المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ هَذِهِ أَحَادِيثُ تَرَكَهَا فِي الْإِمْلَاءِ · حديث 4894
4894 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا صَالِحُ الْمُرِّيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ يَوْمَ أُحُدٍ إِلَى حَمْزَةَ وَقَدْ قُتِلَ وَمُثِّلَ بِهِ، فَرَأَى مَنْظَرًا لَمْ يَرَ مَنْظَرًا قَطُّ أَوْجَعَ لِقَلْبِهِ مِنْهُ وَلَا أَوْجَلَ فَقَالَ: «رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ، قَدْ كُنْتَ وَصُولًا لِلرَّحِمِ، فَعُولًا لِلْخَيْرَاتِ، وَلَوْلَا حَزْنٌ مِنْ بَعْدِكَ عَلَيْكَ لَسَرَّنِي أَنْ أَدَعَكَ حَتَّى تَجِيءَ مِنْ أَفْوَاهٍ شَتَّى» ، ثُمَّ حَلَفَ وَهُوَ وَاقِفٌ مَكَانَهُ: «وَاللَّهِ لَأُمَثِّلَنَّ بِسَبْعِينَ مِنْهُمْ مَكَانَكَ» ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي مَكَانِهِ لَمْ يَبْرَحْ: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ} [النحل: 126] حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، وَكَفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَأَمْسَكَ عَمَّا أَرَادَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4894 - صالح واه
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد کے دوران حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب دیکھا اس وقت وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے ناک ، کان وغیرہ کاٹ دئیے گئے تھے۔ ایسا تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا منظر حضور ﷺ نے اس قبل کبھی نہ دیکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے، تم صلہ رحمی کرنے والے ہو، نیکیاں کرنے والے ہو، اگر تمہارے بعد تیرے حوالے غم کی فکر نہ ہوتی تو میری خوشی اس بات میں تھی کہ تجھے اس طرح چھوڑ دیتا حتی کہ قیامت کے دن تمہیں مختلف مونہوں سے جمع کیا جاتا۔ پھر آپ ﷺ وہیں کھڑے ہوئے یہ قسم کھائی"خدا کی قسم، ان کے بدلے میں ستر آدمیوں کا مثلہ (ناک، کان وغیرہ اعضاء کاٹنا) کروں گا، یہ قسم کھا کر حضور ﷺ ابھی اسی جگہ کھڑے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی:"﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ١٢٦ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ١٢٧ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ١٢٨﴾[النحل: 126-128]"اور اے محبوب تم صبر کرواور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو، بیشک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں"اور اگر تم سزا دو تو ویسی ہی سزا دو جیسی تکلیف تمہیں پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بے شک صبر کرنے والوں کو صبر سب سے اچھا ۔ اور اے محبوب تم صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ن کے فریبوں سے دل تنگ نہ ہو۔ بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارادے سے رجوع فرمایا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← صالح المري ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › These are the hadiths he left in dictation · Hadith 4894
