Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 255

وعن ثوبان رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا انصرف من صلاته استغفر الله ثلاثا وقال:«‏‏‏‏اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» .‏‏‏‏رواه مسلم.

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو تین مرتبہ «‏‏‏‏استغفر الله» ‏‏‏‏ کہتے اور پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» پڑھتے۔ ” اے اللہ! میں تجھ سے مغفرت کا طالب ہوں اور اے اللہ! تو سلام ہے (یعنی تو ہی سلامتی والا ہے) اور سلامتی تجھ ہی سے ہے اے بزرگی و برتری کے مالک! تو بڑی برکت والا ہے۔“ (مسلم)

ثَوْبَانَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 255

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 256

وعن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من سبح الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وحمد الله ثلاثا وثلاثين وكبر الله ثلاثا وثلاثين فتلك تسع وتسعون وقال تمام المائة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير غفرت خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وفي رواية اخرى: ان التكبير اربع وثلاثون.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے نماز کے سلام پھیرنے کے بعد 33 مرتبہ «سبحان الله» پڑھا اور 33 مرتبہ «الحمد الله» اور «الله اكبر» بھی 33 مرتبہ دہ مجموعی طور پر یہ 99 یعنی ایک کم سو ہوئے اور سو مکمل کرنے کے لیے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» کہا تو اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں خواہ ان کی تعداد سمندر کی جھاگ کے مساوی ہو۔“ (مسلم) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” «الله اكبر» 34 مرتبہ کہے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 256

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 257

وعن معاذ بن جبل ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال له: «‏‏‏‏اوصيك يا معاذ: لا تدعن دبر كل صلاة ان تقول: اللهم اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» .‏‏‏‏رواه احمد وابو داود والنسائي بسند قوي.

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا ” اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں ہر نماز کے اختتام کے بعد ان کلمات کو کبھی فراموش نہ کرنا «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے اللہ! مجھے اپنے ذکر، شکر اور حسن عبادت کی توفیق سے نواز۔ اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں، تیرا شکر ادا کر سکوں اور عمدہ و بہتر طریقے سے تیری عبادت کر سکوں۔“ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے قوی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 257

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 258

وعن ابي امامة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قرا اية الكرسي دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة إلا الموت» .رواه النسائي وصححه ابن حبان. وزاد فيه الطبراني: «‏‏‏‏وقل هو الله احد» .‏‏‏‏

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ رویت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے ہر فرض نماز ادا کرنے کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روکنے والی نہیں۔“ (مرتے ہی جنت میں داخل ہو جائے گا بشرطیکہ عقیدہ توحید صحیح ہو۔) اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے نیز طبرانی نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ” «قل هو الله أحد» بھی پڑھے۔“

اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 258

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 259

وعن مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏صلوا كما رايتموني اصلي» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز اسی طرح پڑھو جس طرح مجھے تم نے پڑھتے دیکھا ہے۔“ (بخاری)

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ:

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 259

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 260

وعن عمران بن حصين رضي لله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب وإلا فاوم» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی استطاعت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو (ان میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو سکے) تو اشارے سے ہی پڑھ لو۔“ (بخاری)

عمران بن حصين رضي لله عنه

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 260

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 261

وعن جابر رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لمريض صلى على وسادة فرمى بها وقال:«‏‏‏‏صل على الارض إن استطعت وإلا فاوم إيماء واجعل سجودك اخفض من ركوعك» .‏‏‏‏ رواه البيهقي بسند قوي ولكن صحح ابو حاتم وقفه.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض سے جس نے تکیہ پر نماز پڑھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تکیہ پھینک دیا اور فرمایا ” اگر پڑھ سکتے ہو تو زمین پر نماز پڑھو ورنہ اشارے سے پڑھو، البتہ اپنے سجدہ کو رکوع سے ذرا نیچے کرو۔“ اسے بیہقی نے قوی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن ابوحاتم نے اس کا موقوف ہونا صحیح قرار دیا ہے۔

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 261

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 262

عن عبد الله بن بحينة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بهم الظهر فقام في الركعتين الاوليين ولم يجلس فقام الناس معه حتى إذا قضى الصلاة وانتظر الناس تسليمه كبر وهو جالس،‏‏‏‏ وسجد سجدتين قبل ان يسلم ثم سلم.اخرجه السبعة وهذا اللفظ للبخاري. وفي رواية لمسلم: يكبر في كل سجدة وهو جالس ويسجد،‏‏‏‏ ويسجد الناس معه مكان ما نسي من الجلوس.

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز ظہر پڑھائی تو دو رکعت ادا کر کے تشہد میں نہ بیٹھے اور سیدھے کھڑے ہو گئے اور مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو لوگ سلام پھیرنے کے انتظار میں تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے ہی «الله اكبر» کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ اسے ساتوں یعنی احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ البتہ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے کہ بیٹھے ہوئے ہر سجدہ کے لیے «الله اكبر» کہتے تھے اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ سہو کیا۔ دو رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھنا بھول گئے تھے، اس کی تلافی کے لیے دو سجدے کیے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 262

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 263

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: صلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم إحدى صلاتي العشي ركعتين ثم سلم ثم قام إلى خشبة في مقدم المسجد فوضع يده عليها وفي القوم ابو بكر وعمر فهابا ان يكلماه وخرج سرعان الناس فقالوا: قصرت الصلاة وفي القوم رجل يدعوه النبي صلى الله عليه وآله وسلم ذا اليدين فقال: يا رسول الله انسيت ام قصرت الصلاة؟ فقال: «‏‏‏‏لم انس ولم تقصر» ‏‏‏‏ فقال: بلى،‏‏‏‏ قد نسيت. فصلى ركعتين،‏‏‏‏ ثم سلم ثم كبر ثم سجد مثل سجوده او اطول ثم رفع راسه فكبر ثم وضع راسه فكبر فسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع راسه وكبر. متفق عليه واللفظ للبخاري. وفي رواية لمسلم: صلاة العصرولابي داود فقال: «‏‏‏‏اصدق ذو اليدين؟» ‏‏‏‏ فاوماوا: اي نعم. وهي في الصحيحين لكن بلفظ: فقالوا. وفي رواية له: ولم يسجد حتى يقنه الله تعالى ذلك.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از دوپہر کی دو نمازوں (ظہر و عصر) میں سے ایک میں دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے رکھی ہوئی لکڑی کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور اپنے ہاتھ اس پر رکھ لئے۔ نمازیوں میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کرنے سے ذرا خوفزدہ تھے۔ جلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے تو لوگوں نے آپس میں سرگوشی کے انداز میں ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے؟ ایک آدمی تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے) ذوالیدین کہہ کر بلاتے تھے، (اس) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ (آج) بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی کی گئی ہے۔ “ اس شخص نے پھر عرض کیا ہاں آپ ضرور بھول گئے ہیں۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (جو چھوٹ گئی تھیں) پڑھیں اور سلام پھیرا پھر «الله اكبر» کہہ کر معمول کے سجدوں کی طرح سجدہ کیا یا اس سے ذرا لمبا پھر سجدہ سے «الله اكبر» کہہ کر سر اوپر اٹھایا پھر «الله اكبر» کہہ کر (زمین پر) رکھا اور معمول کے سجدہ کی طرح یا ذرا اس سے طویل سجدہ کیا اور پھر «الله اكبر» کہہ کر اپنا سر اٹھایا۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ عصر کی نماز تھی اور ابوداؤد میں مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ” کیا ذوالیدین نے ٹھیک کہا ہے؟ “ تو لوگوں نے سر ہلا کر اشاروں سے کہا ہاں! یہ اضافہ صحیحین میں بھی ہے لیکن ان میں «فقالوا» کے لفظ کے ساتھ مروی ہے (یعنی زبان سے انہوں نے کہا) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک اللہ کی جانب سے یقین نہ ہوا اس وقت سجدہ سہو نہیں کیا۔

صلى النبي صلى الله عليه ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 263

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 264

وعن عمران بن حصين رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم رواه ابو داود والترمذي وحسنه والحاكم وصححه.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہو گیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے) تو (پہلے) دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔ اسے ابوداؤد، ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 264

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 265

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا شك احدكم في صلاته فلم يدر كم صلى اثلاثا ام اربعا؟ فليطرح الشك وليبن على ما استيقن ثم يسجد سجدتين قبل ان يسلم فإن كان صلى خمسا شفعن له صلاته وإن كان صلى تماما كانتا ترغيما للشيطان» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کسی کو جب نماز میں یہ شک ہو جائے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار؟ تو ایسی صورت میں شک کو نظرانداز کر کے جس پر یقین ہو اس پر نماز کی بنا رکھے۔ پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے۔ پس اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دو سجدے (چھٹی رکعت کے قائم مقام ہو کر) اس کی نماز کو جفت کر دیں گے۔ (چھ بنا دیں گے) اور اگر اس نے پوری نماز پڑھی ہے تو یہ دو سجدے شیطان کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔“ (مسلم)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 265

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 266

وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. فلما سلم قيل له: يا رسول الله احدث في الصلاة شيء؟ قال: «‏‏‏‏وما ذاك؟» ‏‏‏‏ قالوا: صليت كذا وكذا قال: فثنى رجليه واستقبل القبلة فسجد سجدتين ثم سلم ثم اقبل على الناس بوجهه فقال: «‏‏‏‏إنه لو حدث في الصلاة شيء انباتكم به ولكن إنما انا بشر مثلكم انسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك احدكم في صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم ليسجد سجدتين» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري:«‏‏‏‏فليتم ثم يسلم ثم يسجد» .‏‏‏‏ ولمسلم: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم سجد سجدتي السهو بعد السلام والكلام. ولاحمد وابي داود والنسائي من حديث عبد الله بن جعفر مرفوعا: «‏‏‏‏من شك في صلاته فليسجد سجدتين بعد ما يسلم» . وصححه ابن خزيمة.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نماز میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا آپ نے تو اتنی اتنی نماز ادا فرمائی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں دوہرے کئے (اور ان پر بیٹھ گئے) اور قبلہ رو ہو کر دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا پھر ہماری جانب متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا ” اگر نماز میں کوئی نئی چیز پیدا ہوئی ہوتی تو میں خود تمہیں اس سے باخبر کرتا۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں، اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں سے جب کسی کو نماز میں شک واقع ہو جائے تو صحیح صورت حال تک پہنچنے کی کوشش کر لے پھر اپنی نماز اس بنیاد پر مکمل کر لے۔ پھر دو سجدے کر لے۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” (پہلے) نماز مکمل کرنی چاہیئے پھر سلام پھیرے اور پھر سجدہ کرے“ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو سلام و کلام کے بعد کئے ہیں۔ مسند احمد، ابوداؤد اور نسائی میں مروی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت میں ہے کہ جس شخص کو نماز میں شک واقع ہو جائے تو اسے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرنے چاہئیں۔ اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. فلما سلم قيل له: ← وعن ابن مسعود

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 266

chevron_left Previous
1…202122…25
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter