المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4621
4621 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَشَى قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الْقَوْمُ، وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ، قَالَ: «لَا» قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ» - يَعْنِي عَلِيًّا - فَأَتَيْنَاهُ فَبَشَّرْنَاهُ، فَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4621 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے آپ ﷺ کا جوتا مبارک ٹوٹ گیا ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کو پیوند لگانے لگے ، اس لئے وہ ذرا پیچھے رہ گئے ۔ آپ ﷺ تھوڑا چلے ، پھر فرمایا : تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل پر اس طرح لڑے گا جیسے میں نے اس کے نزول پر قتال کیا تھا۔ تو لوگ اپنے اپنے سر اونچے کرنے لگے ۔ ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ انہوں نے پوچھا : کیا وہ آدمی میں ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا : نہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ میں ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ بلکہ وہ جوتوں کو پیوند لگانے والا ہے ( یعنی علی ہے) ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنائی لیکن انہوں نے اس بات پر سر نہ اٹھایا یا یوں لگتا تھا جیسے وہ یہ بات پہلے ہی رسول اللہ ﷺ سے سن چکے ہوں۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← فِطْرِ بن خليفة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ أَبِي غَرْزَةَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أبو غسان، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4621
