Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 756

وعن انس رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان عند بعض نسائه فارسلت إحدى امهات المؤمنين مع خادم لها بقصعة فيها طعام فضربت بيدها فكسرت القصعة فضمها وجعل فيها الطعام وقال: «كلوا» ودفع القصعة الصحيحة للرسول وحبس المكسورة. رواه البخاري والترمذي وسمى الضاربة عائشة وزاد: فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏طعام بطعام وإناء بإناء» .‏‏‏‏ وصححه.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے ہاں تشریف فرما تھے۔ کسی دوسری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنے خادم کے ذریعہ ایک پیالہ بھیجا جس میں کچھ کھانا تھا تو اس بیوی نے اپنا ہاتھ مارا کہ وہ پیالہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ کو جوڑ کر اس میں کھانا ڈال دیا اور فرمایا کہ ”کھاؤ اور لانے والے کے ہاتھ سالم پیالہ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا اپنے پاس رکھ لیا۔“ (بخاری و ترمذی) ہاتھ مار کر پیالہ توڑنے والی کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا لیا گیا ہے۔ اور ترمذی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھانے کے بدلہ میں کھانا اور برتن کے بدلہ میں برتن“ اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَنَسٍ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 756

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 757

وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من زرع في ارض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته» . رواه احمد والاربعة إلا النسائي وحسنه الترمذي ويقال إن البخاري ضعفه.

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی تو اسے اس زراعت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ اسے صرف وہ اخراجات ملیں گے جو اس نے خرچ کئے ہیں۔“ اسے احمد اور نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 757

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 758

وعن عروة بن الزبير رضي الله عنهما قال: قال رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إن رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في ارض غرس احدهما فيها نخلا والارض للآخر فقضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالارض لصاحبها وامر صاحب النخل ان يخرج نخله وقال: «‏‏‏‏ليس لعرق ظالم حق» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وإسناده حسن. وآخره عند اصحاب السنن من رواية عروة عن سعيد بن زيد واختلف في وصله وإرساله وفي تعيين صحابيه.

سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول نے بتایا کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زمین کا جھگڑا لے کر آئے۔ زمین ایک کی تھی اور کھجور کے درخت دوسرے نے لگا دیئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ”زمین مالک کی ہے اور کھجور کے درخت لگانے والا اپنے درخت اکھاڑ لے“ اور فرمایا ”ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند حسن ہے۔ اس حدیث کا آخری جزء «أصحاب السنن» نے «عروة عن سعيد بن زيد» کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔ اس روایت کے مرسل اور موصول ہونے اور اس کے صحابی کے تعین میں اختلاف ہے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 758

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 759

وعن ابي بكرة رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في خطبته يوم النحر بمنى: «‏‏‏‏إن دماءكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منٰی میں اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ ” بیشک تمہارے خون اور اموال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا یہ دن حرمت والا ہے جو تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں واقع ہوا ہے۔“ (بخاری و مسلم)

أَبِي بَكْرَةَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 759

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 760

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة. متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري. وفي رواية مسلم: الشفعة في كل شرك: ارض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ او ربع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ او حائط،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يصلح ان يبيع حتى يعرض على شريكه وفي رواية الطحاوي: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل شيء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ورجاله ثقات.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو مگر جب حدود بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے (مثلا) زمین میں، مکان میں، باغ میں۔ اپنے حصہ دار (شریک) کے روبرو پیش کئے بغیر کسی کیلئے چیز فروخت کرنا درست نہیں اور طحاوی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ رکھا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 760

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 761

وعن ابي رافع رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الجار احق بصقبه» .‏‏‏‏ اخرجه البخاري وفيه قصة.

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمسایہ اپنے قریبی ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس بارے میں لمبا قصہ ہے۔

أَبِي رَافِعٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 761

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 762

وعن انس بن مالك رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏جار الدار احق بالدار» .‏‏‏‏رواه النسائي وصححه ابن حبان وله علة.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مکان کا ہمسایہ اس مکان کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں علت ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 762

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 763

وعن جابر رضى الله عنه قال: رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الجار احق بشفعة جاره ينتظر بها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا» .‏‏‏‏رواه احمد والاربعة ورجاله ثقات.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہمسایہ اپنے ہمسایہ کا شفعہ میں زیادہ حقدار ہے۔ اس کا انتظار بسبب شفعہ کیا جائے گا۔ اگرچہ وہ غائب ہو جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 763

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 764

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الشفعة كحل العقال» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه والبزار وزاد: «‏‏‏‏ولا شفعة لغائب» .‏‏‏‏وإسناده ضعيف

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شفعہ رسی کھولنے کی طرح ہے۔“ اسے ابن ماجہ اور بزار نے روایت کیا ہے اور بزار نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ ” غیرحاضر و غائب کے لئے شفعہ کا کوئی حق نہیں۔“ اس کی سند ضعیف ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 764

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 765

عن صهيب رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏ثلاث فيهن البركة: البيع إلى اجل والمقارضة وخلط البر بالشعير للبيت لا للبيع» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین کام بڑے بابرکت ہیں۔ ایک مدت مقررہ تک بیچنا اور مضاربت کرنا اور گندم میں جو ملانا گھر کے لئے، فروخت کرنے کے لئے نہیں۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

صُھَیْبٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 765

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 766

عن حكيم بن حزام رضي الله عنه: انه كان يشترط على الرجل إذا اعطاه مالا مقارضة ان لا تجعل مالي في كبد رطبة ولا تحمله في بحر ولا تنزل به في بطن مسيل فإن فعلت شيئا من ذلك فقد ضمنت مالي. رواه الدارقطني ورجاله ثقات. وقال مالك في الموطا عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن ابيه عن جده: إنه عمل في مال لعثمان على ان الربح بينهما. وهو موقوف صحيح.

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تھے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوان کی تجارت نہ کرو گے اور سمندر میں لے کر بھی نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر اسے نہیں جاؤ گے۔ ان میں سے کوئی کام بھی اگر تم نے کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب والد اور اس کے دادا کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں تجارت اس شرط پر کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ یہ حدیث موقوف صحیح ہے۔

أَبِيهِ ← الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، ← مالك في الموطا

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 766

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 767

عن ابن عمر رضي الله عنهما: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عامل اهل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر او زرع. متفق عليه. وفي رواية لهما: فسالوه ان يقرهم بها على ان يكفوا عملها ولهم نصف الثمر فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏نقركم بها على ذلك ما شئنا» ‏‏‏‏ فقروا بها حتى اجلاهم عمر. ولمسلم: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وارضها على ان يعتملوها من اموالهم ولهم شطر ثمرها.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے اس طرح معاملہ طے کیا کہ پھل اور کھیتی باڑی سے جو کچھ حاصل ہو اس میں سے آدھا تمہارا۔ (بخاری و مسلم) اور ان دونوں کی ایک روایت میں ہے کہ اہل خیبر (یہود) نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہاں ٹھہرنے دیں (یعنی زمینوں پر قابض رہنے دیں)۔ وہ کھیتی باڑی کریں گے اور اس کی پیداوار میں سے مسلمانوں کو آدھا حصہ دیا کریں گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس شرط پر کہ ہم تمہیں جب تک چاہیں گے رہنے دیں گے۔“ یہ فرما کر ان کو ان زمینوں پر برقرار رکھا۔ یہ زمینوں پر برقرار رہے تاآنکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کر دیا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کی کھجوریں اور زمین اسی شرط پر دی تھیں کہ وہ اپنے اموال سے ان پر کام کریں گے اور ان کے لئے ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ہو گا۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 767

chevron_left Previous
1…91011…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter