Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4746

4746 - وَأَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْقَطِيعِيُّ، فِي فَضَائِلِ أَهْلِ الْبَيْتِ تَصْنِيفُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ فَإِنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» يُسَوِّي بَيْنَ نِسَاءِ الدُّنْيَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4746 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نےفرمایا : تجھے کائنات کی عورتوں میں سے چار عورتیں کافی ہیں۔ (1)مریم بنت عمران (2) آسیہ زوجہ فرعون ۔(3) خدیجہ بنت خویلد۔ (4) فاطمہ بنت محمدﷺ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ بیان نہیں کیا اور حضور ﷺ کا یہ فرمان " تجھے عالمین کی عورتوں میں سے کافی ہیں"یہ دنیا کی عورتوں کو بھی شامل ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4746

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4747

4747 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرِ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ، أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْهِ حَسَنَ بْنَ حَسَنٍ يَخْطُبُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ لَهُ: قُلْ لَهُ فَلْيَقْانِي فِي الْعَتَمَةِ، قَالَ: فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ الْمِسْوَرُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَا بَعْدُ، وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنْ نَسَبٍ وَلَا سَبَبٍ وَلَا صِهْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَسَبِكُمْ وَسَبَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يَقْبِضُنِي مَا يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُنِي مَا يَبْسُطَهَا، وَإِنَّ الْأَنْسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَنْقَطِعُ غَيْرَ نَسَبِي وَسَبَبِي وَصِهْرِي» وَعِنْدَكَ ابْنَتُهَا وَلَوْ زَوَّجْتُكَ لَقَبَضَهَا ذَلِكَ فَانْطَلَقَ عَاذِرًا لَهُ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4747 - صحيح

حضرت مسور بیان کرتے ہیں کہ حسن بن حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی بیٹی کا رشتہ کے لئے پیغام بھیجا، انہوں نے جواباً کہا: ان سے کہیے گا کہ وہ مجھے عشاء کے وقت مل لیں، چنانچہ حضرت حسن بن حسن عشاء کے وقت ان سے ملاقات کے لئے گئے حضرت مسور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد بولے : خدا کی قسم ! تمہارے نسب تمہارے سبب اور تمہارے ساتھ رشتہ داری سے بڑھ کر میری نظر میں کسی چیز کی اہمیت نہیں ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اس کی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اوراس کی خوشی سے خوشی ہوتی ہے۔ اور قیامت کے دن تمام نسب ختم ہو جائیں گے سوائے میرے نسب ، میرے سبب اور میری رشتہ داری کے ۔ جبکہ تمہارے ہاں پہلے سے ان کی صاحبزادی موجود ہے اگر میں اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں تو یہ چیز اس سید زادی کو تکلیف دے گی۔ یہ کہہ کر انہوں نےمعذرت کرلی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ الْمِسْوَرُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← لَهُ: قُلْ لَهُ فَلْيَقْانِي فِي الْعَتَمَةِ، ← الْمِسْوَرِ، أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْهِ حَسَنَ بْنَ حَسَنٍ يَخْطُبُ ابْنَتَهُ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرِ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4747

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4748

4748 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، يَقُولُ: " الصَّلَاةُ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4748 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ ماہ تک ( یہ سلسلہ رہاکہ ) رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے سے گزرتے تو یوں آواز دیتے ہوئے گزرا کرتے تھے" اے گھر والوں نماز پڑھو، اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4748

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4749

4749 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ إِلَى عَمِّهَا الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَاسْتَشَارَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَعَنْ حَسَبِهَا تَسْأَلُنِي؟» قَالَ: عَلِيٌّ قَدْ أَعْلَمُ مَا حَسَبُهَا وَلَكِنْ أَتَأْمُرُنِي بِهَا؟ فَقَالَ: «لَا، فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَلَا أَحْسِبُ إِلَّا وَأَنَّهَا تَحْزَنُ أَوْ تَجْزَعُ» فَقَالَ عَلِيٌّ: لَا آتِي شَيْئًا تَكْرَهُهُ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4749 - مرسل قوي

حضرت سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا حارث بن ہشام سے ابوجہل کی بیٹی کا رشتہ مانگا ، اور اس سلسلہ میں نبی اکرم ﷺ سے مشورہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے اس کی خاندانی شرافت کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی خاندانی شرافت کو جانتا ہوں ، آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی طرف سے اس کے ساتھ نکاح کرنےکی اجازت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے ( تمہارے اس عمل سے اس کو تکلیف ہوگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے، میں ایسا کوئی اقدام نہیں کروں گا جو آپ کو تکلیف دے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس سند کے ہمراہ بیان نہیں کیا۔

«لَا، فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَلَا أَحْسِبُ إِلَّا وَأَنَّهَا تَحْزَنُ أَوْ تَجْزَعُ» ← عَلِيٌّ قَدْ أَعْلَمُ مَا حَسَبُهَا وَلَكِنْ أَتَأْمُرُنِي بِهَا؟ ← «أَعَنْ حَسَبِهَا تَسْأَلُنِي؟» ← خَطَبَ عَلِيٌّ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ إِلَى عَمِّهَا الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَاسْتَشَارَ النَّبِيَّ ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4749

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4750

4750 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهَا لَا نُزَوِّجُكَ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي، فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي»

حضرت ابو حنظلہ روایت کرتے ہیں کہ مکہ کے ایک باشندے نے بیان کیا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے پیغام نکاح بھیجا ، ان کے گھر والوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے ہوتے ہوئے اس کا نکاح تمہارے ساتھ نہیں کریں گے ۔اس بات کی خبر رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اس کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔

«إِنَّمَا فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي، فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي» ← لَهُ أَهْلُهَا لَا نُزَوِّجُكَ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي حَنْظَلَةَ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4750

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4751

4751 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ كَثِيرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نےابوجہل کی بیٹی کا ( رشتہ مانگنے کا) ذکر کیا ،یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی ، آپ ﷺ نے فرمایا : بے شک فاطمہ میرےجسم کا حصہ ہے جو چیز اس کو تکلیف دیتی ہے اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور جو چیز ان کو سکون دیتی ہے اس سے مجھے سکون ملتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُوسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ كَثِيرٍ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4751

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4752

4752 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْبَزَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي أَخِي» فَقَالَتْ: هُوَ أَخُوكَ وَتُنْكِحُهُ، قَالَ: «نَعَمْ، يَا أُمَّ أَيْمَنَ» فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَنَضَحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعِي لِي فَاطِمَةَ» قَالَتْ: فَجَاءَتْ تَعْثُرُ مِنَ الْحَيَاءِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْكُنِي، فَقَدْ أَنْكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ» قَالَتْ: وَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى سَوَادًا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَنَا أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «جِئْتِ فِي زِفَافِ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَا لِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4752 - الحديث غلط

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شب عروسی کے موقع پر ان کے گھر میں موجود تھی، جب صبح ہوئی تو نبی اکرم ﷺ دروازے پر تشریف لائے اور فرمایا: اے ایمن میرے بھائی کو میرے پاس بلاؤ ۔ انہوں نے کہا: وہ تمہارا بھائی ہے ؟ جبکہ آپ نے ( اپنی بیٹی کے ساتھ ) اس کا نکاح کیا ہے۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں اے ام ایمن ۔اسی اثناء میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے، نبی اکرمﷺ نے ان کے جسم پانی کا چھینٹا مارتے ہوئے دعا ئے خیر دی اور فرمایا : فاطمہ کو میرے پاس بلاؤ ام ایمن فرماتی ہیں: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حیاء کی وجہ سے جھجکتی ہوئی آئیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم مطمین رہو کیونکہ میں نے تمہارا نکاح اس شخص کے ساتھ کیا ہے جو پورے خاندان میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔( حضرت ام ایمن ) فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نےان پر بھی پانی کے کچھ چھینٹے ڈالے ،پھر رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے گئے، آپ نے اپنے آگے ایک پرچھائی دیکھی اور فرمایا : یہ کوں ہے؟ ( کیا یہ اسماء بنت عمیس ہے؟ ) میں نے کہا: ( جی ہاں ) میں اسماء بنت عمیس ہوں ۔ آپ نے پوچھا : کیا تم فاطمہ بنت رسول ﷺ کی شب عروسی میں گئی تھی؟ میں نے کہا:جی ہاں ۔ تو آپ ﷺ نے میرے لئے بھی دعا فرمائی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْبَزَّارُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4752

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4753

4753 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ كَلَامًا وَحَدِيثًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ، وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا وَرَحَّبَ بِهَا وَأَخَذَ بِيَدِهَا فَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَتْ هِيَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَتْ إِلَيْهِ مُسْتَقْبِلَةً وَقَبَّلَتْ يَدَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4753 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ سے ملتی جلتی گفتگو کرتا ہو۔ فاطمہ جب بھی حضور ﷺ سےملنے آتیں تو آپ ﷺ ان کے لئے اٹھ کھڑے ہوجاتے ، ان ( کی پیشانی ) کا بوسہ لیتے ، ان کو خوش آمدید کہتے ، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی جگہ پر بٹھاتے ، جب رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے کےلئے جاتے تو وہ آپ ﷺ کےاستقبال کےلئےکھڑی ہو جاتیں اور آپ ﷺ کے ہاتھ چومتیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4753

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4754

4754 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْبَعَةٌ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ «الْحَدِيثَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4754 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے زمیں پر چار لکیریں کھینچیں پھر فرمایا : تمہیں معلوم ہےکہ یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنتی عورتوں میں سب سے افضل چار عورتیں ہیں۔(1) خدیجہ بنت کویلد، (2) فاطمہ بنت محمدﷺ( اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← أتدرون ما هذا ← خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو بكر أحمد بن جعفر القطيعي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4754

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4755

4755 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَوَيْهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ بْنِ أَبِي مِينَاءَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: خُذُوا عَنِّي قَبْلَ أَنْ تُشَابَ الْأَحَادِيثُ بِالْأَبَاطِيلِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا الشَّجَرَةُ وَفَاطِمَةُ فَرْعُهَا، وَعَلِيٌّ لِقَاحُهَا، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ثَمَرَتُهَا، وَشِيعَتُنَا وَرَقُهَا، وَأَصْلُ الشَّجَرَةِ فِي جُنَّةِ عَدْنٍ، وَسَائِرُ ذَلِكَ فِي سَائِرِ الْجَنَّةِ» هَذَا مَتْنٌ شَاذُّ، وَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّ إِسْحَاقَ الدَّبَرِيُّ صَدُوقٌ، وَعَبْدٌ الرَّزَّاقِ وَأَبُوهُ وَجَدُهُ ثِقَاتٌ، وَمِينَاءُ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4755 - ما قال هذا بشر سوى الحاكم وإنما ذا تابعي ساقط

حضرت عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت میناء بن ابو میناء رضی اللہ عنہ نےفرمایا : احادیث کےباطل کے ساتھ خلط ملط ہوجانے سے پہلے مجھ سے حدیث لے لو، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ (فرض کرو کہ ) میں ایک درخت ہوں تو فاطمہ اس کی شاخ ہے اور علی اس کا لقاح ( نر کھجور کا شگوفہ جو مادہ کھجور میں ڈالا جائے) ہے اور حسن اورحسین رضی اللہ عنہ اس کے پھل ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ اس کے پتے ہیں اور اس درخت کی جڑیں جنت عدن میں ہیں ۔ اور اس کے بقیہ حصے جنت کے بقیہ مقامات پر ہیں ۔یہ متن شاذ ہے ۔ اور اگر بات واقعی ایسی ہی ہے تو اسحاق الدبری صدوق ہیں اور عبدالرزاق اور اس کا والد اور اس کا دادا ثقہ ہیں ۔ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نےنبی اکرم ﷺ کی صحبت پائی ہے اور آپ ﷺ کے فرامین سنے ہیں۔واللہ اعلم

خُذُوا عَنِّي قَبْلَ ← مِينَاءَ بْنِ أَبِي مِينَاءَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَوَيْهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْهَمْدَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4755

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4756

4756 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ الْفَقِيهُ بِمَرْوَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ذُكِرَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي وَلَدَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4756 - على شرط مسلم

حضرت یحییٰ بن عبادہ بن عبداللہ بن الزبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کرتیں تو فرماتیں : میں نے ان سے زیادہ سچے لہجے والا شخص کبھی نہیں دیکھا سوائے ان کے والد محترم کے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ذُكِرَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمة بن الفضل الأبرش ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَرْوَ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ الْفَقِيهُ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4756

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4757

4757 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، قَالُوا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنُ بَكَّارٍ الضَّبِّيُّ، ثنا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنُ بَحْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَمْعِ غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ لِتَمُرَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَمُرُّ وَعَلَيْهَا رَيْطَتَانِ خَضْرَاوَانِ " قَالَ: أَبُو مُسْلِمٍ: قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ وَكَانَ مَعَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَنَّهُ قَالَ: «حَمْرَاوَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4757 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا : قیامت کےدن اعلان کیا جائے گا کہ اے اہل محشر اپنی نگاہوں کا جھکا لو تاکہ فاطمہ رضی اللہ عنہ بنت رسول اللہ ﷺ ( کی سواری باپردہ ) گزرے، چنانچہ آپ سبز رنگ کی دو بڑی چادریں اوڑھے گزر جائیں گی، ابو مسلم کہتے ہیں : ابو قلابہ نےمجھے بتایا کہ عبدالحمید کہتے ہیں کہ ( اس حدیث میں سبز کی بجائے ) دو سرخ چادروں کا ذکر ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← بَيَانٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَحْرٍ، ← إبراهيم بن عبد الله بن مسلم البصري ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ ← خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ بَكَّارٍ الضَّبِّيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4757

chevron_left Previous
1…404142…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section