بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1128
وعن المسور بن مخرمة ومروان رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم خرج عام الحديبية فذكر الحديث بطوله وفيه: «هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله، سهيل بن عمرو على وضع الحرب عشر سنين يامن فيها الناس ويكف بعضهم عن بعض» اخرجه ابو داود واصله في البخاري". واخرج مسلم بعضه من حديث انس وفيه: «ان من جاءنا منكم لم نرده عليكم ومن جاءكم منا رددتموه علينا» فقالوا: اتكتب هذا يا رسول الله؟ قال: «نعم إنه من ذهب منا إليهم فابعده الله ومن جاءنا منهم فسيجعل الله له فرجا ومخرجا» .
سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال نکلے۔ راوی نے لمبی حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ مذکور ہے کہ یہ وہ (دستاویز) ہے جس پر محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے سہیل بن عمرو سے صلح کی ہے کہ دس سال جنگ بند رہے گی۔ اس عرصہ میں لوگ امن سے رہیں گے اور ان میں سے ہر ایک (جنگ سے) اپنا ہاتھ روکے رکھے گا۔ ابوداؤد اور اس کی اصل بخاری میں ہے اور مسلم نے اس حدیث کا کچھ حصہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ تم میں سے جو کوئی ہمارے پاس آئے گا اسے ہم واپس نہیں کریں گے اور ہمارا کوئی آدمی تمہارے پاس آ جائے تو تم اسے ہمارے پاس واپس لوٹا دو گے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ لکھ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ہاں! جو شخص ہم میں سے ان کے پاس چلا جائے گا اسے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیا اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے ضرور کشائش اور کوئی راستہ نکال دے گا۔“
الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ
Bulugh Al Maram · The Book of Jihad › Chapter · Hadith 1128
