Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 780

وعن سمرة بن جندب رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من احاط حائطا على ارض فهي له» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وصححه ابن الجارود.

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے غیر مملوکہ زمین کے اردگرد دیوار بنا لی، اتنی زمین اسی کی ملکیت ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن جارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

سمرة بن جندب رضى الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 780

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 781

وعن عبد الله بن مغفل ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من حفر بئرا فله اربعون ذراعا عطنا لماشيته» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف.

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کہیں کنواں کھودے تو وہاں مال مویشی باندھنے کیلئے چالیس ہاتھ زمین اس کی ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 781

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 782

وعن علقمة بن وائل عن ابيه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم اقطعه ارضا بحضرموت. رواه ابو داود والترمذي وصححه ابن حبان.

سیدنا علقمہ بن وائل نے اپنے باپ وائل رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرموت میں زمین بطور جاگیر عطا فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

أَبِيهِ ← وعن علقمة بن وائل

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 782

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 783

وعن ابن عمر رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم اقطع الزبير حضر فرسه فاجرى الفرس حتى قام ثم رمى بسوطه فقال: «اعطوه حيث بلغ السوط» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وفيه ضعف.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھوڑے کی دوڑ کے برابر زمین جاگیر کے طور پر عنایت فرمائی۔ جب ان کا گھوڑا ٹھہر گیا تو انہوں نے اپنا کوڑا آگے پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہاں تک کوڑا گرا وہاں تک زبیر کی زمین ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مگر اس میں ضعف ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 783

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 784

وعن رجل من الصحابة رضي الله عنه قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسمعته يقول: «‏‏‏‏الناس شركاء في ثلاثة: في الكلإ والماء والنار» .‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود ورجاله ثقات.

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں۔ گھاس، پانی اور آگ۔“ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں۔

غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← رجل من الصحابة

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 784

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 785

عن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا مات ابن آدم انقطع عنه عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية او علم ينتفع به او ولد صالح يدعو له» . رواه مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب اسے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو، صالح اولاد جو مرنے والے کیلئے دعا کرے۔“ (مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 785

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 786

وعن ابن عمر قال: اصاب عمر رضي الله عنه ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستامره فيها فقال: يا رسول الله إني اصبت ارضا بخيبر لم اصب مالا قط هو انفس عندي منه فقال: «‏‏‏‏إن شئت حبست اصلها وتصدقت بها» ‏‏‏‏ قال: فتصدق بها عمر: انه لا يباع اصلها ولا يورث ولا يوهب فتصدق بها في الفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول مالا.متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية للبخاري: تصدق باصلها لا يباع ولا يوهب ولكن ينفق ثمره.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے علاقہ میں زمین ملی تھی۔ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ طلب کرنے کیلئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں کچھ زمین حاصل ہوئی ہے ایسی نفیس و قیمتی کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسی زمین مجھے نہیں ملی۔ میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر چاہو تو اصل کو اپنے پاس روک لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔“ راوی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو فقیروں، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے میں اور راہ خدا میں، راہ چلتے مسافروں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے وقف کر دیا اور وصیت بھی کر دی کہ اس کا منتظم و نگہبان معروف طریقہ کے مطابق خود بھی کھا سکتا ہے اور احباب و رفقاء کو بھی کھلا سکتا ہے۔ مگر مال کو ذخیرہ بنا کر نہ رکھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے اصل کو صدقہ کر دیا (یعنی وقف کر دیا) جو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ ھبہ کیا جائے گا لیکن اس کی پیداوار، راہ خدا میں خرچ کی جائے گی۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 786

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 787

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عمر على الصدقة الحديث وفيه: «‏‏‏‏واما خالد فقد احتبس ادراعه واعتاده في سبيل الله» . متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو صدقات کی وصولی پر مقرر فرما کر بھیجا۔ (الحدیث) اور اس میں ہے کہ ”رہا خالد (رضی اللہ عنہ) تو انہوں نے اپنی تمام زرہیں اللہ کے راستے میں وقف کر دی ہیں۔“ (بخاری ومسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 787

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 788

عن النعمان بن بشير: ان اباه اتى به رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «اكل ولدك نحلته مثل هذا؟» ‏‏‏‏ فقال: لا،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «فارجعه» .‏‏‏‏ وفي لفظ: فانطلق ابي إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ليشهده على صدقتي فقال: «‏‏‏‏افعلت هذا بولدك كلهم؟» ‏‏‏‏ قال: لا قال: «‏‏‏‏اتقوا الله واعدلوا بين اولادكم» ‏‏‏‏ فرجع ابي فرد تلك الصدقة. متفق عليه. وفي رواية لمسلم قال: «‏‏‏‏فاشهد على هذا غيري» ‏‏‏‏ ثم قال: «ايسرك ان يكونوا لك في البر سواء؟» قال: بلى،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏فلا إذن» .

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنا ذاتی غلام اپنے اس بیٹے کو ہبہ کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح (غلام) ہبہ کیا ہے؟“ اس نے کہا نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر اسے واپس کر لو“ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ میرے والد صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ میرے ہبہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ”کیا تو نے ایسا اپنی ساری اولاد کے ساتھ کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کرو“ چنانچہ میرے والد نے وہ ہبہ واپس کر لیا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر میرے سوا کسی اور کو اس پر گواہ بنا لو۔“ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تیری ساری اولاد تیرے ساتھ یکساں بھلائی کا سلوک کرے؟“ وہ بولا کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر ایسا مت کر۔“

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 788

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 789

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏العائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه» . متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏ليس لنا مثل السوء الذي يعود في هبته كالكلب يقيء ثم يرجع في قيئه» .

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو خود قے کرتا ہے اور پھر اسے کھا لیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ” ہمارے لیے اس سے بری مثال اور کوئی نہیں کہ جو شخص اپنے ہبہ کو دے کر واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی مانند ہے جو خود ہی قے کرتا ہے اور پھر اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 789

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 790

وعن ابن عمر وابن عباس عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يحل لرجل مسلم ان يعطي العطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطي ولده» .‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی مسلم مرد کے لیے حلال نہیں ہے کہ عطیہ دے کر واپس لے بجز والد کے کہ وہ اپنی اولاد کو دئیے گئے عطیہ کو واپس لے سکتا ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کی ہے اور ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 790

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 791

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقبل الهدية ويثيب عليها.رواه البخاري.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ و تحفہ قبول فرما لیتے تھے اور اس کے بدلے میں کچھ عنایت بھی فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری)

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 791

chevron_left Previous
1…1112131415
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter