Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 980

وعن عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏كفى بالمرء إثما ان يضيع من يقوت» ‏‏‏‏ رواه النسائي وهو عند مسلم بلفظ: «‏‏‏‏ان يحبس عمن يملك قوته» .‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک انسان کیلئے یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی روزی کا ذمہ دار و کفیل ہے ان کو ضائع کر دے۔“ (نسائی) اور مسلم میں یہ الفاظ ہیں کہ ”جس کی روزی کا مالک ہے اسے روک لے۔“

عبد الله بن عمر رضى الله تعالى عنهما

Hadith 980

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 981

وعن جابر يرفعه في الحامل المتوفى عنها زوجها قال:" لا نفقة لها" اخرجه البيهقي ورجاله ثقات لكن قال: المحفوظ وقفه وثبت نفي النفقة في حديث فاطمة بنت قيس رضي الله عنها كما تقدم رواه مسلم.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس حاملہ کے بارے میں جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اس کے لئے نفقہ نہیں ہے۔ اس کو بیہقی نے نکالا۔ اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن امام بیہقی نے کہا ہے کہ اس کا موقوف ہونا ہی محفوظ ہے۔ نفقہ کی نفی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

لا نفقة لها" اخرجه البيهقي ورجاله ثقات لكن ← جابر يرفعه في الحامل المتوفى عنها زوجها

Hadith 981

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 982

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اليد العليا خير من اليد السفلى ويبدا احدكم بمن يعول تقول المراة اطعمني او طلقني» .‏‏‏‏ رواه الدارقطني وإسناده حسن.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ تم میں ہر کوئی اس سے آغاز و ابتداء کرے جس کی وہ عیالداری کرتا ہے۔ ایسا نہ ہو بیوی کہنے لگے کہ نان و نفقہ دو یا طلاق دو۔“ اس کو دارقطنی نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Hadith 982

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 983

وعن سعيد بن المسيب في الرجل لا يجد ما ينفق على اهله قال:" يفرق بينهما" اخرجه سعيد بن منصور عن سفيان عن ابي الزناد عنه قال: قلت لسعيد: سنة؟ فقال: سنة. وهذا مرسل قوي.

سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے متعلق مروی ہے جو اپنی بیوی کو نان و نفقہ نہ دے سکے کہ ان کے درمیان علیحدگی کر دی جائے گی۔ اس روایت کو سعید بن منصور نے سفیان سے اور انہوں نے ابوالزناد سے روایت کیا ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کیا یہ سنت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں سنت ہے۔ یہ روایت مرسل قوی ہے۔

قلت لسعيد: سنة؟ فقال: سنة. وهذا مرسل قوي. ← ابي الزناد عنه ← سُفْيَانَ، ← يفرق بينهما" اخرجه سعيد بن منصور ← وعن سعيد بن المسيب في الرجل لا يجد ما ينفق على اهله

Hadith 983

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 984

وعن عمر رضي الله تعالى عنه:" انه كتب إلى امراء الاجناد في رجال غابوا عن نسائهم: ان ياخذوهم بان ينفقوا او يطلقوا فإن طلقوا بعثوا بنفقة ما حبسوا" اخرجه الشافعي والبيهقي بإسناد حسن.

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے امراء لشکر کو ایسے مردوں کے بارے میں تحریر فرمایا جو فوج میں شریک رہنے کی وجہ سے اپنی بیویوں سے غائب تھے کہ وہ اپنی بیویوں کو نفقہ روانہ کریں ورنہ طلاق دے دیں۔ اگر طلاق دیں تو جتنی مدت انہوں نے روکے رکھا ہے اس کا نفقہ روانہ کریں۔ اسے امام شافعی رحمہ اللہ اور بیہقی نے عمدہ سند سے روایت کیا ہے۔

إلى امراء الاجناد في رجال غابوا ← عمر رضي الله تعالى عنه:" انه

Hadith 984

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 985

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: يا رسول الله عندي دينار؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على نفسك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على ولدك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على اهلك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انفقه على خادمك» ‏‏‏‏ قال: عندي آخر؟ قال: «‏‏‏‏انت اعلم» .‏‏‏‏ اخرجه الشافعي وابو داود واللفظ له واخرجه النسائي والحاكم بتقديم الزوجة على الولد.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے آپ پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کیا میرے پاس ایک اور ہے؟ فرمایا ”اپنی اولاد پر خرچ کرو۔“ وہ پھر بولا میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا ”اپنی بیوی پر خرچ کرو۔“ اس نے عرض کیا میرے پاس اور ہے فرمایا ”اپنے خادم پر خرچ کرو۔“ وہ بولا میرے پاس اور ہے۔ فرمایا ”تجھے خوب علم ہے کہ تو اسے کہاں خرچ کرے۔“ اس کی شافعی اور ابوداؤد نے تخریج کی ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور نسائی اور حاکم نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔ اس میں ولد سے پہلے زوجہ کا ذکر ہے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: ← وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه

Hadith 985

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 986

وعن بهز بن حكيم عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قلت: يا رسول الله من ابر؟ قال: «‏‏‏‏امك» ‏‏‏‏ قلت: ثم من؟ قال: «‏‏‏‏امك» ‏‏‏‏ قلت: ثم من؟ قال: «‏‏‏‏امك» قلت: ثم من؟ قال: «‏‏‏‏اباك ثم الاقرب فالاقرب» ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والترمذي وحسنه.

سیدنا بھز بن حکیم رحمہ اللہ نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں حسن سلوک اور بھلائی کس کے ساتھ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی والدہ کے ساتھ۔“ میں نے پھر عرض کیا۔ پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اپنی والدہ سے۔“ میں نے پھر عرض کیا پھر کس سے؟ فرمایا ”اپنی والدہ سے۔“ میں نے پھر عرض کیا۔ پھر کس سے؟ فرمایا ”اپنے والد سے۔“ اس کے بعد پھر درجہ بدرجہ زیادہ قریبی رشتہ دار سے۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے تخریج کیا اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن بهز بن حكيم

Hadith 986

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 987

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما ان امراة قالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وإن اباه طلقني واراد ان ينزعه مني؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏انت احق به ما لم تنكحي» ‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! یہ جو میرا لخت جگر ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا۔ میری چھاتی (پستان) اس کے لیے مشکیزہ اور میری آغوش اس کے لیے ٹھکانہ تھی۔ اس کے والد نے مجھے طلاق دی ہے اور اب وہ مجھ سے اس بچہ کو بھی چھین لینا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تک تو دوسرا نکاح نہیں کرتی اس وقت تک تو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عبد الله بن عمرو أَن امرأَة

Hadith 987

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 988

وعن ابي هريرة ان امراة قالت: يا رسول الله إن زوجي يريد ان يذهب بابني وقد نفعني وسقاني من بئر ابي عنبة؟ فجاء زوجها فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا غلام هذا ابوك وهذه امك فخذ بيد ايهما شئت» ‏‏‏‏ فاخذ بيد امه فانطلقت به. رواه احمد والاربعة وصححه الترمذي.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرا شوہر مجھ سے میرا بچہ چھیننا چاہتا ہے اور یہ بچہ میرے کام کاج میں مددگار ہے اور میرے لئے ابوعنبہ کے کنوئیں سے پانی لا کر دیتا ہے۔ اسی اثنا میں اس کا شوہر بھی آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے لڑکے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری والدہ ان دونوں میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے۔ اس بچہ نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلتی بنی۔“ اسے احمد اور چاروں نے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبي هريرة أَن امرأة

Hadith 988

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 989

وعن رافع بن سنان رضي الله عنه انه اسلم وابت امراته ان تسلم فاقعد النبي صلى الله عليه وآله وسلم الام ناحية والاب ناحية واقعد الصبي بينهما فمال إلى امه فقال: «‏‏‏‏اللهم اهده» ‏‏‏‏ فمال إلى ابيه فاخذه. اخرجه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

حضرت رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خود مسلمان ہو گیا اور اس کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو ایک طرف اور باپ کو دوسرے گوشے میں بٹھا دیا اور بچے کو دونوں کے درمیان بٹھا دیا۔ تو بچہ ماں کی جانب مائل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی الٰہی اس بچہ کو ہدایت دے۔ اس پر وہ بچہ باپ کی جانب مائل ہو گیا تو باپ نے بچے کو پکڑ لیا۔ اس کی تخریج ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

النسائي وصححه الحاكم. ← «‏‏‏‏اللهم اهده» فمال إلى ابيه فاخذه. اخرجه ابو داود ← آله وسلم الام ناحية والاب ناحية واقعد الصبي بينهما فمال إلى امه ← ابت امراته ان تسلم فاقعد النبي صلى الله عليه ← رافع بن سنان انه اسلم

Hadith 989

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 990

وعن البراء بن عازب رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قضى في ابنة حمزة لخالتها وقال: «‏‏‏‏الخالة بمنزلة الام» ‏‏‏‏ اخرجه البخاري واخرجه احمد من حديث علي رضي الله عنه فقال: «‏‏‏‏والجارية عند خالتها فإن الخالة والدة» .‏‏‏‏

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ کی بیٹی کا فیصلہ اس کی خالہ کے حق میں فرمایا کہ ”خالہ «بمنزلة» ماں کے ہے۔“ (بخاری) اور احمد نے اس کی تخریج سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے کی ہے اور کہا ہے کہ ”لڑکی اپنی خالہ کے پاس ہو گی کیونکہ خالہ ماں ہے۔“

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ

Hadith 990

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 991

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا اتى احدكم خادمه بطعامه فإن لم يجلسه معه فليناوله لقمة او لقمتين» . متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پیش کرے تو اگر وہ اس خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا نہ کھلائے تو پھر ایک یا دو لقمے اسے دے۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Hadith 991

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter