حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن میں نبیوں کا امام ہوں گا، میں ان کا خطیب ہوں گا ، شفاعت کرنے والا میں ہونگا لیکن مجھے ان میں سے کسی بات پر بھی فخر نہیں ہے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا، اور انصار جس راستے پر چلیں ، میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6969
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6970
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا: اے گروہ مہا جر ین! تم بڑھتے جارہے ہو اور انصار ختم ہو چکے ہیں، بے شک وہ انصار میرے مددگار ہیں ، تم اپنے محسنوں کی عزت وتوقیر کرو اور ان کی خطاؤں کو درگزر کرو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6970
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6971
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اپنی مرض میں باہر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے سر مبارک پر کپڑابندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: عام لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ انصار کی تعداد باقی لوگوں کے مقابلے میں (آٹے میں) نمک کے برابر رہ جائے گی تم میں سے جس کسی کو بھی ان کے کسی معاملہ کا زمہ دار بنایا جائے تو ان کے احسان کوقبول کرنا اور ان کی خطا کو درگزر کرنا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6971
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6972
حضرت ابوقتاده رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے منبر شریف پر انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: خبردار! بے شک لوگ غیرمشہور ہیں ، جبکہ انصاری میری پہچان ہیں۔ اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور انصار ایک راستے میں چلیں تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔ جس کو ان میں سے کسی کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا جائے تو وہ ان کے اچھائی کرنے والے کے ساتھ اچھائی کرے اور ان کے خطا کار کو معاف کرے، جس نے ان کو پریشان کیا تو اس نے مجھے پریشان کیا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصاریوں میں سے ہوتا۔
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ أَبُو صَخْرٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6972
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6973
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مرض وفات میں ان کے پاس آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے فرمایا: اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، کیونکہ وہ لوگ پاک دامن اورصابر ہیں۔
أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن ثابت البناني ← أَبُو دَاودَ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6973
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6974
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ عنہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سب طعام تقسیم فرما چکے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو انصار کے قبیلے بنی ظفر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بہت ضرورت مند ہیں ۔ اس گھرانے میں زیادہ عورتیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے فرمایا: اے اسید تم نے ہمیں چھوڑ دیا، اور جو کچھ ہمارے ہاتھ میں تھا سب چلا گیا، ( آیندہ سے یوںکرنا کہ ) جب بھی تمہیں پتا چلے کہ میرے پاس کوئی چیز آئی ہے تم مجھے اس گھرانے کے بارے میں یاد دلا دیا کرتا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد خیبر کےجَو اور کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وہ کھجوریں لوگوں میں تقسیم فرمادیں، اس تقسیم میں انصار کو اور اس گھرانے کو کافی زیادہ حصہ عطا فرمایا۔ حضرت اسید بن حصیررضی اللہ عنہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو ہماری طرف سے بہت اچھی جزاء عطافرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اے گروہ انصار !الله تعالی تمہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے، کیونکہ میں نے تمہیں ہمیشہ پاکدامن اور صابرہی پایا ہے۔ تم میرے بعد حکومت میں اورتقسیم میں کچھ( نامناسب ) معاملات دیکھو گے ،تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم مجھے حوض کوثر پر آملو گے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6974
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6975
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دور دراز سے پانی بھر کر لا نا انصار کے لئے بہت دشوار تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تا کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ان کے لئے دعا فر مادیں یا ان کے لئے نہر کھدوادیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو ان کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: تم آج مجھ سے جو کچھ بھی مانگو گے، میں تمہیں دوں گا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا یہ ارشاد عالی سنا تو کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرمادیں۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کے لئے یوں دعا مانگی "اے اللہ انصار کی مغفرت فرما، انصار کی اولادوں کی مغفرت فرما، ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما"۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6975
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6976
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم انصار کے کچھ بچوں، غلاموں اور لونڈیوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ کی ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6976
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6977
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انصار کے دوقبیلوں"اوس "اور "خزرج "نے فخر کیا۔اوس نے کہا: ہم میں وہ شخصیت ہے جس کی موت پر الله تعالی کا عرش بھی ہل گیا تھا، وہ ہیں ”سعد بن معاز رضی اللہ عنہ ۔اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کا دفاع بھڑ وں نے کیا۔ اور وہ ہے حضرت عاصم بن ثابت بن افلح رضی اللہ عنہ ۔اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کو فرشتوں نے غسل دیا تھا، وہ حضرت حنظلہ بن راہب ہیں ۔ ہہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کی اکیلے کی گواہی دو کے برابر قرار دی گئی ہے، وہ ہیں حضرت" خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ "۔ . خزر جی لوگ کہنے لگے۔ وہ چاروں صحابی ہم میں سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم جمع کیا ہے، ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس کام میں شامل نہیں تھا۔ وہ چاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ یہ تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ،حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6977
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6978
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشادفرمایا: مہاجرین اور انصار د نیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں ۔ اور قریش کے طلقاء ( جن لوگوں کو فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا اور مور د احسان بنے۔) اور بنی ثقیف کے آزاد کرده، دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6978
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضِيلَةِ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَيْنَةَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 6979
حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم غزوہ کے لئے تیار کئے گئے گھوڑوں کا معائنہ فرمارہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس عیینہ بن بدر الفزاری موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے کہا: گھوڑوں کے بارے میں، تجھ سے زیادہ میں جانتا ہوں، حضرت عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں مردوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے زیادہ جانتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: بتایئے ، سب سے بہتر مرد کون ہے؟ عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نجد کے وہ باشندے وہ جو اپنی تلوار میں اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی زینوں پر رکھتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: تم نے جھوٹ بولا ہے( بہترین مرد نجد کے لوگ نہیں) بلکہ بہترین مرد ،یمن کے مرد ہیں ۔ اور یمن سے لخم اور جدام تک کے لوگوں کا ایمان قابل قدر ہے، اور وہاں کے کھانوں میں سے بہترین کھانا حمیر کا کھانا ہے، اور حضرموت ، بنی الحارث سے اچھے ہیں، اور اللہ کی قسم! مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمام حارثین ہلاک ہو جائیں۔ چار بادشاہوں پر الله تعالی کی لعنت ہو۔ (وہ چار بادشاہ یہ ہیں ) جمدا، مخوسا، ابضعہ ، ان کی بہن عمر دہ ۔ پھر فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے دومرتبہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، میں نے ان پر لعنت کی ، اور اللہ تعالی نے دو مرتبہ مجھے حکم دیا کہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھوں ، میں نے دونوں مرتبہ ان کی نماز جنازہ پڑھی، پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے تمیم بن مرہ پر پانچ مرتبہ اوربکر بن وائل پر سات مرتبہ لعنت فرمائی۔ بنی تمیم کے قبیلوں میں سے مقاعس اور ملا دسں پر لعنت کی ، پھر فرمایا: کچھ لوگ نافرمان ہیں، انہوں نے اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ وہ عبدقیس ، جعده اور عصمہ ہیں ۔ پھر فرمایا: قیامت کے دن قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ اور جہینہ میں سے ان کے حلیف قبائل، بنی اسد،تمیم اور غطفان اور ہوازن سے بہتر ہوں گے۔ پھر فرمایا: عرب کے قبیلوں میں سب سے برے دو قبیلے ہیں، نجران اور بنو تغلب۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Virtue of Islam, Forgiveness, Adornment, and others · Hadith 6979
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضِيلَةِ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَيْنَةَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 6980
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ مائی فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشادفرمایا قبیلہ اسلم ، غفار،اشجع ، مزینہ اورجہینہ اور بنی کعب میں سے جس کا کوئی مولیٰ نہیں ہے اللہ اور اس کا رسول ان کا مولیٰ ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Virtue of Islam, Forgiveness, Adornment, and others · Hadith 6980