Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 540

وعن ابن عباس رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم. رواه البخاري.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ (بخاری)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 540

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 541

وعن شداد بن اوس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم اتى على رجل بالبقيع وهو يحتجم في رمضان فقال: «‏‏‏‏افطر الحاجم والمحجوم» .‏‏‏‏ رواه الخمسة إلا الترمذي وصححة احمد وابن خزيمة وابن حبان

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو رمضان میں پچھنے لگوا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سینگی (پچھنے) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ احمد، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،

Hadith 541

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 542

وعن انس بن مالك رضي الله عنه قال: اول ما كرهت الحجامة للصائم ان جعفر بن ابي طالب احتجم وهو صائم فمر به النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏افطر هذان» ثم رخص النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعد في الحجامة للصائم. وكان انس يحتجم وهو صائم. رواه الدارقطني وقواه.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے روزہ دار کے لئے سینگی لگوانا اس لئے مکروہ ہوئی کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے روزہ کی حاجت میں سینگی لگوائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کی رخصت دے دی اور انس رضی اللہ عنہ روزہ کی حالت میں سینگی لگواتے تھے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کو قوی کہا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Hadith 542

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 543

وعن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم اكتحل في رمضان وهو صائم. رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف وقال الترمذي: لا يصح في هذا الباب شيء.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں روزہ کی حالت میں سرمہ لگایا۔ اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔

عَائِشَةَ

Hadith 543

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 544

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من نسى وهو صائم فاكل او شرب فليتم صومه فإنما اطعمه الله وسقاه» ‏‏‏‏ متفق عليه وللحاكم: «‏‏‏‏من افطر في رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة» .‏‏‏‏ وهو صحيح.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو روزہ دار بھول کر کچھ کھایا پی لے تو اسے چاہیئے کہ اپنا روزہ پورا کر لے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے“ (بخاری و مسلم) اور امام حاکم سے یوں روایت ہے کہ ”اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں۔“ اور یہ حدیث صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 544

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 545

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء» .‏‏‏‏ رواه الخمسة واعله احمد وقواه الدارقطني.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جسے قے آ جائے تو اس پر (روزہ کی) قضاء نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضاء ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور امام احمد نے اس کو معلول کہا ہے اور امام دارقطنی نے اسے قوی کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 545

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 546

وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خرج عام الفتح إلى مكة في رمضان فصام حتى بلغ كراع الغميم فصام الناس ثم دعا بقدح من ماء فرفعه حتى نظر الناس إليه ثم شرب فقيل له بعد ذلك إن بعض الناس قد صام؟ فقال: «‏‏‏‏اولئك العصاة،‏‏‏‏ اولئك العصاة» ‏‏‏‏ وفي لفظ: فقيل له إن الناس قد شق عليهم الصيام وإنما ينظرون فيما فعلت فدعا بقدح من ماء بعد العصر فشرب. رواه مسلم.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کی طرف رمضان میں نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کراع الغمیم (ایک جگہ کا نام) پہنچے۔ اس دن لوگوں نے بھی روزہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اس کو اتنا اونچا کیا کہ لوگوں نے دیکھ لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہی لوگ نافرمان ہیں، یہی لوگ نافرمان ہیں۔ “ اور ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں کو روزہ نے مشقت میں ڈال دیا ہے اور اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ وہ آپ کے عمل کا انتظار کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پی لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Hadith 546

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 547

وعن حمزة بن عمرو الاسلمي رضي الله عنه انه قال: يا رسول الله اجد بي قوة على الصيام في السفر فهل علي جناح؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏هي رخصة من الله فمن اخذ بها فحسن ومن احب ان يصوم فلا جناح عليه» . رواه مسلم واصله في المتفق عليه من حديث عائشة،‏‏‏‏ ان حمزة بن عمرو سال.

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں (اگر میں روزہ رکھ لوں) تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اس کو لے لے تو بہتر ہے اور جو کوئی روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔“ (مسلم) اور اس حدیث کا اصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی متفق علیہ حدیث میں یوں ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔

حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ

Hadith 547

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 548

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: رخص للشيخ الكبير ان يفطر ويطعم عن كل يوم مسكينا ولا قضاء عليه. رواه الدراقطني والحاكم وصححاه.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بڑی عمر والے بوڑھے کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ افطار کرے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور اس پر قضاء نہیں ہے۔ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔

كل يوم مسكينا ولا قضاء عليه. رواه الدراقطني والحاكم وصححاه. ← رخص للشيخ الكبير ان يفطر ويطعم ← وعن ابن عباس

Hadith 548

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 549

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: هلكت يا رسول الله قال: «‏‏‏‏وما اهلكك؟» ‏‏‏‏ قال: وقعت على امراتي في رمضان فقال: «‏‏‏‏هل تجد ما تعتق رقبة؟» ‏‏‏‏ قال: لا،‏‏‏‏ قال: «فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين؟» ‏‏‏‏ قال: لا،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏فهل تجد ما تطعم ستين مسكينا؟» ‏‏‏‏ قال: لا،‏‏‏‏ ثم جلس فاتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعرق فيه تمر فقال:«‏‏‏‏تصدق بهذا» ‏‏‏‏ فقال: اعلى افقر منا؟ فما بين لابتيها اهل بيت احوج منا فضحك النبي صلى الله عليه وآله وسلم حتى بدت انيابه ثم قال: «‏‏‏‏اذهب فاطعمه اهلك» .‏‏‏‏ رواه السبعة واللفظ لمسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کس چیز نے تجھے ہلاک کیا؟“ اس نے کہا میں رمضان میں اپنی عورت سے مباشرت کر بیٹھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تجھ میں اتنی طاقت ہے کہ ایک گردن کو آزاد کر دے؟“ اس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے متواتر روزے رکھے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تیرے پاس اتنا مال ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے؟“ اس نے کہا نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان کو خیرات کر دو۔“ اس نے کہا کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (خیرات کروں)؟ کیونکہ دو سنگلاخ پہاڑوں (مدینہ) کے مابین کوئی گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاؤ اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ اسے ساتوں نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: هلكت ← وعن ابي هريرة

Hadith 549

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 550

وعن عائشة وام سلمة رضي الله عنهما،‏‏‏‏ ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يصبح جنبا من جماع ثم يغتسل ويصوم. متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد مسلم في حديث ام سلمة:" ولا يقضي".

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جماع سے جنبی ہوتے تو صبح ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور روزہ رکھتے۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ زائد کیا کہ قضاء نہیں دیتے تھے۔

عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ،

Hadith 550

بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 551

وعن عائشة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من مات وعليه صيام صام عنه وليه» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزہ لازم ہو تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے۔“ (بخاری و مسلم)

عَائِشَةَ

Hadith 551

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter