بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 219
وعن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم وابا بكر وعمر كانوا يفتتحون الصلاة بالحمد لله رب العالمين متفق عليه.زاد مسلم: لا يذكرون بسم الله الرحمن الرحيم في اول قراءة ولا في آخرها.وفي رواية لاحمد والنسائي وابن خزيمة: لا يجهرون ببسم الله الرحمن الرحيم. وفي اخرى لابن خزيمة: كانوا يسرون. وعلى هذا يحمل النفي في رواية مسلم خلافا لمن اعلها.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سب نماز کا آغاز «الحمد لله رب العالمين» سے کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) مسلم نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ قرآت کے شروع اور آخر دونوں موقعوں پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے۔ مسند احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» کو جہری طور پر (اونچی آواز) پر نہیں پڑھتے تھے۔ نیز ابن خزیمہ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ «بسم الله»، آہستہ پڑھتے تھے اور اسی پر مسلم کی نفی کو محمول کیا جائے گا بخلاف ان لوگوں کے جنہوں نے اسے معلول کہا ہے۔
أَنَسٍ،
Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 219
