Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4084

4084 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: جَاءَ أَسْمَاءُ بْنُ خَارِجَةَ بَابَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَنَا ابْنُ الْأَشْيَاخِ الْكِرَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «ذَاكَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4084 - صحيح

حضرت ابو الاحوض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسماء بن خارجہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور بولے : میں با عزت بزرگوں کا بیٹا ہوں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ تو حضرت یوسف بن یعقوب ان اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنُ الْأَشْيَاخِ الْكِرَامِ، ← جَاءَ أَسْمَاءُ بْنُ خَارِجَةَ بَابَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4084

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4085

4085 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أُلْقِيَ فِي الْجُبِّ وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَقِيَ أَبَاهُ بَعْدَ الثَّمَانِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4085 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت یوسف علیہ السلام 16 سال کی عمر میں کنویں میں پھینکے گئے تھے اور 80 سال کے بعد دوبارہ اپنے والد محترم سے ملے ۔

يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4085

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4086

4086 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ الْحَرَشِيِّ، قَالَ: «قُسِمَ الْحُسْنُ فَجُعِلَ لِيُوسُفَ وَسَارَةَ النِّصْفُ وَلِسَائِرِ النَّاسِ النِّصْفُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4086 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ربیعہ الحرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حسن کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ، ایک حصہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور دوسرا حصہ لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔

رَبِيعَةَ الْحَرَشِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4086

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4087

4087 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ النَّسَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ غَانِمٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ يَصِفُ يُوسُفَ حِينَ رَآهُ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا صُورَتُهُ كَصُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ يُوسُفُ " قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ اللَّهُ قَدْ أَعْطَى يُوسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْهَيْبَةِ مَا لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ حَتَّى كَانَ يُقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّهُ أُعْطِيَ نِصْفَ الْحُسْنِ وَقُسِمَ النِّصْفُ الْآخَرُ بَيْنَ النَّاسِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4087 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو تیسرے آسمان پر دیکھا تھا۔ آپ ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند جیسا تھا۔ میں نے پوچھا : جبرائیل علیہ السلام یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ تمہارا بھائی یوسف ہے ۔ آپ نے فرمایا ، اسحاق کا بیٹا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن اور ہیبت کا وہ حصہ عطا فرمایا جو آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کو عطا نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ یہ کہا جاتا تھا ( جبکہ حقیقت حال تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہے ) کہ آدھا حسن تو حضرت یوسف علیہ السلام کو دے دیا گیا جبکہ دوسرا آدھا حصہ لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔

هَذَا أَخُوكَ يُوسُفُ ← رَأَيْتُ رَجُلًا صُورَتُهُ كَصُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا؟ ← وَهُوَ يَصِفُ يُوسُفَ حِينَ رَآهُ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي هَارُونَ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← الفضل بن غانم ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ النَّسَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4087

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4088

4088 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ، فَقَالَ لَهُ: «يَا أَعْرَابِيُّ سَلْ حَاجَتَكَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاقَةً بِرَحْلِهَا وَأَعْنُزَ يَحْلُبُهَا أَهْلِي. قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعَجَزْتَ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟» فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: " إِنَّ مُوسَى أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَأُضِلَّ عَنِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ: نَحْنُ نُحَدِّثُكَ أَنَّ يُوسُفَ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوَاثِيقَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا، قَالَ: وَأَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ؟ قَالُوا: مَا تَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ إِلَّا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: " وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَالَتْ فَقِيلَ لَهُ: أَعْطِهَا حُكْمَهَا فَأَعْطَاهَا حُكْمَهَا فَأَتَتْ بُحَيْرَةً، فَقَالَتْ: أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ. فَلَمَّا نَضَبُوهُ قَالَتِ: احْفِرُوا هَهُنَا فَلَمَّا حَفَرُوا إِذَا عِظَامُ يُوسُفَ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا مِنَ الْأَرْضِ فَإِذَا الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ایک دیہاتی کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ کی بہت عزت و تکریم کی ۔ آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: اے اعرابی ! تو مجھ سے اپنی حاجت کا سوال کر۔ اس نے کہا : یا رسول اللۃ ﷺ ! ایک اونٹنی کجاوہ سمیت اور کچھ بکریاں عطا فرما دیں ، میرے گھر والے اس کا دودھ دوہیں گے ۔ اس نے اپنا یہ سوال دو مرتبہ دہرایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا : کیا تو بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا ہونے سے بھی عاجز ہے ۔ آپ کے صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! یہ بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے جانے کا ارادہ کیا تو راستہ گم کر بیٹھے ۔ تو آپ سے بنی اسرائیل کے علماء نے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ جب مصر سے نکلیں گے تو میرا جسم بھی ساتھ لے کر جائیں گے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تو تم میں سے یوسف علیہ السلام کی قبر انور کا کس کو پتہ ہے ؟ انہوں نے کہا: یوسف علیہ السلام کی قبر کا صرف بنی اسرائیل کی ( فلاں) عورت کو پتہ ہے ۔ آپ نے اس بڑھیا کی طرف پیغام بھیجا اور کہا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔اس نے کہا: خدا کی قسم ! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک آپ مجھے اپنے ساتھ جنت میں رکھنے کا وعدہ نہیں کرلیتے ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کو اس کی یہ بات ( اس طرح برملا کہنا ) اچھی نہ لگی ۔ آپ سے عرض کی گئی : یہ جو کچھ مانگ رہی ہے آپ عطا فرما دیجیے ۔ تو آپ نے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا ۔ وہ ان کو ایک جھیل پر لئے آئی اور بولی : یہ پانی خشک کرو۔ جب انہوں نےوہ پانی خشک کر لیا تو اس نے کہا : یہاں سے کھدائی کرو۔ جب انہوں نے وہاں سے کھدائی کی تو ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا ۔ جب انہوں نے آپ کا جسم اطہر زمین سے نکال لیا تو ( وہ گمشدہ ) راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَحْمَسِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4088

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4089

4089 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ عِلْمُ اللَّهِ وَحِكْمَتُهُ فِي وَرَثَةِ إِبْرَاهِيمَ فَعِنْدَ ذَلِكَ آتَى اللَّهُ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ مُلْكَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَمَلَكَ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَذَلِكَ قَوْلُهُ فِيمَا أَنْزَلَ مِنْ كِتَابِهِ {رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ} [يوسف: 101] الْآيَةُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4089 - لم يصح

حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت مسلسل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء میں رہی اللہ تعالیٰ نے یوسف بن یعقوب علیہ السلام کو ارض مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی ، چنانچہ آپ نے 72 سال حکومت کی ۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے : ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ١٠١﴾ [يوسف: 101]" اے میرے رب بے شک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4090

4090 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ فِرَاقِ يُوسُفَ حِجْرَ يَعْقُوبَ إِلَى أَنِ الْتَقَيَا ثَمَانُونَ سَنَةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام کے حضرت یعقوب علیہ السلام سے جدا ہونے سے لے کر دوبارہ ملنے تک فراق کی مدت 80 سال تھی۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4090

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4091

4091 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّمَا اشْتُرِيَ يُوسُفُ بِعِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَكَانَ أَهْلُهُ حِينَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ بِمِصْرَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا رِجَالُهُمْ أَنْبِيَاءُ وَنِسَاؤُهُمْ صِدِّيقَاتٌ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا مَعَ مُوسَى حَتَّى بَلَغُوا سِتَّمِائَةَ أَلْفٍ وَسَبْعِينَ أَلْفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4091 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت یوسف علیہ السلام کو 20 درہموں میں خریدا گیا تھا اور جب آپ نے اپنے گھر والوں کو مصر میں بلوایا اس وقت ان ( کے خاندان کے افراد ) کی تعداد 370 تھی ۔ ان میں مرد نبی تھے اور عورتیں صدیقات تھیں۔ اور خدا کی قسم ! جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ نکلے تو ان کی تعداد 670000 چھ لاکھ ستر ہزار تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4091

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4092

4092 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «ثُمَّ وُلِدَ لِيَعْقُوبَ، يُوسُفُ الصِّدِّيقُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَاخْتَارَهُ وَأَكْرَمَهُ وَقَسَمَ لَهُ مِنَ الْجَمَالِ الثُّلُثَيْنِ وَقَسَمَ بَيْنَ عِبَادِهِ الثُّلُثَ، وَكَانَ يُشْبِهُ آدَمَ يَوْمَ خَلْقَهُ اللَّهُ وَصَوَّرَهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَ الْمَعْصِيَةَ، فَلَمَّا عَصَى آدَمُ نُزِعَ مِنْهُ النُّورُ وَالْبَهَاءُ، وَالْحُسْنُ وَكَانَ اللَّهُ أَعْطَى آدَمَ الْحُسْنَ وَالْجَمَالَ وَالنُّورَ وَالْبَهَاءَ يَوْمَ خَلْقَهُ، فَلَمَّا فَعَلَ مَا فَعَلَ وَأَصَابَ الذَّنْبَ نُزِعَ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ وَهَبَ اللَّهُ لِآدَمَ الثُّلُثَ مِنَ الْجَمَالِ مَعَ التَّوْبَةِ الَّذِي تَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى يُوسُفَ الْحُسْنَ وَالْجَمَالَ وَالنُّورَ وَالْبَهَاءَ الَّذِي نَزَعَهُ مِنْ آدَمَ حِينَ أَصَابَ الذَّنْبَ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ الْعِبَادَ أَنَّهُ قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءَ وَأَعْطَى يُوسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْجَمَالِ مَا لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْعِلْمَ بِتَأْوِيلِ الرُّؤْيَا، وَكَانَ يُخْبِرُ بِالْأَمْرِ الَّذِي رَآهُ فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ سَيَكُونُ وَقَبْلَ أَنْ يَكُونَ عَلَّمَهُ اللَّهُ كَمَا عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، وَكَانَ إِذَا تَبَسَّمَ رَأَيْتَ النُّورَ فِي ضَوَاحِكِهِ، وَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ رَأَيْتَ شُعَاعَ النُّورِ فِي كَلَامِهِ وَيَلْتَهِبُ الْتِهَابًا بَيْنَ ثَنَايَاهُ» قَدِ اخْتَصَرْتُ مِنْ أَخْبَارِ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا صَحَّ إِلَيْهِ الطَّرِيقُ وَلَوْ أَخَذْتُ فِي عَجَائِبِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيِّ لَطَالَتِ التَّرْجَمَةُ بِهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4092 - عن سمرة عن كعب والسند واه

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاں یوسف الصدیق علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا اور منتخب فرما لیا تھا اور ان کو عزت بخشی تھی اور حسن کا دو تہائی حصہ ان کو دیا تھا اور باقی ایک تہائی پوری دنیا میں تقسیم فرمایا اور آپ حضرت آدم علیہ السلام کی اس صورت کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے جو معصیت میں مبتلا ہونے سے پہلے اس دن تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ، ان کی صورت بنائی اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی لیکن جب آدم علیہ السلام معصیت میں مبتلا ہوئے تو آپ کا وہ نور ، خوبصورتی اور وہ حسن جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو حسن و جمال اور نور اور رعب عطا فرمایا تھا لیکن جب ان سے ذنب کا ارتکاب ہوا تو یہ تمام حسن و جمال ان سے ختم ہو گیا ۔ پھر جب آپ کی توبہ قبول ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی حسن آپ کو عطا فرما دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وہ حسن و جمال جو حضرت آدم علیہ السلام سے اتار تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام عطا فرما دیا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیہ دکھا دینا چاہتا ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہ حسن وہ جمال عطا فرمایا جو کسی اور انسان کو نہیں دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا اور جو کوئی خواب دیکھتا تو آ پاس کی تعبیر کرتے ہوئے مستقبل میں ہونے والے کام کی پہلے ہی خبر دے دیا کرتے تھے اور اس کے ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی خبر دے دیتا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے تھے ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام مسکراتے تو آ پ کے دانتوں سے نور کی شعائیں نکلتی تھیں اور جب آپ گفتگو کرتے تو آپ کے کلام میں نور نظر آتا اور آپ کے دانتوں میں روشنی نظر آتی ۔ میں نے مختصراً حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کر دیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے اور اگر وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ اور ابو عبداللہ واقدی کے عجائب شروع کر دیتا تو بہت زیادہ طوالت ہو جاتی ۔

«ثُمَّ وُلِدَ لِيَعْقُوبَ، يُوسُفُ الصِّدِّيقُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ ← کَعْبٍ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مروان بن جعفر السمري ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أبو سعيد الأحمسي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4092

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4093

4093 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ بِمَرْوَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: «وُلِدَ مُوسَى بْنُ مِيشَا بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ، فَتَنَبَّأَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قَبْلَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، فِيمَا يَزْعُمُونَ وَيَزْعُمُ أَهْلُ التَّيَقُّنِ بِهَا أَنَّهُ هُوَ الَّذِي طَلَبَ الْعَالِمَ لِيَتَعَلَّمَ مِنْهُ حَتَّى أَدْرَكَ الْعَالِمَ الَّذِي خَرَقَ السَّفِينَةَ، وَقَتَلَ الْغُلَامَ، وَبَنَى الْجِدَارَ وَمُوسَى بْنُ مِيشَا مَعَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ حَتَّى بَلَغَ مَا بَلَغَ» قَالَ الْحَاكِمُ: هَكَذَا يَذْكُرُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَيَسْتَدِلُّ بِالْحَدِيثِ الثَّابِتِ الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَىَ صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4093 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے پہلے حضرت موسیٰ بن میشا بن یوسف بن یعقوب پیدا ہوئے اور بنی اسرائیل میں نبوت کا دعوی کیا ۔ اہل تیقن کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی حضرت موسیٰ ہیں جو علم حاصل کرنے کے لئے عالم کو ڈھونڈتے رہے حتیٰ کہ یہ اس عالم کے پاس گئے جس نے کشتی توڑ دی تھی ، بچے کو قتل کیا تھا اور دیوار تعمیر کی تھی اور موسیٰ بن میشا ان کے ہمراہ تھے اور پھر واپس آ گئے تھے اور جہاں جانا تھا وہاں چلے گئے ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ ایسے ہی ذکر کیا کرتے ہیں اور ثابت صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں ( حدیث یہ ہے ) حضرت عمر و بن دینار رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : نوفل البکالی یہ سمجھتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام جو حضرت خضر کے ساتھی تھے وہ موسیٰ بن عمران ( جو بنی اسرائیل کے نبی تھے ) نہیں ہیں بلکہ وہ تو کوئی اور موسیٰ علیہ السلام ہے ۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4093

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4094

4094 - حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَامَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ» الْحَدِيثُ بِطُولِهِ. هَذَا حَدِيثٌ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذِكْرِهِ لِأَنِّي تَرَكْتُ ذِكْرَهُ مِنَ الْوَسَطِ، فَأَمَّا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ الْكَلِيمُ

حضر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موسیٰ بن عمران بنی اسرائیل میں خطیب کے طہور پر کھڑے ہوئے پھر طویل حدیث بیان کی ۔ یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے اور میں نے اس کو یہاں پر اس لئے درج کیا ہے کہ میں نے درمیان میں اس کو چھوڑ دیا تھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4094

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4095

4095 - فَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرِ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبَايَةَ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ {إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي، فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} [الأعراف: 144] قَالَ: {وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ} [الأعراف: 145] قَالَ: فَكَانَ مُوسَى يَرَى أَنَّ جَمِيعَ الْأَشْيَاءِ قَدْ أُثْبِتَتْ لَهُ كَمَا تَرَوْنَ أَنْتُمْ أَنَّ عُلَمَاءَكُمْ قَدْ أَثْبَتُوا لَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ كَمَا يُثْبِتُوهُ، فَلَمَّا انْتَهَى مُوسَى إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ لَقِيَ الْعَالِمَ فَاسْتَنْطَقَهُ فَأَقَرَّ لَهُ بِفَضْلِ عَلْمِهِ وَلَمْ يَحْسُدْهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى وَرَغِبَ إِلَيْهِ: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِيَ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، فَعَلِمَ الْعَالِمُ أَنَّ مُوسَىَ لَا يُطِيقُ صُحْبَتَهُ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى عِلْمِهِ فَقَالَ لَهُ الْعَالِمُ: إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تَحِطْ بِهِ خُبْرًا. فَقَالَ لَهُ مُوسَى وَهُوَ يَعْتَذِرُ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَعَلِمَ أَنَّ مُوسَىَ لَا يُطِيقُ صُحْبَتَهُ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى عِلْمِهِ فَقَالَ لَهُ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا فَرَكِبَا فِي السَّفِينَةِ فَخَرَقَهَا الْعَالِمُ وَكَانَ خَرَقَهَا لِلَّهِ رِضًا وَلِمُوسَى سُخْطًا وَلَقِيَ الْغُلَامَ فَقَتَلَهُ لِلَّهِ رِضًا «ثُمَّ ذَكَرَ بَعْضَ الْقِصَّةِ وَالْكَلَامِ وَلَمْ يُجَاوِزِ ابْنُ عَبَّاسٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الله تعالی اپنی کتاب میں حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے: ﴿ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ١٤٤ وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ ١٤٥﴾ [الأعراف: 144-145]" اے موسیٰ ! میں نے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو اور ہم نے اس کے لئے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل“۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ ) حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ تمام چیز یں انہیں کے لئے ثابت ہیں۔ جیسا کہ تم لوگ دیکھتے ہو کہ تمہارے علما تمہارے لئے تمام چیزیں ثابت کرتے ہیں جیسا کہ وہ جانتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ساحل سمندر پر پہنچے تو عالم سے ملے اور اس سے گفت و شنید کی اور اس کے علم وفضل کا اقرار کیا اور حسد نہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف دلچسپی سے درخواست کی : کیا میں تمہارے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھادو گے جو ہمیں تعلیم ہوئیں؟ وہ عالم سمجھتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی سنگت میں نہیں رہ سکتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے تو اس عالم نے ان سے کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے کہا:عنقریب اللہ تعالی چاہے تو تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا لیکن وہ جانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی صحبت میں رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ اس عالم نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پو چھنا جب تک میں . خود اس کا ذکر نہ کروں ۔ پھر یہ دونوں کشتی پر سوار ہوئے تو اس عالم نے اس کشتی کو چیرڈالا۔ ان کا کشتی کو چیرنے کا یہ عمل اللہ تعالی کی رضا کے لئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتحان کے لئے تھا۔ پھر یہ ایک بچے سے ملے تو اس کو قتل کر ڈالا اور اس بچے کو کرنا بھی اللہ تعالی کی رضا کے لئے ہی تھا پھر اس کے بعد مکمل قصہ اور نقل کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے تجاوز نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

فِي كِتَابِهِ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ ← إن الله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبَايَةَ الْأَسَدِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرِ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ ← أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4095

chevron_left Previous
1…688689690…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section