بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 768
عن حنظلة بن قيس رضي الله عنه قال: سالت رافع بن خديج عن كراء الارض بالذهب والفضة؟ فقال: لا باس به إنما كان الناس يؤاجرون على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على الماذيانات واقبال الجداول واشياء من الزرع فيهلك هذا ويسلم هذا ويسلم هذا ويهلك هذا ولم يكن للناس كراء إلا هذا فلذلك زجر عنه فاما شيء معلوم مضمون فلا باس به. رواه مسلم. وفيه بيان لما اجمل في المتفق عليه من إطلاق النهي عن كراء الارض.
سیدنا حنظلہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سونے اور چاندی کے عوض زمین ٹھیکے پر دینا کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ اپنی زمین اس شرط پر دیا کرتے تھے کہ جو کچھ پانی کی نالیوں اور پانی کے بہاؤ میں پیدا ہو گا اور کچھ حصہ باقی کھیتی کا وہ تو میں لوں گا۔ پھر کبھی ایسا ہوتا یہ حصہ تباہ و برباد ہو جاتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ اس حصہ میں کچھ پیداوار ہی نہ ہوتی اور لوگوں کو ٹھیکہ اسی صورت میں حاصل ہوتا تھا۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔ پس اگر کوئی چیز مقرر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (مسلم) اور اس میں اس کا بھی بیان ہے جسے بخاری و مسلم نے مجمل بیان کیا ہے کہ زمین ٹھیکے پر نہ دیا کرو۔
حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ،
Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 768
