Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 732

وعن عطية القرظي رضي الله تعالى عنه قال: عرضنا على النبي صلى الله عليه وآله وسلم يوم قريظة فكان من انبت قتل ومن لم ينبت خلي سبيله فكنت ممن لم ينبت فخلي سبيلي. رواه الخمسة وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنوقریظہ سے جنگ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا، جس کے زیر ناف بال اگے ہوتے تھے، اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے چھوڑ دیا گیا۔ میں بھی ان میں سے تھا جس کے بال نہیں اگے تھے، لہٰذا مجھے بھی چھوڑ دیا گیا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عرضنا على النبي صلى الله عليه ← عطية القرظي رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 732

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 733

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يجوز لامراة عطية إلا بإذن زوجها» .‏‏‏‏ وفي لفظ: «‏‏‏‏لا يجوز للمراة امر في مالها إذا ملك زوجها عصمتها» .‏‏‏‏ رواه احمد واصحاب السنن إلا الترمذي وصححه الحاكم.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”کسی عورت کو اپنے ذاتی مال میں کوئی معاملہ کرنے کا اختیار نہیں جب اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک ہو۔“ اسے احمد اور اصحاب سنن نے ترمذی کے علاوہ روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 733

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 734

وعن قبيصة بن مخارق الهلالي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن المسالة لا تحل إلا لاحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة فحلت له المسالة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل اصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش ورجل اصابته فاقة حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجا من قومه: لقد اصابت فلانا فاقة فحلت له المسالة» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بیشک تین آدمیوں میں سے کسی ایک کے سوا کسی دوسرے کے لئے سوال کرنا حلال نہیں۔ ایک وہ آدمی جس نے ضمانت کا بوجھ اٹھایا ہو۔ اس کے لئے تاوان و ضمانت کی مقدار تک سوال کرنا جائز ہے اس کے بعد سوال کرنا چھوڑ دے اور ایک وہ آدمی جسے کوئی آفت پہنچی ہو اور اس نے اس کا مال تباہ و برباد کر دیا ہو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے تاوقتیکہ اس کے لئے گزران کی کوئی سبیل نکل آئے اور ایک وہ آدمی جو فاقہ میں مبتلا ہو، یہاں تک کہ اس کی شہادت اس کی قوم کے تین قابل اعتماد آدمی دیں۔ اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔“ (مسلم)

قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 734

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 735

عن عمرو بن عوف المزني رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا او احل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا او احل حراما» .‏‏‏‏ رواه الترمذي وصححه وانكروا عليه لانه من رواية كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف وهو ضعيف وكانه اعتبره بكثرة طرقه. وقد صححه ابن حبان من حديث ابي هريرة رضي الله عنه.

سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جائز اور درست نہیں جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے۔ مسلمان اپنی شرائط پر قائم ہیں (ان کی تمام شرائط ٹھیک ہیں) مگر بجز اس شرط کے جس سے کوئی حلال چیز حرام ہو جائے یا حرام چیز حلال ہو جائے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اور دوسرے محدثین نے ان پر انکار کیا ہے کیونکہ اس کا ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ضعیف ہے۔ ایسا محسوس و معلوم ہوتا ہے کہ ترمذی نے کثرت طرق کی وجہ سے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے۔

عمرو بن عوف المزني رضي الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 735

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 736

وعن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يمنع جار جاره ان يغرز خشبة في جداره» ‏‏‏‏ ثم يقول ابو هريرة: ما لي اراكم عنها معرضين؟ والله لارمين بها بين اكتافكم. متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ہمسایہ اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار پر لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خود کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس پر عمل پیرا ہونے سے گریز کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے کندھوں پر ماروں گا۔ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 736

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 737

وعن ابي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحل لامرىء ان ياخذ عصا اخيه بغير طيبة نفس منه» .‏‏‏‏ رواه ابن حبان والحاكم في صحيحيهما.

سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا عصا (لاٹھی) بھی اس کی خوشنودی و رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔

أبي حميد الساعدي رضى الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 737

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 738

عن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏مطل الغني ظلم وإذا اتبع احدكم على مليء فليتبع» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية لاحمد: «‏‏‏‏ومن احيل فليحتل» .‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی مالدار کا حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیئے۔“ (بخاری و مسلم) اور احمد کی ایک روایت میں «فليحتل» (حوالہ قبول کر لے) ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 738

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 739

وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال: توفي رجل منا فغسلناه وحنطناه وكفناه ثم اتينا به رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقلنا: تصلي عليه؟ فخطى خطا ثم قال:«‏‏‏‏اعليه دين؟» ‏‏‏‏ قلنا: ديناران فانصرف فتحملهما ابو قتادة فاتيناه فقال ابو قتادة: الديناران علي فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏حق الغريم وبرىء منهما الميت؟» ‏‏‏‏ قال: نعم،‏‏‏‏ فصلى عليه. رواه احمد وابو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا، خوشبو لگائی اور کفن پہنایا۔ پھر ہم اسے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قدم آگے بڑھنے کیلئے اٹھائے اور دریافت فرمایا کہ ”کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟“ ہم نے عرض کیا دو دینار تھے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے دو دینار کی ادائیگی اپنے ذمہ لے لی۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا دو دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مقروض کی طرح لازم و حق ہو گیا اور میت اس سے بری الذمہ ہو گئی۔“ اس نے کہا کہ ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

نعم،‏‏‏‏ فصلى عليه. رواه احمد وابو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم. ← ابو قتادة: الديناران علي

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 739

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 740

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين فيسال: «‏‏‏‏هل ترك لدينه من قضاء؟» ‏‏‏‏ فإن حدث انه ترك وفاء صلى عليه وإلا قال: «‏‏‏‏صلوا على صاحبكم» ‏‏‏‏ فلما فتح الله عليه الفتوح قال:«‏‏‏‏انا اولى بالمؤمنين من انفسهم فمن توفي وعليه دين فعلي قضاؤه» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏فمن مات ولم يترك وفاء» .‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقروض آدمیوں کے جنازے لائے جاتے تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے تھے کہ ”کیا اس نے قرضہ کی ادائیگی کیلئے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر بتایا جاتا کہ اس نے اپنا مال چھوڑا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ فرما دیتے کہ ”جاؤ تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں مومنوں کو ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ لہٰذا اب جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرضہ کا بار ہو تو اس قرضہ کی ادائیگی میرے ذمہ ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”جو آدمی مر گیا اور اس نے اتنا ترکہ پیچھے نہیں چھوڑا جو قرضہ کی ادائیگی کیلئے کافی ہو۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 740

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 741

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا كفالة في حد» .‏‏‏‏ رواه البيهقي بإسناد ضعيف

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کی حد میں ضمانت و ذمہ داری نہیں۔ ”اسے بیہقی نے کمزور سند سے روایت کیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 741

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 742

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏قال الله تعالى: انا ثالث الشريكين ما لم يخن احدهما صاحبه فإذا خان خرجت من بينهما» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وصححه الحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ جل شانہ کا ارشاد گرامی ہے کہ دو شراکت کرنے والوں میں، میں تیسرا ہوتا ہوں تاوقتیکہ کوئی ایک دوسرے سے خیانت نہ کرے جونہی ان میں سے کوئی ایک خیانت کا مرتکب ہوتا ہے تو میں ان کے درمیان میں سے نکل جاتا ہوں۔ ”ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 742

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 743

وعن السائب المخزومي رضي الله عنه انه كان شريك النبي صلى الله عليه وآله وسلم قبل البعثة فجاء يوم الفتح فقال: «‏‏‏‏مرحبا باخي وشريكي» .‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود وابن ماجه.

سیدنا سائب مخزومی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجارت میں شریک تھے۔ پھر وہ فتح مکہ کے موقع پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مبارک ہو میرے بھائی اور میرے شریک۔“ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ تینوں نے روایت کیا ہے۔

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 743

chevron_left Previous
1…789…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter