Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 944

وعن ابي هريرة ان رجلا قال: يا رسول الله إن امراتي ولدت غلاما اسود؟ قال: «‏‏‏‏هل لك من إبل؟» ‏‏‏‏ قال: نعم قال: «‏‏‏‏فما الوانها؟» ‏‏‏‏ قال: حمر قال: «‏‏‏‏هل فيها من اورق؟» ‏‏‏‏ قال: نعم قال: «فانى ذلك؟» ‏‏‏‏ قال: لعله نزعه عرق. قال: «‏‏‏‏فلعل ابنك هذا نزعه عرق» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ وفي رواية لمسلم: وهو يعرض بان ينفيه وقال في آخره: ولم يرخص له في الانتفاء منه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے کالے رنگ کا بچہ جنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ”کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ تو اس نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ اس نے کہا سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”وہ کہاں سے آ گیا؟“ وہ بولا کوئی رگ اسے کھینچ لائی ہو گی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تیرے اس بیٹے کو بھی کوئی رگ کھینچ لائی ہو گی۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ وہ اس بچے کی نفی کی طرف اشارہ کر رہا تھا اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نفی کی رخصت و اجازت نہ دی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا

Hadith 944

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 945

عن المسور بن مخرمة: ان سبيعة الاسلمية نفست بعد وفاة زوجها بليال فجاءت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فاستاذنته ان تنكح فاذن لها فنكحت. رواه البخاري واصله في الصحيحين. وفي لفظ:"انها وضعت بعد وفاة زوجها باربعين ليلة". وفي لفظ لمسلم قال الزهري: ولا ارى باسا ان تزوج وهي في دمها غير انه لا يقربها زوجها حتى تطهر.

سیدنا مسور بن مخرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے چند روز بعد بچہ جنا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نکاح کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکاح کی اجازت دے دی اور اس نے نکاح کر لیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے اپنے شوہر کی وفات کے چالیس روز بعد بچے کو جنم دیا۔

فاة زوجها بليال فجاءت النبي صلى الله عليه ← المسور بن مخرمة: ان سبيعة الاسلمية نفست بعد

Hadith 945

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 946

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: امرت بريرة ان تعتد بثلاث حيض. رواه ابن ماجه ورواته ثقات لكنه معلول.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزارے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت معلول ہے۔

عَائِشَةَ

Hadith 946

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 947

وعن الشعبي عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم في المطلقة ثلاثا: «‏‏‏‏ليس لها سكنى ولا نفقة» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

شعبی رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقہ ثلاثہ کے متعلق فرمایا ہے ”اس کے لیے نہ رہائش ہے نہ نان و نفقہ۔“ (مسلم)

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ،

Hadith 947

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 948

وعن ام عطية رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا تحد امراة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج اربعة اشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت نبذة من قسط او اظفار» .‏‏‏‏ متفق عليه وهذا لفظ مسلم. ولابي داود والنسائي من الزيادة: «‏‏‏‏ولا تختضب» ‏‏‏‏ وللنسائي: «‏‏‏‏ولا تمتشط» ‏‏‏‏

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، سوائے خاوند کے۔ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے۔ سوگ کے زمانے میں رنگین لباس نہ پہنے، لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے۔ سرمہ نہ لگائے، خوشبو استعمال نہ کرے۔ مگر جب ایام حیض سے پاک ہو تو تھوڑی سی عود ہندی (ایک خوشبودار لکڑی) یا اظفار (مشک) استعمال کر سکتی ہے۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور ابوداؤد اور نسائی میں اتنا اضافہ ہے کہ مہندی و خضاب نہ لگائے اور نسائی میں ہے کہ کنگھی بھی نہ کرے۔

أُمِّ عَطِيَّةَ

Hadith 948

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 949

وعن ام سلمة رضي الله عنها قالت: جعلت على عيني صبرا بعد ان توفي ابو سلمة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنه يشب الوجه فلا تجعليه إلا بالليل وانزعيه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب» . قلت: باي شيء امتشط؟ قال: «‏‏‏‏بالسدر» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وإسناده حسن.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ کی وفات کے بعد میں نے اپنی آنکھوں پر مصبر (ایک قسم کی دوائی) کا لیپ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مصبر چہرے کو صاف کرتا اور چمکاتا ہے۔ اسے صرف رات کے اوقات میں استعمال کر اور دن کو منہ سے اتار دیا کر۔ خوشبو اور مہندی والی کنگھی نہ کر۔ مہندی تو ایک قسم کا خضاب ہے۔“ میں نے عرض کیا۔ تو پھر کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں؟ فرمایا ”بیری کے پتوں کو پانی میں ڈال کر اس کے ساتھ۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

«‏‏‏‏بالسدر» رواه ابو داود والنسائي وإسناده حسن. ← جعلت على عيني صبرا بعد ان توفي ابو سلمة ← أُمِّ سَلَمَةَ

Hadith 949

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 950

وعنها رضي الله عنها ان امراة قالت: يا رسول الله إن ابنتي مات عنها زوجها وقد اشتكت عينها افنكحلها؟ قال: «‏‏‏‏لا» ‏‏‏‏ متفق عليه

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر وفات پا گیا ہے اور بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہو گئی ہے کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ فرمایا ”نہیں“ (بخاری و مسلم)

وعنها ان امراة

Hadith 950

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 951

وعن جابر رضي الله عنه قال: طلقت خالتي فارادت ان تجد نخلها فزجرها رجل ان تخرج فاتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏بلى فجدي نخلك فإنك عسى ان تصدقي او تفعلي معروفا» ‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اور اس نے دوران عدت اپنی کھجور کا پھل اتارنے کے ارادہ سے باہر جانا چاہا تو ایک آدمی نے ان کو ڈانٹا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں تم اپنے درختوں کا پھل توڑ سکتی ہو۔ عین ممکن ہے کہ تم صدقہ کرو یا اس ذریعہ سے کوئی دوسرا عمل خیر تمہارے ہاتھ سے انجام پا جائے۔“ (مسلم)

جَابِرٍ

Hadith 951

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 952

وعن فريعة بنت مالك ان زوجها خرج في طلب اعبد له فقتلوه. قالت: فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان ارجع إلى اهلي فإن زوجي لم يترك لي مسكنا يملكه ولا نفقة فقال: «‏‏‏‏نعم» ‏‏‏‏ فلما كنت في الحجرة ناداني فقال: «‏‏‏‏امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب اجله» ‏‏‏‏ قالت: فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا قالت: فقضى به بعد ذلك عثمان. اخرجه احمد والاربعة وصححه الترمذي والذهلي وابن حبان والحاكم وغيرهم.

سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس کا شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فریعہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے میکے لوٹ جانے کے متعلق دریافت کیا کیونکہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت میں کوئی گھر نہیں چھوڑا اور نہ ہی نفقہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! (تم اپنے میکے جا سکتی ہو)“ جب میں حجرے میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی اور فرمایا ”تم اپنے پہلے مکان ہی میں اس وقت تک رہو جب تک کہ تمہاری عدت پوری نہ ہو جائے۔“ فریعہ کا بیان ہے کہ میں نے پھر عدت کی مدت چار ماہ دس دن اسی سابقہ مکان میں پوری کی۔ فرماتی ہیں کہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس کے بعد اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔ اسے احمد اور چاروں نے بیان کیا ہے۔ ترمذی، ذھلی، ابن حبان اور حاکم وغیرہم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ

Hadith 952

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 953

وعن فاطمة بنت قيس قالت: قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إن زوجي طلقني ثلاثا واخاف ان يقتحم علي؟ فامرها فتحولت. رواه مسلم

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی میرے پاس بے جا طور پر گھس نہ آئے اور ظلم کرے۔ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت مرحمت فرما دی اور وہ وہاں سے منتقل ہو گئی۔ (مسلم)

قُلْتُ ← وعن فاطمة بنت قيس

Hadith 953

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 954

وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال:" لا تلبسوا علينا سنة نبينا عدة ام الولد إذا توفي عنها سيدها اربعة اشهر وعشر" رواه احمد وابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم واعله الدارقطني بالانقطاع.

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہم پر خلط ملط نہ کرو کہ جب ام ولد کا سردار وفات پا جائے تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی نے اسے انقطاع سے معلول کیا ہے۔

عشر" رواه احمد وابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم واعله الدارقطني ← لا تلبسوا علينا ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Hadith 954

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 955

وعن عائشة رضي الله عنها قالت:" إنما الاقراء الاطهار" اخرجه مالك في قصة بسند صحيح.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اقراء سے طہر ہی مراد ہیں۔ اسے مالک، احمد اور نسائی نے ایک قصہ میں سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے۔

إنما الاقراء الاطهار" اخرجه مالك في قصة بسند صحيح. ← وعن عائشة

Hadith 955

chevron_left Previous
1…101112…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter