Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4477

4477 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ وَهُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الرُّصَافِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَا: " عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنُ نُفَيْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ رِيَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ - لَفْظًا وَاحِدًا، قَالَا: - وَأُمُّهُ حَنْتَمَةُ بِنْتُ هَاشِمِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ، وَأُمُّهَا الشِّفَاءُ بِنْتُ عَبْدِ قَيْسِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمٍ، يُكَنَّى أَبَا حَفْصٍ، اسْتُخْلِفَ يَوْمَ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يَوْمُ الثُّلَاثَاءِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ "

زہری اور مصعب بن عبداللہ زبیری دونوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نسب بیان کرتے ہوئے)کہتے ہیں: ’’عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی ٰبن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن فہر‘‘ اوران کی والدہ کا نسب بیان کر تے ہوئے کہتے ہیں: ’’حنتمہ بنت ہاشم بن المغیر ہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم‘‘ اور آپ کی نانی ’’شفاء بنت عبدقيس بن عدی بن سعد بن تیم تھیں ۔ آپ کی کنیت ’’ابوحفص‘‘تھی ۔ جس دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اسی دن آپ کو خلیفہ بنالیا گیا اور یہ منگل کا دن تھا اور جمادی الآ خرختم ہونے میں ۸ دن رہتے تھے ۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← جده، وهو عبيد الله بن أبي زياد الرصافي، ← حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ← عبد الله بن أبي أسامة الحلبي ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4477

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4478

4478 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى رَأْسِ سَنَتَيْنِ وَثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ وَاثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ يَوْمًا مِنْ مُتَوَفًّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4478 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوسال تین مہینے اور بائیس دن بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4478

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4479

4479 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَرَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَمْشِي حَافِيًا، شَيْخٌ أَصْلَعُ أَدَمُ أَعْسَرُ يُسْرٍ طُوَالًا مُشْرِفًا عَلَى النَّاسِ كَأَنَّهُ عَلَى دَابَّةٍ بِبُرْدٍ قَطَرِيٍّ، يَقُولُ: «عِبَادَ اللَّهِ هَاجِرُوا وَلَا تَهْجُرُوا، وَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ الْأَرْنَبَ يَخْذِفُهَا بِالْحَصَى أَوْ يَرْمِيهَا بِالْحَجَرِ، فَيَأْكُلُهَا، وَلَكِنْ لِيُذَكِّ لَكُمُ الْأَسَلُ الرِّمَاحُ وَالنَّبْلُ» قَالَ الْحَاكِمُ: «وَكَانَ السَّبَبُ فِي تَلْقِيبِهِ بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4479 - صحيح

حضرت زر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں اہل مدینہ کے ہمراہ عید کے دن ( عید پڑھنے) نکلا تو میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ننگے پاؤں پیدل چل رہے تھے ، وہ بزرگ تھے اصلع تھے( اصلع اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے سرکے اگلے حصے کے بال نہ ہوں )ان کا رنگ گندمی تھا ، آپ’’اعسر یسر‘‘ تھے ( اعسر یسر‘‘ ایسے آدمی کو کہتے ہیں جو بائیں ہاتھ کے ساتھ بھی اسی طرح کام کر لیتا ہوجیسے دائیں ہاتھ کے ساتھ کر لیتا ہے ) آپ دراز قد تھے اور آپ لوگوں کے درمیان چلتے ہوئے یوں بلند نظر آتے تھے گویا کہ سواری پر سوار ہوں ۔ آپ نے قطری چادر ( ایک خاص قسم کی چادر ہے) اوڑھ رکھی تھی ، آپ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو!سفرکرومگر دوپہر کے وقت سفر پر مت نکلو،اورکوئی شخص کنکری یا پھر سے خرگوش ( یا کسی بھی شکار) کو مار کر مت کھائے بلکہ تیر یا نیزے تیز دھار والے پھل سے ذبح کر کے کھائے ۔ امام حاکم کہتے ہیں :حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو’’امیرالمونین‘‘ کا لقب دینے کی وجہ یہ تھی ( جو درج ذیل حدیث میں مذکور ہے )

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4479

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4480

4480 - مَا حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: لِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُكْتَبُ مِنْ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ كَانَ عُمَرُ يَكْتُبُ أَوَّلًا مِنْ خَلِيفَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَمَنْ أَوَّلُ مَنْ كَتَبَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: حَدَّثَتْنِي الشِّفَاءُ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأَوَّلُ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عَامِلِ الْعِرَاقِ بِأَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ رَجُلَيْنِ جَلَدَيْنِ يَسْأَلُهُمَا عَنِ الْعِرَاقِ وَأَهْلِهِ، فَبَعَثَ عَامَلُ الْعِرَاقِ بِلَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ أَنَاخَا رَاحِلَتَيْهِمَا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُمَا بِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَا: اسْتَأْذِنْ لَنَا يَا عَمْرُو عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عَمْرٌو: أَنْتُمَا وَاللَّهِ أَصَبْتُمَا اسْمُهُ هُوَ الْأَمِيرُ وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ، فَوَثَبَ عَمْرٌو فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا بَدَا لَكَ فِي هَذَا الِاسْمِ يَا ابْنَ الْعَاصِ، رَبِّي يَعْلَمُ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، قَالَ: إِنَّ لَبِيدَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ قَدِمَا فَأَنَاخَا رَاحِلَتَيْهِمَا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَا عَلَيَّ فَقَالَا لِي: اسْتَأْذِنْ لَنَا يَا عَمْرُو عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَهُمَا وَاللَّهِ أَصَابَا اسْمَكَ، نَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَنْتَ أَمِيرُنَا، قَالَ: «فَمَضَى بِهِ الْكِتَابُ مِنْ يَوْمَئِذٍ» وَكَانَتِ الشِّفَاءُ جَدَّةَ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4480 - صحيح

ابن شہاب کہتے ہیں : حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت ابوبکر بن سلیمان بن ابوخیثمہ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ( مکتوبات میں ) من خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کی جانب سے) لکھا جا تارہا، پھر حضرت عمر ب رضی اللہ عنہ بھی شروع میں’’من خلیفہ ابی بکر‘‘ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ کی جانب سے) لکھا کرتے تھے ۔تو سب سے پہلے آپ کو امیر المومنین کس نے لکھا؟ ( ابو بکر بن سلیمان بن خیثمہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا: مجھے حضرت شفاء رضی اللہ عنہ نے بتا یا ہے ۔ (اور یہ پہلے پہل ہجرت کرنے والیوں میں سے ہیں) کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق کے گورنر کی طرف مکتوب بھیجا کہ میری طرف دو سمجھدار زیرک آدمیوں کو بھیجوتا کہ میں ان سے عراق اور اہل عراق کے احوال در یافت کروں ، تو عراق کے گورنر نے حضرت لبید بن ربیعہ اور حضرت عدی بن حاتم کو بھیجا۔ جب یہ دونوں مد ینہ منورہ پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے اونٹ فنائے مسجد میں بٹھائے اورخود مسجد کے اندر آگئے ، ان کی ملاقات حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے کہا : اے عمرو! ہمارے لئے امیر المومنین سے اجازت لیجئے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم !تم نے ان کو صحیح نام سے پکا را ہے، واقعی وہ ہمارے امیر ہیں ،ا ور ہم مومن ہیں ،تو حضرت عمر و رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا: السلام علیک یا امیر المومنین ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے ابن العاص ! یہ نام تجھے کہاں سے مل گیا ؟ میرارب جانتا ہے کہ تم یہ کہنے کی وجہ سے ضرور نکالے جاؤ گے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئےہیں ۔انہوں نے اپنے اونٹ مسجد کے میدان میں باند ھے اور میرے پاس آگئے ، اور مجھ سے کہا: اے عمرو! ہمارے لئے امیرالمومنین سے اجازت لیجئے خدا کی قسم ! انہوں نے آپ کو بالکل درست لقب سے پکارا ہے ہم مومن ہیں اور آپ ہمارے امیر ہیں ۔ تو اس دن سے مکتوبات میں یہی لکھا جانے لگا اور حضرت شفاء رضی اللہ عنہ ،حضرت ابوبکر بن سلیمان کی دادی ہیں ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4480

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4481

4481 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ الطَّائِي، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ الشَّامَ عَرَضَتْ لَهُ مَخَاضَةٌ، فَنَزَلَ عُمَرُ عَنْ بَعِيرِهِ وَنَزَعَ خُفَّيْهِ، أَوْ قَالَ: مُوقَيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِخِطَامِ رَاحِلَتِهِ وَخَاضَ الْمَخَاضَةَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ: لَقَدْ فَعَلْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِعْلًا عَظِيمًا عِنْدَ أَهْلِ الْأَرْضِ، نَزَعْتَ خُفَّيْكَ، وَقَدَّمْتَ رَاحِلَتَكَ، وَخُضْتَ الْمَخَاضَةَ، قَالَ: فَصَكَّ عُمَرُ بِيَدِهِ فِي صَدْرِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَقَالَ: «أَوَّهْ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، أَنْتُمْ كُنْتُمْ أَقَلَّ النَّاسِ فَأَعَزَّكُمُ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، فَمَهْمَا تَطْلُبُوا الْعِزَّةَ بِغَيْرِهِ يُذُلَّكُمُ اللَّهُ تَعَالَى» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4481 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

طارق بن شہاب فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب شام میں آئے تو ان کو راستے میں ایک جھیل پڑی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ا پنے اونٹ سے نیچے اترے اوراپنے جوتے اتار لئے اورا پنی سواری کی لگام پکڑ کر جھیل میں سے گزر گئے ۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح پ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے اہل ارض کے نزدیک بہت عظیم الشان کام کیا ہے ۔ آپ نے اپنے جوتے اتارے اوراپنی سواری سے آگے ہوکر جھیل میں گھسے ( راوی )کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اورفرمایا: افسوس! یہ بات تیرے علاوہ کوئی اور کہتا۔ تم تعداد میں سب سے کم تھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت تمہیں عزت عطافرمائی ، اس لئے تم جب بھی اس کے غیر سے عزت طلب کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر دے گا ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَيُّوبَ الطَّائِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4481

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4482

4482 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مُسْلِمُ الْأَعْوَرُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الشَّامَ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَجَاءَ دِهْقَانٌ يُسْتَدَلُّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى أَتَاهُ، فَلَمَّا رَأَى الدِّهْقَانُ عُمَرَ سَجَدَ، فَقَالَ عُمَرُ: «مَا هَذَا السُّجُودُ؟» فَقَالَ: هَكَذَا نَفْعَلُ بِالْمُلُوكِ، فَقَالَ عُمَرُ: «اسْجُدْ لِرَبِّكَ الَّذِي خَلَقَكَ» ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنِّي قَدْ صَنَعْتُ لَكَ طَعَامًا فَأْتِنِي، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: «هَلْ فِي بَيْتِكَ مِنْ تَصَاوِيرِ الْعَجَمِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «لَا حَاجَةَ لَنَا فِي بَيْتِكَ، وَلَكِنِ انْطَلِقْ فَابْعَثْ لَنَا بِلَوْنٍ مِنَ الطَّعَامِ، وَلَا تُزِدْنَا عَلَيْهِ» ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ لِغُلَامِهِ: «هَلْ فِي إِدَاوَتِكَ شَيْءُ مِنْ ذَلِكَ النَّبِيذِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَابْعَثْ لَنَا» ، فَأَتَاهُ فَصَبَّهُ فِي إِنَاءٍ، ثُمَّ شَمَّهُ فَوَجَدَهُ مُنْكَرَ الرِّيحِ، فَصَبَّ عَلَيْهِ مَاءً، ثُمَّ شَمَّهُ فَوَجَدَهُ مُنْكَرَ الرِّيحِ، فَصَبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ شَرِبَهُ ثُمَّ قَالَ: «إِذَا رَابَكُمْ فِي شَرَابِكُمْ شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا» ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4482 - مسلم الأعور تركوه

حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں شام میں ایک غزوہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا ، ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا ، ایک کسان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈ تا ہوا آیا ، جب اس کسان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو سجدہ میں گر گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کیسا سجد ہ کر ر ہے ہو؟ اس نے کہا: ہم بادشاہوں کی بارگاہ میں اسی طرح حاضری دیا کر تے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے اس رب کو سجدہ کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین ! میں نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے، آپ تشریف لے آئیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا عجمی لوگوں کی طرح تیرے گھر میں بھی تصاویر ہیں؟ اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: ہم تیرے گھر نہیں جائیں گے ۔ تا ہم تو خود چلا جا اورتھوڑا سا کھانا ہمیں یہیں بھیج دے۔ اور زیادہ نہیں بھیجنا۔ وہ چلا گیا اور آپ کی خدمت میں کھانا بھیج دیا ، آپ نے اس میں سے چکھا پھر اپنے غلام سے فرمایا: تمہارے برتن میں نبیذ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : وہ ہمارے پاس بھیجو، وہ نبیذ لے کر حاضر ہو گیا ، آپ نے اس کو برتن میں انڈ یل دیا پھر اس کو سونگھالیکن اس میں سے ابھی بھی بد بو آرہی تھی ، آپ نے اس پر پانی ڈالا پھر اس کوسونگھا ،ابھی بھی بد بو آرہی تھی ، آپ نے تین مرتبہ اس پر پانی ڈالا پھراس کو پی لیا۔ پھرفر مایا: جب تمہیں کسی مشروب میں کوئی شک ہوتو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو ۔ پھر آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے’’ دیباج اورحریر( ریشم کی دوقسمیں) مت پہنا کر و،اورسونے اور چاندی کے برتنوں میں مت پیا کرو، کیونکہ یہ ان ( کفار) کیلئے دنیا میں ہے اور ہمارے لئے آخرت میں ہوں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَبِي وَائِلٍ ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَکْرٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4482

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4483

4483 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَيِّدِ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4483 - صحيح

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی’’اے اللہ ! عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے دین کو تقویت دے‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4483

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4484

4484 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «،» وَقَدْ صَحَّ شَاهِدُهُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4484 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی’’ اے اللہ ! اسلام کوعمر کے سبب عزت عطا فرما ‘‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4484

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4485

4485 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «،» وَمَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى حَدِيثِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ» ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ وَلَمْ أَذَكُرْ لِمُجَالِدٍ فِيمَا قَبْلُ رِوَايَتَهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4485 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی’’اے اللہ ! بالخصوص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے اسلام کوعزت عطافرما‘‘ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کا مدارشعبی کی مسروق کے واسطے سے حضرت عبداللہ سے روایت کردہ اس حدیث پر ہے’’اے اللہ! تو اسلام کوعزت عطا فرما ان دوآدمیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ جو تجھے زیادہ پسند ہے‘‘ اور اس حدیث کوشعبی سے روایت کرنے میں مجالد بن سعید منفرد ہیں ، اوراس سے پہلے مجالد کی کوئی روایت نقل نہیں کی ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر الفارسي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4485

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4486

4486 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ حَاتِمٍ الْعِجْلِيُّ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ» فَجَعَلَ اللَّهُ دَعْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَبَنَى عَلَيْهِ مُلْكَ الْإِسْلَامِ، وَهَدَمَ بِهِ الْأَوْثَانَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4486 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی’’ اے اللہ اسلام کوعزت عطا فر ما عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے یا ابوجہل بن ہشام کے ذریعے ۔ تو اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول فرمائی ۔ چنانچہ انہی کی بدولت اسلام کی سلطنت وسیع ہوئی بت پاش پاش ہو گئے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبِي ← عمر بن محمد الأسدي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ حَاتِمٍ الْعِجْلِيُّ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4486

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4487

4487 - حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «وَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4487 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :خدا کی قسم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے ہم حرم شریف میں کھلے عام نماز نہ پڑھ سکتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4487

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4488

4488 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ الْإِسْلَامُ فِي زَمَانِ عُمَرَ كَالرَّجُلِ الْمُقْبِلِ لَا يَزْدَادُ إِلَّا قُرْبًا، فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ كَانَ كَالرَّجُلِ الْمُدْبِرِ لَا يَزْدَادُ إِلَّا بُعْدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4488 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفر ماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن حق سب سے پہلے عمر کے ساتھ معانقہ کرے گا اور قیامت کے دن حق سب سے پہلے عمر کے ساتھ مصافحہ کرے گا سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ پکڑ کر سے جنت کی طرف لے جایا جائے گا وہ عمر بن خطاب ہے ۔ ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان منقول ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشادفرمایا: جب عمر نے اسلام قبول کیا تو جبر یل میرے پاس آئے اور بولے : عمر کا اسلام قبول کر نا اہل آسمان ( یعنی فرشتوں )کے لیے ایک خوشخبری ہے ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أبو نعيم وأبو حذيفة ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4488

chevron_left Previous
1…721722723…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section