Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1058

وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا قطع في ثمر ولا كثر» ‏‏‏‏ رواه المذكورون وصححه ايضا الترمذي وابن حبان.

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ” پھل اور درخت خرما کے گوند میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ

Hadith 1058

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1059

وعن ابي امية المخزومي رضي الله عنه قال: اتي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بلص قد اعترف اعترافا ولم يوجد معه متاع فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما إخالك سرقت" قال: بلى فاعاد عليه مرتين او ثلاثا،‏‏‏‏ فامر به فقطع وجيء به،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏استغفر الله وتب إليه» ‏‏‏‏ فقال: استغفر الله واتوب إليه فقال: «‏‏‏‏اللهم تب عليه» ‏‏‏‏ ثلاثا. اخرجه ابو داود واللفظ له واحمد والنسائي ورجاله ثقات. واخرجه الحاكم من حديث ابي هريرة فساقه بمعناه وقال فيه: «‏‏‏‏اذهبوا به فاقطعوه ثم احسموه» ‏‏‏‏ واخرجه البزار ايضا وقال: لا باس بإسناده.

سیدنا ابوامیہ مخرومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ڈاکو لایا گیا۔ اس نے چوری کا اعتراف کیا مگر سامان اس کے پاس نہ پایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ہو گی۔ “ اس نے کہا جی ہاں! میں نے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ اسی طرح دھرایا اس نے اقرار کیا تو اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلقین فرمائی کہ ” اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش مانگ اور اس سے توبہ کر۔ “ اس نے کہا میں اللہ سے بخشش و مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس کے حق میں اللہ سے دعا فرمائی کہ الٰہی اس کی توبہ قبول فرما۔ اس حدیث کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے۔ الفاظ بھی اسی کے ہیں نیز احمد اور نسائی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے لے جاؤ اور ہاتھ کاٹ دو پھر اسے داغ دینا۔ “ اور اسی کے ہم معنی ذکر ہیں۔ اسے بزار نے بھی روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔

Hadith 1059

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1060

وعن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يغرم السارق إذا اقيم عليه الحد» ‏‏‏‏ رواه النسائي وبين انه منقطع وقال ابو حاتم: هو منكر.

سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب چور پر حد قائم کر دی جائے گی تو پھر مال کی ضمانت اس پر نہیں۔“ اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور خود ہی واضح کر دیا کہ یہ منقطع ہے اور ابوحاتم نے اسے منکر کہا ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ

Hadith 1060

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1061

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انه سئل عن التمر المعلق فقال: «‏‏‏‏من اصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه الغرامة والعقوبة ومن خرج بشيء منه بعد ان يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکی ہوئی کھجور کے متعلق دریافت کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص بھوکا ہو وہ کھانے کے لیے توڑ لے مگر کپڑے میں نہ بھرے تو اس پر کوئی سزا نہیں اور جو شخص کپڑے میں ڈال کر نکل جائے تو اس پر تاوان بھی ہے اور سزا بھی اور جو شخص ایسی صورتحال میں کھجوریں لے جائے کہ مالک نے توڑ کے محفوظ جگہ میں ڈھیر کر لیا ہو اور ان کی قیمت ایک ڈھال کی قیمت کے مساوی ہو تو اس پر قطع ید کی سزا نافذ ہو گی۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے تخریج کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

التمر المعلق ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم انه سئل ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Hadith 1061

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1062

وعن صفوان بن امية رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال له لما امر بقطع الذي سرق رداءه فشفع فيه: «‏‏‏‏هلا كان ذلك قبل ان تاتيني به» ‏‏‏‏ اخرجه احمد والاربعة وصححه ابن الجارود والحاكم.

سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، جب انہوں نے اس آدمی کے بارے میں سفارش کی جس نے چادر چرائی تھی اور اس کے قطع ید کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ” میرے پاس لانے سے پہلے تمہیں اس پر رحم و ترس کیوں نہ آیا۔“۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ

Hadith 1062

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1063

وعن جابر رضي الله عنه قال: جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏اقتلوه» ‏‏‏‏ فقالوا: يا رسول الله إنما سرق؟ قال: «‏‏‏‏اقطعوه» ‏‏‏‏ فقطع ثم جيء به الثانية فقال: «‏‏‏‏اقتلوه» ‏‏‏‏ فذكر مثله: ثم جيء به الثالثة فذكر مثله ثم جيء به الرابعة كذلك ثم جيء به الخامسة فقال:«‏‏‏‏اقتلوه» ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي واستنكره. واخرج من حديث الحارث بن حاطب نحوه. وذكر الشافعي ان القتل في الخامسة منسوخ.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ “ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوبارہ اسے پیش کیا گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے مار ڈالو۔ “ پھر اسی طرح ذکر کیا گیا۔ پھر اس کو تیسری بار لایا گیا تو پھر اسی طرح ذکر کیا۔ پھر چوتھی مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا تو اسی طرح ذکر کیا۔ پھر پانچویں مرتبہ گرفتار کے کے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے اور نسائی نے حارث بن حاطب کی حدیث سے اسی طرح اور شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ پانچویں مرتبہ مار ڈالنا منسوخ ہے۔

جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏اقتلوه» فقالوا: ← وعن جابر

Hadith 1063

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1064

عن انس بن مالك رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم اتي برجل قد شرب الخمر فجلده بجريدتين نحو اربعين قال: وفعله ابو بكر،‏‏‏‏ فلما كان عمر استشار الناس فقال عبد الرحمن بن عوف: اخف الحدود ثمانون فامر به عمر. متفق عليه. ولمسلم: عن علي رضي الله عنه في قصة الوليد بن عقبة جلد النبي صلى الله عليه وآله وسلم اربعين وجلد ابو بكر اربعين وجلد عمر ثمانين وكل سنة وهذا احب إلي. وفي الحديث: ان رجلا شهد عليه انه رآه يتقيا الخمر فقال عثمان: إنه لم يتقياها حتى شربها.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی۔ پس اس شخص کو دو چھڑیوں سے چالیس کے لگ بھگ کوڑے لگائے گئے۔ راوی کا بیان ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ سزا دی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہلکی ترین سزا اسی کوڑے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم صادر فرمایا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ولید بن عقبہ کے قصہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے سزا دی اور ہر ایک سنت ہے اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ایک آدمی نے ولید کے خلاف شہادت دی کہ اس نے ولید کو شراب کی قے کرتے دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نے شراب پی نہ ہو گی تو قے کیسے ہو گی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Hadith 1064

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1065

وعن معاوية رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم انه قال في شارب الخمر: «‏‏‏‏إذا شرب فاجلدوه ثم إذا شرب الثانية فاجلدوه ثم إذا شرب الثالثة فاجلدوه ثم إذا شرب الرابعة فاضربوا عنقه» .‏‏‏‏ اخرجه احمد وهذا لفظه والاربعة وذكر الترمذي ما يدل على انه منسوخ. واخرج ذلك ابو داود صريحا عن الزهري.

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کے متعلق فرمایا ” جب وہ شراب پئے تو اسے کوڑے مارو۔ پھر دوبار شراب نوشی کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر جب تیسری مرتبہ شراب پئے تو پھر کوڑے لگاؤ مگر جب چوتھی دفعہ شراب نوشی کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ “ اسے احمد نے بیان کیا ہے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں اور چاروں نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا قتل کرنا منسوخ ہے اور ابوداؤد نے صراحت کے ساتھ زہری سے اس کی تخریج کی ہے۔

مُعَاوِيَةَ،

Hadith 1065

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1066

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا ضرب احدكم فليتق الوجه» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی حد لگائے تو چہرے کو بچائے۔ “ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1066

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1067

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تقام الحدود في المساجد» ‏‏‏‏ رواه الترمذي والحاكم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مسجدوں میں حدود نہ لگائی جائیں۔“ (ترمذی و مستدرک حاکم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 1067

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1068

وعن انس رضي الله عنه قال: لقد انزل الله تحريم الخمر وما بالمدينة شراب يشرب إلا من تمر. اخرجه مسلم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا تو مدینہ میں اس وقت صرف کھجور سے تیار کردہ شراب پی جاتی تھی۔ (مسلم)

أَنَسٍ،

Hadith 1068

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1069

وعن عمر رضي الله عنه قال: نزل تحريم الخمر وهي من خمسة: من العنب والتمر والعسل والحنطة والشعير. والخمر ما خامر العقل. متفق عليه.

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تحریم شراب کا حکم نازل ہوا اور وہ پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد، گندم، جو سے اور خمر (کی تعریف یہ ہے کہ) ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ لے۔ (بخاری و مسلم)

عُمَرَ،

Hadith 1069

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter