Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4537

4537 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، بَالطَّابِرَانِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ أَتَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، وَلَيْسَ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرُكَ، فَقَالَ لَكَ: «يَا طَلْحَةُ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ، وَأَنَّ عُثْمَانَ رَفِيقِي وَمَعِي فِي الْجَنَّةِ» ، فَقَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ طَلْحَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4537 - قاسم هذا قال البخاري لا يصح حديثه

حضرت زید بن اسلم اپنے والد کا بیان نقل کر تے ہیں کہ جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جنائز کے مقام پر محاصرہ کیا گیا ، اس دن میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اللہ کی قسم دے کر فر مایا: اے طلحہ! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے؟ جب فلاں فلاں مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف تو تھا اور میں تھا۔اوراپنے سوا دوسرا کوئی صحابی اس وقت وہاں موجود نہ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں فرمایا تھا:اے طلحہ! ہر نبی کا اس کی امت میں سے ایک دوست ہوتا ہے جو کہ جنت میں بھی اس کے ساتھ ہی ہوگا، اور بے شک میرادوست عثمان ہے اور یہ جنت میں بھی میرے ساتھ ہو گا ۔ حضرت طلحہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر حضرت طلحہ واپس چلے گئے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عبيد الله بن عمرو بن ميسرة ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4537

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4538

4538 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُلَيْبَ بْنَ وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: أَشَهِدَ عُثْمَانُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَشَهِدَ بَدْرًا، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَكَانَ مِمَّنِ اسْتَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ الْآنَ أَنَّكَ وَقَعْتَ فِي عُثْمَانَ، قَالَ: كَذَلِكَ يَقُولُ: قَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ، فَقَالَ: عَقَلْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَأَلْتُكَ هَلْ شَهِدَ عُثْمَانُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ؟ قُلْتَ: لَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ شَهِدَ بَدْرًا؟ فَقُلْتُ: لَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ؟ فَقُلْتَ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَمَّا بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ انْطَلَقَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ» فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ، وَلَمْ يَضْرِبْ لِأَحَدٍ غَابَ غَيْرَهُ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَوَلَّوْا يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ، إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا، وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4538 - صحيح

حضرت حبیب ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : کیا عثمان بعیت رضوان میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ۔اس نے کہا: وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں ۔اس نے کہا: کیا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو شیطان نے اپنے بہکاوے میں لے لیا تھا ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص اٹھ کر چلا گیا، ایک آدمی نے کہا: اس نے یہ سمجھا ہے کہ آپ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالف ہیں۔آپ نے فرمایا: وہ ایسے ہی کہہ رہا ہوگا۔ فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس واپس بلا ؤ ( جب وہ واپس آیا تو) آپ نے فرمایا: میں نے تجھے جو کچھ کہا تھا تم وہ سمجھ گئے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ کیا حضرت عثمان بیعت رضوان میں شریک تھے؟ آپ نے کہا: جی نہیں ۔ میں نے آپ سے پو چھا کہ کیا وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے کہا نہیں ۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ کیاوہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو شیطان نے اپنے بہکاوے میں لے لیا تھا؟ آپ نے کہا: جی ہاں ۔آپ نے فرمایا: جہاں تک بیعت رضوان کا تعلق ہے تو(اصل بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا’’ عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں ۔تو آپ نے ان کے لئے حصہ بھی رکھا۔ حالانکہ آپ کے علاوہ دوسرے ایسے کسی بھی آدمی کے لئے آپ نے حصہ نہیں رکھا جو وہاں غیر حاضر تھا۔ اور باقی رہی بات جنگ بدر کے موقع پر غیر حاضری کی ( تو ان کو معاف کر دیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’انما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا‘‘(ال عمران:۱۵۵)’’انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث اور بے شک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا ، بے شک اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

له بعض القوم ← نَعَمْ، فَقَامَ الرَّجُلُ ← فَكَانَ مِمَّنِ اسْتَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ؟ ← لَا۔ ← فَشَهِدَ بَدْرًا، ← لَا۔ ← أَشَهِدَ عُثْمَانُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ؟ ← جاء رجل إلى ابن عمر ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← کُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4538

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4539

4539 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاتَ يَوْمٍ تَهْجُمُونَ عَلَى رَجُلٍ مُعْتَجِرٍ بِبُرْدَةٍ يُبَايِعُ النَّاسَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَهَجَمْتُ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُعْتَجِرٌ بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ يُبَايِعُ النَّاسَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4539 - صحيح

حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: ایک دن تم ایسے آدمی کے پاس اچانک جاؤ گے جو چادرکوبطور عمامہ باند ھے ہوئے ہوگا اور لوگوں سے بیعت لے رہا ہوگا ، وہ جنتی شخص ہوگا ۔ میں اچا نک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ ایک منقش چادر کا عمامہ باند ھے ہوئے ،لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4539

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4540

4540 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي الْجَنَّةِ بَرْقٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ عُثْمَانَ لَيَتَحَوَّلُ مِنْ مَنْزِلٍ إِلَى مَنْزِلٍ فَتَبْرُقُ لَهُ الْجَنَّةُ» إِنْ كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هَذَا حِفْظَهُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4540 - ذا موضوع

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا جنت میں بجلی چمکے گی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، بے شک عثمان ایک منزل سے دوسری میں منتقل ہوگا ، توجنت اس کے لئے روشن کی جائے گی ۔ اگر یہ حسین بن عبید اللہ،عبدالعزیز بن ابی حازم سے روایات حفظ کرتا ہے تو یہ حدیث شیخین رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ أَفِي الْجَنَّةِ بَرْقٌ؟ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← الحسين بن عبيد الله، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4540

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4541

4541 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُوسَى، وَمُحَمَّدٌ، وَإِبْرَاهِيمُ، بَنُو عُقْبَةَ، قَالُوا: ثنا أَبُو أُمِّنَا أَبُو حَسَنَةَ قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْكَلَامِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَاخْتِلَافٌ - أَوِ اخْتِلَافٌ - وَفِتْنَةٌ» ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ» وَأَشَارَ إِلَى عُثْمَانَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4541 - صحيح

حضرت ابوحسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت ابوہریہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہو چکا تھا۔ میں نے ان سے گفتگو کی اجازت مانگی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:عنقریب فتنے اوراختلافات یا ( شاید اختلاف کالفظ پہلے اور فتنے کا بعد میں بولتے ہوئے یوں فرمایا) اختلافات اور فتنے ہوں گے۔ ہم نے عرض کی : (ان حالات میں) ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تم امیر المومنین اوران کے ساتھیوں کی حمایت میں رہنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

قُلْنَا ← «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَاخْتِلَافٌ أَوِ اخْتِلَافٌ وَفِتْنَةٌ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← شَهِدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْكَلَامِ، ← أَبُو أُمِّنَا أَبُو حَسَنَةَ ← مُوسَى، وَمُحَمَّدٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بَنُو عُقْبَةَ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4541

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4542

4542 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَلْقَمَةَ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ: أَغْفَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ فَاسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ يَقُولُ النَّاسُ تَمَنَّى عُثْمَانُ الْفِتْنَةَ لَحَدَّثْتُكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَحَدِّثْنَا، فَلَسْنَا نَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي هَذَا، فَقَالَ: «إِنَّكَ شَاهِدٌ مَعَنَا الْجُمُعَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4542 - صحيح

حضرت کثیر بن صلت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوشہید کیا گیا،اس دن آپ کو نیند آئی، جب آپ سوکر بیدار ہوئےتو بولے:اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہو کہ لوگ کہیں گے کہ عثمان فتنہ کی تمنا کر رہا ہے تو میں تمہیں ایک بات بتاؤں۔ ( حضرت کثیر بن صلت ) فرماتے ہیں: اللہ تعالی آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے ، ہم لوگوں کی طرح با تیں نہیں کر یں گے، آپ ہمیں بتائیں کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے ابھی خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کود یکھا ہے آپ فرمار ہے تھے :تم جمعہ تک ہم سے آملوگے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي مَنَامِي هَذَا، ← النَّاسُ: ← فَلَسْنَا نَقُولُ مَا ← قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ ← النَّاسُ تَمَنَّى عُثْمَانُ الْفِتْنَةَ لَحَدَّثْتُكُمْ، ← لَوْلَا أَنْ ← أَغْفَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ فَاسْتَيْقَظَ، ← كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ← أَبُو عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4542

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4543

4543 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ادْعُ لِي - أَوْ لَيْتَ عِنْدِي - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» قَالَتْ: قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: «لَا» . قُلْتُ: عُمَرُ؟ قَالَ: «لَا» . قُلْتُ: ابْنُ عَمِّكَ عَلِيٌّ؟ قَالَ: «لَا» . قُلْتُ: فَعُثْمَانُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَتْ: فَجَاءَ عُثْمَانُ، فَقَالَ: «قُومِي» ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَى عُثْمَانَ، وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ قُلْنَا: أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا، فَأَنَا صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4543 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میرے پاس بلاؤ،(یا شاید یہ فرمایا کہ) کاش میرے پاس میرے اصحاب میں سے ایک آدمی ہوتا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میں نے کہا:ابوبکر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا:حضرت عمر رضی اللہ عنہ ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ میں نے کہا: آپ کے چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ میں نے کہا:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ۔ آپ نے مجھے وہاں سے اٹھ جانے کا حکم دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کانی دیر تک) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سرگوشی میں باتیں کرتے رہے اور( ساتھ ہی ساتھ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ متغیر ہوتا جارہا تھا ، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو ہم نے ان سے پوچھا کیا آپ قتال نہیں کر یں گے؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہوا ہے، اس لئے میں صبر اختیار کرتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِي سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4543

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4544

4544 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثنا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ: «إِنَّ اللَّهَ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَالِي الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4544 - أنى له الصحة ومداره على فرج بن فضالة

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی تجھے ایک قمیض پہنائے گا اگر منافقین وہ قمیض اتروانا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، عالی الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4544

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4545

4545 - فَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «اسْمُ أَبِي سَرْحٍ الْحُسَامُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُزَيْمَةَ» قَالَ الْحَاكِمُ: «وَلَمَّا اسْتَوْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ عَلَى مِصْرَ، أَعْقَبَ وَمِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ صَاحِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، وَأَمَّا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَإِنَّهُ وُلِدَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ وَحُمِلَ إِلَيْهِ، فَحُرِمَ بَرَكَتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

محمد بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوسرح کا نام’الحسام بن الحارث بن حبیب بن خزیمہ‘‘ ہے۔امام حاکم فرماتے ہیں: جب عبداللہ بن سعد کو مصر کا حاکم بنایا گیا تو وہ واپس آ گئے اوران میں عمر و بن سوادالسرحی ،عبداللہ بن وہب کا ساتھ بھی تھا اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہو چکے تھے ، ان کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیالیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے محروم رہے۔

«اسْمُ أَبِي سَرْحٍ الْحُسَامُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُزَيْمَةَ» ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4545

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4546

4546 - حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَ بِصِبْيَانِهِمْ، فَيَمْسَحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، وَيَدْعُو لَهُمْ، فَخَرَجَ بِي أَبِي إِلَيْهِ، وَإِنِّي مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ، فَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي، وَلَمْ يَمَسَّنِي، وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ، فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ» قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، فَتَقَذَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَمَسَّهُ، وَلَمْ يَدْعُ لَهُ وَالْخَلُوقُ لَا يَمْنَعُ مِنَ الدُّعَاءِ، لَا جُرْمَ أَيْضًا لِطِفْلٍ فِي فِعْلِ غَيْرِهِ، لَكِنَّهُ مُنِعَ بَرَكَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَابِقِ عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ»

حضرت ولید بن عقبہ فرماتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کے لئے برکت کی دعافر ماتے ، میراوالد بھی مجھے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، میں اس وقت خلوق (ایک قسم کی خوشبو ، جس کا جز واعظم زعفران ہوتا ہے) میں بسا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو میرے سر پر ہاتھ پھیرا، نہ مجھے چھوا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے خلوق خوشولگا دی تھی ، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔نوٹ :امام احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ اسی دن سانپ نے ان کو ڈ سا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہاتھ لگانے سے گریز کیا اوراس کے لئے دعا بھی نہیں فرمائی ، اورخلوق کا لگا ہونا دعا کرنے سے مانع نہیں ہے بالخصوص ایک ایسے بچے کیلئے جس پر خلوق بھی کسی اور نے لگایا ہو، اصل بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے محروم رہے،اللہ کے اس علم کی بناء پر جواس کے بارے میں اس سے پہلے سے تھا۔ واللہ اعلم

الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ← عبد الله الهمداني ← ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْكِلاَبِيُّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ الرَّقِّيُّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4546

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4547

4547 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السُّدِّيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيُّ قَالَ: اسْتَعْمَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَكَانَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ عَلَى الْكُوفَةِ وَأَرْضِهَا وَبِهَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَدِمَ عَلَى سَعْدٍ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ، وَلَا يَعْلَمُ بِعِلْمِهِ، ثُمَّ قَالَ أَبَا وَهْبٍ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: «قَدِمْتُ عَامِلًا» ، قَالَ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: «عَلَى عَمَلِكَ» ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَكِسْتَ بَعْدِي، أَمْ حَمُقْتُ بَعْدَكَ؟ فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا كِسْتُ بَعْدَكَ، وَلَا حَمُقْتَ بَعْدِي، وَلَكِنَّ الْقَوْمَ اسْتَأْثَرُوا عَلَيْكَ بِسُلْطَانِهِمْ» ، فَقَالَ: صَدَقْتَ ثُمَّ قَالَ سَعْدٌ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثِي ضِبَاعٍ، وَاشْتَرَى بِلَحْمِ امْرِئٍ لَوْ شَهِدَ الْيَوْمَ نَاصِرُهُ أَيَا عُمَرَاهُ ضِبَاعُ الشَّرِّ، قَالَ الْهَيْثَمُ: وَلَمَّا عَزَلَ عُثْمَانُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ عَنِ الْكُوفَةِ وَوَلَّاهَا سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، قَالَ الْهَيْثَمُ: فَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ قَالَ: «اغْسِلُوا الْمِنْبَرَ لِأَصْعَدَ عَلَيْهِ أَوْ يُطَهَّرُ» فَغُسِلَ الْمِنْبَرُ حَتَّى صَعِدَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4547 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

طارق بن شہاب الاحمسی کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کوکوفہ کا حاکم مقررکیا ، یہ آپ کے اخیافی بھائی تھے، وہاں پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ، وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے،انہوں نے ان کواپنے پاس بٹھالیا ، اور وہ ان کی موجودہ حیثیت سے واقف نہ تھے بولے:اے ابو وہب! تم یہاں کیسے آئےہو؟ انہوں نے کہا کہ میں حاکم بن کر آیا ہوں ۔ انہوں نے کہا: کس چیز پر؟ اس نے کہا: تمہارے اعمال پر ۔ آپ نے کہا: خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تو مجھ سے زیادہ ذہین ہے یا میں تجھ سے زیادہ احمق ہوں ۔اس نے کہا: خدا کی قسم !(ایسی بات نہیں ہے )بلکہ لوگوں نے اپنی طاقت کی وجہ سے تجھ پر غلبہ پایا ہے ۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو، پھر حضرت سعد نے یہ اشعار پڑھے مجھے ضباع کی حدیث بیان کر اوراس نے ایک آدمی کا گوشت خریدا ، کاشکہ آج اس کا مددگارمو جود ہوتا اے عمر ضباع کے شر پر مجھے افسوس ہے۔ ہیشم کہتے ہیں:جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو کوفہ سے معزول کیا اوران کی جگہ حضرت سعید بن العاص کو حاکم بنایا توہیشم کہتے ہیں: اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب سعید بن العاص آئےتو انہوں نے کہا:منبر کو دھوؤ تا کہ میں اس پر چڑھوں ،تو منبر دھویا گیا تب حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے۔

طارق بن شهاب الأحمسي، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السُّدِّيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4547

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4548

4548 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا» قَالُوا: مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَوْتِي، وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ يُعْطِيهِ، وَمِنَ الدَّجَّالِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4548 - صحيح

حضرت عبداللہ بن حوالہ الاسدی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوتین چیزوں سے بچ گیا وہی نجات یافتہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ تین چیز یں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری موت۔ حق کے ساتھ صبر کرنے والے خلیفہ کاقتل ۔ دجال۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

مَاذَا ← «مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَسَدِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ التُّجِيبِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عبد الحكم المصري، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4548

chevron_left Previous
1…726727728…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section