Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 243

وعن سعد بن طارق الاشجعي رضي الله عنه قال: قلت لابي: يا ابت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وابي بكر وعمر وعثمان وعلي افكانوا يقنتون في الفجر؟ قال: اي بني محدث. رواه الخمسة إلا ابا داود.

سیدنا سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ سے مروی ہے (کہتے ہیں کہ) ” میں نے اپنے والد سے استفسار کیا کہ ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ کیا یہ سب نماز فجر میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بیٹا! یہ نئی بات ہے۔“ اس کو ابوداؤد کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔

سعد بن طارق الأشجعي،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 243

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 244

وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما انه قال: علمني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كلمات اقولهن في قنوت الوتر: «‏‏‏‏اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما اعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» .‏‏‏‏ رواه الخمسة. وزاد الطبراني والبيهقي: «‏‏‏‏ولا يعز من عاديت» .‏‏‏‏ زاد النسائي من وجه آخر في آخره: «‏‏‏‏وصلى الله تعالى على النبي» .‏‏‏‏ وللبيهقي عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمنا دعاء ندعو به في القنوت من صلاة الصبح. وفي سنده ضعف.

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات ایسے سکھائے ہیں جنہیں میں وتروں میں (دعائے قنوت کے طور پر) پڑھتا ہوں «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» ” اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرے میں شامل فرما جنھیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما دے جنھیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت نازل فرما اور جس برائی کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ آقا۔ ہمارے پروردگار! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“ اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ طبرانی اور بیہقی نے، «ولا يعز من عاديت» کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ نیز نسائی نے ایک دوسرے طریق سے اس دعا کے آخر میں «وصلى الله تعالى على النبي» کا بھی اضافہ روایت کیا ہے۔ اور بیہقی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دعا سکھاتے تھے جسے ہم صبح کی نماز میں دعائے قنوت کی صورت میں مانگتے تھے۔ اس کی سند میں ضعف ہے۔

الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 244

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 245

وعن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا سجد احدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه» . اخرجه الثلاثة،‏‏‏‏ وهو اقوى من حديث وائل بن حجر: رايت النبي صلى الله عليه وآله وسلم: إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه. اخرجه الاربعة. فإن للاول شاهدا من حديث ابن عمر رضي الله تعالى عنه صححه ابن خزيمة وذكره البخاري معلقا موقوفا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے اور گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔“ (نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ) اور یہ حدیث وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے مروی اس حدیث سے قوی تر ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ میں جاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے تھے۔ اس کو چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ پہلی حدیث کا شاہد ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقا موقوف بیان کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 245

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 246

وعن ابن عمر رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كان إذا قعد للتشهد وضع يده اليسرى على ركبتيه اليسرى واليمنى على اليمنى وعقد ثلاثا وخمسين واشار بإصبعه السبابة.رواه مسلم. وفي رواية له: وقبض اصابعه كلها واشار بالتي تلي الإبهام.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کیلئے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی گرہ دیتے (یعنی تریپن کا عدد بناتے) اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔ (مسلم) اور ایک روایت میں ہے جسے مسلم، ہی نے روایت کیا ہے کہ اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 246

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 247

وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: التفت إلينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏إذا صلى احدكم فليقل: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من الدعاء اعجبه إليه فيدعو» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري. وللنسائي: كنا نقول قبل ان يفرض علينا التشهد. ولاحمد: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم علمه التشهد وامره ان يعلمه الناس. ولمسلم عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمنا التشهد: «‏‏‏‏التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله» إلى آخره.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تشہد میں یوں کہے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام سلامیاں اللہ ہی کیلئے ہیں اور نمازیں پاکیزیاں بھی (زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کے لئے ہیں) اے نبی! سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت (معبود) نہیں اور اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اسے دعا کا انتخاب کرنا چاہیئے کہ جو اسے سب سے اچھی لگے وہ مانگے۔“ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں اور نسائی میں ہے کے ہم تشہد فرض ہونے سے پہلے کہا کرتے تھے اور احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تشہد سکھایا اور حکم دیا کہ لوگوں کو اسے سکھاؤ اور مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے تھے (وہ اس طرح تھا) «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله» إلى آخره۔

التفت إلينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 247

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 248

وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رجلا يدعو في صلاته ولم يحمد الله ولم يصل على النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏عجل هذا» ‏‏‏‏ ثم دعاه فقال: «‏‏‏‏إذا صلى احدكم فليبدا بتحميد ربه والثناء عليه ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ثم يدعو بما شاء» ‏‏‏‏ رواه احمد والثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا۔ نہ تو اس نے اللہ کی حمد کی اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نے جلدی کی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ ” تم میں سے کوئی جب دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیئے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“ اسے احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 248

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 249

وعن ابي مسعود الانصاري رضي الله عنه قال: قال بشير بن سعد: يا رسول الله! امرنا الله ان نصلي عليك،‏‏‏‏ فكيف نصلي عليك؟ فسكت ثم قال:«‏‏‏‏قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد،‏‏‏‏ والسلام كما علمتم» . رواه مسلم. وزاد ابن خزيمة: فكيف نصلي عليك إذا نحن صلينا عليك في صلاتنا؟.

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے لہذا ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں؟ تھوڑے سے توقف کے بعد فرمایا ” اس طرح کہا کرو «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی ابراھیم علیہ السلام پر اور برکت نازل فرما محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراھیم علیہ السلام پر دونوں جہانوں میں۔ یقیناً تو ستودہ صفات ہے اور بزرگ ہے اور رہا سلام تو اس کا علم تمہیں سکھلا دیا گیا ہے۔“ (مسلم) اور ابن خزیمہ نے اس میں اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ہم جب نماز پڑھ رہے ہوں تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کس طرح پڑھیں۔

بشير بن سعد: ← وعن ابي مسعود الانصاري

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 249

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 250

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا تشهد احدكم فليستعذ بالله من اربع يقول: اللهم إني اعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية لمسلم:«‏‏‏‏إذا فرغ احدكم من التشهد الاخير» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھ چکے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔“ «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال» ” اے اللہ! میں تجھ سے عذاب جہنم سے پناہ مانگتا ہوں اور عذاب قبر سے پناہ طلب کرتا ہوں اور موت و حیات کے فتنہ سے تیری پناہ کا طلبگار ہوں اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ایک روایت کے یہ الفاظ بھی ہیں۔ ” جب تم سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو۔ تو اس وقت ان چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 250

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 251

وعن ابي بكر الصديق رضي الله عنه انه قال لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: علمني دعاء ادعو به في صلاتي قال: «‏‏‏‏قل: اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا انت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك انت الغفور الرحيم» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے ایسی دعا سکھائیں جسے میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے پروردگار! میں نے اپنی جان پر بہت ہی ظلم کیا ہے۔ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔ لہذا تو مجھے اپنی جناب سے معاف فرما دے اور مجھ پر رحم فرما۔ بیشک تو ہی بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔“

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 251

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 252

وعن وائل بن حجر رضي الله عنه قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فكان يسلم عن يمينه: «‏‏‏‏السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» وعن شماله: «‏‏‏‏السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» .‏‏‏‏ رواه ابو داود بإسناد صحيح.

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» ۔ ابوداؤد نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

يمينه: «‏‏‏‏السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» ← صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فكان يسلم ← وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 252

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 253

وعن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يقول في دبر كل صلاة مكتوبة: «‏‏‏‏لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض کے اختتام پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں۔ فرمانروائی اسی کی ہے اور حمد و ثنا اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو روک لے اسے عطا کرنے والا کوئی نہیں اور کسی صاحب نصیبہ کو تیرے بغیر بغیر کوئی نصیبہ نہیں دیتا۔“ (بخاری و مسلم)

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 253

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 254

وعن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يتعوذ بهن دبر كل صلاة: «‏‏‏‏اللهم إني اعوذ بك من البخل واعوذ بك من الجبن واعوذ بك من ان ارد إلى ارذل العمر واعوذ بك من فتنة الدنيا واعوذ بك من عذاب القبر» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے آخر میں یہ تعوذ پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر» ” اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بخل سے اور بزدلی سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ میں رذیل ترین عمر کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنہ اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔“ (بخاری)

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 254

chevron_left Previous
1…192021…25
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter