؟ ← أَبِي رَافِعٍ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو يَعْلَى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1567

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1568

1568 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا فَقَالَا لِي: اصْعَدْ فَقُلْتُ: «إِنِّي لَا أُطِيقُهُ» ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ فَقُلْتُ: «مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟» قَالُوا: هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةُ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے ،انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک خوفناک پہاڑ پر لے گئے اور مجھے کہنے لگے : اس پر چڑھیئے : میں نے کہ میں اس پرنہیں چڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا: ہم اس پر چڑھنا آپ کے لئے آسان کر دیتے ہیں ۔ پھر میں اس پر چڑھنا شروع ہوگیا، جب میں اس کے اوپر پہنچ گیا تو مجھے بہت خوفناک آواز یں سنائی دیں ، میں نے پوچھا: یہ کیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دوزخیوں کی آواز یں ہیں ۔ پھر میں چلتا رہا تو ایک ایسی قوم کو دیکھا جن کو الٹا لٹکا یا ہوا تھا اور ان کے جبڑے پھٹے ہوتے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے جواب دیا : یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے ہی روز ہ افطارلیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

قلت من هؤلاء ← بقوم معلقين بعراقيبهم مشققة أشداقهم تسيل أشداقهم دما ← هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا ← بأصوات شديدة فقلت ما هذه الأصوات ← سنسهله لك فصعدت حتى إذا كنت في سواء الجبل إذا ← لي اصعد فقلت إني لا أطيقه ← نائم إذ أتاني رجلان فأخذا بضبعي فأتيا بي جبلا وعرا ← بَيْنَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← سليم بن عامر أبي يحيى الكلاعي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1568

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1569

1569 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جو رمضان میں بھول کر روزہ توڑ بیٹھے، اس پرقضاء ہے نہ کفارہ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1569

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1570

1570 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، وَجَهِلَ عَلَيْكَ فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: روز ہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ لغواور بے ہودہ باتوں سے بچنا ، اصل روزہ ہے ۔اگر کوئی تمہیں گالی دے اور برا بھلا کہے ، تو تم آگے سے صرف اتنا کہ دو: میں روزے سے ہوں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّہٖ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← أَبِي ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1570

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1571

1571 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہر یہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : بہت سارے روز ہ دارایسے ہوتے ہیں۔ ان کوروزے سے بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سارے رات کا قیام کر نے والے ایسے ہوتے ہیں ان کو تھکاوٹ کےسوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قتيبة بن سعيد البلخي ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1571

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1572

1572 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيَانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ مَاءً وَأَنْتَ صَائِمٌ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا» حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مجھے خواہش ہوئی اور میں نے (اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، حالانکہ میں اس وقت روزے سے تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں آج بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو گیا ہوں ، میں نے روزہ کی حالت میں بوسہ لیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے، روزہ کہ حالت میں کلی کرنا کیسا ہے؟ میں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( بوسہ لینے )میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔یہ حد یث امام بخاری اورامام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ. ← رَسُولُ اللَّهِ «أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ مَاءً وَأَنْتَ صَائِمٌ؟» ← صَائِمٌ» ← صَائِمٌ، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ ← هَشَشْتُ يَوْمًا، فَقَبَّلْتُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ سَعِیْد، بْنِ سُوَیْدٍ الْاَنْصَارِیُّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو حاتم وإبراهيم بن نصر الرازيان ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1572

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1573

1573 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہودونصاری دیر سے روزہ افطار کر تے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1573

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1574

1574 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَا فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ فَإِنَّهُ طَهُورٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس شخص کو کجھورمیسر ہو، وہ اس کےساتھ افطاری کر لے اور جس کو کھجور میسر نہ ہووہ پانی سے افطاری کرے کیونکہ یہ بھی پاک کر نے والا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1574

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1575

1575 - أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّهُ الْمَاءُ طَهُورُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ "

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : جب کوئی روز ہ سے ہوتو اس کو چاہئے کہ کھجور کے ہمراہ روزہ افطار کرے اورا گر کھجور میسر نہ ہوتو پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاک کر نے والا ہے ۔ تبصر : یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1576

1576 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَاتٍ فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَمَرَاتٍ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب پڑھنے سے پہلے رطب کھجوروں کے ساتھ افطاری کیا کرتے تھے،اگر رطب میسر نہ ہوتیں تو تمر سے کر لیتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیا کرتے تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّهُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1577

1577 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَتَّى يُفْطِرَ، وَلَوْ عَلَى شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب پڑھنے سے پہلے افطاری ضرور کیا کرتے تھےاگر چہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پیتے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← محمد بن إسحاق الإمام، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1577

chevron_left Previous
12345…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section