Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1906

1906 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا أَبُو النَّصْرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّصْرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى مِائَةَ مَرَّةٍ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص صبح و شام سوسومر تبہ "سبحان الله وبحمدہ ‘‘ پڑھے ۔ اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

مَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو النَّصْرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّصْرِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1906

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4680

4680 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جُرِيِّ بْنِ كُلَيْبٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ: لَمَّا سَارَ عَلِيٌّ إِلَى صِفِّينَ كَرِهْتُ الْقِتَالَ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَالَتْ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟» قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَتْ: «مِنْ أَيِّهُمْ؟» قُلْتُ: مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَتْ: «رُحْبًا عَلَى رُحْبٍ، وَقُرْبًا عَلَى قُرْبٍ، تَجِيءُ مَا جَاءَ بِكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: سَارَ عَلِيٌّ إِلَى صِفِّينَ وَكَرِهْتُ الْقِتَالَ، فَجِئْنَا إِلَى هَا هُنَا، قَالَتْ: «أَكُنْتَ بَايَعْتَهُ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: «فَارْجِعْ إِلَيْهِ، فَكُنْ مَعَهُ، فَوَاللَّهِ مَا ضَلَّ، وَلَا ضَلَّ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4680 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جری بن کلیب عامری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین کی جانب روانہ ہوئے ، مجھے یہ لڑائی پسند نہ تھی، میں مدینۃالمنورہ میں آگیا اور ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ میں نے کہا: کوفہ والوں میں سے ۔ آپ نے مزید پوچھا: ان میں کس قبیلے سے تعلق ہے؟ میں نے کہا بنی عامر سے۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہہ کر مقصد آمد دریافت کیا۔ میں نےکہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین کی جانب روانہ ہوئے ہیں جبکہ مجھے یہ لڑائی اچھی نہیں لگ رہی، اس لئے میں یہاں چلا آیا ، انہوں نے پوچھا : کیا تم نے ان کی بیعت کی تھی؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ انہوں نے فرمایا : تم لوٹ جاؤ اور ان کے لشکر میں شریک ہو جاؤ۔ خدا کی قسم وہ نہ خود گمراہ ہے اور نہ ان کے ساتھ رہنے والا گمراہ ہو سکتاہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جُرِيِّ بْنِ كُلَيْبٍ الْعَامِرِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4680

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4681

4681 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الْعِجْلِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ " وَشَوَاهِدُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ صَحِيحَةٌ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4681 - ذا موضوع

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : علی ( رضی اللہ عنہ ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی متعدد احادیث صحیحہ اس کی شاہد ہیں۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عبد الله بن عبد ربه العجلي، ← إبراهيم بن إسحاق الجعفي، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4681

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4682

4682 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ الْحَافِظُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ بْنِ عُتْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ» تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4682 - وذا موضوع

حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) فرماتےہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : علی (رضی اللہ عنہ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ اس حدیث کو ابراہیم نخعی سے روایت کرنے مٰں عمرو بن مرہ نے اعمش کی متابعت کی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن سالم ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ بْنِ عُتْبَةَ، ← صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ ← عبد الباقي بن قانع الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4682

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4683

4683 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْقَارِيُّ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ»

عمرو بن مرہ نے ابراہم کے ذریعے علقمہ کے واسطے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے " رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : علی (رضی اللہ عنہ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← الْمُسَيِّبُ بْنُ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْقَارِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4683

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4684

4684 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، الْعِدْلَانِ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنِّي أَرْصُدُهَا لِابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنْكِحْنِيهَا فَوَاللَّهِ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يَرْصُدُ مِنْ أَمْرِهَا مَا أَرْصُدُهُ، فَأَنْكَحَهُ عَلِيٌّ، فَأَتَى عُمَرُ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ: أَلَا تُهَنُّونَنِي؟ فَقَالُوا: بِمَنْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: بِأُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ وَابْنَةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ نَسَبٍ وَسَبَبٍ يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سَبَبِي وَنَسَبِي، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسَبٌ وَسَبَبٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4684 - منقطع

حضرت علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضرت ام کلثوم کا رشتہ مانگا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تو اس کو اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفر کے نکاح میں دینے کے انتظار میں ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیجیئے، خدا کی قسم ، اس کے نکاح کا جس قدر میں منتظر ہوں اور کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نےحضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے : کیا تم مجھےمبارک باد نہیں دو گے؟ مہاجرین نے کہا: اے امیر المومنین !کس چیز کی مبارک ؟ آپ نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کی کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سن رکھا ہے کہ قیامت کے دن میرے نسب اور سبب کے سوا تمام نسب اور سبب ختم ہو جائیں گے اس لئےمیں چاہتا ہوں کہ میرا رسول اکرم ﷺ کے ساتھ سبب اور نسب قائم ہو، ( اس لئے میں نے یہ نکاح کیا ہے۔ ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ اس کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، الْعِدْلَانِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4684

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4685

4685 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ وَلَّيْتُمُوهَا أَبَا بَكْرٍ فَزَاهِدٌ فِي الدُّنْيَا، رَاغِبٌ فِي الْآخِرَةِ، وَفِي جِسْمِهِ ضَعْفٌ، وَإِنْ وَلَّيْتُمُوهَا عُمَرُ فَقِوِيُّ أَمِينٌ، لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَإِنْ وَلَّيْتُمُوهَا عَلِيًّا فَهَادٍ مُهْتَدٍ، يُقِيمُكُمْ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4685 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم ابو بکر صدیق کو خلیفہ نامزد کرو گے تو ( ٹھیک ہے کیونکہ ) وہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والے ہیں جبکہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں ۔ اور اگر تم عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناؤ گے ( یہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ) یہ طاقتور امانت دار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کے معاملہ میں کسی ملامت گرکی ملامت کی کچھ پروا نہیں کرتے ۔ اور اگر تم علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناؤ گے تو (تب بھی ٹھیک ہے کیونکہ ) علی رضی اللہ عنہ خو د بھی ہدایت یافتہ ہے اور ہدایت دینے والا بھی ہے۔یہ تمہیں صراط مستقیم پر قائم رکھیں گے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

حُذَيْفَةَ ← زيد بن يثيع ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4685

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4686

4686 - عَنْ حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ، سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْأُمَّةَ سَتَغْدِرُ بِكَ بَعْدِي، وَأَنْتَ تَعِيشُ عَلَى مِلَّتِي، وَتُقْتَلُ عَلَى سُنَّتِي، مَنْ أَحَبَّكَ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَكَ أَبْغَضَنِي، وَإِنَّ هَذِهِ سَتُخَضَّبُ مِنْ هَذَا» - يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ - «صَحِيحٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4686 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے میرے بارے میں فرمایا : میری امت میرے بعد تیرے خلاف بغاوت کرے گی اور تم میرے دن پر قائم رہو گے اور تم میرے طریقے پر جہاد کرو گے۔ جو تم سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرے گاجس نے تم سے بغض رکھا اس نےمجھ سے بغض رکھا اور بے شک تمہاری یہ داڑھی شریف رنگین ہو جائے گی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

عَلِيًّا ← حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4686

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4687

4687 - حَدَّثَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الذُّهْلِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى عَلِيٍّ وَفْدٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ يُقَالُ لَهُ الْجَعْدُ بْنُ نَعْجَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «لَا، وَلَكِنِّي مَقْتُولٌ، ضَرْبَةً عَلَى هَذَا، تُخَضِّبُ هَذِهِ» ، قَالَ: وَأَشَارَ عَلِيٌّ إِلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بِيَدِهِ، «قَضَاءٌ مَقْضِيٌّ، وَعَهْدٌ مَعْهُودٌ، وَقَدْ خَابَ مَنَ افْتَرَى» ، ثُمَّ عَابَ عَلِيًّا فِي لِبَاسِهِ، فَقَالَ: لَوْ لَبِسْتُ لِبَاسًا خَيْرًا مِنْ هَذَا، فَقَالَ: «إِنَّ لِبَاسِي هَذَا أَبْعَدُ لِي مِنَ الْكِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِي الْمُسْلِمُونَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4687 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اہل بصرہ کا ایک وفد آیا ۔ ان میں ایک خارجی آدمی بھی تھا جس نام "جعد بن نعجہ " تھا ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسول اللہ ﷺ پر درودھ شریف پڑھا پھر کہنے لگا: اے علی ! خدا کا خوف کرو ، کیونکہ تم بھی آخر مرنا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ۔ ( میں طبعی موت نہیں مروں گا بلکہ ) مجھے شہید کیا جائے گا اور ( اپنے سر مبارک اور داڑھی شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ) ایک حملے میں میری یہ داڑھی رنگین ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ ہو چکا ہے ، وعدہ لیا جا چکا ہے، اور بے شک نامراد رہا جس نے جھوٹ بولا، پھر اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لباس کے متعلق اعتراض کیا، کہنے لگا : آپ کو اس سے اچھا لباس پہننا چاہیے تھا، آپ نے فرمایا : میرا یہ لباس مجھے تکبر سے دور رکھتا ہےاور مسلمانوں کو میرے اس عمل کی پیروی کرنی چاہئے۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ ← أبو الطيب محمد بن أحمد الذهلي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4687

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1907

1907 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَرُبَّمَا تَوَهَّمَ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، فَإِنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا، ثُمَّ أَكْثَرَ الرِّوَايَةَ عَنْهُمَا جَمِيعًا "

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلا کر تے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :بسم الله، رب أعوذ بك أن أزل، أو أضل، أو أظلم، أو أظلم، أو أجهل، أو يجهل على ’’اللہ کے نام سے شروع ،اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا میں گمراہ ہو جاؤں یا میں ظلم کروں یا مجھ پرظلم کیا جائے یا میں کسی کو جاہل قرار دوں یا مجھے جاہل قرار دیا جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں گیا۔اور بسا اوقات کسی کو یہ غلطی لگ جاتی ہے کہ شعبی نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے ۔ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ شعبی کی ام المؤمنین رضی اللہ عنہ اورام سلمہ رضی اللہ عنہ دونوں سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے دونوں سے کثیر روایات نقل کی ہیں

أُمِّ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1907

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1908

1908 - أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مَنْصُورٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَقُولُ: «بِسْمِ اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، التُّكْلَانُ عَلَى اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو یہ دعا مانگتے بسم الله، لا حول ولا قوة إلا بالله، التكلان على الله ’’کوئی طاقت اور مجال اللہ کے سوا نہیں ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے‘‘یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن نصر بن منصور الصائغ ← أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1908

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1909

1909 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُعَافِيَنِي، قَالَ: «إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ» قَالَ: فَادْعُهُ. قَالَ: " فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَيُحْسِنَ الْوُضُوءَ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَيَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِيهَا لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِيهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک لاغر بیمارشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے عافیت عطافرمائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اگرتم چا ہوتو اس کو مؤخر کر لو اور چاہوتو میں دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: آپ دعا فرمادیں ۔ ( حضرت عثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کر کے 2رکعتیں ادا کرے اور پھر یوں دعا مانگے : اللهم أسألك، وأتوجه إليك بنبيك محمد صلى الله عليه وسلم نبي الرحمة، يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك في حاجتي هذه ”اے اللہ میں تجھ سےسوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی ، نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے متوجہ ہوتا ہوں ، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے ، آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوں ، اپنی اس حاجت کے سلسلے میں ۔ تو میری اس حاجت کو پورا کر دے ۔اے اللہ ! ان کی شفارش میرے حق میں اور میری درخواست ان کے متعلق قبول فرما ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

فَادْعُهُ. ← «إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ» ← ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُعَافِيَنِي، ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبي جعفر المدني ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1909

chevron_left Previous
1…333435…737
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section