Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 860

وعن سالم عن ابيه رضي الله عنه: ان غيلان بن سلمة اسلم،‏‏‏‏ وله عشر نسوة،‏‏‏‏ فاسلمن معه،‏‏‏‏ فامره النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان يتخير منهن اربعا رواه احمد والترمذي،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان والحاكم،‏‏‏‏ واعله البخاري وابو زرعة وابو حاتم.

سیدنا سالم نے اپنے باپ سے بیان کیا کہ غیلان بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں۔ ان سب نے غیلان کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیلان سے فرمایا کہ ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“ اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ بخاری، ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اسے معلول کہا ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ

Hadith 860

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 861

وعن ابن عباس قال: رد النبي صلى الله عليه وآله وسلم ابنته زينب على ابي العاص بن الربيع بعد ست سنين بالنكاح الاول ولم يحدث نكاحا. رواه احمد والاربعة إلا النسائي،‏‏‏‏ وصححه احمد والحاكم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کی طرف چھ سال بعد پہلے نکاح کے ساتھ واپس فرما دیا تھا۔ نیا نکاح نہیں کیا تھا۔ اسے احمد اور چاروں نے سوائے نسائی کے روایت کیا ہے اور احمد اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 861

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 862

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم رد ابنته زينب على ابي العاص بن الربيع بنكاح جديد. قال الترمذي حديث ابن عباس اجود إسنادا والعمل على حديث عمرو بن شعيب.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس جدید نکاح کر کے واپس بھیجا۔ ترمذی نے کہا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث سند کے اعتبار سے عمدہ ترین ہے مگر عمل عمرو بن شعیب سے مروی حدیث پر ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Hadith 862

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 863

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: اسلمت امراة فتزوجت فجاء زوجها فقال: يا رسول الله! إني كنت اسلمت،‏‏‏‏ وعلمت بإسلامي،‏‏‏‏ فانتزعها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من زوجها الآخر،‏‏‏‏ وردها إلى زوجها الاول. رواه احمد وابو داود وابن ماجه،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان والحاكم

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اسلام قبول کیا۔ پھر نکاح بھی کر لیا اتنے میں اس کا پہلا خاوند آ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا تھا میرے قبول اسلام کا اسے علم بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عورت) کو اس (دوسرے شوہر) سے چھین کر پہلے خاوند کی طرف اسے لوٹا دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔

اسلمت امراة فتزوجت فجاء زوجها فقال: ← وعن ابن عباس

Hadith 863

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 864

وعن زيد بن كعب بن عجرة عن ابيه قال: تزوج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العالية من بني غفار،‏‏‏‏ فلما دخلت عليه،‏‏‏‏ ووضعت ثيابها،‏‏‏‏ راى بكشحها بياضا،‏‏‏‏ فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏البسي ثيابك والحقي باهلك» ‏‏‏‏ وامر لها بالصداق. رواه الحاكم وفي إسناده جميل بن زيد وهو مجهول واختلف عليه في شيخه اختلافا كثيرا.

سیدنا زید بن کعب بن عجرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی عالیہ نامی خاتون سے نکاح کیا۔ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (خلوت میں) داخل ہوئی اور اس نے اپنا لباس اتارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پہلو میں پھلبہری (برص) کے داغ دیکھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ” اپنے کپڑے پہن لے اور اپنے میکے چلی جا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے حکم ارشاد فرمایا کہ ” مہر دے دیا جائے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں جمیل بن زید ایسا راوی ہے جو مجہول ہے اس کے استاد میں بہت اختلاف کیا گیا ہے۔

أَبِيهِ ← زيد بن كعب بن عجرة

Hadith 864

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 865

وعن سعيد بن المسيب ان عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: ايما رجل تزوج امراة،‏‏‏‏ فدخل بها،‏‏‏‏ فوجدها برصاء،‏‏‏‏ او مجنونة،‏‏‏‏ او مجذومة،‏‏‏‏ فلها الصداق بمسيسه إياها،‏‏‏‏ وهو له على من غره منها. اخرجه سعيد بن منصور ومالك وابن ابي شيبة ورجاله ثقات. وروى سعيد ايضا عن علي نحوه وزاد: او بها قرن،‏‏‏‏ فزوجها بالخيار،‏‏‏‏ فإن مسها فلها المهر بما استحل من فرجها.

سیدنا سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے ہمبستری کرے اور اسے معلوم ہو کہ وہ مرض برص میں مبتلا ہے یا دیوانی ہے یا کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہے تو خاوند کے اسے چھونے کی بنا پر حق مہر کی وہ مستحق ہے اور اس مہر کی رقم اس سے وصول کی جائے گی جس نے اسے دھوکہ دیا۔ اسے سعید بن منصور، مالک اور ابن ابی شیبہ نے نکالا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور سعید نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اس عورت کو مرض قرن ہو تو اس کا شوہر خود مختار ہو گا۔ اگر مرد نے اس عورت سے مباشرت کی ہو تو عورت کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے بدلہ میں مہر دینا ہو گا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،

Hadith 865

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 866

ومن طريق سعيد بن المسيب ايضا قال: قضى عمر في العنين ان يؤجل سنة. ورجاله ثقات.

اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔

قضى عمر في العنين ان يؤجل سنة. ورجاله ثقات. ← ومن طريق سعيد بن المسيب ايضا

Hadith 866

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 867

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ملعون من اتى امراة في دبرها» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي،‏‏‏‏ واللفظ له،‏‏‏‏ ورجاله ثقات،‏‏‏‏ لكن اعل بالإرسال.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص عورت سے اس کی دبر میں جماع کرے وہ لعنتی ہے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ مگر اس حدیث کو مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 867

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 868

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ينظر الله إلى رجل اتى رجلا،‏‏‏‏ او امراة في دبرها» .‏‏‏‏ رواه الترمذي والنسائي وابن حبان،‏‏‏‏ واعل بالوقف.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا جس نے کسی مرد یا عورت سے قوم لوط کا فعل کیا ہو۔“ اسے ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے روایت کی ہے اور اسے موقوف ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 868

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 869

وعن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره،‏‏‏‏ واستوصوا بالنساء خيرا،‏‏‏‏ فإنهن خلقن من ضلع،‏‏‏‏ وإن اعوج شيء في الضلع اعلاه،‏‏‏‏ فإن ذهبت تقيمه كسرته،‏‏‏‏ وإن تركته لم يزل اعوج،‏‏‏‏ فاستوصوا بالنساء خيرا» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري. ولمسلم: فإن استمتعت بها استمتعت وبها عوج،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن ذهبت تقيمها كسرتها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكسرها طلاقها.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسایہ کو اذیت نہ پہنچائے اور عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، بیشک ان کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی کا زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا ہوتا ہے۔ لہذا اگر کوئی اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے گا تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔ پس عورتوں کے حق میں ہمیشہ بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے اگر تو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھا سکے گا اور اگر تو نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 869

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 870

وعن جابر قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم في غزوة،‏‏‏‏ فلما قدمنا المدينة ذهبنا لندخل فقال: «‏‏‏‏امهلوا حتى تدخلوا ليلا،‏‏‏‏ (يعني عشاء) لكي تمتشط الشعثة،‏‏‏‏ وتستحد المغيبة» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏إذا اطال احدكم الغيبة فلا يطرق اهله ليلا» .‏‏‏‏

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم مدینہ واپس پہنچ کر اپنے اپنے گھروں میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذرا ٹھہر جاؤ۔ رات کے وقت گھروں میں داخل ہونا، رات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عشاء کا وقت تھا، تاکہ پراگندہ بالوں والی اپنے بالوں میں کنگھی وغیرہ کر لے اور جس کا خاوند گھر سے باہر غائب تھا وہ اپنے جسم کے زائد بالوں کی صفائی کر لے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے ”تم میں سے کوئی جب لمبی مدت کے بعد واپس آئے تو اچانک رات کے وقت گھر میں داخل نہ ہو۔“

جَابِرٍ

Hadith 870

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 871

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة الرجل يفضي إلى امراته،‏‏‏‏ وتفضي إليه ثم ينشر سرها» .‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور عورت اس کی طرف پہنچے۔ پھر وہ اس کا بھید ظاہر کرے۔“ (مسلم)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Hadith 871

chevron_left Previous
12345…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter