Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 207

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما امرت بتشييد المساجد» .‏‏‏‏ اخرجه ابو داود وصححه ابن حبان.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے مساجد کی آرائش و زیبائش (بناؤ سنوار) کا حکم نہیں دیا گیا۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 207

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 208

وعن انس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «عرضت علي اجور امتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والترمذي واستغربه وصححه ابن خزيمة.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھ پر میری امت کے (اعمال کے) ثواب پیش کیے گئے، یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی ان میں شامل تھا، جسے آدمی مسجد سے نکال کر باہر پھینکتا ہے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے غریب کہا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

أَنَسٍ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 208

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 209

وعن ابي قتادة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا دخل احدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی جب (بھی) مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (نفل) ادا کر لے۔“ (بخاری ومسلم)

أَبِي قَتَادَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 209

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 210

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا قمت إلى الصلاة فاسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرا ما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها» .‏‏‏‏ اخرجه السبعة واللفظ للبخاري ولابن ماجه بإسناد مسلم: «‏‏‏‏حتى تطمئن قائما» .ومثله في حديث رفاعة بن رافع عند احمد وابن حبان: «‏‏‏‏حتى تطمئن قائما» .‏‏‏‏ولاحمد: «‏‏‏‏فاقم صلبك حتى ترجع العظام» .‏‏‏‏ وللنسائي وابي داود من حديث رفاعة بن رافع: «‏‏‏‏إنها لا تتم صلاة احدكم حتى يسبغع الوضوء كما امره الله تعالى ثم يكبر الله تعالى ويحمده ويثني عليه» .‏‏‏‏ وفيها: «فإن كان معك قرآن فاقرا وإلا فاحمد الله وكبره وهلله» .‏‏‏‏ ولابي داود: «‏‏‏‏ثم اقرا بام الكتاب وبما شاء الله» .‏‏‏‏ولابن حبان: «‏‏‏‏ثم بما شئت» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو اچھی طرح کر لو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر «الله اكبر» کہو۔ پھر قرآن کا جتنا حصہ تمہیں یاد ہو اس میں سے جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہو، پڑھو۔ پھر رکوع کرو اور پوری طرح اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سیدھا کھڑے (ہو جاؤ) اور پورے اطمینان سے کھڑے رہو، پھر سجدہ کرو اور پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو پھر سجدہ سے اٹھ کر پورے اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر دوسرا سجدہ کرو اور پورے اطمینان سے کرو۔ پس پھر باقی ساری نماز میں اسی طرح (اطمینان سے ارکان نماز ادا کرو)۔“ اسے بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور امام احمد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں۔ ابن ماجہ نے مسلم کی سند سے رکوع سے کھڑے ہونے کے وقت یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ ”پورے اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔“ احمد اور ابن حبان میں رفاعہ بن رافع بن مالک کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ”اپنی کمر (پشت) کو سیدھا کرو کہ ہڈیاں اپنے مقام میں واپس آ جائیں۔“ نسائی اور ابوداؤد میں رفاعہ بن رافع سے ہے کہ ”جب تک وضو کامل نہ ہو جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے اس وقت تک نماز مکمل نہیں ہو سکتی۔ پھر تکبیر کہے اور اللہ کی حمد و ثناء کرے“ اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے ”اگر تجھے قرآن کا کچھ حصہ یاد ہو تو اسے پڑھ بصورت دیگر اللہ کی حمد و توصیف کر «الله اكبر» اور «لا إله إلا الله» ۔“ ابوداؤد میں ہے کہ ”پھر سورۃ «فاتحه» پڑھ اور مزید جو اللہ نے چاہا۔“ ابن حبان میں ہے ”پھر جو تم چاہو پڑھو۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 210

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 211

وعن ابي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنه قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا كبر جعل يديه حذو منكبيه وإذا ركع امكن يديه من ركبتيه ثم هصر ظهره فإذ رفع راسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما واستقبل باطراف اصابع رجليه القبلة وإذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى وإذا جلس في الركعة الاخيرة قدم رجله اليسرى ونصب الاخرى وقعد على مقعدته. اخرجه البخاري.

سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر (اولیٰ) کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھاتے دیکھا ہے اور جب رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور اپنی پشت مبارک جھکا لیتے پھر جب اپنا سر رکوع سے اوپر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہوتے کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ پر پہنچ جاتا (اس کے بعد) پھر جب سجدہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ (زمین) پر اس طرح رکھتے کہ نہ زیادہ سمٹے ہوتے اور نہ زمین پر بچھے ہوئے ہوتے۔ حالت سجدہ میں دونوں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ ہوتیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر قعدہ کرتے تو بایاں پاؤں زمین پر بچھا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری قعدہ کرتے تو بایاں پاؤں (دائیں ران کے نیچے سے) آگے بڑھا دیتے اور دایاں کھڑا رکھتے اور سرین پر بیٹھ جاتے۔ (بخاری)

أبي حميد الساعدي رضى الله تعالى عنه

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 211

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 212

وعن علي بن ابي طالب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: انه كان إذا قام إلى الصلاة قال:«‏‏‏‏وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض» إلى قوله: «...من المسلمين،‏‏‏‏ اللهم انت الملك لا إله إلا انت انت ربي وانا عبدك..» إلى آخره. رواه مسلم وفي رواية له: إن ذلك في صلاة الليل.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو پہلے یہ دعا پڑھتے کہ «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض ...... من المسلمين، ‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك .... إلى آخره» ”میں نے اپنے چہرے کو آسمانوں اور زمینوں کے خالق کی طرف متوجہ کیا اور میں مشرکوں سے نہیں۔ میری نماز و قربانی، میرا جینا و مرنا اللہ رب العزت ہی کے لئے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی مالک، تو ہی معبود ہے، تو میرا رب اور میں تیرا بندہ ہوںٍ ٍ“ (آخر تک) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رات کہ نماز (تہجد) میں پڑھا کرتے تھے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 212

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 213

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا كبر للصلاة سكت هنيهة قبل ان يقرا فسالته فقال:«‏‏‏‏اقول: اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» . متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد تھوڑا سا وقفہ فرماتے پھر قرآت شروع کرتے (ایک روز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وقفہ کے دوران آپ کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا! «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے مابین اتنا فاصلہ اور دوری فرما دے کہ جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف فرما دے کہ جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔“ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 213

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 214

وعن عمر رضي الله عنه انه كان يقول: سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك رواه مسلم بسند منقطع. ورواه الدارقطني موصولا وموقوفا. ونحوه عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعا،‏‏‏‏ عند الخمسة. وفيه: وكان يقول بعد التكبير: «اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» .‏‏‏‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ (وقفہ کے دوران میں) «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» پڑھتے تھے اے اللہ تو پاک ہے (ہر عیب اور ہر نقص سے) سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں۔ بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے، تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں اسے مسلم نے منقطع اور دارقطنی نے موصول روایت کیا ہے اور یہ موقوف ہے۔ احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ پانچوں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ تکبیر تحریمہ کر بعد تعوذ یعنی «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھتے تھے۔ میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے پناہ لیتا ہوں اس کے وسوسوں سے، اس کے پھونکنے سے یعنی (کبر و نخوت) سے اور اس کے اشعار اور جادو سے۔“

عُمَرَ،

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 214

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 215

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يستفتح الصلاة بالتكبير والقراءة بالحمد لله رب العالمين،‏‏‏‏ وكان إذا ركع لم يشخص راسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك،‏‏‏‏ وكان إذا رفع من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما،‏‏‏‏ وكان إذا رفع راسه من السجود لم يسجد حتى يستوي جالسا،‏‏‏‏ وكان يقول في كل ركعتين التحية،‏‏‏‏ وكان يفرش رجله اليسرى وينصب اليمنى،‏‏‏‏ وكان ينهى عن عقبة الشيطان وينهى ان يفترش الرجل ذراعيه افتراش السبع،‏‏‏‏ وكان يختم الصلاة بالتسليم.اخرجه مسلم وله علة.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز «الله اكبر» سے کیا کرتے تھے اور قرآت «الحمد لله رب العالمين» (سورۃ «فاتحه») سے شروع کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک نہ اونچا کرتے اور نہ نیچا کرتے بلکہ اس کے درمیان کی حالت میں رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ میں نہ جاتے جب تک کہ بالکل سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک کہ ٹھیک آرام سے بیٹھ نہ جاتے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے اور اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے اور دائیں کو قائم رکھتے (کھڑا رکھتے) شیطان کی چوکڑی سے منع فرماتے تھے اور درندوں کی طرح بازو آگے نکال کر بیٹھنے سے بھی منع فرماتے تھے اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔ (مسلم) اس کی سند معلول ہے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 215

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 216

وعن ابن عمر رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة وإذ كبر للركوع وإذا رفع راسه من الركوع. متفق عليه.وفي حديث ابي حميد عند ابي داود: يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه،‏‏‏‏ ثم يكبر.ولمسلم: عن مالك بن الحويرث نحو حديث ابن عمر لكن قال: حتى يحاذي بهما فروع اذنيه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے «الله اكبر» کہتے تو بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل تک اٹھاتے۔ (رفع یدین کرتے) (بخاری ومسلم)۔ اور ابوداؤد میں ابوحمید سے مروی حدیث میں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے پھر «الله اكبر» (تکبیر) کہتے۔ اور مسلم میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بھی اسی طرح منقول ہے، جس طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے لیکن اس میں ” کندھوں کے مقابل “ کی جگہ اپنے کانوں کے مقابل تک اٹھاتے مذکور ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 216

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 217

وعن وائل بن حجر قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فوضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره. اخرجه ابن خزيمة.

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھ لئے۔ (ابن خزیمہ)

صليت مع النبي صلى الله عليه ← وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 217

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 218

وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا صلاة لمن لم يقرا بام القرآن» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية لابن حبان والدارقطني: «‏‏‏‏لا تجزىء صلاة لا يقرا فيها بفاتحة الكتاب» .‏‏‏‏ وفي اخرى لاحمد وابي داود والترمذي وابن حبان:«‏‏‏‏لعلكم تقرءون خلف إمامكم؟» قلنا: نعم. قال: «‏‏‏‏لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب فإنه لا صلاة لمن لم يقرا بها» .

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جس نے (نماز میں) «أم القرآن» ( «فاتحه») نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔“ (بخاری و مسلم) ابن حبان اور دارقطنی میں روایت ہے کہ ” جس نماز میں سورۃ «فاتحه» نہ پڑھی گئی ہو وہ نماز کافی نہیں ہوتی۔“ احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن حبان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” شاید تم لوگ امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو ہم نے عرض کیا جی ہاں (پڑھتے ہیں) فرمایا ایسا نہ کیا کرو بجز سورۃ «فاتحه» کے۔ اس لئے کہ جس نے اسے نہ پڑھا اس کی (تو) نماز ہی نہیں “۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 218

chevron_left Previous
1…161718…25
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter