Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1930

1930 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي قَائِدٌ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فَيُجَلِّي لِي عَنْ بَصَرِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ، وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي ". قَالَ عُثْمَانُ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا، وَلَا طَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ الرَّجُلُ وَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضُرٌّ قَطُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا قَدَّمْتُ حَدِيثَ عَوْنِ بْنِ عُمَارَةَ لِأَنَّ مِنْ رَسْمِنَا أَنْ نُقَدِّمَ الْعَالِيَ مِنَ الْأَسَانِيدِ»

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک نابیناشخص آیا اور اپنی نابینائی کی شکایت کی ۔ اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے میں شدید مشقت میں مبتلا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضوکر کے دورکعت نوافل ادا کر و پھر یوں دعا مانگو’’ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تیری بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ۔اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ، میری آنکھوں کو روشن کر دیں ۔اے اللہ! میرے بارے میں ان کی اور میری سفارش قبول فرما۔عثان کہتے ہیں: ابھی ہم وہاں سے اٹھ کر نہیں گئے تھے اور ہماری گفتگوکوئی زیادہ طویل نہیں ہوئی تھی کہ وہ آ دمی ( نماز پڑھ کر دعا وغیرہ مانگ کر) آ گیا ( اورایسا صحت یاب ہو چکا تھا یوں لگتا تھا کہ) اس کو کبھی آنکھوں کا عارضہ لاحق ہی نہیں تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور میں نے عون بن عمارہ کی روایت پہلے اس لئے نقل کی ہے کہ ہماراطریقہ یہ ہے کہ ہم ان احادیث کو تر جیح دیتے ہیں جن میں ہماری سند’’ عالی‘‘ ہوتی ہے ۔

عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← أحمد بن شبيب بن سَعِيْد الحبطي ← أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1930

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4831

4831 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ أَخُو أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَخِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْهَلِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ مَكَّةَ، وَمَعَهُ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فِيهِمْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ يَلْتَمِسُونَ الْحَلِفَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ فَسَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُمْ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: «هَلْ لَكُمْ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ؟» قَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى الْعِبَادِ أَدْعُوَهُمْ إِلَى أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ الْكِتَابَ» ، ثُمَّ ذَكَرَ لَهُمُ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَكَانَ غُلَامًا حَدَثًا: أَيُّ قَوْمٍ هَذَا؟ وَاللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ لَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو الْحَيْسَرِ حَفْنَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ، فَضَرَبَ بِهَا وَجْهَ إِيَاسِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَالَ: دَعْنَا مِنْكَ فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هَذَا، فَصَمَتَ إِيَاسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَانَتْ وَقْعَةُ بُعَاثِ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ أَنْ هَلَكَ، قَالَ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ: " فَأَخْبَرَنِي مَنْ حَضَرَهُ مِنْ قَوْمِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَهُ يُهَلِّلُ اللَّهَ وَيُكَبِّرُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيُسَبِّحُهُ حَتَّى مَاتَ، قَالَ: فَمَا كَانُوا يَشُكُّونَ أَنْ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا لَقَدْ كَانَ اسْتَشْعَرَ الْإِسْلَامَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ حِينَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4831 - مرسل

ابو عبداللہ الاشہلی کے بھائی محمود بن لبید بیان کرتے ہیں: جب ابو الحسیر انس بن رافع مکہ میں آیا ، اس کے ہمراہ بنی عبدالا شہل کے کچھ نوجوان تھے، ان میں ایاس بن معاذ بھی تھے، یہ لوگ خزرج کو اپنی قوم کے خلاف حلیف بنانے کی غرض سے آئے تھے، رسول اللہ ﷺ کو ان کی آمد کا پتہ چلا تو آپ خود ان کے پاس تشریف لے آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا : کیا تم یہاں جس مقصد کی خاطر آئے ہو، کیا تمہیں ایسی بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے جو اس سے بھی بہتر ہے؟ انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، اس نے مجھےبندوں کی جانب مبعوث فرمایا ہے تاکہ میں ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤں اور ان کو شرک کرنے سے روکوں اور اس نےمجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی تعلمات سے آگاہ کیا، اور ان کو قرآن کریم کی تلاوت سنائی ۔ ایاس معاذ نوجوان تھے، بولے : اے میری قوم ! تم جس مقصد کی خاطر آئے ہو اس کےحصول سے زیادہ بہتر یہ ہے۔ ( یہ سنتےہی) ابوالحسیر نے ( غصے میں آکر ) زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر حضرت ایاس رضی اللہ عنہ کے منہ پر ماری اور کہنے لگاؒ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ہم کسی اور مقصد کی خاطر آئے ہیں۔ لیکن حضرت ایاس رضی اللہ عنہ جواباً خاموش رہے ۔ رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھ کر مدینہ میں تشریف لےآئے۔ پھر اوس اور خزرج ( دونوں قبیلوں ) کےدرمیان بعاث والا واقعہ رونما ہو گیا، اس کے کچھ ہی دنوں بعد حضرت ایاس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔ محمود بن لبید کہتے ہیں : ان کی وفات کے وقت جو لوگ وہاں موجود تھے، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ روح نکلنے تک حضرت ایاس رضی اللہ عنہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی تکبیر ، تسبیح و تحمید کرتے رہے ۔ آپ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس بات پر یقین تھا کہ ان کا خاتمہ اسلام پر ہوا ہے۔ اس مجلس میں جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی گفتگو سنی تھی تو اسی وقت ان کو اسلام کا شعور آگیا تھا۔ ( اور وہ مسلمان ہوگئے تھے) یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4831

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4832

4832 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَهْمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «كَانَ مَوْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فِي صَفَرٍ قَبْلَ قَدُومِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرٍ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ مِنَ النُّقَبَاءِ»

حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتےہیں کہ حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے ایک مہینہ پہلے ماہ صفر المظفر میں انتقال کر گئے تھے۔ اور یہ نقباء صحابہ میں سب سے پہلے صحابی ہیں )

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ جَهْمٍ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4832

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4833

4833 - أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ لَهُ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ فِي السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَامَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَنَا بِهِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ أَجَابَ، وَآخَرَ مَنْ دَعَا فَأَجَبْنَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، يَا مَعْشَرَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، قَدْ أَكْرَمَكُمُ اللَّهُ بِدِينِهِ، فَإِنْ أَخَذْتُمُ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ وَالْمُؤَازَرَةِ بِالشُّكْرِ فَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ جَلَسَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4833 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جن ستر صحابہ کرایم رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عقبہ اولی کی شب رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، ان میں سب سے پہلے بیعت کرنے والے حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ ہی ہیں ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ اس رات کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد کہنے لگے : تمام تعریفیں ہیں اس ذات کے لئے جس نے ہمیں محمد ﷺ کے ذریعے عزت بخشی ، اور اس نے ان کو ہمارے پاس بھیجا ۔ انہوں نے اس رات سب سے پہلے بیعت کی اور سب سے آخر میں دعا مانگی ، پھر ہم نے اللہ عزو جل کے حکم کو مانا، سنا اور اس کی اطاعت کی، اے او س اور خزرج کے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کے ساتھ عزت دی ہے ، اگر شکر گزاری کرتے ہوئے اطاعت اورفرمانبرداری کرتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو، ( یہ کہنے کے بعد) آپ بیٹھ گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زياد بن عبد الله ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4833

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4834

4834 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا حَمَّادٌ، وَالرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «اسْتَأْجَرَتْ خَدِيجَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفْرَتَيْنِ إِلَى جُرَشَ كُلُّ سَفْرَةٍ بِقَلُوصٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4834 - صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت خدیجۃالکبریٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو جرش ( ملک شام کے ایک شہر) کی جانب سفر کے لئے دو مرتبہ بھیجا ، یہ دونوں سفر آپ نے اونٹنی پر کئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، وَالرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، ← مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4834

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4835

4835 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، تَزَوَّجَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا خُوَيْلِدَ بْنَ أَسَدٍ»

زہری کہتے ہیں : سب سے پہلی عورت جس سے رسول اللہ ﷺ نے شادی کی وہ حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی تھیں ، رسول اللہ ﷺ نے زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ نکاح کر لیا تھا، ان کے والد خویلد بن اسد نے انکا نکاح کیا تھا۔

الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4835

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4836

4836 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قُبَيْلَ الْهِجْرَةِ بِسَنَةٍ»

حضرت داؤد بن محمد بن ابو معشر اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہجرت سے ایک سال پہلے انتقال فرما گئی تھیں ۔

«تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قُبَيْلَ الْهِجْرَةِ بِسَنَةٍ» ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4836

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4837

4837 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، «أَنَّ أَبَا طَالِبٍ وَخَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ هَلَكَا فِي عَامٍ وَاحِدٍ، وَذَلِكَ قَبْلَ مُهَاجِرٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَدُفِنَتْ خَدِيجَةُ بِالْحَجُونِ، وَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَهَا يَوْمَ تَزَوَّجَهَا ثَمَانٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: «وَكُنْيَةُ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمُّ هِنْدٍ، وَكَانَ لَهَا ابْنٌ وَابْنَةٌ حِينَ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمُّ خَدِيجَةَ فَاطِمَةُ بِنْتُ زَائِدَةَ بْنِ الْأَصَمِّ وَأُمُّهَا هَالَةُ بِنْتُ عَبْدِ مَنَافٍ»

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا دونوں کا وصال ایک ہی سال میں ہوا ، اور یہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے تین سال پہلے کی بات ہے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو "حجون" میں دفن کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ خود ان کو ان کی قبر میں اتارا تھا ، ان کے لئے بھی باری کا ایک دن تھا، آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں اٹھائیس سال زندہ رہیں، محمد بن اسحاق کہتے ہیں : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی کنیت "ام ہند" تھی جب ان کی شادی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ہوئی تو اس وقت ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کا نام" فاطمہ بنت زائدہ بن الاصم" تھا اور ان کی نانی کا نام ھالہ بنت عبد مناف " تھا۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4837

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4838

4838 - حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْإِمَامُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: «تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً» هَذَا قَوْلُ شَاذُّ، فَإِنَّ الَّذِي عِنْدِي أَنَّهَا لَمْ تَبْلُغْ سِتِّينَ سَنَةً "

ہشام بن عروہ فرماتےہیں: ام المومنین حضرت خدیجہ بنت خویلد کی وفات 65 برس کی عمر میں ہوئی ۔ (امام حاکم کہتے ہیں ) یہ قول شاذ ہے کیونکہ معلومات کےمطابق ان کی عمر ساٹھ سال بھی پوری نہیں تھی۔

هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْوَلِيدِ الْإِمَامُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4838

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4839

4839 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ أَوْسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " وَلَدَتْ خَدِيجَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ وَأَرْبَعَ نِسْوَةٍ: الْقَاسِمَ، وَعَبْدَ اللَّهِ، وَفَاطِمَةَ، وَزَيْنَبَ، وَرُقَيَّةَ، وَأُمَّ كُلْثُومٍ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی اولاد دو صاحبزادے قاسم اور عبداللہ تھے اور چار صاحبزادیاں فاطمہ ، زینب ، رقیہ اور ام کلثوم تھیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ أَوْسٍ، ← محمد بن يونس القرشي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4839

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1931

1931 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّ فِي رِضَاكَ ضَعْفِي، وَخُذْ لِيَ الْخَيْرَ بِنَاصِيَتِي، وَاجْعَلِ الْإِسْلَامَ مُنْتَهَى رِضَائِي، اللَّهُمَّ إِنِّي ضَعِيفٌ فَقَوِّنِي، وَإِنِّي ذَلِيلٌ فَأَعِزَّنِي، وَإِنِّي فَقِيرٌ فَارْزُقْنِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے( آپ فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو اللهم إنى ضعيف فقو في رضاك ضعفى، وخذ لي الخير بناصيتي، واجعل الإسلام منتهى رضائی،اللهم إني ضعيف فقوني، وانی ذلیل فاعزنی، وانی فقیر فارزقنی ”اے اللہ ! میں کمزور ہوں ،اپنی رضا میں میرے ضعف کوقوت عطا کر ۔ اور میرانصیب اچھافر مااوراسلام کو میری رضا کا انجام بنا ،اے اللہ ! میں کمزور ہوں تو مجھے قوت عطافرما، میں ذلیل ہوں تو مجھے عزت عطا فرما، میں فقیر ہوں تو مجھے رزق عطافرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← أَبِي دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1931

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1932

1932 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيلَ لِي: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَ " قَالَ: فَقُلْتُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ، وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےغلام ،حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: مجھے کہا گیا: اے محمد! تم سنو! اور سوال کرو تمہیں عطا کیا جائے گا ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے یوں دعا مانگی:اللهم إنى أسالك فعل الخيرات، وترك المنكرات، وحب المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردت بقوم فتنة فتوفني إليك، وأنا غير مفتون، اللهم إني أسألك حبك، وحب من يحبك،وحبا يبلغني حبك”اے اللہ! میں تجھ سے اعمال صالحہ کرنے اور برے کام چھوڑ نے اور مسکینوں سے محبت کر نے کی توفیق مانگتا ہوں ۔ اور یہ کہ تو میری مغفرت فرما اور میرے او پررحم فرما اور جب تو کسی قوم کوفتنہ میں مبتلا کر نا چا ہے تو تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کئے بغیر اپنی طرف وفات دے دے، اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اوران لوگوں کی محبت جو تجھ سے محبت کر تے ہیں اور ایسی محبت کی تو فیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أبي سلام الأسود ← أبي يحيى الكلاعي ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1932

chevron_left Previous
1…878889…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section