Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4429

4429 - أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقِيقِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مُدَارِسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ أَنَا، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَنْشَقُ عَنْهُمْ فَأُبْعَثُ بَيْنَهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4429 - عاصم بن عمر هو أخو عبد الله ضعفوه

حضرت ( عبداللہ )بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: سب سے پہلے جس سے زمین کھولی جائےگی ، وہ میں ہوں، پھرابوبکر رضی اللہ عنہ پرعمر رضی اللہ عنہ ۔ پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گا۔ پھر مجھے ان کے درمیان اٹھایا جائےگا۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← عُمَيْرُ بْنُ مُدَارِسٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقِيقِيُّ، بِهَمْدَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4429

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4430

4430 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَخَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي بَكْرٍ: «مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ، وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ وَيَكُونُ فِي الصَّفِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4430 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے کے ساتھ حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں ۔ اور حضرت اسرافیل علیہ السلام ایک عظیم فرشتہ ہے جو جہاد میں آ تا ہے اور (مسلمانوں کی) صفوں میں شریک ہو جا تا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں گیا ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ← أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، وَخَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْواسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4430

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4431

4431 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: «بَيْنَمَا أَنَا أَمْتَحُ مِنْ قَلِيبِ بَدْرٍ إِذْ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ لَمْ أَرَ مِثْلَهَا قَطُّ، ثُمَّ ذَهَبَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ لَمْ أَرَ مِثْلَهَا قَطُّ، إِلَّا الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا، ثُمَّ ذَهَبَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ لَمْ أَرَ مِثْلَهَا قَطُّ، إِلَّا الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا، فَكَانَتِ الرِّيحُ الْأُولَى جِبْرِيلَ نَزَلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ الرِّيحُ الثَّانِيَةُ مِيكَائِيلَ نَزَلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَتِ الرِّيحُ الثَّالِثَةُ إِسْرَافِيلَ نَزَلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ مَيْسَرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي الْمَيْسَرَةِ، فَلَمَّا هَزَمَ اللَّهُ تَعَالَى أَعْدَاءَهُ حَمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسِهِ، فَجَرَتْ بِي فَوَقَعْتُ عَلَى عَقِبِي، فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمْسَكَنِي، فَلَمَّا اسْتَوَيْتُ عَلَيْهَا طَعَنْتُ بِيَدِي هَذِهِ فِي الْقَوْمِ حَتَّى اخْتَضَبَ هَذَا مِنِّي دَمًا» وَأَشَارَ إِلَى إِبْطِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4431 - بل منكر عجيب

محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: میں بدر کے کنوئیں سے پانی نکال رہا تھا کہ ایک اتنی سخت آندھی آئی کہ میں نے اس جیسی آندھی اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ پھر وہ ختم ہوگئی ، پھراسی طرح کی آندھی آئی کہ میں نے اس سے پہلے اس جیسی آندھی کبھی نہ دیکھی تھی ۔ پھروہ ختم ہوگئی ( تیسری مرتبہ) پھر اسی طرح سخت آندھی آئی کہ اس جیسی آندھی میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ تو جو پہلی آندھی تھی وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے ، جو ایک ہزار فرشتوں کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئےتھے ،اور دوسری آندھی حضرت میکائیل علیہ السلام تھے جوایک ہزار ملائکہ کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دہنی جانب نازل ہوئے ، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ہی تھے ۔اور تیسری آندھی حضرت اسرافیل علیہ السلام تھے جو ایک ہزارفرشتوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب نازل ہوئے۔اوراسی جانب والے دستے میں ،میں بھی تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دوچار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کیا ۔ وہ مجھ کو لے کر چل دیا۔ میں پیچھے کی جانب گرنے لگا تو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچادیا۔ جب میں اپنے قدموں پر مضبوط ہو گیا تو میں نے اپنے یہ ہاتھ قوم میں ڈال دیئے حتی کہ( اپنے پہلوؤں کی جانب اشارہ کر تے ہوئےفرمایا ) یہ خون سے رنگین ہو گئے ۔

أَبُو الْحُوَيْرِثِ، ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4431

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4432

4432 - حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ الْمَدَنِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4432 - حسن

حضرت عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا ، آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھ کرفرمایا: یہ دونوں میرے کان اور آنکھیں ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ← جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، ← محمد بن إسماعيل بن أبي فديك المدني ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4432

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4433

4433 - أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهُ كَمَا قَالَ: «اللَّهُ مَوْلَاهُ، وَجِبْرِيلُ، وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4433 - موسى بن عمير واه

مکحول سے کسی نے اس آیت’’ فإن الله هو مولاة وجبريل وصالح المؤمنين‘‘ (التحريم:۶۶) ’’ تو بے شک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے‘‘(ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا) کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جوابا کہا: حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ وصالح المومنین‘‘( سے مراد )حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهُ كَمَا ← قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ [التحريم: ← وَسَأَلَهُ رَجُلٌ ← مَكْحُولاً ← مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ← أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4434

4434 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ الرُّوَاسِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ تُوَلُّوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا، رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ تُوَلُّوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا، لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ تَعَالَى لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَإِنْ تُوَلُّوا عَلِيًّا تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَسْلُكُ بِكُمُ الطَّرِيقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَشَاهِدَهُ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4434 - ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اگر تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر بنالو گے تو تم اس کو دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والا پاؤ گے ۔اور اگرتم عمر رضی اللہ عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اسے طاقت ور امانت دار پاؤ گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کی پروا ہ نہیں کر تے اوراگرتم علی رضی اللہ عنہ کوامیر بناؤ گے تو تم اس کو ہدایت یافتہ پاؤ گے، یہ تمہیں درست راستے پر چلائیں گے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ اس کونقل نہیں کیا ۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ( درج ذیل ) حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

عَلِيٍّ، ← زيد بن يثيع ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ الرُّوَاسِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4434

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4435

4435 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرِ بْنِ شَاذَانَ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا؟ قَالَ: «إِنْ أَسْتَخْلِفْ عَلَيْكُمْ خَلِيفَةً فَتَعْصُوهُ يَنْزِلْ بِكُمُ الْعَذَابُ» قَالُوا: لَوِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرٍ، قَالَ: «إِنْ أَسْتَخْلِفْهُ عَلَيْكُمْ تَجِدُوهُ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ ضَعِيفًا فِي جَسَدِهِ» قَالُوا: لَوِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا عُمَرَ، قَالَ: «إِنْ أَسْتَخْلِفْهُ عَلَيْكُمْ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ» قَالُوا: لَوِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا عَلِيًّا، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَا تَفْعَلُوا، وَإِنْ تَفْعَلُوا تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَسْلُكً بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ» عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ هَذَا هُوَ أَبُو الْيَقْظَانِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4435 - عثمان أبو اليقظان ضعفوه

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خودہم پر کسی کو خلیفہ نامزد فرماد یں ۔ آپ نے فر مایا:اگر میں کسی کوتم پرخلیفہ مقر رکر دوں اورتم اس کی فرمانبر داری نہ کر سکے تو تم پر عذاب نازل ہوگا ۔لوگوں نے کہا: آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں ۔ آپ نے فرمایا: اگر میں اس کو تمہارا امیر بنا دوں تو تم اس کو اللہ تعالیٰ کے معاملہ طاقتور پاؤ گے اگر چہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں ۔لوگوں نے کہا: آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناد یں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کوتمہارا خلیفہ بنادوں تو تم اس کوطاقتور ،امانتدار پاؤ گے،اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں وہ کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے ۔لوگوں نے کہا: آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوخلیفہ بناد یں ۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا نہیں کرو گے ۔اگر واقعی تم ایسا کر لوتو تم اس کو ہدایت یافتہ پاؤ گے ۔ وہ تمہیں صراط مستقیم پر چلائے گا۔ یہ عثمان بن عمیر’’ابوالیقظان‘‘ ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شريك بن عبد الله ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرِ بْنِ شَاذَانَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4435

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4436

4436 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، بِمِصْرَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: 159] ، قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4436 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد’’وشاورهم في الأمر‘‘ (ال عمران:۱۵۹) ’’اور کاموں میں ان سے مشورہ لو‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا ) ( میں جن سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا ہے ان سے مراد )حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سعيد بن أبى مريم أنبأ سفيان بن عيينة ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ بِمِصْرَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4436

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4437

4437 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ، فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ، فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، وَشَاهِدَهُ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ الَّذِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4437 - أشعث بن عبد الملك هذا ثقة لكن ما احتجا به

حضرت ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ کوئی تر از و آسمان سے اتر ا، اس میں آپ نے اپنا اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا ،تو آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزنی رہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اورعمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ وز نی رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ اورعثان رضی اللہ عنہ کا وزن کیا تو عمر رضی اللہ عنہ وزنی رہے۔ پھر ترازو اوپر اٹھا لیا گیا۔ تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقد س پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ سعید بن جمہان کی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ روایت کرده ( درج ذیل) حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4437

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4438

4438 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَيَّاشٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ رَأَى اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟» قَالَ: فَصَلَّى ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ بِهِ مِنَ السَّمَاءِ، فَوُضِعْتَ فِي كِفَّةٍ، وَوُضِعَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ كِفَّةٍ أُخْرَى، فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَرُفِعْتَ وَتُرِكَ أَبُو بَكْرٍ مَكَانَهُ، فَجِيءَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوُضِعَ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى، فَرَجَحَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَرُفِعَ أَبُو بَكْرٍ، وَجِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُضِعَ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى، فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ وَرُفِعَ الْمِيزَانُ، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ عَامًا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا» قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ: فَقَالَ لِي سَفِينَةُ: «أَمْسِكْ سَنَتْي أَبِي بَكْرٍ، وَعَشْرَ عُمَرَ، وَاثْنَتَيْ عَشْرَةَ عُثْمَانَ، وَسِتَّ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ» وَقَدْ أُسْنِدَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4438 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

سعید بن جمہان روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم( کی یہ عادت کر یمہ تھی کہ آپ) جب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جانب رخ کر کے بیٹھ جاتے اور فرماتے :تم میں سے کسی نے آ ج رات خواب دیکھا ہے؟ اسی طرح ایک دن نماز کے بعد آپ نے فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے دیکھا ہے ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یوں دیکھا گویا کہ ایک ترازو آسمان سے لگایا گیا ہے ، اس کے ایک پلڑے میں آپ کو اور دوسرے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو رکھا گیا ،تو آپ کا پلڑا بھاری رہا۔ پھر آپ کوا تار دیا گیا ،اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اسی پلڑے میں بیٹھے رہے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کولا یا گیا اور ان کو دوسرے پلڑے میں بٹھا یا گیا ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کوا تار دیا گیا ،اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کولا کر اس پلڑے میں بٹھا یا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری ہوا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دونوں کو اتار دیا گیا اور وہ ترازو اٹھا لیا گیا۔ ( راوی )فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا: نبوت کی خلافت تیں سال تک ہوگی پھر اس کے بعد بادشاہی شروع ہو جائےگی ۔سعید بن جمہان کہتے ہیں: مجھے حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۲ سال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ، ۸ سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ،۱۲ سال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ،۶ سال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ۔ یہ روایات اسناد صحیحہ کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مرفوعا بھی مروی ہیں۔

رَأَيْتُ ← رَجُلٌ: ← «أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟» ← فَصَلَّى ذَاتَ يَوْمٍ، ← ((أيكم رأى الليلة رؤيا؟))، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ ← سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← حميد بن عياش الرملي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4438

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4439

4439 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمٍ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ» ، قَالَ جَابِرٌ: " فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: الرَّجُلُ الصَّالِحُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا مَا ذُكِرَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِعَاقِبَةِ «هَذَا الْحَدِيثِ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4439 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اس رات ایک مرد صالح نے خواب دیکھا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دیا گیا ہے اورعمر رضی اللہ عنہ کوابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا دیا گیا اور عثان رضی اللہ عنہ کوعمر رضی اللہ عنہ سے ملاد یا گیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے اٹھے تو ہم نے سوچا کہ مرد صالح ( سے مرادتو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اوران میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملانے کو جو ذکر ہے اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کی سند صحیح موجود ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← موسى بن هارون البردي ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4439

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4440

4440 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ بَالَوَيْهِ، - مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ - ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخِلَافَةُ بِالْمَدِينَةِ وَالْمُلْكُ بِالشَّامِ» صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4440 - سليمان بن أبي سليمان وأبوه مجهولان

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: خلافت مدینے میں ہوگی اور ملوکیت شام میں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ بَالَوَيْهِ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4440

chevron_left Previous
1…717718719…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section