Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1046

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء وقال: «‏‏‏‏اخرجوهم من بيوتكم» ‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کا روپ دھاریں اور ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مرد بنیں۔ نیز فرمایا کہ ” ان کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ “ (گھروں میں داخل نہ ہونے دو)۔ (بخاری)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 1046

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1047

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ادفعوا الحدود ما وجدتم لها مدفعا» ‏‏‏‏ اخرجه ابن ماجه بإسناد ضعيف واخرجه الترمذي والحاكم من حديث عائشة بلفظ: «‏‏‏‏ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم» ‏‏‏‏ وهو ضعيف ايضا ورواه البيهقي عن علي من قوله بلفظ: «‏‏‏‏ادرءوا الحدود بالشبهات» .‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حدود کو دفع کرو جہاں تک اس کے دفع کرنے کی گنجائش پاؤ۔“ اسے ابن ماجہ نے نکالا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے اور اس کو ترمذی اور حاکم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ بیان کیا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں۔ ” مسلمانوں سے جہاں تک حدود کو ہٹا سکتے ہو ہٹاؤ۔“ یہ بھی ضعیف ہے اور بیہقی نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ ہیں۔ ” شبہات کی وجہ سے حدود کو دفع کرو۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1047

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1048

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اجتنبوا هذه القاذورات التي نهى الله عنها فمن الم بها فليستتر بستر الله وليتب إلى الله فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله» .‏‏‏‏ رواه الحاكم وهو في الموطا من مراسيل زيد بن اسلم.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان گندے کاموں سے بچو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جائے تو اسے اللہ کے ڈالے ہوئے پردہ میں چھپے رہنا چاہیئے اور اسے چاہیئے کہ اللہ کی جناب میں (پوشیدہ طور پر) توبہ کر لے کیونکہ جو شخص اپنی پیٹھ ہمارے سامنے ظاہر کرے گا ہم اس پر کتاب اللہ کو نافذ و قائم کر کے چھوڑیں گے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ موطا میں زید بن اسلم سے مرسلاً مروی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 1048

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1049

عن عائشة رضي الله عنها قالت: لما نزل عذري قام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على المنبر فذكر ذلك وتلا القرآن فلما نزل امر برجلين وامراة فضربوا الحد. اخرجه احمد والاربعة واشار إليه البخاري.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب قرآن مجید میں میری برات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور اس کا ذکر فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ جب منبر سے نیچے تشریف لائے تو دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا کہ ان کو حد لگائی جائے۔ اس کو احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

عَائِشَةَ

Hadith 1049

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1050

وعن انس بن مالك رضي الله عنه قال: اول لعان كان في الإسلام ان شريك بن سحماء قذفه هلال بن امية بامراته فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏البينة وإلا فحد في ظهرك» ‏‏‏‏ الحديث اخرجه ابو يعلى ورجاله ثقات وفي البخاري نحوه من حديث ابن عباس رضي الله عنه.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسلام میں لعان کا پہلا واقعہ شریک بن سحماء کا تھا۔ ان پر ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ” گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔“ اس حدیث کی تخریج ابویعلٰی نے کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بھی اسی طرح ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Hadith 1050

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1051

وعن عبد الله بن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال: لقد ادركت ابا بكر وعمر وعثمان ومن بعدهم فلم ارهم يضربون المملوك في القذف إلا اربعين. رواه مالك والثوري في جامعه.

سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والوں کا عہد پایا ہے۔ میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ غلاموں کو سزائے قذف میں چالیس (کوڑوں) سے زیادہ مارتے ہوں۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے اور ثوری نے اپنی جامع میں بیان کیا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ

Hadith 1051

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1052

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قذف مملوكه يقام عليه الحد يوم القيامة إلا ان يكون كما قال» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے (یعنی وہ تہمت سچی ہو)۔“ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1052

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1053

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تقطع يد سارق إلا في ربع دينار فصاعدا» ‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ لمسلم ولفظ البخاري: «‏‏‏‏تقطع يد السارق في ربع دينار فصاعدا» .‏‏‏‏ وفي رواية لاحمد: «‏‏‏‏اقطعوا في ربع دينار ولا تقطعوا فيما هو ادنى من ذلك» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر بسبب چوتھائی دینار یا اس سے کچھ زائد چوری کرنے پر (کاٹا جائے)۔ “ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور بخاری کے الفاظ ہیں ” چور کا ہاتھ چوتھائی دینار اور اس سے زائد پر کاٹا جائے گا۔ “ اور احمد کی روایت ہے ” چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹ دو اور اس سے کم قیمت کی چوری پر نہ کاٹو۔ “

عَائِشَةَ

Hadith 1053

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1054

وعن ابن عمر رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم. متفق عليه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا دی ہے۔ اس کی قیمت تین درہم تھی۔ (بخاری و مسلم)

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 1054

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1055

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لعن الله السارق يسرق البيضة فتقطع يده ويسرق الحبل فتقطع يده» .‏‏‏‏ متفق عليه ايضا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لعنت ہو اللہ تعالیٰ کی اس چور پر جو انڈا چوری کر کے اپنا ہاتھ کٹوا لیتا ہے۔ نیز رسی چوری کرتا ہے اور اپنا ہاتھ کٹوا لیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1055

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1056

و عن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏اتشفع في حد من حدود الله» ‏‏‏‏ ثم قام فخطب فقال: «‏‏‏‏ايها الناس إنما اهلك الذين قبلكم انهم كانوا إذا سرق فيهم الشريف تركوه وإذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد» ‏‏‏‏ الحديث متفق عليه واللفظ لمسلم وله من وجه آخر عن عائشة قالت: كانت امراة تستعير المتاع وتجحده فامر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بقطع يدها.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تو اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتا ہے؟ “ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا ” لوگو! بیشک تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک و تباہ ہوئے کہ جب ان سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے۔ “ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور مسلم میں ایک اور سند سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے منقول ہے کہ ایک عورت لوگوں سے ادھار مانگا کرتی تھی اور پھر انکار کر دیتی تھی۔ پس اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم صادر فرمایا۔

عَائِشَةَ ← و،

Hadith 1056

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1057

وعن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «ليس على خائن ولا مختلس ولا منتهب قطع» ‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وصححه الترمذي وابن حبان.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” خیانت کرنے والے، چھین کر لے جانے والے اور اچک کر لے جانے والے کے لیے قطع ید کی سزا نہیں ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← جَابِرٍ

Hadith 1057

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter