حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ چٹان جو ثبیر پہاڑ کے دامن میں ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کیا تھا جس پر خاکی رنگ کامینڈھا نازل کیا گیا تھا ، اس پہاڑ میں سے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ پھر اس کے بعد تفصیلی حدیث بیان کی ۔ نوٹ : واقدی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں تو ان کا ہاتھ پکڑا پھر اس کے بعد طویل حدیث نقل کی ہے ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : واقدی نے اس کو اپنی کئی سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ، حضرت عمیر بن قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے ۔ جبکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہم سے پہلے محدثین اور ان تمام علاقوں کے محدثین جہاں جہاں سے ہم نے حدیث پڑھی ہے ، ان میں کسی کا بھی اس بارے میں اختلاف نہیں ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : میں دو ذبیحوں کی اولاد میں سے ہوں۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور دوسرے ذبیح آپ کے والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب تھے اور ( ادھر ان دلائل پر مشتمل احادیث روایت کرنے والے لوگ ) خود ان لوگوں کے موقف کی تائید کرتے جو کہتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کی روایت : ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ) اس روایت میں غلو سے کام لیا گیا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Mention of those who said that the sacrifice of Isaac bin Abraham, peace be upon them · Hadith 4048
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا قصہ " کہ جب اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کریں" بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے ، جس رات فرشتے ان سے جدا ہوئے ۔ پھر جب حضرت اسحاق علیہ السلام سات سال کے ہوئے تو الله تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اس کو ذبح کر کے ان کی قربانی پیش کریں۔ ان دنوں قربانی کی قبولیت کی یہ نشانی تھی کہ اسے اٹھالیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات حضرت اسحاق علیہ السلام اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھی اور صرف اپنے ایک بہت قریبی دوست کو یہ راز بتایا۔ آپ کا یہی دوست سب سے پہلے آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا۔ اس گہرے قریبی دوست نے کہا: اللہ تعالی آپ کو ایسی آزمائش میں ہرگز نہیں ڈالے گا، البتہ وہ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ اللہ تعالی کے بارے میں برا گمان ہرگز نہ کیجئے کیونکہ الله تعالی آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانا چاہتا ہے اور کوئی ہمت اور طاقت نہیں ہے ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی، اس اللہ کے سوا جو رحمن اور رحیم ہے۔ پھر حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:حضرت اسحاق علیہ السلام ایک دعا کی طرف تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور کوئی بھی اس میں سبقت نہ کر سکا ۔ یہ قیامت کے دن اس دعا کے اہل لوگوں کی شفاعت کریں گے اور اسی مقام پر اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوگا اور فرمائے گا:اے اصدق الصادقین! (این اے سب سچوں سے بڑے سچے ) میری بات سن اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے فرمائے گا:اے اصبر الصابرین (یعنی اے تمام صبر کرنے والوں سے بڑے صبر کرنے والے) میری بات سنو! میں نے تم دونوں کو بہت بڑی آزمائش میں ڈالا ،ایسی آزمائش میں تم سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں ڈالا ۔ اے ابراہیم ! میں نے تمہیں آگ کی آزمائش میں ڈالا ، جس پر تم نے ایسا صبر کیا کہ اس جیسا صبر دنیا میں کوئی نہ کر سکا اور تمہیں اپنی ذات کے متعلق جہاد میں مبتلا کیا حالانکہ تو اکیلا اور ضعیف تھا لیکن اس کے باوجودتم نے سچائی اختیار کی اور ایسا صبر کیا کہ اس کی شکل دنیا میں کوئی بھی صبر اور سپائی اختیار نہ کر سکا اور اے اسحاق علیہ السلام ! میں نے تمہیں ذبح کی آزمائش میں ڈالا لیکن تم نے اپنی جان کا بخل نہیں کیا اور تم نے اپنے والد کی فرمانبرداری میں اس معاملہ کو بہت بڑا نہیں سمجھا بلکہ تم نے اس معاملہ کو الله تعالی کے بارے میں ہلکا پھلکا اور چھوٹا جانا جیسا کہ وہ امید کرتا ہے کہ حسن ثواب کی اور اس کی ملاقات پر وہ خوش ہوتا ہے۔ میں آج تم دونوں سے ایک وعدہ کرتا ہوں جن کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ اے ابراہیم علیہ السلام ! تمہارے لئے میرے اوپر جنت واجب ہے، ساری دنیا میں تم میرے دوست ہو اور یہ ایسی فضیلت ہے جو نہ تو تم سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ تمہارے بعد کسی کو ملی ۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ انعام سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ شکر ادا کیا اور اے اسحاق علیہ السلام ! تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارا سوال پورا کروں گا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کی : یا الہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے لئے چن لے اور تو اپنے توحید پرست بندوں کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما۔ چنانچہ تیری بارگاہ میں جو بھی آ ئے اور وہ مشرک نہ ہو تو اس کو دوزخ سے اپنی پناہ عطا فرما۔ اللہ تعالی نے ان سے فرمایا: تم نے جو سوال کیا ہے میں نے اس کو قبول کرلیا ہے اور میں تجھے تیری ولایت کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں نے تم سے اپنے اور جس چیز کا وعدہ کیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور تم سے ایسا عہد کیا ہے جس کوروکوں گا نہیں اور ایسی عطا کروں گا جو واپس نہیں لی جائے گی۔
وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Mention of those who said that the sacrifice of Isaac bin Abraham, peace be upon them · Hadith 4049
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ١٢٤﴾ [البقرة: 124]" کے بارے میں فرمایا : ( اس سے مراد) مناسک حج ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے بہت سارے شواہد موجود ہیں جن کو میں نے کتاب المناسک میں نقل کیا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Mention of those who said that the sacrifice of Isaac bin Abraham, peace be upon them · Hadith 4050
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت سارہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک حجورا نامی خاتون سے نکاح فرمایا۔ اس سے سات بچے پیدا ہوئے ۔ 1۔ بافس، 2۔ مدین، 3۔ کیسان، 4۔ لوط، 5۔ سرخ، 6۔ امیم اور 7۔ نعشان اور اس کتاب میں حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درجات میں سے ہے اور لوط بھی ان میں سے ایک ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4051
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کے بھتیجے تھے۔ یہ اسناد صحیح ہے اور اسماعیل بن عبدالکریم کی عبدالصمد بن مغفل سے روایت کردہ کتاب میں یہ ہے کہ وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہمراہ لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کے بھائی لوط علیہ السلام بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ یہ تیسرا قول ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4052
محمد بن اسحاق ( حضرت لوط علیہ السلام کا نسب بیان کرتے ہوئے ) کہتے ہیں : لوط النبی لوط بن فاران بن آزربن باخور ابن اخی ابراہیم الخلیل اور " الموتفکتہ " حضرت لوط کی قوم ہے ۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← ابْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4053
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ٨٠﴾ [هود: 80]" یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے ، انہوں نے مضبوط پائے کی پناہ لی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہر نبی کو اپنی قوم کے مالدار لوگوں میں مبعوث فرمایا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اس اضافے کے ساتھ نقل نہیں کیا ۔ تاہم امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے زہری کی سعید سے اور ابو عبید کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصر روایت نقل کی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4054
حضرت ابن جریج رضی اللہ عنہ : ﴿ أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ٨٠﴾ [هود: 80]" کے بارے میں فرماتے ہیں : ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہر نبی اپنی قوم کے مالدار لوگوں میں مبعوث کیا گیا ۔
ابْنِ جُرَيْجٍ، {أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} [هود: ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← محمد بن علي الصنعاني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4055
حضرت سدی بیان کرتے ہیں : حضرت لوط علیہ السلام چلے اور اہل سدوم کے پاس آ کر ٹھہرے، آپ نے ان لوگوں کو دیکھا کہ مرد ، مردوں کے ساتھ نکاح کرتے تھے ۔ آپ وہیں قیام پذیر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہی کا نبی بنا دیا ۔ آ پنے ان کو دعوت دی اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کی خبر میں سے وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں قصہ بیان فرمایا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4056
حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے ۔ آپ کا رنگ سفید تھا، چہرہ خوبصورت ، ناک باریک ، کان چھوٹے ، انگلیاں لمبی ، دانت خوبصورت ، آپ کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی ۔ آ پ سب سے زیادہ حسین ، سب سے زیادہ سنجیدہ اور سب سے زیادہ انصاف پسند تھے اور اپنی قوم کو سب سے کم تکلیف دینے والے اور جب آپ کو اپنی قوم کی جانب سے شدید تکلیف پہنچیں تو بولے : کاش کہ مجھے تم پر طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4057
واقدی کہتے ہیں : ہمیں یہ روایت بھی پہچی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ملک شام کی جانب ہجرت اختیار کی اور لوگوں نے آپ کو وہاں سے دھتکار کر نکال دیا تو آ پ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر چل دئیے ۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: میں نے تو اپنے کو ہبہ کر دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ وہ ان سے نکاح کر لیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نازل ہونے والی یہ سب سے پہلی وحی تھی اور آپ کی قوم میں سے حضرت لوط علیہ السلام آ پ پر ایمان بھی لے آئے تھے اور آ پنے کہا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ، بے شک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ لوگوں نے آ پ کو بابل کی سر زمین سے ارض مقدسہ کی جانب نکال دیا تو آپ " حران " چلے گئے ، لیکن وہاں سے بھی لوگوں نے آپ کو نکال دیا تو آپ اردن کی طرف تشریف لے گئے ، وہاں پر ایک ظالم بادشاہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک فرما دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام کی معیت میں شام کی طرف لوٹ آئے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو نبوت عطا فرما کر تباہ شدہ بستیوں کی طرف رسول اور داعی الی اللہ بنا کر بھیجا ۔ یہ بستیاں 5 شہروں پر مشتمل تھیں ۔ ان میں سب سے بڑا شہر سدوم تھا، پھر عمود، پھر اروم ، پھر صعور اور پھر صابور، ان شہروں کی آبادی چالیس لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام نے سدوم میں قیام کیا اور ان میں 60 سے زائد سال تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے ، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے اور برائی و بے حیائی سے ٹوکتے رہے اور حضرت لوط علیہ السلام پر مہمان نوازی فرض تھی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پر فرض تھی جبکہ ان کی قوم میں مہمان نوازی کا کوئی رواج نہ تھا۔ یہ لوگ مردوں سے بد فعلی کرتے تھے اور عورتوں کے قریب بھی نہ جاتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کی زبان سے غیرت دلائی ( جیسا کہ قرآن میں ہے : ﴿أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ١٦٥ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ ١٦٦﴾ [الشعراء: 165-166]" کیا مخلوق میں مردوں سے بد فعلی کرتے ہو اور چھوڑتے ہو جو تمہارے لئے رب نے جورو ( بیویاں ) بنائیں " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) حضرت وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی کرنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان کے کچھ باغات اور کھیت وغیرہ تو ان کی رہائش کے مقام پر تھے اور کچھ باغات اور کھیت وغیرہ عین راستے پر تھے ۔ ان کو ایک دفعہ شدید قحط اور بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا کہا گر ہم مسافروں سے اپنے پھلوں کو بچا لیں تو یہ ہمارے کھانے کے کام آئے گا۔ پھر یہ سوچنے لگے : کہ مسافروں کو کس طرح منع کیا جائے ؟ آخر یہ طے ہوا کہ یہ قانون بنا لیا جائے کہ ہمارے علاقے میں جو بھی اجنبی شخص آئے ، جس کو یہ پہچانتے نہ ہوں ، اس کو پکڑ کر اس سے بد فعلی کرو اور اسے خوب مارو پیٹو، زمین پر گھسیٹو جب ایسا رویہ اپنایا جائے گا تو کوئی شخص بھی تمہارے شہر کی جانب نہیں آئے گا ( جب ان لوگوں نے یہ طے کر لیا تو ) شیطان ایک انتہائی حسین و جمیل خوبرو لڑکے کی شل میں اس پہاڑ پر ان کے پاس آیا لوگوں نے اس کو دیک لیا اور اسے پکڑ کر اس کے ساتھ بد فعلی بھی کی اور بہت مارا پیٹا پھر وہ چلا گیا ۔ اس کے بعد جو بھی اس طرف آتا ، یہ لوگ اس کے ساتھ یہی سلوک کرتے ۔ یہ ان کا طریقہ کار بن چکا تھا ۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو ان کی جانب بھیجا ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے ان کو اس عمل سے روکا اور ان کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور کہا: کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی ۔ پھر اس کے بعد حضرت وہب نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے باقی حدیث بیان کی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4058
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جب فرشتے حضرت ابراہم ؔ کے پاس سے حضرت لوط علیہ السلام کے شہر کی جانب روانہ ہوئے تو دوپہر کے وقت وہاں آ پہنچے ، جب وہ نہر سدوم پر پہنچے تو ان کی ملاقات حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کے ساتھ ہوئی ، جو اپنے گھر والوں کے لئے پانی بھر رہی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو بیٹیاں تھیں، فرشتوں نے ان سے کہا: کوئی رہنے کی جگہ ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ لیکن جب تک میں واپس نہ آؤں تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہنا۔ وہ اپنے والد کے پاس آئیں اور بولی : أبا جان شہر کے دروازے پر چند نوجوانوں کو میں نے دیکھاہے ، وہ اس قدر حسین ہیں کہ میں نے آج تک ان جیسا حسین نہیں دیکھا، کہیں وہ آپ کی قوم کے ہاتھ نہ چڑھ جائیں اور وہ ان کو رسوا نہ کر دیں ۔ آپ کی قوم نے آپ کو مرد مہمان ٹھہرانے سے منع کیا ہوا تھا حتیٰ کہ انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ مردوں کی مہمان نوازی ہم پر واجب ہے ۔ چنانچہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے ہاں آگئے اور ان کے گھر والوں کے علاوہ اور کسی کو ان کا پتہ نہ چلا ۔ تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی گھر سے اور ان کی قوم کو سب کچھ بتا دیا کہ لوط علیہ السلام کے گھر میں کچھ مرد ہیں ، میں نے ان جیسا حسین چہرہ کبھی نہیں دیکھا ، تو ان کی قوم دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی ، جب آپ کے پاس آئے تو حضرت لوط علیہ السلام نے ان سے کہا : یہ میری ( قوم کی ) بیٹیاں ہیں ، یہ تمہارے ارادوں کے مطابق تمہارے لئے ستھری ہیں ۔ انہوں نے کہا: کیا ہم نے تمہیں مردوں کو مہمان ٹھہرانے سے منع نہیں کیا تھا؟ آپ جانتے ہیں کہ تمہاری ( قوم کی ) بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے اور ہمارے جذبات کو تم خوب اچھی طرح جانتےہو۔ جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی ہر بات ماننے سے انکار کر دیا تو حضرت لوط علیہ السلام بولے : اے کاش مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا ۔ آپ کہہ رہے تھے : کاش میرا کوئی مدد گار ہوتا جو تمہارے خلاف میری مدد کرے یا میرا خاندان ہوتا جو تم سے میرا عفاع کرتا تو وہ تمہیں اس ارادے میں کامیاب ہونے سے روک لیتا جو تم نے میرے مہمانوں کے بارے میں کر رکھا ہے اور جب حضرت لوط علیہ السلام نے کہا: کاش مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے بازو پھیلائے اور ان لوگوں کی آنکھوں کو پھوڑ ڈالا تو وہ اندھے ہو کر ایک دوسرے کو پاؤں سے روندتے ہوئے ، بچاؤ بچاؤ کا شور مچاتے ہوئے وہاں سے بھاگے کہ لوط علیہ السلام کے گھر میں دنیا کے سب سے بڑے جادو گر موجود ہیں ۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ ِ٣٧﴾ [القمر: 37]" انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دیں " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) فرشتے بولے : ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ، وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تمہاری عورت کے ، اسے بھی وہیں پہنچنا ، جو انہیں پہنچے گا ۔ آپ اپنے اہل کے پیچھے پیچھے چلیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جہاں کا حکم ہے سیدھے چلے جائیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو شام کی طرف نکالا اور لوط علیہ السلام نے کہا : ان کو اسی وقت ہلاک کردیں ۔ فرشتوں نے جواب دیا : ہمیں صبح کے وقت کا حکم دیا گیا ، کیا صبح قریب نہیں ہے ۔ جب سحری کا وقت ہوا تو حضرت لوط علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کو لے کر نکل پڑے ۔ یہ ہے مطلب اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا: ﴿ إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ٣٤﴾ [القمر: 34]" سوائے لوط کے گھر والوں کے ہم نے انہیں پچھلے پہر بچا لیا " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4059