Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1017

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏عقل شبه العمد مغلظ مثل عقل العمد ولا يقتل صاحبه وذلك ان ينزو الشيطان فتكون دماء بين الناس في غير ضغينة ولا حمل سلاح» .‏‏‏‏ اخرجه الدارقطني وضعفه.

سیدنا عمرو بن شعیب ہی اس کے بھی راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قتل شبہ کی دیت قتل عمد کی طرح دیت مغلظہ ہے۔ اس لئے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہیں شیطان درمیان میں دخل اندازی کرے اور بغیر کسی دشمنی اور بغیر ہتھیاروں کے کسی اور وجہ سے قتل عام شروع ہو جائے۔“ اس کی دارقطنی نے تخریج کی ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

وعنه

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1017

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1018

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قتل رجل رجلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم ديته اثني عشر الفا. رواه الاربعة ورجح النسائي وابو حاتم إرساله.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1018

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1019

وعن ابي رمثة قال: اتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومعي ابني فقال: «‏‏‏‏من هذا؟» ‏‏‏‏ فقلت: ابني واشهد به قال: «اما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه» . رواه النسائي وابو داود وصححه ابن خزيمة وابن الجارود.

سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا۔ میرا بیٹا ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر گواہ رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بیشک یہ تیرے گناہ و جرم کا ذمہ دار نہیں اور نہ تو اس کے گناہ و جرم کا ذمہ دار۔“ اسے نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔

«‏‏‏‏من هذا؟» فقلت: ابني واشهد به ← اتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومعي ابني ← أَبِي رِمْثَةَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1019

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1020

عن سهل بن ابي حثمة رضي الله عنه عن رجال من كبراء قومه ان عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود خرجا إلى خيبر من جهد اصابهم فاتي محيصة فاخبر ان عبد الله بن سهل قد قتل وطرح في عين فاتى يهود فقال: انتم والله قتلتموه قالوا: والله ما قتلناه فاقبل هو واخوه حويصة وعبد الرحمن بن سهل فذهب محيصة ليتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏كبر كبر» ‏‏‏‏ يريد السن فتكلم حويصة ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إما ان يدوا صاحبكم وإما ان ياذنوا بحرب» ‏‏‏‏ فكتب إليهم في ذلك فكتبوا: إنا والله ما قتلناه فقال لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن بن سهل: «‏‏‏‏اتحلفون وتستحقون دم صاحبكم؟» ‏‏‏‏ قالوا: لا قال: «فيحلف لكم يهود؟» ‏‏‏‏ قالوا: ليسوا مسلمين،‏‏‏‏ فوداه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من عنده فبعث إليهم مائة ناقة قال سهل: فلقد ركضتني منها ناقة حمراء. متفق عليه.

سیدنا سہل بن ابی حثمہ نے اپنی قوم کے بڑے بزرگوں سے روایت بیان کی ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اپنی تنگ دستی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے۔ پس محیصہ نے آ کر اطلاع دی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اور اسے ایک چشمہ میں پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ یہود کے پاس آئے اور کہا کہ خدا کی قسم تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے۔ وہ بولے اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر محیصہ اور اس کا بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہم تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچے اور محیصہ نے گفتگو کرنی چاہی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بڑے کو بات کرنے دو بڑے کو“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی جو تم میں عمر میں بڑا ہے (اسے بات کرنی چاہیئے) چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے بیان دیا پھر محیصہ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” وہ لوگ یا تو تمہارے صاحب و ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔“ پھر اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط تحریر فرمایا جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا ” کیا تم لوگ قسم کھا کر اپنے صاحب کے خون کے حقدار بنو گے؟“ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ ” تم کو یہودی قسم دیں؟“ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو مسلمان نہیں ہیں (اس لئے ان کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں) پس پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس (بیت المال) سے دی اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان میں سے ایک سرخ رنگ کی اونٹنی نے مجھے لات ماری۔ (بخاری و مسلم)

رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ،

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1020

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1021

وعن رجل من الانصار: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم اقر القسامة على ما كانت عليه في الجاهلية وقضى بها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بين ناس من الانصار في قتيل ادعوه على اليهود. رواه مسلم.

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کی قسامت کو برقرار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے حق میں دیا۔ جس کا دعویٰ یہودیوں پر کیا گیا تھا۔ (مسلم)

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1021

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1022

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من حمل علينا السلاح فليس منا» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا۔ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔“ (بخاری و مسلم)

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1022

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1023

وعن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من خرج عن الطاعة وفارق الجماعة ومات فميتته ميتة جاهلية» .‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جس کسی نے امام کی اطاعت سے خروج کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہو گیا اور اسی حالت میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“ (مسلم)

الطاعة وفارق الجماعة ومات فميتته ميتة جاهلية» اخرجه مسلم. ← «‏‏‏‏من خرج ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن ابي هريرة

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1023

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1024

وعن ام سلمة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏تقتل عمارا الفئة الباغية» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“ (مسلم)

أُمِّ سَلَمَةَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1024

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1025

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏هل تدري يا ابن ام عبد كيف حكم الله فيمن بغى من هذه الامة؟» ‏‏‏‏ قال: الله ورسوله اعلم قال: «‏‏‏‏لا يجهز على جريحها ولا يقتل اسيرها ولا يطلب هاربها ولا يقسم فيئها» .‏‏‏‏ رواه البزار والحاكم وصححه فوهم لان في إسناده كوثر بن حكيم وهو متروك وصح عن علي من طرق نحوه موقوفا اخرجه ابن ابي شيبة والحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے ام عبد کے بیٹے! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس امت کے باغی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟“ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس کے زخمیوں کو ختم نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے قیدیوں کو قتل کیا جائے گا اور نہ بھاگنے والے کا پیچھا و تعاقب کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے مال غنیمت کو تقسیم کیا جائے گا۔“ اس روایت کو بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مگر یہ حاکم کا وہم ہے اس لئے کہ اس کی سند میں کوثر بن حکیم متروک راوی ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اس کی مانند کئی طرق سے مروی ہے جو صحیح ہے۔ اسے ابن ابی شیبہ اور حاکم نے نکالا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1025

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1026

وعن عرفجة بن شريح رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏من اتاكم وامركم جميع يريد ان يفرق جماعتكم فاقتلوه» .‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا عرفجہ بن شریح کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ” جو شخص تمہارے پاس آئے حالانکہ تم ایک امیر پر متفق ہو اور وہ تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہو تو اسے قتل کر دو۔“ (صحیح مسلم)

«‏‏‏‏من اتاكم وامركم جميع يريد ان يفرق جماعتكم فاقتلوه» اخرجه مسلم. ← رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن عرفجة بن شريح

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1026

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1027

عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من قتل دون ماله فهو شهيد» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي والترمذي وصححه.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے۔“ اسے ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1027

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1028

وعن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: قاتل يعلى بن امية رجلا فعض احدهما صاحبه فانتزع يده من فمه فنزع ثنيته فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏يعض احدكم كما يعض الفحل؟ لا دية له» متفق عليه واللفظ لمسلم.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ ایک نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹ کھاتے ہو جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے۔ اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ

Bulugh Al Maram · Criminal Book › Chapter · Hadith 1028

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter