المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1930
1930 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي قَائِدٌ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فَيُجَلِّي لِي عَنْ بَصَرِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ، وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي ". قَالَ عُثْمَانُ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا، وَلَا طَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ الرَّجُلُ وَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضُرٌّ قَطُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا قَدَّمْتُ حَدِيثَ عَوْنِ بْنِ عُمَارَةَ لِأَنَّ مِنْ رَسْمِنَا أَنْ نُقَدِّمَ الْعَالِيَ مِنَ الْأَسَانِيدِ»
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک نابیناشخص آیا اور اپنی نابینائی کی شکایت کی ۔ اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے میں شدید مشقت میں مبتلا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضوکر کے دورکعت نوافل ادا کر و پھر یوں دعا مانگو’’ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تیری بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ۔اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ، میری آنکھوں کو روشن کر دیں ۔اے اللہ! میرے بارے میں ان کی اور میری سفارش قبول فرما۔عثان کہتے ہیں: ابھی ہم وہاں سے اٹھ کر نہیں گئے تھے اور ہماری گفتگوکوئی زیادہ طویل نہیں ہوئی تھی کہ وہ آ دمی ( نماز پڑھ کر دعا وغیرہ مانگ کر) آ گیا ( اورایسا صحت یاب ہو چکا تھا یوں لگتا تھا کہ) اس کو کبھی آنکھوں کا عارضہ لاحق ہی نہیں تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور میں نے عون بن عمارہ کی روایت پہلے اس لئے نقل کی ہے کہ ہماراطریقہ یہ ہے کہ ہم ان احادیث کو تر جیح دیتے ہیں جن میں ہماری سند’’ عالی‘‘ ہوتی ہے ۔
عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← أحمد بن شبيب بن سَعِيْد الحبطي ← أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1930
