Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 603

وعن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال: حملت إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والقمل يتناثر على وجهي فقال:«‏‏‏‏ما كنت ارى الوجع بلغ بك ما ارى اتجد شاة؟» ‏‏‏‏ قلت: لا،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏فصم ثلاثة ايام،‏‏‏‏ او اطعم ستة مساكين،‏‏‏‏ لكل مسكين نصف صاع» . متفق عليه

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم کو بیماری نے اس حالت کو پہنچا دیا ہو گا جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تیرے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین دن روزہ رکھ یا چھ مسکینوں کو آدھا صاع ہر مسکین کے حساب سے کھانا دے۔“ (بخاری و مسلم)

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 603

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 604

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: لما فتح الله على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مكة قام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال: «‏‏‏‏إن الله حبس عن مكة الفيل وسلط عليها رسوله والمؤمنين وإنها لم تحل لاحد كان قبلي وإنما احلت لي ساعة من نهار وإنها لم تحل لاحد بعدي فلا ينفر صيدها ولا يختلى شوكها ولا تحل ساقطتها إلا لمنشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما ان يفدي وإما ان يقيد» .‏‏‏‏ فقال العباس: إلا الإذخر يا رسول الله فإنا نجعله في قبورنا وبيوتنا فقال: «إلا الإذخر» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی فتح دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ سے روک دیا مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا اور تحقیق مجھ سے پہلے مکہ کسی پر حلال نہ تھا مگر میرے لئے دن کی ایک گھڑی حلال کر دیا گیا ہے اور یقیناً میرے بعد یہ کسی کیلئے حلال نہیں ہو گا یعنی نہ اس کا شکار بھگایا جائے، نہ اس کا کوئی کانٹے دار درخت کاٹا جائے اور نہ ہی اس کی گری ہوئی چیز سوائے شناخت کرنے والے کے کسی پر حلال ہے اور جس کا کوئی آدمی مارا جائے وہ دو بہتر سوچے ہوئے کاموں میں سے ایک کام میں اختیار رکھتا ہے۔“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے سوا، کیونکہ اسے ہم اپنی قبروں اور چھتوں میں رکھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوائے اذخر کے، (یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے۔)“ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 604

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 605

وعن عبد الله بن زيد بن عاصم رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن إبراهيم حرم مكة ودعا لاهلها وإني حرمت المدينة كما حرم إبراهيم مكة وإني دعوت في صاعها ومدها بمثلي ما دعا به إبراهيم لاهل مكة» . متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تحقیق ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت دی اور اس کے بسنے والوں کیلئے دعا کی اور بیشک میں نے مدینہ کو حرمت دی۔ جس طرح ابراھیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور یقیناً میں نے مدینہ کے ”صاع“ اور اس کے ”مد“ کے متعلق ابراھیم علیہ السلام کی طرح دعا کی جو مکہ میں بسنے والوں کے متعلق تھی۔“ (بخاری و مسلم)

عبد الله بن زيد بن عاصم

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 605

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 606

وعن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ حرم ہے عیر سے ثور کے درمیان۔“ (مسلم)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 606

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 607

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حج فخرجنا معه حتى إذا اتينا ذا الحليفة فولدت اسماء بنت عميس فقال: «اغتسلي واستثفري بثوب واحرمي» ‏‏‏‏ وصلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به على البيداء اهل بالتوحيد «‏‏‏‏لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ‏‏‏‏ حتى إذا اتينا البيت استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى اربعا ثم نفر إلى مقام إبراهيم فصلى ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرا «‏‏‏‏ابدا بما بدا الله به» ‏‏‏‏ فرقى الصفا حتى راى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال: «‏‏‏‏لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده انجز وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده» ‏‏‏‏ ثم دعا بين ذلك ثلاث مرات ثم نزل إلى المروة حتى إذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى حتى إذا صعدتا مشى حتى اتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا فذكر الحديث وفيه: فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فاهلوا بالحج وركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس فاجاز حتى اتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس امر بالقصواء فرحلت له فاتى بطن الوادي فخطب الناس ثم اذن ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى اتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص ودفع وقد شنق للقصواء الزمام حتى إن راسها ليصيب مورك رحله ويقول بيده اليمنى: «‏‏‏‏ايها الناس السكينة السكينة» ‏‏‏‏ كلما اتى حبلا من الحبال ارخى لها قليلا حتى تصعد حتى اتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء باذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح باذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى اتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعا وكبر وهلل فلم يزل واقفا حتى اسفر جدا فدفع قبل ان تطلع الشمس حتى اتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج على الجمرة الكبرى حتى اتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فافاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر. رواه مسلم مطولا.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غسل کر اور کسی کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی اور قصواء (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام) پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کے برابر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلا شک سب تعریفیں اور انعامات تیرے ہیں۔ بادشاہت بھی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ رکن (اسود) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا، تین بار رمل کیا اور چار بار معمول کے مطابق چلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور نماز پڑھی پھر رکن (حجر اسود) کی طرف واپس آئے اور اس کو بوسہ دیا۔ پھر مسجد الحرام کے دروازہ سے صفا کی طرف نکلے جب صفا کے نزدیک پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ ”تحقیق صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ (پھر فرمایا) ”میں شروع کرتا ہوں (سعی کو) اس مقام سے کہ جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا۔ پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ بادشاہی اور سب خوبیاں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی جماعت کو اکیلے اسی نے شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان تین بار دعا کی۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف گئے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں وادی کے نشیب میں پڑے تو دوڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشیب سے اوپر چڑھے اور مروہ کی طرف چلے۔ مروہ پر وہی کچھ کیا جو صفا پر کیا تھا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ جب ترویہ کا دن (8 ذی الحج) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے پھر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو وہاں سے روانہ ہوئے اور مزدلفہ سے گزرتے ہوئے عرفات میں پہنچے تو خیمہ میں اترے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء پر پالان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وادی کے درمیان میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا پھر اذان دلوائی پھر اقامت کہلوائی تو نماز ظہر ادا کی پھر اقامت کہلوائی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ پھر سوار ہو کر ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور راہ چلنے والوں کو اپنے سامنے کر لیا اور اپنا رخ قبلہ کی جانب کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹھہرے رہے کہ سورج غروب ہونے لگا اور تھوڑی سی زردی ختم ہو گئی حتیٰ کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء کی باگ اتنی تنگ کر رکھی تھی کہ اس کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے اگلے ابھرے ہوئے حصے کو پہنچتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے ”اے لوگو! تسکین و اطمینان اختیار کرو“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ٹیلے پر آتے تو باگ تھوڑی سی ڈھیلی کر دیتے کہ وہ اوپر چڑھ جاتی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ پھر لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ جب صبح کا وقت ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت سے فجر کی نماز پڑھی۔ پھر سوار ہو کر مشعر حرام پر آئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے دعا کی اور تکبیر و تہلیل کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اچھی طرح سفیدی ظاہر ہونے تک ٹھہرے رہے پھر سورج نکلنے سے پہلے واپس ہو کر وادی محسر کے نشیب میں آ گئے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا۔ پھر درمیانی راستہ پر چلے جو جمرہ کبریٰ (بڑا شیطان) پر پہنچتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے تھے، ان میں سے ہر کنکری خذف (لوبیے کے دانے) کے برابر تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف گئے اور وہاں قربانی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 607

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 608

وعن خزيمة بن ثابت رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا فرغ من تلبيته في حج او عمرة سال الله رضوانه والجنة واستعاذ برحمته من النار. رواه الشافعي بإسناد ضعيف.

سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرہ میں تلبیہ (یعنی لبیک) کہنے سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضامندی اور جنت طلب کرتے اور اس کی رحمت کے ساتھ آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 608

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 609

وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏نحرت هاهنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم ووقفت هاهنا وعرفة كلها موقف ووقفت ههنا وجمع كلها موقف» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے قربانی اس جگہ کی ہے، مگر منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے۔ لہذا تم اپنے اپنے ٹھہرنے کے مقامات پر قربانی کر دو اور میں نے اس جگہ قیام کیا ہے مگر عرفات کا سارا میدان جائے قیام ہے اور میں نے یہاں قیام کیا مگر مزدلفہ سارا جائے قیام ہے۔“ (مسلم)

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 609

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 610

وعن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم لما جاء إلى مكة دخلها من اعلاها وخرج من اسفلها.متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو اس موقع پر مکہ کی بالائی جانب سے داخل ہوئے اور جب واپس جانے کے لیے مکہ سے نکلے تو زیریں حصے سے نکلے۔ (بخاری و مسلم)

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 610

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 611

وعن ابن عمر رضي الله عنهما انه كان لا يقدم مكة إلا بات بذى طوى حتى يصبح ويغتسل ويذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم. متفق عليه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ میں آتے تو ذی طویٰ میں صبح تک شب بسر کرتے اور غسل کرتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

ذَلِكَ

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 611

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 612

وعن ابن عباس رضي الله عنهما انه كان يقبل الحجر الاسود ويسجد عليه. رواه الحاكم مرفوعا والبيهفي موقوفا.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس کے سامنے سجدہ کرتے۔ اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے۔

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 612

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 613

وعنه رضي الله عنه قال: امرهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان يرملوا ثلاثة اشواط ويمشوا اربعا ما بين الركنين. متفق عليه.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں رکنوں کے درمیان چار چکر عام معمول کے مطابق چل کر لگائیں۔ (بخاری و مسلم)

وعنه

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 613

بلوغ المرام · كتاب الحج ‹ باب · حديث 614

وعن ابن عمر رضي الله عنهما انه كان إذا طاف بالبيت الطواف الاول خب ثلاثا ومشى اربعا. وفي رواية: رايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا طاف في الحج او العمرة اول ما يقدم فإنه يسعى ثلاثة اطواف بالبيت ويمشي اربعة. متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی بیت اللہ کا طواف قدوم (پہلا طواف) کرتے تو اس کے پہلے تین چکروں میں پہلوانوں کی سی چال چلتے اور (باقی) چار میں آہستہ چلتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں) میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج یا عمرہ کے لئے بھی جب طواف قدوم کیا تو اس کے پہلے تین چکر دوڑ کر لگائے اور باقی چار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ چال چلتے۔ (متفق علیہ)

Bulugh Al Maram · Hajj book › Chapter · Hadith 614

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter