Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 407

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قحوط المطر فامر بمنبر فوضع له بالمصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فكبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وحمد الله عز وجل ثم قال: «إنكم شكوتم جدب دياركم وقد امركم الله ان تدعوه ووعدكم ان يستجيب لكم» ثم قال: «‏‏‏‏الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم انت الله لا إله إلا انت انت الغني ونحن الفقراء انزل علينا الغيث واجعل ما انزلت علينا قوة وبلاغا إلى حين» ثم رفع يديه فلم يزل حتى رئي بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب رداءه وهو رافع يديه ثم اقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين فانشا الله سحابة فرعدت وبرقت ثم امطرت. رواه ابو داود وقال غريب وإسناده جيد. وقصة التحويل في الصحيح من حديث عبد الله بن زيد وفيه: فتوجه إلى القبلة يدعو ثم صلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة. وللدارقطني من مرسل ابي جعفر الباقر: وحول رداءه ليتحول القحط.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں منبر لے جانے کا حکم دیا، چنانچہ منبر عید گاہ میں لا کر رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سارے باہر نکلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا۔ تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے اور «الله اكبر» کہا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا ”تم لوگوں نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کا شکوہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تو تمہیں یہ حکم دے چکا ہے کہ اس سے دعا کرو وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا ”تعریف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے جو کائنات کا پروردگار ہے۔ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان اور ہمیشہ مہربان ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں۔ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ الٰہی! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر باران رحمت کا نزول فرما۔ جو کچھ تو ہمارے اوپر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے روزی اور مدت دراز تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک اوپر اٹھائے کہ وہ بتدریج آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ پھر لوگوں کی جانب اپنی پشت کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پھیر کر پلٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے پھر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اسی لمحہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بادل پیدا کیا۔ وہ بدلی گرجی اور چمکی اور بارش ہونے لگی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے اور اس کی سند نہایت عمدہ و جید ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما کی روایت میں (تبدیلی چادر) کا قصہ اس طرح ہے ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا فرماتے رہے، پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ ان میں قرآت بلند آواز سے کی۔“ اور دارقطنی میں ابو جعفر باقر کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس لیے پھیر کر بدلی کہ قحط سالی بھی اسی طرح پھر جائے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 407

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 408

وعن انس ان رجلا دخل المسجد يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وآله وسلم قائم يخطب.فقال: يا رسول الله هلكت الاموال وانقطعت السبل فادع الله عز وجل يغيثنا فرفع يديه ثم قال: «‏‏‏‏اللهم اغثنا اللهم اغثنا» ‏‏‏‏فذكر الحديث وفيه الدعاء بإمساكها. متفق عليه

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ بولا یا رسول اللہ! اموال (مویشی) ہلاک ہو گئے اور آمدورفت کے راستے بند ہو گئے ہیں۔ اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش نازل فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور دعا فرمائی۔ «‏‏‏‏اللهم أغثنا اللهم أغثنا» ‏‏‏‏ یا الٰہی! بارش سے ہماری فریاد رسی فرما۔ یا الٰہی! باران رحمت سے ہماری فریاد رسی فرما۔ ساری حدیث بیان فرمائی۔ اس میں بارش کے بند کروانے کی دعا کا بھی ذکر ہے۔ (بخاری و مسلم)

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 408

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 409

وعنه رضي الله عنه ان عمر رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب وقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا فيسقون. رواه البخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہو جاتے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنا کر بارش طلب فرماتے تھے اور یوں دعا کرتے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بارش طلب کرتے تھے تو ہمیں باران رحمت سے نواز دیتا تھا اور اب ہم تیرے حضور تیرے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چچا کو بطور وسیلہ لائے ہیں لہٰذا تو ہمیں بارش سے سیراب فرما دے (اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں) ان کو بارش سے سیراب کیا جاتا تھا۔ (بخاری)

نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا فيسقون. رواه البخاري. ← كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا ← اللَّهُمَّ ← وعنه ان عمر كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 409

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 410

وعنه رضي الله عنه قال: اصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مطر قال فحسر ثوبه حتى اصابه من المطر وقال: «‏‏‏‏إنه حديث عهد بربه» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ ہم ایک دفعہ بارش کی لپیٹ میں آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا اوپر اٹھایا کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور ارشاد فرمایا کہ ”یہ اپنے آقا و مالک کے ہاں سے نئی نئی (تحفہ کی صورت میں) آ رہی ہے۔“ (مسلم)

«‏‏‏‏إنه حديث عهد بربه» رواه مسلم. ← فحسر ثوبه حتى اصابه من المطر ← اصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مطر ← وعنه

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 410

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 411

وعن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا راى المطر قال: «‏‏‏‏اللهم صيبا نافعا» . اخرجاه

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو اس طرح دعا مانگتے۔ «اللهم صيبا نافعا» ”اے اللہ! اس بارش کو منافع بخش و سود مند بنا دے۔ “ (بخاری ومسلم)

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 411

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 412

وعن سعد رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم دعا في الاستسقاء: «‏‏‏‏اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» .‏‏‏‏ رواه ابو عوانة في صحيحه.

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء میں یہ دعا مانگی «اللهم جللنا سحابا كثيفا قصيفا دلوقا ضحوكا تمطرنا منه رذاذا قطقطا سجلا يا ذا الجلال والإكرام» ”یا الٰہی! ہمیں ایسے بادل سے جو ساری زمین پر چھایا ہوا ہو، گہرا ہو، کڑکنے والا، زور سے برسنے والا، چمکنے گرجنے والا، تہ بہ تہ ہو، سے بارش کی باریک بوندیں بہت زیادہ برسا دے۔ اے بزرگی اور عزت کے مالک!۔“ (مسند ابی عوانہ)

سَعْدٍ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 412

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 413

وعن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏خرج سليمان عليه السلام يستسقي فراى نملة مستلقية على ظهرها رافعة قوائمها إلى السماء تقول: اللهم إنا خلق من خلقك ليس بنا غنى عن سقياك فقال: ارجعوا سقيتم بدعوة غيركم» . رواه احمد وصححه الحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سیدنا سلیمان علیہ السلام بارش طلب کرنے کے لئے باہر نکلے تو انہوں نے ایک چیونٹی کو پشت کے بل ٹانگیں آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے دیکھا جو بارگاہ رب العزت میں عرض کر رہی تھی۔ الٰہی ہم تیری مخلوق ہیں تیری دوسری مخلوق کی طرح، ہم بھی تیری بارش سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہیں، یہ سن کر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چلو واپس چلیں تمہیں بارش سے سیراب کر دیا گیا، غیروں کی دعا کی بدولت۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 413

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 414

وعن انس رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم استسقى فاشار بظهر كفيه إلى السماء. اخرجه مسلم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ الٹی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا کر ارشاد فرمایا۔ (مسلم)

أَنَسٍ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 414

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 415

عن ابي عامر الاشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ليكونن من امتي اقوام يستحلون الخز والحرير» .‏‏‏‏ رواه ابو داود واصله في البخاري.

سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میری امت میں لازماً کچھ ایسی قومیں ہوں گی جو (زنا) اور ریشم کو حلال سمجھیں گی۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔

أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 415

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 416

وعن حذيفة رضي الله عنه قال: نهى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان نشرب في آنية الذهب والفضة وان ناكل فيها وعن لبس الحرير والديباج وان نجلس عليه. رواه البخاري.

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے، باریک اور موٹا ریشم پہننے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری)

نهى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← حُذَيْفَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 416

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 417

وعن عمر رضي الله عنه قال: نهى النبي صلى الله عليه وآله وسلم عن لبس الحرير إلا موضع اصبعين او ثلاث او اربع. متفق عليه واللفظ لمسلم.

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو یا چار انگشت (کے برابر جگہ پر)۔ (بخاری و مسلم) اور متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔

نهى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عُمَرَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 417

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 418

وعن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم رخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير في قميص الحرير في سفر من حكة كانت بهما. متفق عليه

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس وجہ سے کہ ان کو خارش تھی۔ (بخاری ومسلم)

أَنَسٍ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 418

chevron_left Previous
1…8910…25
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter