Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 932

وعن سليمان بن يسار رضي الله عنه قال: ادركت بضعة عشر رجلا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كلهم يقفون المولي. رواه الشافعي.

سیدنا سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سے زائد صحابہ کو پایا ہے کہ وہ ایلاء کرنے والے کو کھڑا کر کے پوچھتے تھے۔ اسے شافعی نے روایت کیا ہے۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 932

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 933

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كان إيلاء الجاهلية السنة والسنتين فوقت الله اربعة اشهر فإن كان اقل من اربعة اشهر فليس بإيلاء. اخرجه البيهقي.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جاہلیت کا ایلاء سال دو سال تک ہوتا تھا۔ اللہ عزوجل نے اس کی مدت چار ماہ مقرر فرما دی۔ اب اگر چار ماہ سے کم مدت ہو تو وہ ایلاء شمار نہیں ہو گا۔ (بیہقی)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 933

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 934

وعنه رضي الله عنه ان رجلا ظاهر من امراته ثم وقع عليها فاتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إني وقعت عليها قبل ان اكفر؟؟ قال: «‏‏‏‏فلا تقربها حتى تفعل ما امرك الله به» .‏‏‏‏ رواه الاربعة وصححه الترمذي ورجح النسائي إرساله ورواه البزار من وجه آخر عن ابن عباس وزاد فيه: «‏‏‏‏كفر ولا تعد» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر اس سے جماع کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے کفارہ کی ادائیگی سے پہلے ہی اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اب اس وقت تک اس کے پاس نہ جا جب تک اللہ کا ارشاد نہ پورا کر لو۔“ اسے چاروں نے روایت کیا اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور نسائی نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے اور بزار نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”کفارہ ادا کر اور پھر اس کا اعادہ نہ کر۔“

ابن عباس وزاد فيه: «‏‏‏‏كفر ولا تعد» ← رجح النسائي إرساله ورواه البزار من وجه آخر ← «‏‏‏‏فلا تقربها حتى تفعل ما امرك الله به» رواه الاربعة وصححه الترمذي

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 934

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 935

وعن سلمة بن صخر رضي الله عنه قال: دخل رمضان فخفت ان اصيب امراتي فظاهرت منها فانكشف لي شيء عليها ليلة فوقعت عليه فقال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏حرر رقبة» ‏‏‏‏ فقلت: ما املك إلا رقبتي قال: «‏‏‏‏فصم شهرين متتابعين» ‏‏‏‏ قلت: وهل اصبت الذي اصبت إلا من الصيام؟ قال: «‏‏‏‏اطعم فرقا من تمر ستين مسكينا» .‏‏‏‏ اخرجه احمد والاربعة إلا النسائي وصححه ابن خزيمة وابن الجارود.

سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوا۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ میں اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھوں گا۔ اس اندیشہ کے پیش نظر میں نے بیوی سے ظہار کر لیا۔ ایک چاندنی رات میں اس کے بدن کی کوئی چیز میرے سامنے کھل گئی تو میں اس سے مجامعت کر بیٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ ”ایک گردن (غلام) آزاد کر۔“ میں نے عرض کیا میں تو اپنی گردن کے سوا دوسری کسی گردن کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر پے در پے دو ماہ کے روزے رکھ۔“ میں نے عرض کیا اس مصیبت میں روزے ہی کی وجہ سے تو مبتلا ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا تو پھر کھجوروں کا ایک ٹوکرا ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ اسے احمد اور چاروں نے ماسوا نسائی کے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔

دخل رمضان فخفت ← سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 935

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 936

عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: سال فلان فقال: يا رسول الله ارايت ان لو وجد احدنا امراته على فاحشة كيف يصنع؟ إن تكلم تكلم بامر عظيم وإن سكت سكت على مثل ذلك؟ فلم يجبه فلما كان بعد ذلك اتاه فقال: إن الذي سالتك عنه قد ابتليت به فانزل الله الآيات في سورة النور فتلاهن عليه ووعظه وذكره واخبره ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الآخرة قال: لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها ثم دعاها فوعظها كذلك قالت: لا والذي بعثك بالحق إنه لكاذب فبدا بالرجل فشهد اربع شهادات بالله ثم ثنى بالمراة ثم فرق بينهما. رواه مسلم.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فلاں صاحب نے سوال کیا اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر ہم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کو فاحشہ فعل میں مبتلا پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ اسے دوسروں سے بیان کرتا ہے تو یہ نہایت قبیح فعل ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو یہ بھی نہایت قبیح فعل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر بعد میں جب وہ آیا تو اس نے کہا کہ تحقیق جو کچھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہے، میں خود ہی اس میں مبتلا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات نازل فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات اس کے سامنے پڑھیں اور اسے نصیحت فرمائی اور اللہ کی سزا یاد کرائی اور فرمایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ وہ بولا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اسے بھی اسی طرح نصیحت فرمائی۔ وہ بھی بولی نہیں اس خدا کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے یقیناً وہ مرد جھوٹا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد سے آغاز فرمایا۔ اس مرد نے چار قسمیں کھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے بھی قسمیں لیں اور دونوں کے درمیان تفریق فرما دی۔ (مسلم)

سال فلان فقال: ← ابن عمر رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 936

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 937

وعنه رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال للمتلاعنين: «حسابكما على الله،‏‏‏‏ احدكما كاذب،‏‏‏‏ لا سبيل لك عليها» ‏‏‏‏ قال: يا رسول الله! مالي؟ فقال: «‏‏‏‏إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك ابعد لك منها» متفق عليه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے زوجین سے فرمایا ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ دونوں میں سے ایک تو جھوٹا ہے، اب تیرا اس عورت پر کوئی حق نہیں۔“ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرا مال مجھے دلوا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تو نے اس پر سچا الزام لگایا ہے تو پھر یہ مال اس لذت صحبت کا معاوضہ ہے جو حلال کر کے تو نے اس سے حاصل کی ہے اور اگر تو نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو مال تجھ سے اور بھی دور ہو گیا۔“ (بخاری و مسلم)

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 937

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 938

وعن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «ابصروها فإن جاءت به ابيض سبطا فهو لزوجها وإن جاءت به اكحل جعدا فهو للذي رماها به» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورت پر نظر رکھو اگر اس نے سفید رنگ کا سیدھے بالوں والا بچہ جنم دیا تو وہ اس کے شوہر کا ہے اور اگر اس نے ایسا بچہ جنم دیا جس کی آنکھیں سرمگیں اور بال گھونگھریالے ہوں تو پھر وہ بچہ اس کا ہو گا جس کے متعلق شوہر نے اس پر تہمت لگائی۔“ (بخاری و مسلم)

أَنَسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 938

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 939

وعن ابن عباس رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم امر رجلا ان يضع يده عند الخامسة على فيه وقال: «‏‏‏‏إنها موجبة» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي ورجاله ثقات.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ”وہ پانچویں قسم کے وقت قسم کھانے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ پانچویں قسم ہلاکت و بربادی کی موجب ہے۔“ ابوداؤد و نسائی اس کے راوی ثقہ ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 939

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 940

وعن سهل بن سعد رضي الله عنه في قصة المتلاعنين قال: فلما فرغا من تلاعنهما قال: كذبت عليها يا رسول الله إن امسكتها فطلقها ثلاثا قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. متفق عليه.

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کرنے والوں کے قصہ میں مروی ہے کہ جب دونوں لعان سے فارغ ہو گئے تو مرد بولا اے اللہ کے رسول! اور اگر میں اب اسے روک لوں گویا میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے پھر اس نے اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم ارشاد فرماتے، تین طلاقیں دے دیں۔ (بخاری و مسلم)

كذبت عليها ← فلما فرغا من تلاعنهما ← وعن سهل بن سعد في قصة المتلاعنين

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 940

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 941

وعن ابن عباس ان رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إن امراتي لا ترد يد لامس قال: «‏‏‏‏غربها» ‏‏‏‏ قال: اخاف ان تتبعها نفسي قال: «‏‏‏‏فاستمتع بها» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والترمذي والبزار ورجاله ثقات واخرجه النسائي من وجه آخر عن ابن عباس بلفظ قال: «‏‏‏‏طلقها» قال: لا اصبر عنها قال: «‏‏‏‏فامسكها» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول! میری بیوی کسی کا ہاتھ نہیں جھٹکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے دور کر دو۔“ وہ بولا مجھے اندیشہ اور خوف ہے کہ میرا نفس اس کے پیچھے لگے گا۔ تو فرمایا ”اس سے فائدہ اٹھاتا رہ۔“ اسے ابوداؤد اور بزار نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نسائی نے دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے اس کے الفاظ ہیں کہ ”اسے طلاق دے دو۔“ وہ مرد بولا میں تو اس کے بغیر صبر نہیں کر سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”پھر اسے روکے رکھو۔“

«‏‏‏‏فامسكها» ← لاَ أَصْبِرُ عَنْهَا ← طلقها ← ابن عباس بلفظ ← رجاله ثقات واخرجه النسائي من وجه آخر ← الترمذي والبزار ← «‏‏‏‏فاستمتع بها» رواه ابو داود ← أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي ← غَرِّبْهَا ← إن امراتي لا ترد يد لامس ← ابن عباس ان رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 941

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 942

وعن ابي هريرة رضي الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول حين نزلت آية المتلاعنين: «ايما امراة ادخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولم يدخلها الله جنته وايما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله عنه وفضحه على رؤوس الاولين والآخرين» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وابن ماجه وصححه ابن حبان.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کرنے والوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”جو عورت کسی قوم میں ایسا بچہ لا داخل کرے جو اس میں سے نہ ہو تو اس عورت کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں اور اللہ تعالیٰ ایسی عورت کو ہرگز اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا اور جس مرد نے اپنے بچہ کا انکار کیا جبکہ وہ بچہ اس کی طرف دیکھ رہا ہو تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس سے پردہ فرما لے گا اور اسے اپنی پہلی اور پچھلی ساری مخلوق کے سامنے رسوا و ذلیل کرے گا۔“ اسے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 942

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 943

وعن عمر رضي الله عنه قال:" من اقر بولده طرفة عين فليس له ان ينفيه" اخرجه البيهقي وهو حسن موقوف.

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے ایک لمحہ بھر اپنے بچہ کا اقرار کیا پھر اسے اس کی نفی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور یہ روایت حسن موقوف ہے۔

عُمَرَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 943

chevron_left Previous
1…91011…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter