Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 908

وعن ام سلمة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم لما تزوجها،‏‏‏‏ اقام عندها ثلاثا وقال: «‏‏‏‏إنه ليس بك على اهلك هوان،‏‏‏‏ إن شئت سبعت لك وإن سبعت لك سبعت لنسائي» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین روز قیام کیا اور فرمایا ”اپنے اہل کے نزدیک تو ذلیل نہیں ہے۔ اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے سات روز مقرر کر کے قیام کرتا ہوں۔ پھر میں اپنی باقی سب عورتوں کے ہاں بھی سات سات روز قیام کروں گا۔“ (مسلم)

أُمِّ سَلَمَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 908

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 909

وعن عائشة: ان سودة بنت زمعة وهبت يومها لعائشة،‏‏‏‏ وكان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يقسم لعائشة يومها ويوم سودة. متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان کا اپنا دن بھی اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا دن بھی تقسیم کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 909

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 910

وعن عروة قال: قالت عائشة رضي الله عنها: يا ابن اختي كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لا يفضل بعضنا على بعض في القسم من مكثه عندنا وكان قل يوم إلا وهو يطوف علينا جميعا فيدنو من كل امراة من غير مسيس حتى يبلغ التي هو يومها،‏‏‏‏ فيبيت عندها.رواه احمد وابو داود واللفظ له،‏‏‏‏ وصححه الحاكم. ولمسلم عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا صلى العصر دار على نسائه،‏‏‏‏ ثم يدنو منهن. الحديث.

سیدنا عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”اے میری بہن کے لخت جگر (بھانجے)! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کی باری کی تقسیم میں کسی کو کسی پر فوقیت و فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا اور کم ہی ایسا کوئی دن ہو گا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے جاتے نہ ہوں اور ہر بیوی کے پاس جاتے ضرور مگر کسی کو چھوتے تک نہ تھے۔ پھر اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور رات اس کے پاس بسر فرماتے۔“ احمد و ابوداؤد اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرما کر اپنی ساری بیویوں کے ہاں تشریف لے جاتے پھر ان سے قرب بھی حاصل کرتے۔

عُرْوَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 910

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 911

وعن عائشة رضي الله عنها: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يسال في مرضه الذي مات فيه: «‏‏‏‏اين انا غدا؟» . يريد يوم عائشة فاذن له ازواجه يكون حيث شاء فكان في بيت عائشة. متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مرض میں وفات پائی اس میں دریافت فرماتے تھے کہ ”کل میری باری کس کے ہاں ہے؟“ ان کے پیش نظر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا دن ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے اس کی اجازت دے دی کہ جہاں چاہیں رہیں۔ پس بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہی رہے۔ (بخاری و مسلم)

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 911

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 912

وعنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اراد سفرا اقرع بين نسائه،‏‏‏‏ فايتهن خرج سهمها،‏‏‏‏ خرج بها معه. متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ پس جس بیوی کے نام کا قرعہ نکلتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم سفر ہوتی۔ (بخاری و مسلم)

وعنها

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 912

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 913

وعن عبد الله بن زمعة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يجلد احدكم امراته جلد العبد» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی بھی اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے۔“ (بخاری)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 913

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 914

عن ابن عباس رضي الله عنهما: ان امراة ثابت بن قيس اتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: يا رسول الله ثابت بن قيس ما اعيب عليه في خلق ولا دين ولكني اكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اتردين عليه حديقته؟» ‏‏‏‏ فقالت: نعم،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «اقبل الحديقة وطلقها تطليقة» رواه البخاري وفي رواية له:" وامره بطلاقها". ولابي داود والترمذي وحسنه: ان امراة ثابت بن قيس اختلعت منه فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم عدتها حيضة. وفي رواية عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عند ابن ماجه: ان ثابت بن قيس كان دميما وان امراته قالت: لولا مخافة الله إذا دخل علي لبصقت في وجهه. ولاحمد من حديث سهل بن ابي حثمة: وكان ذلك اول خلع في الإسلام.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ٍ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور دین میں کوئی عیب نہیں لگاتی۔ لیکن اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟“ وہ بولی ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اے ثابت)! اپنا باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔“ (بخاری) ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے خلع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے عدت خلع ایک حیض مقرر فرمائی اور ابن ماجہ میں عمرو بن شعیب نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بدصورت کالے رنگ کا آدمی تھا اور اس کی بیوی نے کہا اگر مجھے خدا کا خوف و ڈر نہ ہوتا تو جس وقت وہ میرے پاس آیا تھا میں اس کے منہ پر تھوک دیتی۔ اور مسند احمد میں سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ اسلام میں یہ پہلا خلع تھا۔

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 914

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 915

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ابغض الحلال إلى الله الطلاق» ‏‏‏‏ رواه ابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم ورجح ابو حاتم إرساله.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے۔“ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 915

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 916

وعن ابن عمر انه طلق امراته وهي حائض في عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فسال عمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن ذلك؟ فقال: «‏‏‏‏مره فليراجعها ثم ليتركها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم إن شاء امسك بعد وإن شاء طلق قبل ان يمس فتلك العدة التي امر الله عز وجل ان تطلق لها النساء» . متفق عليه،‏‏‏‏ وفي رواية لمسلم: «‏‏‏‏مره فليراجعها ثم ليطلقها طاهرا او حاملا» .‏‏‏‏ وفي اخرى للبخاري:" وحسبت تطليقة". وفي رواية لمسلم قال ابن عمر: اما انت طلقتها واحدة او اثنتين فإن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم امرني ان اراجعها ثم امسكها حتى تحيض حيضة اخرى ثم امهلها حتى تطهر ثم اطلقها قبل ان امسها واما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امراتك. وفي رواية اخرى قال عبد الله بن عمر: فردها علي ولم يرها شيئا وقال: «‏‏‏‏إذا طهرت فليطلق او ليمسك» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں طلاق دے دی جبکہ وہ حالت حیض میں تھی۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اسے کہو کہ رجوع کر لے اور اسے اس وقت تک روک لے کہ طہر شروع ہو جائے۔ پھر ایام آئیں پھر طہر شروع ہو پھر اگر چاہے تو اس کے بعد روک لے اور اگر چاہے تو طلاق دے۔ صحبت و مجامعت کرنے سے پہلے۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اسے کہو ”کہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے چاہیئے کہ طلاق ایسی حالت میں دے کہ وہ پاک ہو یا حاملہ ہو۔“ اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”یہ ایک طلاق شمار ہو گی۔“ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر تو نے عورت کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ اس سے رجوع کر لوں۔ پھر اسے دوسرے حیض تک اپنے پاس رکھوں اور پھر اسے طہر تک مہلت دوں تب میں اسے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوں اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے ڈالیں تو، تو نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملے میں اپنے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عورت کو مجھے واپس کر دیا گیا اور اس طلاق کو کچھ بھی نہ سمجھا گیا اور فرمایا گیا کہ جب عورت ایام سے پاک ہو جائے تو (ابن عمر رضی اللہ عنہما) طلاق دے یا روک لے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 916

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 917

وعن ابن عباس رضى الله عنهما قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وابي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في امر كانت لهم فيه اناة فلو امضيناه عليهم فامضاه عليهم. رواه مسلم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور دور خلافت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں، ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے سہولت دی گئی تھی، پس چاہیئے کہ ہم اس کو نافذ کر دیں۔ لہذا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو ان پر جاری کر دیا۔ (مسلم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 917

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 918

وعن محمود بن لبيد رضي الله عنه قال: اخبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن رجل طلق امراته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال: «‏‏‏‏ايلعب بكتاب الله وانا بين اظهركم» ‏‏‏‏ حتى قام رجل فقال: يا رسول الله الا اقتله؟ رواه النسائي ورواته موثقون.

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے ڈالی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ”کیا اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔“ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی ”یا رسول اللہ! کیا میں اسے قتل نہ کر ڈالوں؟“ نسائی اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

«‏‏‏‏ايلعب بكتاب الله وانا بين اظهركم» حتى قام رجل فقال: ← رجل طلق امراته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم ← اخبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن محمود بن لبيد

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 918

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 919

وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: طلق ابو ركانة ام ركانة فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏راجع امراتك» ‏‏‏‏ فقال: إني طلقتها ثلاثا؟ قال: «‏‏‏‏قد علمت راجعها» رواه ابو داود وفي لفظ لاحمد: طلق ابو ركانة امراته في مجلس واحد ثلاثا فحزن عليها فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏فإنها واحدة» ‏‏‏‏ وفي سندهما ابن إسحاق وفيه مقال وقد روى ابو داود من وجه آخر احسن منه: ان ابا ركانة طلق امراته سهيمة البتة فقال: والله ما اردت بها إلا واحدة،‏‏‏‏ فردها إليه النبي صلى الله عليه وآله وسلم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کر لو۔“ ابورکانہ رضی اللہ عنہ بولے میں نے اسے تین طلاق دے دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ (ابوداؤد) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں۔ پھر اس پر پشیمان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”وہ تینوں طلاقیں ایک ہی ہیں۔“ ان دونوں روایتوں میں ابن اسحٰق ہے جس کے متعلق کلام ہے اور ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے جو اس سے بہتر ہے وہ یہ کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سھیمہ کو بالکل طلاق دے دی (یعنی تینوں طلاقیں) اور پھر کہا کہ بخدا میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام رکانہ رضی اللہ عنہا کو واپس لوٹا دیا۔

ابن عباس رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 919

chevron_left Previous
1…789…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter