Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 371

وعن ابي بردة عن ابيه رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏هي ما بين ان يجلس الإمام إلى ان تقضى الصلاة» .‏‏‏‏ رواه مسلم،‏‏‏‏ ورجح الدارقطني انه من قول ابي بردة. وفي حديث عبد الله بن سلام رضي الله عنه عند ابن ماجه. وجابر رضي الله عنه عند ابي داود وللنسائي: «‏‏‏‏انها ما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس» .‏‏‏‏ وقد اختلف فيها على اكثر من اربعين قولا امليتها في شرح البخاري.

سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ان کے والد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”وہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر اختتام جماعت تک کے دوران میں ہے۔“ (مسلم) اور دارقطنی نے تو اس کو ترجیح دی ہے کہ یہ ابوبردہ کا قول ہے۔ اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ابن ماجہ نے اور جابر رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد اور نسائی نے روایت نقل کی ہے کہ وہ گھڑی نماز عصر سے غروب آفتاب تک کے درمیانی عرصہ میں ہے۔ اس میں مختلف علماء کے چالیس اقوال ہیں۔ میں نے ان سب کو فتح الباری شرح بخاری میں لکھ دیا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ،

Hadith 371

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 372

وعن جابر رضي الله عنه قال: مضت السنة ان في كل اربعين فصاعدا جمعة. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سنت طریقہ یہ جاری رہا ہے کہ چالیس یا اس سے کچھ اوپر کی تعداد پر جمعہ ہے۔ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

مضت السنة ان في كل اربعين فصاعدا جمعة. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف. ← وعن جابر

Hadith 372

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 373

وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يستغفر للمؤمنين والمؤمنات كل جمعة. رواه البزار بإسناد لين.

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بخشش (مغفرت) کی دعا فرمایا کرتے تھے۔ اسے بزار نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ

Hadith 373

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 374

وعن جابر بن سمرة رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان في الخطبة يقرا آيات من القرآن ويذكر الناس. رواه ابو داود واصله في مسلم.

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن حمید کی چند آیات خطبہ جمعہ میں تلاوت فرما کر لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ (ابوداؤد) اس کی اصل مسلم میں ہے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ

Hadith 374

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 375

وعن طارق بن شهاب رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الجمعة حق واجب على كل مسلم في جماعة إلا اربعة: مملوك وامراة وصبي ومريض» . رواه ابو داود وقال: لم يسمع طارق من النبي صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ واخرجه الحاكم من رواية طارق المذكور عن ابي موسى.

سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کو باجماعت ادا کرنا ہر مسلم پر واجب ہے، مگر چار قسم کے لوگ اس سے مستثنی ہیں غلام، عورت، بچہ اور مریض۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ طارق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔ طارق کی یہی روایت حاکم نے ابوموسیٰ کے حوالے سے ذکر کی ہے۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ،

Hadith 375

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 376

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ليس على مسافر جمعة» .‏‏‏‏ رواه الطبراني بإسناد ضعيف.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسافر پر جمعہ نہیں۔“ طبرانی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 376

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 377

وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا استوى على المنبر استقبلناه بوجوهنا. رواه الترمذي بإسناد ضعيف. وله شاهد من حديث البراء عند ابن خزيمة.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر کھڑے ہو جاتے تو ہم اپنے رخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف موڑ لیتے۔ اسے ترمذی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کا شاہد ابن خزیمہ میں موجود ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Hadith 377

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 378

وعن الحكم بن حزن رضي الله عنه قال: شهدنا الجمعة مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقام متوكئا على عصا او قوس. رواه ابو داود.

سیدنا حکم بن حزن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں حاضر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لاٹھی یا کمان کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے۔ (ابوداؤد)

الحكم بن حزن

Hadith 378

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 379

عن صالح بن خوات رضي الله عنه عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف: ان طائفة صلت معه وطائفة وجاه العدو،‏‏‏‏ فصلى بالذين معه ركعة،‏‏‏‏ ثم ثبت قائما واتموا لانفسهم ثم انصرفوا،‏‏‏‏ فصفوا وجاه العدو،‏‏‏‏ وجاءت الطائفة الاخرى،‏‏‏‏ فصلى بهم الركعة التي بقيت،‏‏‏‏ ثم ثبت جالسا،‏‏‏‏ واتموا لانفسهم،‏‏‏‏ ثم سلم بهم. متفق عليه وهذا لفظ مسلم ووقع في المعرفة لابن منده عن صالح بن خوات عن ابيه.

سیدنا صالح بن خوات رحمہ اللہ نے ایسے شخص سے روایت کی ہے جس نے ذات الرقاع کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوٰۃ خوف پڑھی تھی۔ اس شخص نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز کے لئے صف بندی کی اور ایک دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ کے لئے اس کے روبرو صف باندھ کر کھڑا رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف باندھ کر کھڑے تھے ایک رکعت پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر باقی نماز مکمل کر لی اور چلے گئے۔ جا کر دشمن کے سامنے صف بند ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی اپنی ایک رکعت پڑھائی اور بیٹھے رہے انہوں نے اس دوران اپنے طور پر نماز مکمل کر لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا (بخاری و مسلم) مگر متن حدیث الفاظ مسلم کے ہیں۔ ابن مندہ کی «المعرفة» میں ہے کہ صالح بن خوات اپنے والد سے بیان کرتے ہیں۔

صالح بن خوات عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه

Hadith 379

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 380

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قبل نجد فوازينا العدو،‏‏‏‏ فصاففناهم،‏‏‏‏ فقام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي بنا فقامت طائفة معه واقبلت طائفة على العدو وركع بمن معه وسجد سجدتين ثم انصرفوا مكان الطائفة التي لم تصلي فجاؤوا فركع بهم ركعة،‏‏‏‏ وسجد سجدتين ثم سلم فقام كل واحد منهم فركع لنفسه ركعة وسجد سجدتين. متفق عليه وهذا لفظ البخاري.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کسی غزوہ میں گیا۔ ہم دشمن کے بالکل مقابل صف بستہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک جماعت نماز ادا کرنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑی ہو گئی۔ جو جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک تھی اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے اور اس گروہ کی جگہ واپس چلی گئی جس نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی۔ اس جماعت کے افراد آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی دو سجدوں کے ساتھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا تو دونوں گروہوں نے اٹھ کر الگ الگ پوری کی۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 380

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 381

وعن جابر رضي الله عنه قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم صلاة الخوف فصفنا صفين: صف خلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والعدو بيننا وبين القبلة فكبر النبي صلى الله عليه وآله وسلم وكبرنا جميعا ثم ركع وركعنا جميعا ثم رفع راسه من الركوع ورفعنا جميعا ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه وقام الصف المؤخر في مخر العدو فلما قضى السجود قام الصف الذي يليه. فذكر الحديث. وفي رواية: ثم سجد وسجد معه الصف الاول فلما قاموا سجد الصف الثاني ثم تاخر الصف الاول وتقدم الصف الثاني. فذكر مثله،‏‏‏‏ وفي آخره: ثم سلم النبي صلى الله عليه وآله وسلم وسلمنا جميعا. رواه مسلم. ولابي داود عن ابي عياش الزرقي رضي الله عنه مثله،‏‏‏‏ وزاد: إنها كانت بعسفان. وللنسائي من وجه آخر عن جابر رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بطائفة من اصحابه ركعتين ثم صلى بآخرين ركعتين ثم سلم. ومثله لابي داود عن ابي بكرة رضي الله عنه.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں حاضر تھا۔ ہم نے دو صفیں بنائیں ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوئی جبکہ دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور ہم سب نے بھی اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اوپر اٹھایا اور ہم سب نے بھی اپنے سر اٹھائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والی صف بھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے کیلئے کھڑی رہی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ پورا کر لیا تو وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی کھڑی ہو گئی۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی۔ ایک روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ سب کھڑے ہو گئے تو دوسری صف سجدے میں چلی گئی اور پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری صف آگے آ گئی اور پہلے کی طرح ہی ذکر کیا اور آخر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ہم سب نے بھی سلام پھیر دیا (مسلم) اور ابوداؤد نے ابو عیاش زرقی سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”وہ عسفان مقام پر (ادا کی گئی) تھی۔“ اور نسائی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا پھر ایک دوسرے گروہ کو اسی طرح دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ ابوداؤد میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی ایک روایت ہے۔

جَابِرٍ

Hadith 381

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 382

وعن حذيفة رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم في الخوف بهؤلاء ركعة وهؤلاء ركعة ولم يقضوا. رواه احمد وابو داود والنسائي وصححه ابن حبان. ومثله عند ابن خزيمة عن ابن عباس رضي الله عنهما.

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان کو بھی ایک ہی رکعت۔ انہوں نے نماز کو پورا نہیں کیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابن خزیمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔

حُذَيْفَةَ

Hadith 382

chevron_left Previous
1…567…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter