Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4621

4621 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَشَى قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الْقَوْمُ، وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ، قَالَ: «لَا» قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ» - يَعْنِي عَلِيًّا - فَأَتَيْنَاهُ فَبَشَّرْنَاهُ، فَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4621 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے آپ ﷺ کا جوتا مبارک ٹوٹ گیا ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کو پیوند لگانے لگے ، اس لئے وہ ذرا پیچھے رہ گئے ۔ آپ ﷺ تھوڑا چلے ، پھر فرمایا : تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل پر اس طرح لڑے گا جیسے میں نے اس کے نزول پر قتال کیا تھا۔ تو لوگ اپنے اپنے سر اونچے کرنے لگے ۔ ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ انہوں نے پوچھا : کیا وہ آدمی میں ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا : نہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ میں ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ بلکہ وہ جوتوں کو پیوند لگانے والا ہے ( یعنی علی ہے) ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنائی لیکن انہوں نے اس بات پر سر نہ اٹھایا یا یوں لگتا تھا جیسے وہ یہ بات پہلے ہی رسول اللہ ﷺ سے سن چکے ہوں۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← فِطْرِ بن خليفة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ أَبِي غَرْزَةَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أبو غسان، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4621

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4622

4622 - حَدَّثَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَثَلًا، أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهَا» ، قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ: «أَلَا وَأَنَّهُ يَهْلِكُ فِي مُحِبٍّ مُطْرِي يُفَرِّطُنِي بِمَا لَيْسَ فِي وَمُبْغِضٌ مُفْتَرٍ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي، أَلَا وَأَنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ، وَلَا يُوحَى إِلَيَّ، وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ تَعَالَى، فَحَقَّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ أَوْ كَرِهْتُمْ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِمَعْصِيَةٍ أَنَا وَغَيْرِي فَلَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» ، «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4622 - الحكم بن عبد الملك وهاه ابن معين

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نےمجھے اپنے پاس بلا کر فرمایا : اے علی تجھ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جھلک موجود ہے۔ یہودیوں نے ان سے بغض کیا( اور وہ بغض و عداوت میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ ) ان کی والدہ محترمہ پر بہتان تراشی کے مرتکب ہوگئے۔ اور عیسائیوں نے ان سے محبت کی ( اور یہ لوگ محبت میں اس قدر آگے نکل گئے کہ ) ان کو ایسے مقام پر فائز کردیا جس کے وہ لائق نہ تھے ( یعنی ان کو خدا کہنے لگ گئے) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے محبت کرنے والوں کو ان کے اس روئیے نے ہلاک کر دیا کہ انہوں نے مجھ میں ایسی چیز ثابت کی جو کہ حقیقت میں مجھ میں نہ تھی۔ اور مجھ سے بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے اس بات پر ابھارا کہ وہ مجھ پر بہتان لگانے لگے ۔ خبر دار ! میں نبی نہیں ہوں اور نہ میری طرف وحی آتی ہے۔ میں تو اپنی ہمت کے مطابق اللہ کی کتاب اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع کرتا ہوں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے سلسلے میں جو تمہیں حکم دوں تم پر لازم ہے کہ تم میرے حکم کی تعمیل کرو خواہ وہ حکم تمہیں اچھا لگے یا برا لگے۔ اور اگر میں یا کوئی بھی تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو خبردار! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے ۔ اطاعت تو فقط جائز کاموں میں ہوتی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

يَا عَلِيُّ: ← دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، ← أبي صادق ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ ← عَمِّي أَبُو بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4622

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4623

4623 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبُخَارِيُّ، ثنا عَفَّانُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ كَنْزًا فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعَنَّ النَّظْرَةَ نَظْرَةً، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4623 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : اے علی ! جنت میں تیرا ایک خزانہ ہے اور بے شک تو دو چوٹیوں والا ہے ، ایک نظر کے بعد دوسری مت دیکھو ، کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے جبکہ دوسری نظر معاف نہیں ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَظُنُّهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّان وسليمان بن حرب ← أبو عصمة سهل بن المتوكل البخاري ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4623

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4624

4624 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا عَامِرُ بْنُ السِّمْطِ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، مَنْ فَارَقَنِي فَقَدْ فَارَقَ اللَّهَ، وَمَنْ فَارَقَكَ يَا عَلِيُّ، فَقَدْ فَارَقَنِي» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4624 - بل منكر

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اے علی ! جس نے مجھے چھوڑا ، اس نے اللہ کو چھوڑا۔ اور اے علی ! جس نے تجھے چھوڑا اس نے مجھے چھوڑا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← معاوية بن ثعلبة ← أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُد بْنِ أَبِي عَوْفٍ ← عَامِرٌ بْنِ السِّمْطِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4624

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4625

4625 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّاسِبِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَرْجُو أَنَّهُ صَدُوقٌ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَحَكَمْتُ بِصِحَّتِهِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4625 - أظن أنه هو يعني عمر بن حسن الراسبي الذي وضع هذا

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمام انسانیت کا سردار ہوں اور علی اہل عرب کا سردار ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔اور اس کی سند میں " عمر بن الحسن " ہیں ۔ میرا گمان ہے کہ یہ "صدوق" ہیں ۔ اگر ( مجھے یہ شک ) نہ ہوتا تو میں یہ فیصلہ دے دیتا کہ یہ حدیث شیخین رحمۃاللہ علیہما کے معیار کےمطابق ہے۔حضرت عروہ کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے روایت کردہ حدیث کی شاہد ہے ۔( وہ حدیث درج ذیل ہے)

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّاسِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4625

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4626

4626 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَارِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُلْوَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدِ الْعَرَبِ»

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس عرب کے سردار کو بلاؤ ، میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ کیا آپ " عرب کے سردار " نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں تو پوری انسانیت کا سردار ہوں اور علی "عرب کا سردار" ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ( درج ذیل ) حدیث بھی اس حدیث کی شاہد ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عُلْوَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَارِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4626

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4627

4627 - وَلَهُ شَاهِدٌ آخَرُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4626 - وضعه ابن علوان

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس " عرب کے سردار کو بلاؤ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ( خود) عرب کے سردار نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں تو آدم علیہ السلام کی پوری اولاد کا سردار ہوں اور علی " عرب کا سردار " ہے۔

وَلَهُ شَاهِدٌ آخَرُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4627

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4628

4628 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ عَائِشَةَ وَاقِفَةً دَخَلَنِي بَعْضُ مَا يَدْخُلُ النَّاسَ، فَكَشَفَ اللَّهُ عَنِّي ذَلِكَ عِنْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، فَقَاتَلْتُ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا فَرَغَ ذَهَبْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا جِئْتُ أَسْأَلُ طَعَامًا وَلَا شَرَابًا وَلَكِنِّي مَوْلًى لِأَبِي ذَرٍّ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا فَقَصَصْتُ عَلَيْهَا قِصَّتِي، فَقَالَتْ: أَيْنَ كُنْتَ حِينَ طَارَتِ الْقُلُوبُ مَطَائِرَهَا؟ قُلْتُ: إِلَى حَيْثُ كَشَفَ اللَّهُ ذَلِكَ عَنِّي عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: أَحْسَنْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَأَبُو سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ هُوَ عُقَيْصَاءُ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4628 - صحيح

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو ثابت فرماتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کھڑے دیکھا تو میرے دل میں بھی وسوسہ پیدا ہوا جو دوسرے لوگوں کے دلوں میں تھا۔ لیکن نماز ظہر کےو قت اللہ تعالیٰ نے وہ وسوسہ مجھ سے دور کردیا ۔ چنانچہ میں نے امیر المومنین کے ہمراہ قتال کیا۔ جب جنگ ختم ہوئی تو میں مدینہ منورہ میں آیا ، تو میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ۔ میں نے کہا : خدا کی قسم ! میں کوئی کھانے یا پینے کی کوئی چیز مانگنے کے لئے نہیں آیا بلکہ میں تو حضرت ابوذر کا آزاد کردہ غلام ہوں ۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ میں نے ان کو اپنا واقعہ سنایا ۔ انہوں نے کہا: جب دل اپنے مقام پر اڑ رہے تھے تو تو اس وقت کیسے بچ گیا؟ میں نے کہا: میری بھی حالت وہی تھی لیکن زوال شمس کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے شرح صدر عطا کردیا۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا ۔ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے سنا ہے " علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ رہے گا اور یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے حتیٰ کہ یہ دونوں اکٹھےہی میرےپاس حوض کوثر پر آئیں گے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابو سعید التیمی عقیصاء ہیں ، یہ ثقہ ہیں ، مامون ہیں۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي ثَابِتٍ، مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4629

4629 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4629 - مختار بن نافع ساقط

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا ء مانگی " اللہ تعالیٰ علی پر رحم فرمائے ، اے اللہ علی جدھر ہو حق کو ادھر کردے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمِيمِيُّ، ← أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4629

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4630

4630 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَانِئٍ، الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي، وَإِذَا سَكَتَ ابْتَدَأَنِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4630 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں جب بھی رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگتا ، آپ وہ چیز مجھے ضرور عطا فرمادیتے اور جب میں خاموش رہتا تو آپ مجھ ہی سے آغاز کرتے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيًّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ ← عَوْفٌ، ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَانِئٍ، الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4630

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4631

4631 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَتْ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ يَوْمًا: «سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ» قَالَ: فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ نَاسٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أُمِرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، فَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ، وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ، وَلَكِنْ أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4631 - صحيح

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے ۔ ایک دن آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سلسلہ میں لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ ایک دن کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا : میں نے علی کے دروازے کے علاوہ تمام دروزے بند کرنے کا حکم دیا ، اس پر تم میں سے کسی کو اعتراض ہے ۔ خدا کی قسم ! میں نے ( اپنی مرضی سے ) نہ کسی کا دروازہ بند کرایا ہے نہ کھولے رکھا ہے۔ بلکہ مجھے تو ایک حکم ملا تھا جس کی میں نے پیروی کی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أُمِرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، ← فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ نَاسٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ← يَوْمًا: «سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ» ← كَانَتْ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مَيْمُونَ أَبِي عَبْدِ اللهِ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4631

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4632

4632 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا أَبِي، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَقَدْ أُعْطِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لِأَنْ تَكُونَ لِي خَصْلَةٌ مِنْهَا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْطَى حُمْرَ النَّعَمِ قِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: «تَزَوَّجُهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُكْنَاهُ الْمَسْجِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحِلُّ لَهُ فِيهِ مَا يَحِلُّ لَهُ، وَالْرَايَةُ يَوْمَ خَيْبَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4632 - بل المديني عبد الله بن جعفر ضعيف

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ تین فضیلتیں عطا کی گئی ہیں ، اگر مجھے ان میں سے کوئی ایک بھی ملی ہوتی تو یہ میرے لئے سرخ اونٹوں کے ملنے سے زیادہ خوش کن ہوتی ۔ پوچھا گیا: اے امیر المومنین ! وہ فضیلتیں کون سی ہیں ؟ آپ نے فرمایا: (1) رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ان کے عقد میں آئیں۔ ( 2 ) وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مسجد میں رہائش پذیر تھے اور ان کے لئے مسجد میں وہ سب کچھ حلال تھا جو حضور ﷺ کے لئے حلال تھا۔ (3) جنگ خیبر کے دن علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4632

chevron_left Previous
1…733734735736737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section